1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد عامر حسینی
  4. دفن شدہ حرف

دفن شدہ حرف

جس روز رافع کو اخبار سے نکالا گیا، اس روز شہر میں ہوا معمول سے کم تھی۔ گلی کے نکڑ پر کھڑا نیم کا درخت ساکت تھا، جیسے کسی نے اس کی شاخوں کو تنبیہ کر دی ہو کہ آج پتے بھی آہستہ ہلیں۔ رافع نے دفتر سے نکلتے ہوئے اپنا پرانا بیگ کندھے پر ڈالا۔ بیگ میں دو قمیصیں نہیں، کوئی کتاب نہیں، صرف ایک مڑا ہوا پریس کارڈ، تین ادھوری تنخواہوں کی پرچیاں اور وہ کاغذ تھا جس پر اس کا نام کبھی چھپتا تھا۔

اب نام نہیں چھپتا تھا۔

پہلے خبر کے نیچے چھوٹے حروف میں آتا تھا: رافع کاظمی۔ پھر کہا گیا، حالات ٹھیک نہیں، بائی لائن ہٹا دیتے ہیں۔ پھر کہا گیا، تمہاری تحریر رہنے دو، نام رہنے دو۔ پھر کہا گیا، تحریر بھی کچھ نرم کر لو۔ آخر میں مالک نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، "تم سمجھ دار آدمی ہو۔ بچے بھی ہیں تمہارے"۔

رافع نے اسی وقت پہلی بار محسوس کیا کہ آدمی کو دھمکانے کے لیے ہمیشہ بندوق ضروری نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی بچے کا اسکول بیگ بندوق سے زیادہ تیز چیز بن جاتا ہے۔

گھر پہنچا تو عائشہ باورچی خانے میں آٹے کی آخری مٹھی گوندھ رہی تھی۔ چولہے پر رکھی دیگچی میں دال اتنی پتلی تھی کہ اس میں چمچ ڈوبتا نہیں، پھسلتا تھا۔ چھ سالہ حرا فرش پر بیٹھی اپنی کاپی میں پہاڑے لکھ رہی تھی۔ اس کا چھوٹا بھائی، سبحان، ایک خالی ڈبے کو ٹرک بنا کر دیوار سے ٹکرا رہا تھا۔

عائشہ نے رافع کے چہرے کو دیکھا، پھر بیگ کو، پھر خاموشی سے آٹا تھپتھپانے لگی۔

"آج جلدی آگئے؟" اس نے پوچھا۔

رافع نے جوتے اتارے۔ جراب میں سوراخ تھا۔ اسے اچانک شرمندگی ہوئی، جیسے سوراخ جراب میں نہیں، اس کے پیشے میں ہو۔

"دفتر میں کام کم تھا"، اس نے کہا۔

حرا نے سر اٹھایا۔ "ابا، کل مجھے رنگین پنسلیں چاہیے ہوں گی۔ مس نے کہا ہے سمندر بنانا ہے"۔

"سمندر؟" رافع نے مسکرانے کی کوشش کی۔

"ہاں۔ نیلا والا۔ لیکن مس کہتی ہیں سمندر صرف نیلا نہیں ہوتا۔ کبھی کالا بھی ہوتا ہے"۔

رافع نے بیگ میز کے نیچے رکھ دیا۔ اسے گوادر کی وہ رات یاد آئی جب سمندر واقعی کالا تھا۔ ہوا میں نمک اور خوف دونوں کی بو تھی۔ ایک چھوٹی سی لڑکی، شاید حرا سے تین چار برس بڑی، اپنی ماں کا دوپٹہ پکڑے کھڑی تھی۔ اس کی ماں کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی جس کے کونے بار بار مڑ جاتے تھے۔ تصویر میں ایک نوجوان تھا، آنکھوں میں وہ اصرار جو غائب ہونے سے پہلے آدمی کے پاس ہوتا ہے۔ عورت نے رافع سے کہا تھا، "بس اتنا لکھ دینا کہ وہ تھا۔ باقی ہم خود برداشت کر لیں گے"۔

رافع نے لکھ دیا تھا کہ وہ تھا۔

اگلے دن دفتر سے فون آیا تھا: "یہ نام نکال دو۔ تعداد رکھو، نام نہیں۔ نام سے مسئلہ بنتا ہے"۔

تعداد محفوظ رہتی ہے، نام خطرناک ہوتے ہیں۔ رافع نے تب پہلی بار جانا تھا۔

عائشہ نے روٹی توا پر ڈالی۔ "کیا ہوا ہے؟"

