"اس کا کہنا تھا کہ وہ نِربدا کی نیل دھار کے سنگ بہتی آئی تھی: پون کے دوش پر لہراتی نربدا تٹ پر اتری تھی۔ ورش بیت گئے، اب وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ روزانہ رات تٹ کی ریت پر لیٹ جاتی، نربدا سے پرارتھنا کرتی کہ اسے اپنے سِرن میں لے لے۔ ترنگیں اس کے پاس آتیں اور چرنوں کو چوم کر لوٹ جاتیں"۔
مندریا نرتکی کہانی سنا رہی تھیں۔
"اسے قریب پا کر ندی کسی جھیل کے سمان شانت ہو جاتی، چندرما کے مکھ پر وہی جامنی چمک چھا جاتی جو اس کے آنے کی رات میں تھی، لیکن کامنا پورن نہ ہوتی۔ اب وہ بوڑھی ہو چکی تھی، ایک ایسی بِردھا ناری جس کا اپنا ایک پریوار تھا، جس کا جیون کئی جیونوں سے جُڑا تھا۔ اب وہ برآمدے میں بیٹھ کر چائے پیتی، راتوں کو آنسو بہاتی، شیو پوران کے اشلوک گاتی، گلے میں موجود بانالِنگا کی مالا سے کھیلتی، نربدا مَیّا کے سپنے بُنتی۔ ایک ایسی دیوی جس کی گود میں واپسی کی کوئی آشا باقی نہ رہی تھی"۔
کامنی اور مندر کے بالک کھنچے چلے آتے اور اس کے پہلو میں آ بیٹھتے۔ مندریا نرتکی گہری اداسی اور نقاہت کے عالم میں اس عورت کی کہانی سناتی۔ ہر مرتبہ وہی جملہ دہراتی، اس کے جھریوں والے ہاتھ چائے کے پیالے کو جم کر تھامے رکھتے۔ کبھی کبھار اپنا گلا صاف کرنے کے بہانے کھانستے ہوئے اپنی کلائی منہ کے سامنے رکھ لیتی۔ اسی کلائی میں کانچ کا ایک انوکھا کڑا تھا جس کے شفاف شیشے میں نربدا کے پتھروں کے بیچ اُگنے والی گھاس بند تھی۔
"کہانی سچی ہے یا جھوٹی؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ناری کون تھی؟ دیوی تھی یا اپسرا؟ کچھ پتا نہیں"۔ وہ ہمیشہ اسی جملے سے کہانی شروع کرتی۔ کامنی اس کے بازو پر سر رکھ کر بیٹھ جاتی۔
"نربدا اس ستری کو کب اپنی گود میں دوبارہ سمیٹے گی؟ کب وہ مہلا واپس اپنے دیش میں جا سکے گی؟ اگر نربدا مَیّا اس پر مہربان ہوگی تو کیا وہ ناری مکر تو نہیں جائے گی؟"
بچے اس کی انوکھی باتیں سن کر مست ہو جاتے۔ بالکے، کب، اگر، مگر اور پچھتاوے کی کشمکش کو سمجھ نہ پاتے۔ کامنی اب اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ بچپن کی کہانیوں کا جادو اثر کھو چکا تھا۔ اس نے سوال کیا، "وہ ناری کون تھی؟"
نرتکی نے آنکھیں موند لیں، جیسے کوئی درد ابھر آیا ہو۔ کامنی سب جانتے ہوئے بھی سوال بار بار دہراتی۔
"میری لاڈلی، یہ اہم بات نہیں کہ وہ عورت کون تھی۔ جاؤ! نربدا تٹ پر کھیلو۔ دیوی سے پرارتھنا کرو، ونَتی کرو کہ وہ اپسرا کو چھما کر دے۔ ستری کو اس کا گھر لوٹا دے"۔
کہانی کے پہلے موڑ پر وہ ناری نربدا کے تٹ پر کھڑی سولہ ورش کی کومل کلی تھی اور دوسرے موڑ پر وہی ستری تہتر ورش کی بِردھا ناری۔ دوسرا موڑ دراصل کہانی کا انتم ادھیائے تھا، اُپسنہار تھا۔
