1. ہوم
  2. کالمز
  3. ناصر عباس نیّر
  4. کچھ وقت پشاور میں

کچھ وقت پشاور میں

مجھے شہر، گاؤں، بڑی چھوٹی بستیاں، ریگستان، سمندر، گلستاں، کوہستاں، جنگل، ویرانے، گورستاں سب پسند ہیں۔ بڑے شہروں کی ویران جگہیں اور ویرانوں کی وحشت بھی بری نہیں لگتی۔ فطرت اور انسان کی بنائی سب چیزیں اور پھر انسانوں، وقت اور نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں برباد کی گئی یہی سب چیزیں۔

ان کا برباد ہونا دکھی کرتا ہے، بجا کہ بربادی سے مفر نہیں مگر میں ان مساعی کو بہ طور دیکھتا ہوں جو بربادی کے مقابل کی گئیں۔ پرانی عمارتیں، پرانی کتابیں، گزرے زمانوں کی یادیں اور یادگاریں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ کبھی سحر زدہ کرتی ہیں اور اسی مقام پر میں چوکنا ہوجاتا ہوں۔ میں ان سے تعارف چاہتا ہوں، ان میں گم اور ان کے رحم و کرم پر نہیں ہونا چاہتا۔ ان کے خلاف، احساس کی سطح پر مزاحمت کرتا ہوں۔

کل کا دن پشاور شہر کی کچھ جگہیں دیکھنے میں گزرا۔ یہاں کی سب جگہیں دیکھنے کے لیے تو کئی دن درکار ہیں۔ مجھے زیادہ دیکھنے کی ہوس نہیں ہوتی، بس یہ خیال ہوتا ہے کہ جسے بھی دیکھیں، پوری طرح دیکھیں۔

کئی بار ایک جگہ کو بھی پوری طرح دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسے تجربہ کرنے اور بسر کرنے کا کبھی وقت نہیں ہوتا، کبھی دماغ نہیں ہوتا اور کبھی ایک عجب افسردگی اس جگہ کی بجائے کہیں اور لے جاتی ہے، اس جگہ جسے افسردگی ہی نے اپنی جائے پناہ کے طور پر تعمیر کیا ہوتا ہے، میری روح کے کسی بعید ترین کونے میں۔

ایک ایک جگہ پر کئی قسم کی دربدری کا سامنا رہتا ہے۔

پشاور کئی بار آچکا ہوں۔ ہر بار ہر شہر سے ایک نیا تعارف ہوتا ہے۔ کل ہمارے ساتھ ڈاکٹر فضل کبیر اور ڈاکٹر سہیل احمد جیسے فاضل دوست تھے۔ انھوں نے ہی میزبانی کا بارگراں اٹھایا تھا اور ان سے ادب، تاریخ، تہذیب، تعلیم پر ڈھیروں باتیں ہوئیں۔ ان کے علاوہ مسرور اور طفیل بھی تھے۔ دونوں ذہین طالب علم۔

اسلامیہ کالج (یونیورسٹی) کی عمارت ہر بار بہت کچھ یاد دلاتی ہے۔ سر صاحب زادہ عبدالقیوم سے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بھائی رام سنگھ، لاہور میوزیم اور نو آبادیاتی عہد، وسط ایشیا، خیبر پختون خوا۔ ایک عمارت میں کیا کیا شامل ہوگیا اور گندھ گیا ہے۔

لیکن ایک چیز تو صرف اس کالج کی مرکزی عمارت کی بالکل منفرد ہے جسے کرکٹ گراؤنڈ میں کھڑے ہو کر بس دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک طرح کا لامحدود پھیلاؤ۔ دائیں بائیں اور آسمان کی جانب اس کی روکار (facade) اور دونوں اطراف کا پھیلاؤ۔ یہ سرخ اینٹوں سے تخلیق کیا گیا معجزہ فن ہے۔

قلعہ بالا حصار کو قریب سے سلام کیا، یہی ممکن اور یہی مناسب تھا۔

تاہم پرانے شہر (والڈ سٹی) کے قصہ خوانی بازار سے گزر کر، چوک یادگار، گھنٹہ گھر، بازار کلاں اور اس میں 1930 کی یادگار شہدا سے ہوتے ہوئے (جہاں دو بچوں کے جنازے پر انگریزی فوج نے گولی چلائی اور متعدد لوگوں کو بھون ڈالا)، مینا بازار (جہاں نذیر تبسم کا آبائی گھر تھا) سیٹھی محلہ (یا سیٹھیاں محلہ) پہنچے۔

سب سے پہلے دلیپ کمار، راج کپور، ونود کھنہ، امجد خان، شاہ رخ (جن کے والد یہاں رہے)، مدھو بالا (جن کے آبا یہیں کے تھے) کا خیال آیا۔ ہندوستان کی فلمی صنعت کے یہ سب بڑے اسی پرانے شہر اور انھی گلیوں کے باسی تھے۔ بالی ووڈ پر پشاور شہر کا کتنا بڑا احسان ہے!