"کچھ نہیں"۔

"کچھ نہیں کا چہرہ اتنا لمبا نہیں ہوتا"۔

رافع نے پانی کا گلاس اٹھایا۔ پانی میں مٹی کی ہلکی سی بو تھی۔ "نکال دیا"۔

روٹی پھولی، پھر بیٹھ گئی۔

عائشہ نے فوراً کچھ نہیں کہا۔ وہ ایسی عورت نہیں تھی جو ہر دکھ پر آواز پیدا کرے۔ اس نے روٹی پلٹی، جیسے گھر کو ابھی بھی معمول پر رکھنے کا فرض اسی پر ہو۔ حرا پہاڑا بھول گئی۔ سبحان کا ڈبا دیوار سے ٹکرانا بند ہوگیا۔

"کیوں؟" عائشہ نے آخر پوچھا۔

رافع ہنسا۔ "کیوں کا زمانہ گیا۔ اب بس ہوتا ہے"۔

رات کو مالک مکان آیا۔ اس کی انگلی میں چابیوں کا گچھا تھا جسے وہ بات کرتے ہوئے ہلاتا رہتا تھا۔ "بھائی صاحب، میں بھی مجبور آدمی ہوں۔ دو مہینے ہو گئے۔ اگلے ہفتے تک کچھ کر دیں۔ گھر خالی کرانے کی نوبت نہ آئے۔ بچے ہیں آپ کے"۔

بچے ہیں آپ کے۔ یہ جملہ ان دنوں ہر دروازے پر لکھا ملتا تھا۔

مالک مکان چلا گیا تو عائشہ نے کہا، "کسی سے بات کر لو۔ جو انہوں نے کہا ہے، ویسا لکھ دو۔ نوکری واپس مل سکتی ہے"۔

"کیا لکھوں؟"

"جو سب لکھتے ہیں"۔

"سب کیا لکھتے ہیں؟"

عائشہ نے اس کی طرف دیکھا۔ "یہی کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ یا جو ہوا، وہ خبر نہیں"۔

رافع نے جواب نہ دیا۔ اسے معلوم تھا کہ عائشہ اسے بیچنا نہیں چاہتی۔ وہ صرف بچوں کو بھوک سے بچانا چاہتی ہے۔ بھوک اخلاقیات سے بحث نہیں کرتی۔ وہ سیدھی پیٹ میں آ کر بیٹھ جاتی ہے اور آدمی کے تمام جملے چھوٹے کر دیتی ہے۔

اس رات بجلی چلی گئی۔ کمرے میں اندھیرا پھیل گیا۔ حرا نے موم بتی جلائی۔ اس کی روشنی میں دیوار پر چار سایے بنے: رافع، عائشہ، حرا، سبحان۔ پانچواں سایہ بھی تھا، جو کسی کا نہیں تھا۔ وہ کھڑکی کی سلاخوں سے آتا اور دیوار پر لمبا ہو جاتا۔

رافع نے بیگ سے پریس کارڈ نکالا۔ کارڈ کی پلاسٹک پرت کناروں سے اکھڑ چکی تھی۔ تصویر میں اس کا چہرہ جوان تھا، آنکھوں میں نیند کم اور یقین زیادہ تھا۔ نیچے لکھا تھا: رپورٹر۔

اسے یہ لفظ اب طنز جیسا لگا۔

حرا نے کارڈ چھین کر دیکھا۔ "ابا، یہ آپ ہیں؟"

"تھا"۔

"تھا کیوں؟"

رافع نے کہا، "کبھی کبھی لوگ آدمی کا کام لے لیتے ہیں، پھر نام واپس کر دیتے ہیں، پھر نام بھی لے لیتے ہیں"۔

حرا نے بات پوری طرح نہیں سمجھی۔ اس نے کارڈ الٹ پلٹ کر دیکھا۔ "میں کل سمندر بناؤں گی۔ اس میں ایک کشتی بھی ہوگی"۔

"کشتی میں کون ہوگا؟"

"ایک آنٹی۔ جس کی آنکھیں پانی جیسی ہوں گی"۔

رافع چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ "تم نے کہاں دیکھی ایسی آنٹی؟"

حرا نے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔ "آپ کے فون میں۔ وہ جو لوگوں کے درمیان کھڑی بول رہی تھیں۔ آپ نے بند کر دیا تھا"۔

رافع کو یاد آیا۔ پچھلی رات اس نے ایک ویڈیو کھولی تھی۔ ایک عورت بول رہی تھی، مگر رافع نے آواز بہت کم کر دی تھی، تاکہ بچے نہ سنیں۔ پھر بھی شاید کچھ آوازیں کم کرنے سے بند نہیں ہوتیں۔

