کیا مکالمہ سب لوگوں میں ہوا کرتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ مکالمہ صرف متجسس اذہان میں ہوتا ہے۔ متجسس ذہن کے پاس پہلے سے کوئی نظریہ نہیں ہوتا، کوئی مخصوص ذہنی فریم ورک بھی نہیں ہوتا۔ وہ اس خواہش سے بھی بے نیاز ہوتا ہے کہ وہ واقعی کوئی نظریہ قائم کرے۔ ہمارا سامنا جن حقائق سے ہوتا ہے، وہ کسی ایک یا بہت سے نظریات میں نہیں سماتے۔
حقیقت پیچیدہ اور تہ دار ہی نہیں ہوتی، وہ مسلسل ظہور بھی کررہی ہوتی ہے۔ ایک وقت کے مشاہدے و تجربے میں، وہ اکثر سما نہیں پاتی، دوسرا مسئلہ، اسے زبان میں محفوظ کرنے اور بیان کرنے کا ہوتا ہے۔ زبان، حقیقت کو منعکس نہیں کرتی، اس کی تعبیر کیا کرتی ہے۔ کسی چیز کا عکس ایک ہوسکتا ہے، تعبیر ایک نہیں ہوسکتی۔ ایک متجسس ذہن، اس بنیادی سچائی سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا۔
بایں ہمہ اگر اس کی جستجو کے سفر میں، کوئی نظریہ قائم کرنے کے واقعی اسباب پیدا ہو جائیں تو وہ ان اسباب کو کام میں لائے گا، لیکن اس نظریے کو وہ سوال و بحث کے لیے کھلا رکھے گا، یہاں تک کہ کسی نئی حقیقت کے سامنے آنے اور اس کی تردید کرنے کے امکان کو بھی، اس نظریے میں شامل رکھے گا۔ وہ اس سے بے خبر نہیں ہوتا کہ نظریہ قائم نہ کرنے کی خواہش بھی، حقائق کو سمجھنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
وہ نظریے کی اہمیت سے بھی واقف ہوتا ہے۔ نظریہ، حقیقت سے متعلق مشاہدات کو منظم کرتا ہے اور انھیں قابل تصور و قابل فہم بناتا ہے۔ اس کے باوجود، نظریہ، حقیقت کے تجربے کا نعم البدل نہیں ہوا کرتا، وہ حقیقت کا علم دیتا ہے۔ تجربے اور علم کا فرق، معمولی فرق نہیں ہوا کرتا۔
تجربے میں حسیات کا عمل دخل زیادہ، جب کہ علم میں تعقل و استدلال و منطق کا زیادہ ہوا کرتا ہے۔ ادب میں حقیقت کا تجربہ، جب کہ فلسفہ وتنقید میں حقیقت کا علم ہوا کرتا ہے۔ علم اور تجربے میں فرق ضرور ہے، مگر یہ فرق، انھیں ایک دوسرے کا مخالف نہیں، حقیقت کو سمجھنے میں، ایک دوسرے کا حلیف بناتا ہے۔
علم، حقیقت پر تصرف کے لیے بے تاب ہو سکتا ہے، حقیقت کو مسخر کرنے، اسے مسخ کرنے اور اپنے مطلب و مفاد کے لیے بروے کار لانے کے لیے مضطرب ہوسکتا ہے۔
علم کے ضمن میں ہمیشہ یہ سوال موجود رہتا ہے کہ اسے طاقت بنایا جائے، یا بے داغ آگاہی یعنی روشنی۔ کچھ لوگ طاقت کو اخلاقیات کا پابند بنانے کی خواہش کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ طاقت، کسی دوسری اخلاقیات کی تابع نہیں ہوتی، وہ اپنے ہر عمل کو اخلاقی تسلیم کرانے پر آمادہ رہا کرتی ہے۔