وہ بلا رکے کہانی سناتی رہتی۔
"وہ عورت آنسوؤں سے بھیگی ادھ کھلی آنکھوں سے اُس نِرَوَن ندی کو تکتے رہنے کے باوجود جانتی تھی کہ اب کوئی کھویا ہوا پریمی لہروں سے ابھر کر اسے آغوش نہ کرے گا اور نہ ہی یہ کہے گا کہ نربدا اب بھی اسے پریم کرتی ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی وہ نربدا تٹ جاتی، بدن ساتھ دیتا تو گھٹنوں تک گہرے جل میں تیرتی، اُن اُچھلتی لہروں پر لیٹ کر اپنی مَیّا سے پرارتھنا کرتی، روتی کہ اسے واپس لے لے، چھما کر دے، اسے اپنی آغوش میں سمیٹ لے"۔
جب پہلا اُدگھاٹن ہوا وہ اُس وقت نوخیز تھی۔ رات کے اندھیارے میں کالی گھٹاؤں نے چندرما کو گھیر کر جامنی اوڑھنی لپیٹ دی تو وہ ترنگوں سنگ بہتی نربدا کنڈ مندر کی سیڑھیوں تک پہنچی، بھیگی بھیگی کومل کنیا لہروں کے اُتار چڑھاؤ کے بغیر خود کو عریاں محسوس کر رہی تھی۔ اس نے پانی بھرتی داسیوں کو دیکھا، سفید ریشمی وستر میں، ہردے کی راگنی پر چلتے وقت ان کے ننگے پاؤں نرتیہ کرتے معلوم ہوئے تھے۔ اُس کے من میں کامنا جاگی کہ وہ بھی اُن جیسی ہو، گرما اور شکتی کے ساتھ رقص کرے، نربدا کی ترنگوں کی طرح نرتیہ کرے۔
کنیاؤں کے بیچ کھڑی دیوداسی نے اُس کے پھٹے پرانے کپڑوں پر غور کیا، جو کسی مندر کے پچھلے حصے سے چرائے گئے تھے، بے قرار آنکھیں اور دریائی گھاس کے کنگن اُس کی نظروں کو بھا گئے۔ مندر میں داخل ہوتے ہی اس کی مڈبھیڑ ایک نوجواں پجاری سے ہوئی۔ وہ گھور کر اسے دیکھ رہا تھا۔ مسلسل تیراکی نے اس کی باہوں اور ٹانگوں کو لکڑی کی مانند مضبوط بنا دیا تھا تو پوتر جل کی لہروں نے انہیں چوم چوم کر ان میں کوملتا اور لطافت بھر دی تھی۔ تمام خوبیوں کے باوجود جسمانی حرکات بے ربط اور بے مقصد معلوم ہو رہی تھیں۔
"اے دیوی، تم کہاں ٹھہری ہو؟" اُس نے آہستہ سے پوچھا۔
"کہیں نہیں"۔
"اس آشرم میں تمہیں رہنے کو جگہ مل جائے گی۔ یہ مندر شکتی سمان افراد کے لیے ہے۔ کیا تم ویسی ہی ہو؟"
ناری نے آنکھیں بند کر لیں۔ یہاں سے نربدا کی لہروں کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، مگر سفید ساڑھیوں میں ملبوس نفیس لڑکیوں کے رقص جیسی حرکات اس کے لیے اتنی ہی قریب تھیں جتنی وہ کئی ہفتوں سے ندی کے دھارے کو محسوس کر رہی تھی۔ موسیقی کی لے پر تھرکنا پوتر لہروں کا نعم البدل بن سکتا تھا۔ رخصت کرتے وقت دیوی مَیّا نے بھی وعدہ لیا تھا کہ وہ نرتیا پاروتی سیکھے گی اور دنیا والوں کو اپنے نرت بھاؤ سے فیض یاب کرے گی۔
