1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. محل بمقابلہ جھونپڑی

محل بمقابلہ جھونپڑی

انسان نے جب غاروں کی زندگی سے نکل کر تہذیب کی بستیوں میں قدم رکھا، تو اسی دن سے عمارتوں کی بناوٹ انسانوں کے مابین طبقاتی تقسیم کی سب سے بڑی علامت بن گئی۔ محل اور جھونپڑی محض دو الگ ساخت کی رہائش گاہیں نہیں ہیں، بلکہ یہ انسانی تاریخ کی اس معاشی عدم مساوات، سماجی کشمکش اور سیاسی نظاموں کی داستان ہیں جو صدیوں سے دنیا پر محیط رہی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قدیم مصر کے اہرام اور فرعونوں کے محلات سے لے کر برصغیر کے مغلوں کے عالیشان قلعوں تک، محل ہمیشہ اقتدار، لامحدود وسائل اور جبرِ مسلسل کی علامت رہے، جبکہ ان کی تعمیر کرنے والے مزدور اور عام لوگ ہمیشہ انہی محلات کے سائے تلے کچی جھونپڑیوں اور مٹی کے خستہ مکانات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے۔ یہ تفاوت وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے صنعتی انقلاب اور جدید سرمایہ دارانہ نظام کے بعد مزید گہرا اور بھیانک رخ اختیار کر چکا ہے، جس نے دنیا کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

موجودہ دور میں اگر عالمی سطح پر جھونپڑیوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعداد و شمار انتہائی ہوشربا اور لرزہ خیز ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 1 ارب 10 کروڑ (1.1) سے زائد انسان کچی آبادیوں، جھونپڑیوں اور غیر معیاری پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ اگلی چند دہائیوں میں یہ تعداد بڑھ کر 3 ارب تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ مسئلہ مزید سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے، جہاں مجموعی آبادی کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً 40 سے 45 فیصد لوگ خطِ غربت کے آس پاس یا کچی آبادیوں اور جھونپڑیوں میں مقیم ہیں۔ کراچی کا علاقہ اورنگی ٹاؤن اور لیاری جبکہ لاہور، راولپنڈی اور کوئٹہ کے مضافات میں پھیلی جھونپڑیاں اس تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ عوام کے اس طرح جھونپڑیوں میں رہنے کی چند مخصوص اور بڑی وجوہات ہیں جن میں سب سے پہلی وجہ بے ہنگم اور تیز رفتار شہری منتقلی ہے۔ دیہاتوں میں روزگار، صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں خاندان شہروں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں زمینوں کی فلک بوس قیمتوں کے باعث کچی زمینوں پر جھونپڑیاں ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

دوسری بڑی وجہ دولت کی غیر مساوی تقسیم اور شدید غربت ہے، جہاں امیر امیر تر اور غریب ترین ہوتا جا رہا ہے۔ تیسری وجہ حکومتی سطح پر سستی ہاؤسنگ اسکیموں کا نہ ہونا اور کرپشن ہے، جس کے باعث ہاؤسنگ سیکٹر مافیا کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے۔ چوتھی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات (جیسے سیلاب اور زلزلے) ہیں، جو دیہی آبادی کو بے گھر کرکے شہروں کے فٹ پاتھوں اور جھونپڑیوں میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ دوسری طرف اگر ہم محلات، پینٹ ہاؤسز اور عالی شان بنگلوں میں رہنے والی آبادی کا موازنہ کریں تو یہ دنیا کی کل آبادی کا محض 1 سے 5 فیصد حصہ ہے، جنہیں اشرافیہ یا الیٹ کلاس کہا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ طبقہ کل آبادی کا بمشکل 1 سے 2 فیصد ہے، لیکن یہ ملک کے 70 فیصد سے زائد وسائل اور زمینوں پر قابض ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ محلوں تک کیسے پہنچے؟ تاریخ اور موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ محلوں تک پہنچنے کے تین بڑے راستے رہے ہیں۔ پہلا راستہ "موروثی جاگیرداری اور خاندانی دولت کا ہے" جہاں صدیوں سے چلی آ رہی زمینیں، شاہی مراعات اور سیاسی اثر و رسوخ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ دوسرا راستہ سرمایہ دارانہ نظام کا استحصال اور کارپوریٹ اجارہ داری ہے، جس میں صنعت کاروں اور تاجروں نے سستی لیبر (مزدوروں) کی محنت کا بڑا حصہ خود سمیٹا اور بڑے کاروباری امپائر کھڑے کیے۔

تیسرا راستہ سیاسی و بیوروکریٹک کرپشن اور ریاستی وسائل کی لوٹ مار ہے، جہاں عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر محل تعمیر کیے گئے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے حیرت انگیز اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ محل اور جھونپڑی کا یہ وجود ایک دوسرے کے مرہونِ منت ہے۔ محلوں کی چمک دمک، ان کے باغات کی ہریاول اور صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کیلئے انہی جھونپڑیوں سے سستے مزدور، چوکیدار اور خاکروب روزانہ نکل کر محلوں میں جاتے ہیں۔

محل کا مالک اپنی آسائشوں کیلئے جس سستی لیبر پر تکیہ کرتا ہے، وہی تفاوت جھونپڑی کو مزید تاریک اور محل کو مزید روشن بناتا ہے۔ جب تک دنیا میں ایسا معاشی ماڈل نافذ نہیں ہوتا جو بنیادی انسانی حقوق، سستی چھت کی فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے، تب تک محل اور جھونپڑی کی یہ تاریخی اور دردناک جنگ یونہی جاری رہے گی اور انسانیت سسکتی رہے گی۔