1. ہوم
  2. کالمز
  3. سید محمد زاہد
  4. سچا سودا گردوارہ چوہڑکانہ، کیا اسے گرایا گیا ہے؟

سچا سودا گردوارہ چوہڑکانہ، کیا اسے گرایا گیا ہے؟

کچھ دنوں سے ہمارے سوشل میڈیا اور انڈین چینلز پر چوہڑکانہ فاروق آباد کے ایک پرانے گردوارے کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ میڈیا کی شوریدہ لہروں میں حقیقت کی نرم آواز دب کر رہ گئی ہے۔ نیک نیتی سے اٹھایا گیا قدم، اپنوں کی نادانیوں اور بیگانوں کی منافقت کے بوجھ تلے کچلا جا رہا ہے۔ سچائی کا چراغ جھوٹ کی آندھیوں میں لرزاں ہے۔

فاروق آباد، منڈی چوہڑکانہ کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، مگر اس کے پہلو میں آباد گاؤں چوہڑکانہ یا "سُچّا سودا" صدیوں کی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ روایت ہے کہ بابا جی گرونانک نے باپ کی دی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگانے کے بجائے یہاں سادھووں کو کھانا کھلا کر اپنے رب کے ساتھ سُچّا سودا کیا۔ اسی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے یہاں گردوارہ تعمیر ہوا۔ یہ گاؤں اس سودے سے پہلے وجود میں آیا یا بعد میں، اس کا فیصلہ وقت کی دھند میں گم ہے۔

پلاک کی لغات میں "سُچّا" کو کھرا، نکھرا، نیک، چنگا اور ایماندارانہ کہا گیا ہے، جبکہ "سودا" کا مطلب بیوپار اور کاروبار ہے۔ یوں یہ نام اپنے اندر روحانی اور معاشی دونوں جہتیں سمیٹے ہوئے ہے۔

انگریز دور میں نہری نظام کے تحت گوگیرہ برانچ یہاں سے گزری تو نہری پانی اس علاقے کو ملنا شروع ہوگیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ریلوے لائن بچھائی گئی تو چوہڑکانہ گاؤں کے باسیوں کی مخالفت کے باعث ریلوے اسٹیشن نہر پار بنایا گیا۔ پہلے یہاں بانسوں کی منڈی ہوتی تھی۔ اس جگہ پر اسٹیشن کے ساتھ ایک شہر آباد کیا گیا جسے "منڈی چوہڑکانہ" کہا گیا۔ یہ شہر خالصتاً زرعی پیداوار کا مرکزِ کاروبار تھا، جسے انگریزوں نے یونین جیک کے نقشے کی مانند ترتیب دیا۔ یہاں کے بازاروں کی لکیریں ایک مرکزی چوک "چھتا کھوہ" پر آ کر ملتی تھیں۔

بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں تھانہ، سکول، ہسپتال اور بلدیہ کی عمارتیں تعمیر ہوئیں اور یوں یہ منڈی ایک رہائشی بستی میں ڈھل گئی۔ اس کی فضا میں آج بھی تاریخ کی پرچھائیاں اور کاروبار کی رونقیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔

اکبر، جہانگیر اور شاہجہاں کے عہد میں یہ خطہ بھٹیوں کی شورش سے لرزاں رہا۔ وقت کا دھارا جب رنجیت سنگھ کو یہاں لایا تو اسے بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انگریزوں کا پرچم لہرایا، تو راوی اور چناب کے درمیان کا وسیع خطہ "رچنا دوآب" ایک ہی ضلع میں سمو دیا گیا، جس کا صدر مقام ابتدا میں شیخوپورہ تھا۔

جلیانوالہ باغ کے المناک واقعے کے بعد اس خطے کی فضاؤں میں احتجاج کی صدائیں گونجنے لگیں۔ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دور دراز شہروں اور دیہات میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ "گزٹ آف انڈیا" کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی شہروں میں منڈی چوہڑکانہ کا نام سب سے نمایاں تھا۔

اس منڈی کی آبادی (تقریباً) مکمل طور پر غیر مسلم تھی، جن میں سکھوں کی اکثریت تھی۔ یہ گردوارہ بھی اسی دور کی یادگار ہے۔ جب تقسیمِ ہند کا طوفان اٹھا تو یہ شہر یکسر خالی ہوگیا۔ چند مسلمان گھرانے باقی رہ گئے، وہی لوگ جو دکانوں پر ملازم تھے۔ یوں ایک آباد منڈی لمحوں میں ویرانی میں ڈھل گئی اور گردوارہ اس گزرے زمانے کی خاموش نشانی بن کر رہ گیا۔

تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دنوں میں یہ شہر انتہائی پرسکون رہا، بلکہ اردگرد کے علاقوں سے ہجرت کرنے والے بھی یہاں نہر پار بنگلہ کی حدود میں قائم کیمپوں میں ٹھہرائے گئے۔ اسی گردوارے اور اسی گلی میں جانے والوں کی امانتیں محفوظ کی گئیں اور پھر وہی سامان لٹے پٹے مہاجروں کو اسی گلی سے الاٹ ہوا۔ اسی کشمکش میں اس شہر کی اسی گلی کی فضاؤں میں فائر ہونے والی اکلوتی گولی کی آواز گونجی۔

پاکستان کے قیام کے بعد یہ شہر مہاجروں کے حصے میں آیا۔ انڈیا سے آنے والے بھی یہاں آباد ہوئے اور اردگرد کے علاقوں سے بھی بہت سے لوگ اس منڈی میں منتقل ہو گئے۔ یوں ایک اجڑا ہوا شہر رفتہ رفتہ زندگی کی رونقوں سے بھر گیا اور اس کی گلیاں پھر سے انسانی کہانیوں کی گواہ بن گئیں۔

تقسیم کے بعد جب شہر میں کوئی ہندو یا سکھ باقی نہ رہا تو یہاں کا واحد گردوارہ اور قریب کے محلہ گرونانک پورہ کا مندر محکمۂ اوقاف کے زیرِ قبضہ آ گیا۔ ابتدا میں مہاجرین کو عارضی طور پر ان عمارتوں میں بسایا گیا، جو بعد ازاں محکمہ کے کرایہ دار ٹھہرے۔ گردوارہ چونکہ شہر کے قلب میں واقع ہے اور اب کاروباری زندگی کا مرکز بن چکا ہے، اس لیے اس کی قیمت وقت کے ساتھ آسمان کو چھونے لگی۔

محکمۂ اوقاف کے کرایہ داروں کو اجازت ہے کہ وہ عمارت میں رہائش رکھیں، معمولی مرمت کر لیں، مگر اسے گرا کر نئی تعمیر نہیں کر سکتے۔ ایک سو پچیس برس پرانی یہ عمارت وقت اور موسم کی ضربیں سہتے سہتے اب خود ہی گرنے لگی تھی۔ بلکہ جب اقلیتی امور کے منسٹر نے اس گردوارے کا دورہ کیا تو میڈیا پر دکھائے جانے والے بوسیدہ دروازے کو ہتھوڑے سے کھولا گیا۔ اس عمارت کو نہ کسی نے ڈھایا اور نہ ہی اس پر کوئی نئی عمارت کھڑی کی۔ ہاں، کچھ دلوں میں یہ خیال ضرور پلنے لگا تھا کہ ملی بھگت سے اس پر قبضہ کرکے یہاں پلازہ بنا لیا جائے۔ اسی دوران ایک ٹک ٹاکرنے یہاں اپنا پروگرام کر دیا اور یوں یہ عمارت اعلیٰ حکام کی نظر میں آ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سکھ برادری اپنی ملکیت کا دعویٰ لے کر سامنے آ گئی۔

حقیقت یہی ہے کہ یہ گردوارہ ہے اور محکمۂ اوقاف اس کا مالک ہے۔ دوسری تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ شہر میں آج کوئی ایک بھی سکھ مذہب کا پیروکار رہائش پذیر نہیں۔ یہ گردوارہ تاریخی طور پر سکھ مذہب کے کسی بڑے رہنما سے براہِ راست وابستہ بھی نہیں۔ مگر یہ ان کے مذہب کی عمارت ہے اور اب تک ان کے نام پر قائم ہے۔

اگر یہ گردوارہ سکھ برادری کو واپس مل جائے تو نہ صرف شہر کا نام روشن ہوگا بلکہ دنیا بھر سے یاتری یہاں آئیں گے اور کاروبار میں بھی ترقی ہوگی۔

آج کل نصیرالدین شاہ کی ایک فلم "میں واپس آؤں گا" کا بہت شور و غوغا ہے۔ اب واپس آنے والوں کی دوسری نسل نفرتیں چھوڑ کر محبتیں ڈھونڈ رہی ہے۔ اس گردوارے کا دوبارہ بننا انڈین سکھ برادری کو ہمارا محبت بھرا تحفہ ہوگا۔

بابا جی گرونانک جو آج بھی اس دھرتی کے آسمان پر چمکنے والا روشن ستارہ ہیں، انہوں نے اپنا کل اثاثہ اپنے رب کے حضور خیرات کرکے "سُچّا سودا" کیا تھا۔ اس سُچّے سودے کی برکات سے ہمارے شہر کا جڑواں گاؤں آج بھی برکات سمیٹ رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم بھی ان کے پیروکاروں کو ان کی امانت واپس کرکے اس روایت کو زندہ رکھتے۔ مگر ہم غیروں کی چالوں میں الجھ کر اسے مذہبی مسئلہ بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور یوں اپنے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا رہے ہیں۔ حکومت جو چاہے گی وہ کر گزرے گی، لیکن سوچ لیں کسی مذہب کی عبادت گاہ کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر ہم کیا کمائیں گے؟