جب تاریخ کے صفحات پر جبر، تکبر اور مضحکہ خیز حد تک پھیلی ہوئی انسانی خواہشات کا تذکرہ آتا ہے، تو ذہنِ انسانی میں سرفہرست یہی ضرب المثل ابھرتی ہے: "سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا"۔ یہ محض ایک تمثیل نہیں، بلکہ کائنات کے اس اٹل قانون کی عکاسی ہے جہاں مادہ پرست طاقتیں اپنی محدود اوقات اور اوقاتِ کار سے تجاوز کرکے ایک ایسی حاکمیت کا خواب دیکھتی ہیں جو منطق، فطرت اور انسانیت کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی فرعون، نمرود یا جدید دور کے نام نہاد خدا نے کائنات کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کی، وہ بالکل اسی طرح ناکام و نامراد ہوا جیسے کوئی ہٹ دھرم اونٹ کو سوئی کے باریک سوراخ سے زبردستی دھکیلنے کی لاحاصل مشق کر رہا ہو۔ عالمی و یہ مثال اور تحریر علاقائی ظلم اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے خوفناک تضادات کا ایک بے باک، عجیب و غریب اور تاریخی تمثیل ہے۔
عالمی منظرنامے پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس کی سب سے بڑی اور مضحکہ خیز مثال ریاستہائے متحدہ امریکہ کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو پوری دنیا کو مونوپولی (یک قطبی نظام) کے تحت چلانے کا خواہاں ہے۔ ایک ایسی قوم جس کی اپنی تاریخ چند سو سال سے زیادہ پرانی نہیں، وہ ہزاروں سال قدیم تہذیبوں، ثقافتوں اور خود مختار ممالک کو اپنے معاشی و عسکری کوڑے سے ہانکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ویتنام کے گھنے جنگلات سے لے کر عراق کے صحراؤں اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک، امریکہ نے کھربوں ڈالر اور لاکھوں جانیں اس مہم جوئی میں جھونک دیں کہ وہ پوری دنیا کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکے، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ وہی جو سوئی کے ناکے سے اونٹ گزارنے کا نکلتا ہے، مکمل تباہی، معاشی دیوالیہ پن اور رسوائی۔
بالکل اسی تسلسل میں اگر مشرقِ وسطیٰ کو دیکھا جائے، تو اسرائیل نامی ایک خرد بینی صیہونی ریاست، جو خود بیسویں صدی کے وسط میں عالمی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی، آج پورے عالمِ اسلام کو اپنے قابو میں کرنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ چند ملین کی آبادی کا حامل یہ ملک اربوں کی مسلم آبادی، ان کے وسائل اور ان کی جغرافیائی اہمیت پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے، جو کہ ایک ایسی اسٹریٹجک حماقت اور جغرافیائی ناممکنات کا مجموعہ ہے جس کا انجام تاریخ کے کوڑے دان کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس جنون کی ایک اور حیرت انگیز اور تلخ شکل ہمیں جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ایک ارب سے زائد آبادی کا یہ ملک، جو غربت، جہالت اور سماجی عدم مساوات کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، آج فاشسٹ ہندوتوا نظریے کے تحت پوری دنیا پر گائے کی بندگی، اطاعت اور مخصوص مذہبی بالادستی مسلط کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر عالمی برادری میں بیٹھنے والا یہ ملک اندرونی طور پر اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور دلتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے، جہاں گائے کے گوشت کے شبہے میں انسانوں کو سرِعام زبح کر دیا جاتا ہے اور سفارتی سطح پر دنیا کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے اس خبط کو تسلیم کرے۔ دوسری طرف، اگر ہم پاکستان کے جغرافیے اور اس کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو یہاں ایک عجیب و غریب نسلی و حاکمانہ تضاد نظر آتا ہے۔
تاریخ کی بڑی بڑی سلطنتیں، مغلیہ دور سے لے کر انگریز سامراج تک اور اب پاکستان کا مقتدر طبقہ اور دیگر حاکم اقوام، پشتونوں پر اپنی مرضی کی حاکمیت قائم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ پشتون، جن کی فطرت میں آزادی، غیرت اور خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہے، انہیں طاقت، بندوق اور مکارانہ سیاسی چالوں کے ذریعے مطیع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تاریخ کا وہ تلخ ترین سچ ہے کہ جو بھی طاقت ان کے چٹانی عزم کو توڑنے آئی، وہ خود پاش پاش ہوگئی، کیونکہ پٹھان کی انا کو کسی زنجیر میں جکڑنا سوئی کے ناکے سے پورا کارواں گزارنے جیسا لاحاصل کام ہے۔ جب ہم عالمی سطح سے اتر کر پاکستان کی مقامی اور لوکل سطح پر ظلم، جبر، لوٹ مار اور غیر انسانی واقعات کا جائزہ لیتے ہیں، تو دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آتے ہیں۔ یہاں کا جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام بذاتِ خود اس ضرب المثل کی بدترین عملی شکل ہے۔
سندھ اور بلوچستان کے وڈیرے، پنجاب کے چوہدری اور اشرافیہ، غریب ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں۔ وہ ان پسماندہ انسانوں سے ان کی روح تک نچوڑ لینا چاہتے ہیں، انہیں تعلیم، صحت اور جینے کے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر ان سے اپنی اندھی اطاعت کی امید رکھتے ہیں۔ یہ کیسی عجیب و غریب منطق ہے کہ ملک کا چوبیس کروڑ عوام بھوک اور ننگ کا شکار ہو، بجلی کے بلوں، ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہو اور دوسری طرف چند سو خاندان ملک کے تمام وسائل پر قابض ہو کر عیاشی کی زندگی گزار رہے ہوں؟
پولیس کا عام شہری پر تشدد، ماورائے عدالت قتل، زمینوں پر ناجائز قبضے اور طاقتور کا کمزور کو سرِعام کچل دینا یہ وہ روزمرہ کے لوکل واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کا مقتدر طبقہ کائنات کے فطری قوانین کو چیلنج کر رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اسی طرح ظلم کا بازار گرم رکھ سکیں گے، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ جب مظلوم کی آہ عرش کو ہلاتی ہے، تو بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں۔
امریکہ کی عالمی بالادستی کا خبط ہو، اسرائیل کا عالمِ اسلام کو ہڑپ کرنے کا جنون، ہندوستان کا گائے کی اطاعت کا مضحکہ خیز فلسفہ، پشتونوں پر زبردستی حکمرانی کی استعماری خواہش، یا پھر پاکستان کی مقامی سطح پر اشرافیہ کی ننگی لوٹ مار اور ظلم یہ سب کے سب اس کائناتی سچائی کے سامنے ہیچ ہیں کہ باطل کبھی مستقل قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ تمام حاکم اقوام اور طبقات دراصل تاریخ کی سوئی کے ناکے سے اپنی انا کا اونٹ گزارنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ سچائی، انصاف اور فطرت کا اصول بڑا واضح ہے: ظلم جتنا بڑھتا ہے، اتنی ہی جلدی مٹ جاتا ہے اور تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو عبرت کا نشان بنا دیتی ہے جو اپنی حدوں کو بھول کر خدائی کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں۔