اس نے آنکھیں کھولیں اور اس آدمی کو گھور کر دیکھا، چھوٹا قد اور خاموش مکھڑا، اپنی حرکات پر مکمل قابو رکھنے والا، ایسی نزاکت کا حامل جو اس نے اپنی نوع کی سب سے بوڑھی عورتوں میں ہی دیکھی تھی۔ وہ بھی نظریں چرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ من موہک نین، نربدا کی گہری نیلی کھائیوں کی مانند، ایک ایسے مکھ منڈل پر سجی جو یدھ اور شانتی دونوں روپ جانتا تھا۔ شانتی اور سُرکھشا کا سوروپ۔
اسے دیکھتے ہی سوچ ابھری کہ اگر سمے نے ساتھ دیا تو وہ اس آدمی سے پریم کھیل کھیلے گی اور شاید اسی کرما میں اسے ایک گھر بھی مل جائے۔
جب اُس نے ناری کا نام پوچھا تو وہ جواب دینے کا طریقہ نہیں جانتی تھی۔ نربدا نے جو نام اسے دیا تھا وہ صرف پوتر جل کی لہریں، ندی میں پلنے والی مخلوقات اور اندر دیوتا کی اپسرائیں ہی سمجھتی تھیں۔ اس نے انگلی کی نوک سے شیو لنگ کے سامنے موجود آرتی کی تھالی میں پڑے بنفشے کے دو رنگے پھول کی طرف اشارہ کر دیا، "یہ؟"
"دودھیا شفاف شریر اور نیلی کانچی آنکھیں"۔ وہ سوچنے لگا۔ ذہین آدمی تھا فوراً جان گیا، اس کی لجالو طبیعت کو پہچان گیا۔ مسکراتے ہوئے بولا۔
"نیلما!"
اس کے ہونٹوں سے نیلما نکلا تو نربدا کی میٹھی میٹھی پھوار اس کے تن کو بھگو گئی۔ وہ دھیرے سے بولی، "نیلما"۔
"میں، آرنو"۔
آرنو، سنتے ہی اسے دیویا پرکاش ہوا، "ساگر! وشال سمدرا، جس کی تھاہ نہ پائی جا سکی"۔
آرنو نے بھویں اٹھائیں اور مسکرا دیا جیسے اس کی اندرونی آواز کو سن لیا ہو، "ہاں ہاں، یہی۔ روپ اور جیان کا انوپم سنگم ہو تم۔ اندر دیوتا کی سبھا کی اپسرا ہو تم"۔
"جہاں سے میں آئی ہوں"۔ نیلما نے اُس سے کہا، "وہاں ناموں کا معنی نام سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ تمہارا نام بہت گہرا ہے"۔
"دھنیا واد"۔
وہ اس ملاقات کو اکثر یاد کرتی۔ اندھیرے اور تنہا لمحات میں اسے قیمتی موتی کی طرح سینے کے بیچ چھپا لیتی۔ مندر میں چند ہفتے گزارنے کے بعد وہ خواہشات سے پاک عقیدت کی حامل ایک ماہر نرتکی کے طور پر ابھری۔ آرنو نے اسے بنیادی باتیں سکھائیں اور پھر اسے نرتیا آچاریا کے سپرد کر دیا۔
"پیٹھ سیدھی۔ بازو اوپر۔ انگلیاں کھلی ہوئی۔ ایسا لگے جیسے تم کسی ایسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کر رہی ہو جو تمہارے پہنچ سے باہر ہے۔ کرو۔ پھر۔ پھر"۔
نیلما حرکات کو بارہا دہراتی، کوشش ناکام ہونے پر آچاریا کی آواز کانوں میں گونجتی۔ دیوداسی نے اسے پتوں اور پھولوں پر مبنی غذا سے روشناس کروایا۔ تمباکو اور تھنڈائی کے استعمال سے سندرتا برقرار رکھنے اور من کامناؤں پر قابو پانے کے گُر سکھائے تاکہ اس تپسیا سے دیوتاؤں کی خدمت کے لیے خود کو تیار کیا جا سکے۔
رات دیر تک رقص کرنا، صبح جلدی اٹھنا اور جیسے ہی مدھم آنکھیں نیند جھٹک کر صاف ہوتیں فوراً ناچ شروع کر دینا۔ آرنو اس کی جی بھر کر تعریف کرتا۔