صبح رافع ایک پرانے ساتھی سے ملنے گیا۔ کیفے کے باہر دھوپ میں موٹر سائیکلیں ایک دوسرے سے لگی کھڑی تھیں۔ اندر ایئر کنڈیشنر چل رہا تھا اور ٹی وی پر کوئی مزاحیہ پروگرام۔ اس کا ساتھی، فہد، اب ایک بڑے چینل میں پروڈیوسر تھا۔ اس نے رافع کو گلے لگایا، چائے منگوائی اور آہستہ آواز میں کہا۔

"یار، تم بھی عجیب ہو۔ تھوڑا سا فاصلے پر رہ کر لکھا کرو۔ ہر نام کو سینے سے لگانا ضروری نہیں ہوتا"۔

"نام نہ ہو تو خبر کیا رہ جاتی ہے؟"

فہد نے بسکٹ چائے میں ڈبویا۔ "خبر رہ جاتی ہے۔ بس کم تکلیف دہ ہو جاتی ہے"۔

"کس کے لیے؟"

فہد نے جواب دینے کے بجائے کپ میز پر رکھ دیا۔ "دیکھو، ایک کام ہو سکتا ہے۔ ہمارے ڈیجیٹل ڈیسک پر جگہ ہے۔ تنخواہ کم ہوگی، مگر گھر چل جائے گا۔ شرط یہ ہے کہ تم حساس چیزوں سے دور رہو گے۔ فیچر لکھو، موسم لکھو، فلمیں لکھو، کچھ بھی۔ بس ان عورتوں، ان تصویروں، ان گم شدہ لوگوں سے دور رہو"۔

رافع نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ ایک بچہ گاڑیوں کے شیشے صاف کر رہا تھا۔ ہر شیشہ صاف ہوتے ہی دوبارہ دھول سے بھر جاتا۔

"میں سوچ کر بتاؤں گا"، اس نے کہا۔

واپسی پر اس نے موبائل کھولا۔ ایک نامعلوم نمبر سے پیغام تھا: "بچوں کا خیال کرو"۔

رافع نے فون بند کر دیا۔ شہر اچانک بہت چھوٹا ہوگیا تھا۔ ہر گلی کسی نہ کسی آنکھ میں ختم ہوتی تھی۔

گھر کے دروازے پر حرا بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ڈرائنگ بک تھی۔ اس نے سمندر بنایا تھا، مگر نیلا نہیں۔ سمندر خاکستری تھا، جیسے اس میں راکھ گھل گئی ہو۔ کنارے پر ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں تصویر نہیں تھی، اس کے ہاتھ میں ایک پودا تھا۔ پودے کی جڑیں کاغذ سے باہر نکلتی ہوئی لگتی تھیں۔

"یہ کون ہے؟" رافع نے پوچھا۔

حرا نے کہا، "یہ کسی کو ڈھونڈ نہیں رہی۔ یہ کسی کو یاد رکھ رہی ہے"۔

رافع نے ڈرائنگ بک بند نہیں کی۔ اسے لگا بچی نے وہ بات کہہ دی ہے جو وہ کئی سال سے لکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

رات کو عائشہ نے الماری سے اپنا چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔ اس میں شادی کے وقت کی دو چوڑیاں، ایک ناک کی کیل اور کچھ پرانے نوٹ رکھے تھے۔ اس نے نوٹ رافع کے سامنے رکھ دیے۔

"یہ کتنے دن چلیں گے؟" رافع نے پوچھا۔

"دن نہیں چلتے، آدمی چلتا ہے"، عائشہ نے کہا۔ "مگر ایک بات سنو۔ تم اگر صرف ضد میں سب کچھ کھو رہے ہو تو یہ ظلم ہے اور اگر واقعی تمہارے اندر کوئی چیز تمہیں روک رہی ہے تو پھر اسے اچھی طرح سنو۔ آدھا سچ گھر بھی جلاتا ہے اور آدمی بھی"۔

رافع دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہا، جیسے وہ کاغذ پر لکھا ہو۔

اسی رات وہ اٹھا۔ بچے سو رہے تھے۔ سبحان کے منہ پر آٹے کا خشک ذرہ لگا تھا۔ حرا نے ڈرائنگ بک سینے سے لگا رکھی تھی۔ عائشہ کروٹ بدلے جاگ رہی تھی، مگر اس نے آنکھیں بند رکھی تھیں، شاید اسے معلوم تھا رافع کہاں جا رہا ہے۔

