1. ہوم
  2. افسانہ
  3. ریٔس احمد کمار
  4. ٹیٹ امتحان

ٹیٹ امتحان

باپ کا سایہ کم عمری ہی میں سر سے اٹھ جانے کے بعد ندیم کی کفالت اس کی ماں نے ہی کی۔ آمدنی کے قلیل ذرائع ہونے کی وجہ سے اسے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تین بچوں کی پرورش اور ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی، مگر ایک دلیر اور باہمت عورت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس نے ان کی کفالت اور معیاری تعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد ندیم نے اپنی ماں کی کمزور معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے گھر کی آمدنی میں اضافہ کرنے کی غرض سے شام چار بجے کے بعد چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا۔ کمانے کے ساتھ ساتھ اس نے گریجویشن، پھر پوسٹ گریجویشن بھی مکمل کر لی۔ بعد ازاں وہ قصبے کے ایک معروف پرائیویٹ اسکول میں ملازمت کرنے لگا۔

اب تینوں بہن بھائی شادی کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ ماں نے پہلے ندیم کی شادی کرنے کا مشورہ دیا، پھر اس کے بعد بیٹیوں کی شادی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ندیم نے ماں کی تجویز کو بجا سمجھتے ہوئے بخوشی رضامندی ظاہر کر دی۔

ماں نے اپنے بھائی سلام الدین سے ندیم کے لیے رشتہ تلاش کرنے کو کہا۔ تین سال تک وہ تمام رشتہ داروں اور دوست احباب کے گھروں کے چکر لگاتا رہا، مگر کسی نے بھی رشتہ دینا مناسب نہ سمجھا، کیونکہ ایک تو ندیم سرکاری ملازمت میں نہیں تھا، دوسرے ان کے پاس نہ زیادہ مال و دولت تھا، نہ جائیداد اور نہ ہی وہ شکل و صورت میں اتنا خوبصورت تھا کہ کسی لڑکی کو پہلی ہی نظر میں پسند آ جاتا۔

اسی سال کے اواخر میں جنرل ٹیچرز کی منتخب امیدواروں کی فہرست جاری ہوئی، جس میں ندیم کا نام بھی شامل تھا۔ اب رشتہ دار ہی کیا، آس پاس کے دیہات کے بااثر لوگ بھی اپنی بیٹیوں کا رشتہ ندیم سے جوڑنے کے خواہش مند ہو گئے۔ آخرکار اپنے ہی گاؤں کے ایک ریٹائرڈ نائب تحصیلدار کی بیٹی سے اس کا رشتہ طے پا گیا۔ منگنی اور دیگر تمام روایتی رسومات ادا کی گئیں۔ نکاح بھی خوش اسلوبی سے انجام پایا۔ دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کو سونے کے زیورات اور دیگر تحائف بھی پیش کیے۔

اب صرف رخصتی باقی تھی، جو اگلے سال طے پائی، کیونکہ ندیم کی ماں نے تجویز دی تھی کہ بیٹیوں کی شادی بھی اسی موقع پر ایک ساتھ کر دی جائے۔ سب نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔رخصتی میں صرف دو ماہ باقی تھے کہ اچانک لڑکی والوں کی طرف سے رشتہ توڑنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ رشتہ ہر حال میں ختم کرنا ہے۔

اس بار نہ ندیم کی غربت، قلیل مال و دولت یا کم خوبصورتی وجہ بنی، بلکہ سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی تھی کہ اساتذہ کو نئے سرے سے ٹیٹ (TET) کا امتحان دینا ہوگا۔ جو اس امتحان میں کامیاب ہوگا، صرف اسی کی ملازمت برقرار رہے گی، جبکہ ناکام ہونے والوں کو فوراً ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