ایک اور بات۔ طاقت کو دوسری طاقت ہی، پابند بناسکتی ہے۔ کیا اخلاقیات خود یا اس کے علم بردار اس طاقت کے حامل ہوا کرتے ہیں کہ طاقت کو پابند بناسکیں؟ ایک متجسس ذہن، حقیقت کا علم 'پیدا ' کرتے ہوئے، اس بات کو نظر انداز نہیں کرتا۔ یہیں وہ حقیقت کے تجربے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حقیقت کا تجربہ، لازماً ہم دلی پیدا کیا کرتا ہے۔
متجسس ذہن، ہرامکان کے لیے کھلا رہتا ہے۔ یہی ذہن، دوسرے متجسس ذہن سے گفتگو کرتا ہے اور گفتگو بھی کسی عوامی پلیٹ فارم پر نہیں، نجی مجلس میں، کہیں پیدل چلتے ہوئے، کسی کافی ہاؤ س میں، ایک کونے میں موجود میز پر بیٹھے ہوئے۔ افلاطون کی کتاب فیڈرس میں سقراط اور فیڈرس الیسس دریا کے کنارے، ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر مکالمہ کرتے دکھائے گئے ہیں۔
وہ دونوں، ایک راہ کے مسافر ہوتے ہیں۔ مگر وہ جانتے ہیں کہ ایک ہی راستے پر دو اشخاص کے سفر کے تجربات یکساں نہیں ہوتے۔ ہر مسافر، اندر بھی سفر کررہا ہوتا ہے اور اس درونی سفر کے راستے اکثر اسے بھی معلوم نہیں ہوتے۔ مثلاً خواب کا راستہ کس کو معلوم ہے؟ خود تخیل کی کائنات کے آخری کنارے کی خبر کس کو ہے؟
اندر کا یہ سفر، باہر کے سفر کے تجربے پر اثرانداز ہوتا ہے اور باہر کا سفر، اندر کے سفر میں کوئی نئی کھڑکی کھول سکتا ہے۔ متجسس ذہن، مسلسل اندرو باہر میں مکالمے میں بھی مصروف ہوتا ہے۔ یہ بات، دو متجسس ذہن، یعنی ایک ہی راہ کے مسافر اچھی طرح جانتے ہیں۔
انھیں ایک دوسرے کے اندر کے سفر کی خبر ہوتی ہے، مگر ٹوہ نہیں ہوا کرتی۔ وہ اپنے مشاہدات و سوالات کے ممکنہ نتائج پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس طور وہ ممکن بناتے ہیں کہ ان کے اندرو باہر کے اسفار میں، ایک تیسرا سفر بھی شامل ہوجائے۔ عین ممکن ہے، وہ ایک دوسرے سے یکسر الگ سوچتے ہوں اور ان میں اتفاق کی صورتیں کم ہوں، مگر وہ ایک دوسرے کی تردید وملامت نہیں کرتے۔
وہ ایک دوسرے سے خود کو منوانا نہیں چاہتے۔ ایک دوسرے سے خود کو منوانے والے ہی ملامت و تردید کیا کرتے ہیں۔ وہ اختلاف کے سبب پر گفتگو ضرور کرتے ہیں، اختلاف پر سیخ پا نہیں ہوتے۔ ایک متجسس ذہن، اختلاف کو دیکھنے کے ایک نئے تناظر میں تبدیل کرنے کے امکان پر غور کرتا ہے۔ بعد میں انکسار کے ساتھ اپنے نتائج دنیا کے سامنے لاتا ہے۔ عام طور پر یہی متجسس ذہن، دنیا کو دیکھنے اور برتنے کا ایک نیا زاویہ دیا کرتا ہے۔
جن لوگوں نے پہلے ہی سے نظریات قائم کر لیے ہیں، یا جانے ان جانے میں کسی آئیڈیالوجی پر وہ کاربند ہوگئے ہیں، آئیڈیالوجی نہ سہی، کسی خیال کے، مستقل طور پر حامل ہوگئے ہیں، یا پھر ان کے سوچنے کا ایک خاص پیٹرن بن گیا ہو، وہ کبھی مکالمہ نہیں کرتے۔
سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ سب نظریات، آئیڈیالوجی، خیالات نہ تو گہری تنقیدی نظر سے سمجھنے کے بعد اختیار کیے گئے ہوتے ہیں، نہ خود وضع کیے گئے ہوتے ہیں۔ انھیں یہ اپنے تعلیمی نظام، خاندانی فضا، میڈیا، اداروں، کچھ لوگوں سے مستقل صحبت سے ملے ہوتے ہیں۔
گویا، ان کی روح میں کسی دوسرے کے نظریے کا آشیانہ ہوا کرتا ہے اور اس آشیانے میں پرندے، انڈے، بچے بھی دوسروں ہی کے ہوا کرتے ہیں۔
اصل فرق، اس سے نہیں پڑتا کہ کوئی نظریہ کس نے، کب، کہاں وضع کیا، اصل فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ نے اسے کس طور اختیار کیا۔ گہری تنقیدی نظر سے یا گہری عقیدتی وتقلیدی روش کے تحت۔
اس سے قطعاً فرق نہیں پڑتا کہ وہ نظریہ کیا ہے، سیاسی ہے یا مذہبی، ادبی ہے یا فلسفیانہ، سماجی ہے یا ثقافتی یا اخلاقی۔ وہ محض اپنے نظریے، اپنی آئیڈیالوجی، اپنے خیال، اپنے سوچنے کے پیٹرن کی وضاحت کرتے ہیں، تکرار کے ساتھ۔
وہ تائید چاہتے ہیں، تسلیم کروانا چاہتے ہیں اور دفاع کرتے ہیں۔ اس سارےعمل میں وہ دوسرے کے نظریے، آئیڈیالوجی وغیرہ کو مسلسل بے دخل اور ردّ کرتے ہیں۔ اپنے نظریے، آئیڈیالوجی کا مسلسل دفاع، وہی کرتا ہے، جس نے انھیں اپنی ذات کا متبادل بنالیا ہو، اپنی واحد شناخت کے طور پر تسلیم کر لیا ہو یا دنیا کو بدلنے، اپنی اور دنیا کی نجات کے واحد حل کے طور پر سینے سے لگالیا ہو۔ چناں چہ وہ اختلاف کو، اپنی ذات، اپنی شناخت، اپنے مشن پر حملہ تصور کرتا ہے۔
یعنی، اختلاف کو جارحیت سمجھتا ہے اور اس کا جواب جارحیت سے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف کے پہلے ہی لمحے ملامت شروع ہوتی ہے جو بہت جلد گالی گلوچ اور تشدد میں بدل جایا کرتی ہے اور مستقل مخاصمت کو پیدا کرتی ہے۔
اگر متجسس ذہن، مکالمہ پسند کرتا ہے۔ بلکہ علم کے سفر کی لازمی ضرورت خیال کرتا ہے اور اس کے لیے نجی مجلس پسند کرتا ہے تو کسی نظریے پر کاربندلوگ مکالمے کے نام پر مناظرہ پسند کرتے ہیں، سر عام چیلنج کرتے ہیں، یعنی عوامی مقامات پر، پوری گھن گرج سے، اپنے اپنے نظریہ وخیال کا دفاع کرتے ہیں اور مخالف نظریے کے پرخچے اڑاتے ہیں۔
انھیں لگتا ہے کہ وہ اسی طر یقے سے، سماجی ثقافتی، دانش ورانہ جگہوں سے اپنے 'نظریاتی مخالفین ' کو بے دخل کرسکتے اور ان جگہوں پر اپنااجارہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔
متجسس ذہن کی تقدیر میں عام طور پر تنہائی ہوا کرتی ہے، جب کہ دوسری طرز کے لوگ گروہ بناتے ہیں اور اس گروہ کے ارکان میں وہی یک جہتی ہوا کرتی ہے جو قدیم قبائل میں، کسی مشترکہ دشمن کے سلسلے میں ہوا کرتی تھی۔ آئرنی یہ ہے کہ ایک متجسس ذہن کی تنہائی کا حاصل، کئی گروہوں کی خطابت و گھن گرج سے کہیں زیادہ ہوا کرتا ہے۔