"تم نربدا کی مانند رقص کرتی ہو"۔ وہ اپنے الفاظ کی اصل بنیاد سے بے خبر تھا۔ نیلما کو اس کا ایک ایک لفظ ازبر تھا۔
مہا پجاری اسے ناچتے دیکھ کر کہتے، "تیرے نرت پر جھومتے، بھاؤ پر لہکتے دیوتا بھی بن مدرا پیے بہک جاتے ہوں گے۔ تم ہمارے مندر کی سب سے ماہر نرتکی ہو۔ شیو اور پاربتی کی پسندیدہ، مندریا نرتکی۔ کسی بھاگوت کتھا یا پران کی نرتکی"۔
اب یہ سچائی کہاں کھو گئی تھی؟ وہ عورت کہانی سناتے سناتے خود بہک جاتی۔ خوابوں میں کھو جاتی تو کامنی اور بالک اسے ہلا کر واپس لاتے۔ کہانی پھر شروع ہو جاتی۔
"ایسے ہی چار ورش بیت گئے، ہزاروں لہریں نربدا تٹ سے ٹکرا کر لوٹ گئیں، لاکھوں آنسو اس کے رخساروں سے بہہ کر زمین میں جذب ہو گئے۔ وہ برسات کی شام تھی، نیلما نرت شالہ میں ناچ کر اپنے بھاؤ اور رس بکھیر رہی تھی کہ آرنو دروازے پر آ کھڑا ہوا۔ کھلے دروازے سے اندر آنے والی تیسری پہر کی دھوپ نے کمرے کو حرارت آلود روشنی میں رنگ دیا۔ دھوپ نے اس کے خون میں ایک تپش پیدا کر دی جس نے دل کی دھڑکن اور نبضوں کی تپک کو تیز کر دیا۔ آرنو ایک غیر ارادی چمتکار کی مانند کھڑا تھا۔ ہاتھوں میں کچھ تھامے۔ نیلما نے اس کی طرف دیکھا مگر اس کی ریت نما آنکھیں دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔ وہ امید کر رہی تھی کہ یہ پھول ہوں گے، کچھ ایسا جو کمرے کو خوشبو سے بھر دیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتی تھی کہ یہ پھول نہ ہوں، کیونکہ ایسے موقعوں پر دیا جانے والا عام تحفہ پھول ہی ہوتے ہیں اور وہ عام چیز نہیں چاہتی تھی"۔
وہ خاموش کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس سناٹے سے اتنا دباؤ پیدا ہوگیا کہ اس کی مضبوط ٹانگیں برداشت نہ کر سکیں۔ وہ چکرا کر ڈھینے والی تھی کہ آرنو نے بجلی کی پھرتی سی آگے بڑھ کر اسے اپنے طاقتور بازوؤں کا سہارا دے دیا۔
یہ ایک کتاب تھی، وشنو پوران۔ نیلما نے کتاب کی طرف دیکھا پھر اس کی طرف۔
"تمہارے لیے۔ میری اپسرا کے لیے، اپسراؤں کا ذکر پڑھ کر مجھے سکون ملتا ہے"۔
اس کے بعد کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔ کافی دیر کے بعد آرنو نے اشارہ کیا۔
"آؤ۔ نربدا کنارے چلیں۔ ازل میں سمدر منتھن کی جھاگ سے اپسرائیں نمودار ہوئی تھیں: آج نربدا کی لہریں بہت پریشان ہیں، پتھروں سے سر ٹکرا کر جھاگ بنا رہی ہیں، آؤ! دیوتاؤں کا چمتکار دیکھیں"۔
اسے کتاب پکڑائے بغیر پلٹا اور باہر کی طرف چل پڑا۔ نیلما، حیرت زدہ، ایک لمحے کے لیے اسے جاتے دیکھتی رہی، پھر اچانک یاد آیا، دیوداسی نے اسے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ اگر زندگی میں کبھی ایسا موقع آئے کہ تمہارا پسندیدہ انسان تمہیں ساتھ چلنے کو کہے تو کیا کرنا چاہیے؟