رافع نے میز پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ کھولا۔ اس کے پاس اب اخبار کا سرکاری ای میل نہیں تھا۔ پاس ورڈ بدل دیا گیا تھا۔ مگر اس کے پاس پرانی نوٹ بک تھی۔ اس میں وہ نام تھے جو کبھی "حساس" کہہ کر کاٹ دیے گئے تھے۔ ان کے ساتھ عمر، شہر، پیشہ، ماں کا نام، کبھی کوئی رنگ، کبھی کوئی عادت۔ ایک نام کے آگے اس نے لکھا تھا: "چائے بہت میٹھی پیتا تھا"۔ دوسرے کے آگے: "بہن کہتی ہے ہنستے ہوئے ایک آنکھ بند ہو جاتی تھی"۔ تیسرے کے آگے: "ماں کے ہاتھ کی روٹی آخری بار کھائی تھی"۔

یہ خبر نہیں تھی۔ یہ گنتی بھی نہیں تھی۔ یہ شاید کسی عدالت میں ثبوت نہ بنتا۔ مگر یہ غائب کیے گئے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی زندگیوں کا وہ حصہ تھا جسے کوئی فائل نگل نہیں سکتی تھی۔

اس نے ایک مختصر متن لکھنا شروع کیا۔ نہ عنوان میں آگ تھی، نہ جملوں میں نعرہ۔ اس نے صرف ایک عورت کا ذکر کیا جو ہر جمعرات کو بازار سے لوٹتے ہوئے اپنے گم شدہ بھائی کے لیے وہی صابن خریدتی رہی جو اسے پسند تھا۔ ایک بچی کا ذکر کیا جو اسکول میں اپنے باپ کا پیشہ نہیں لکھتی، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ "لاپتا" بھی کوئی پیشہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ایک صحافی کا ذکر کیا جسے ناموں کی جگہ اعداد لکھنے کو کہا گیا اور جس نے ایک رات اعداد کے پیچھے چھپے نام دوبارہ پڑھ لیے۔

آخر میں اس نے اپنا نام نہیں لکھا۔

پھر رک گیا۔

اسے محسوس ہوا کہ اگر نام نہ لکھا تو وہ بھی اسی مٹی میں ایک اور بے نام حرف دفن کر دے گا۔ اس نے کرسر واپس اوپر لے جا کر لکھا: رافع کاظمی۔

انٹر کا بٹن دبانے سے پہلے اس کی انگلیاں کانپیں۔ اسے حرا کی رنگین پنسلیں یاد آئیں، مالک مکان کا گچھا، عائشہ کا ڈبہ، فہد کی ٹھنڈی چائے، وہ پیغام: بچوں کا خیال کرو۔

اس نے مڑ کر بچوں کو دیکھا۔ حرا نیند میں کچھ بڑبڑائی۔ شاید پہاڑا، شاید سمندر، شاید کوئی نام۔

رافع نے بٹن دبا دیا۔

کچھ نہیں ہوا۔ کوئی دھماکا نہیں، کوئی روشنی نہیں۔ صرف کمرے میں پنکھا اسی طرح گھومتا رہا، باہر گلی میں ایک موٹر سائیکل گزری، دور کہیں کتا بھونکا۔ دنیا نے اس کے چھوٹے سے عمل پر کوئی جشن نہیں منایا۔

صبح جب حرا اٹھی تو رافع میز پر سویا ہوا تھا۔ لیپ ٹاپ کی اسکرین سیاہ ہو چکی تھی۔ عائشہ چولہے کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے کچھ نہیں پوچھا۔ صرف چائے کا کپ اس کے قریب رکھ دیا۔

حرا نے اپنی ڈرائنگ بک کھولی۔ سمندر والی تصویر کے نیچے اس نے پنسل سے ایک جملہ لکھا تھا۔ حروف ٹیڑھے تھے، کچھ جگہوں پر مٹائے گئے، پھر دوبارہ لکھے گئے۔ رافع نے پڑھا تو اس کے اندر کوئی چیز آہستہ سے سیدھی ہوگئی۔

جملہ یہ نہیں کہتا تھا کہ کوئی جیت گیا ہے۔ یہ بھی نہیں کہتا تھا کہ خوف ختم ہوگیا ہے۔ وہ صرف اتنا کہتا تھا کہ جو مٹایا گیا تھا، اس نے کاغذ پر واپس آنا سیکھ لیا ہے۔

کھڑکی کے باہر نیم کے درخت پر ایک پتہ ہلا۔ بہت معمولی سا۔ جیسے کسی نے بہت دور سے آہستہ آواز میں اپنا نام لیا ہو۔