پطرس بخاری کی طرف بھی دھیان گیا۔

ایک شہر اپنے سپوت جب باہر بھیج دیتا ہے یا انھیں کسی تاریخی، معاشی جبر کے تحت جانا پڑتا ہے تو اس کے اندر ایک خلا پیدا ہو کر رہتا ہے۔ چوں کہ کوئی خلا بہ طور خلا باقی نہیں رہتا، اسے دوسرے بھرتے ہیں۔ یہ سوال میں نہیں اٹھانا چاہتا کہ ممتاز شخصیات کا خلا عام طور پر کون بھرتا ہے۔

خیر سیٹھی محلہ بھیرہ (پنجاب) کے سیٹھی تاجر خاندان کا بسایا ہوا ہے۔ سات حویلیاں اب بھی موجود ہیں، ایک خم دار گلی میں۔ ان میں عبدالکریم سیٹھی کے نام والی حویلی محکمہ آثار قدیمہ کے پاس ہے۔ اسی کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔

لیکن کسی حویلی کو اندر سے دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ سب سے بڑی مشکل حویلی ہی پیدا کرتی ہے۔ وہ ایک سادہ مکان نہیں ہوا کرتی۔

عام طور پر ہر حویلی ایک چھوٹا سا قلعہ ہوتی ہے۔ مضبوط، محفوظ، تہ خانوں، خفیہ کمروں، خفیہ راستوں، کشادہ، آراستہ۔ سیٹھی خاندان نے ملکی و بیرون ملک تجارت سے بے انتہا دولت کمائی۔ اس دولت سے حویلیاں بنائیں، فلاحی کام کیے، ڈھیر ساری دولت جمع کی۔ ان کی بد قسمتی کہ انھوں امپیریل روبل زیادہ جمع کر لیا۔ ان کے خزانے کے کمرے میں کرنسی انگلیوں پر گنی نہیں جاتی تھی، ترازو میں تولی جاتی تھی۔

انقلاب روس نے امپیریل روبل کی جگہ سوویت روبل رائج کیا تو سیٹھی خاندان کی دولت کاغذ کا ڈھیر بن گئی۔ محض ردی۔ تاریخ اس ردی سے چند ایک ٹکڑے محفوظ کرنے میں دل چسپی رکھتی ہے۔ تاریخ کو ایک شخص، ایک خاندان، ایک سلطنت تک کے بکھر جانے سے آخر کتنی دل چسپی ہوسکتی ہے؟ تاریخ کی دل چسپی اور مئورخ کی ترجیحات میں فرق کیا جانا چاہیے۔

حویلی اپنے فن تعمیر کے لحاظ سے حیرت کدہ ہے۔ لکڑی، پتھر، اینٹ، چونے، قصوری مٹی اور شیشے سے بنی ہے۔ کچھ چیزیں مقامی، کئی چیزیں باہر کی ہیں۔ فن تعمیر میں بھی باہر یعنی وسط ایشیا شامل ہے۔ ہر کمرے، اس کے در، دریچے، چھت میں امارت، جمال فن اور طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔

اس حویلی کی چار منزلیں ہیں، جس میں دو تہ خانے اور مرکزی، کھلا صحن شامل ہے، جس میں نیلے رنگ کا فوارہ ہے۔ حویلی اس طور تعمیر کی گئی ہے کہ تہ خانوں میں بھی ہوا اور روشنی کا گزر ہوتا رہے۔ گرمی میں تہ خانے ٹھنڈے رہتے ہیں مگر ظاہر ہے کسی بھی گھر یا حویلی میں کوئی کمرہ، دالان محض ایک مقصد کا حامل نہیں ہوا کرتا۔ ضرورت، اتفاق اور مکینوں کے پوشیدہ مقاصد کمروں کے مصرف کا تعین کیا کرتے ہیں۔

اب یہ حویلی ایک خاندانی جائیداد کے بجائے، پشاور شہر کے تاریخی ورثے میں شامل ہے۔ ایک شخصی مکان کے تاریخی ورثے میں تبدیلی، ایک عام سی بات نہیں ہوا کرتی۔

یہ ایک مکان کے مقصد و معنی اور اس کی یادداشت کی تبدیلی کا عمل بھی ہوا کرتا ہے۔ اب یہ ایک متن بھی ہے، جسے اس شہر کی کتاب کے ایک باب کے طور پر بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اسے مقتدر طبقے، نو آبادیاتی عہد میں اس طبقے کی شمولیت، نشوونما، وسط ایشیائی، یورپی اور مقامی فن تعمیر کے امتزاج کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے اور عروج و زوال کی ایک کہانی کے طور پر بھی۔

بازار کلاں میں، جہاں سے کوچۂ سیٹھی پھوٹتا ہے، زندگی مسلسل رواں دواں ہے۔ بس اچھی بات یہ ہے کہ یہاں اس کی رفتار سست یعنی بالکل انسانی رفتار ہے، مشینی نہیں۔ اس بازار کے خاتمے پر گور کھتری کا شاہانہ دروازہ ہے۔ یہاں جانے کو جی چاہ رہا تھا اور کھشتریوں کی قبروں اور کئی تہذیبوں کی یادگاروں پر نظر ڈالنے کی خواہش تھی مگر واپسی کا وقت ہوگیا تھا۔

شہر یار کا شعر یاد آیا:

نہ کوئی کھڑکی نہ دروازہ واپسی کے لیے
مکان خواب میں جانے کے سیکڑوں در ہیں