"نہیں۔ ٹھہرو! آرنو، واپس آؤ"۔
وہ پلٹتے ہوئے لڑکھڑا گیا، خود کو سنبھالا اور تقریباً اچھل کر اس کی طرف لوٹ آیا۔
"ہاں، ہاں؟"
نیلما نے اس کا پورا اَنتَرنگ مُکھ دیکھا، سر پر سیاہ بالوں کا گچھا، اس کی موٹی موٹی کالی آنکھیں، سرخ ہوتے گال اور اوپری تھرتھراتے ہونٹ پر پسینے کا قطرہ۔ وہ اس کے برابر قد کا تھا، شاید تھوڑا لمبا بھی، اسے لگا جیسے وہ اسے جھک کر دیکھ رہی ہو۔
"میں تمہارے ساتھ نربدا تٹ پر چلوں گی"۔
آرنو نے اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ ملا لیا۔
"تمہارا قد مجھ سے لمبا دکھائی دیتا ہے؟"
"میں بہت خوش ہوں، شاید اس لیے"۔
نیلما نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر سینے سے لگا لی۔
"مجھے امید ہے تمہیں کتاب پسند آئے گی۔ تم نربدا جل اور اس سے جڑی ہر چیز سے محبت کرتی ہو، اس لیے میں نے سوچا کہ تم سمدر منتھن اور اپسراؤں کے بارے میں پڑھنا پسند کرو گی"۔
نیلما نے غور سے اسے دیکھا۔ جاننا چاہتی تھی کہ وہ اس بارے میں کیا سوچتا تھا؟ وہ ایک حوصلہ افزا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی، پریم سے بھرے نینوں میں ڈوب جانا چاہتی تھی، مگر ڈرتی تھی کہ شاید کچھ بھی نظر نہ آئے۔ اس کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔
"میں ایک رات واپس گئی تھی، اندھیرے میں اکیلی، لہروں پر چلتی ہوئی۔ میں نے سوچا تھا کہ پوتر جل کی محبت مجھے کھینچ لے گی۔ ترنگیں مجھے ساتھ لے جائیں گی اور مَیّا میرا سواگت کرے گی۔ میں بھول گئی کہ جب میں نکلی تھی تو پانی جھیل کی طرح ساکت تھا اور چندرما کے مکھ پر جامنی چادر تھی۔ جب واپس لوٹی تو نربدا نے اپنا رنگ روپ بدل لیا تھا"۔
"تو پھر تمہارا نام اسی رات سے آیا ہے"۔ وہ موتی کی طرح شفاف پانی کو شفق سے خون رنگ ہوتے دیکھ رہا تھا۔
نیلما نے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ رات بھیگ گئی تھی۔ سردی اندر تک گھس رہی تھی اور نیلما جانتی تھی کہ یہ گفتگو اچھا رخ نہیں لے رہی۔
"ہاں۔ میرا اصل نام نیلترنگنی ہے، ساگر کی نیلی لہروں جیسی، میں نربدا دیوی کی ریت پر رقص کرتی تھی"۔ وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
"میں نربدا مَیّا کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ"۔
وہ ایک کھردری سیاہ چٹان کی چوٹی پر رک گئے، بازو میں بازو ڈالے، اتنے قریب کہ کندھے ایک دوسرے کو چھو کر گرم ہو رہے تھے۔
"یہ مندر لہروں سے قریب تھا۔ اس لیے ادھر چلی آئی"۔
کہانی سناتے ہوئے وہ سکڑ گئی تھی اور اب وہ اس سے چند انچ چھوٹی تھی۔ آرنو نے مسکراتے ہوئے کہا، "دیکھو تو، تم قد میں مجھ سے چھوٹی ہو"۔
وہ ہنس پڑی۔
"جب نربدا خوش ہوتی ہے تو وہ اچھلتی ہے اور بڑی ہو جاتی ہے"۔
"مجھے خوشی ہے کہ تم نے نربدا کو چھوڑ دیا، میں تمہارا دکھ جان چکا ہوں، لیکن وہ ساری خوبصورتی جو تمہارے پاس ہے"۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ شاید حوصلہ جمع کر رہا تھا، "مجھے خوشی ہوگی کہ تم یہاں میرے ساتھ رہو"۔
وہ اس کی طرف دیکھتی رہی، جسم گرمی پکڑ رہا تھا۔ پیار کی تپش تن بدن میں بھر گئی۔
"کیا تم مجھ پر یقین کرتے ہو؟"
وہ نربدا مَیّا کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ اچھل رہی تھی۔ وہ شفق نہیں، اس کی گرم سانسوں کی حرارت تھی جس کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی۔ نیلما کی بلوری آنکھیں بھی سرخ تھیں۔ اس جھیل کی تھاہ کوئی منش نہیں پا سکتا تھا۔
"میں روایتی آدمی نہیں۔ میں نے مہابھارت، وشنو پوران، بھاگاوت پوران پڑھی ہیں۔ اروشی، مانیکا، رمبھا کی کتھائیں بچپن سے سنتا آ رہا ہوں۔ نربدا دیوی اور گنگا ماتا کی پوجا کرتا ہوں۔ مجھے دیوی مَیّا کی سپتری پا کر خوشی ہوگی"۔
نیلما نے ہنستے ہوئے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا، "تمہاری خواہش نے ہی مجھے مندر میں سکون دیا تھا"۔
***
بِردھا ناری وقتاً فوقتاً دھاری دار بانالِنگا کی مالا پکڑتی، روشنی میں اٹھا کر جانچتی، محسوس کرتی۔ آرنو کے ساتھ بیتی زندگی کی صرف یادیں رہ گئی تھیں۔ جس کمرے میں کبھی دیوداسی رہتی تھی اب وہ اس کی آرام گاہ تھا۔ اس کی بالکونی سے نربدا کا منظر بے مثال تھا۔ وہ نربدا کے تین روپ دیکھ سکتی تھی، جہاں وہ دائیں اور بائیں زمین سے ملتی تھی اور دور جہاں وہ سورج کی طرف پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے لمحات میں، جب کامنی اس کے سینے سے چپکی ہوتی، مندر کی داسیاں اور بالک دور ریت کے ٹیلے پر نربدا کے پوتر جل میں کھیلتے ہوئے اپسرا بننے کا شوق پورا کر رہے ہوتے، وہ سوچتی کہ کیا آرنو نے جب شادی کے دن اس سے کہا تھا، "اب تمہارے دو گھر ہیں"، وہ درست تھا؟
"میری جان"۔ مندریا نرتکی نے کامنی کو اپنے سے علیحدہ کیا۔ نربدا کی گھاس کا بلوری کنگن اسے پہنا دیا۔ گردن سے دھبے دار بانالِنگا کی مالا اتار کر اس کے گلے میں ڈالی"، یہ نربدا مَیّا نے مجھے آتے وقت دی تھی، اسے سنبھال کر رکھنا۔ آج ابھیاس سے پہلے مندر کا پرکرمہ کرو، پھر مجھے دکھاؤ کہ تم ریت کے اس ٹیلے تک تیر کر جا رہی ہو۔ کل روس سے ایک صاحب آ رہے ہیں ہمارے بہترین شاگرد دیکھنے کے لیے، تاکہ انہیں اپنے ساتھ روس اور دنیا بھر میں لے جا کر نوٹنکی کروائیں"۔
کامنی نے مسکرا کر کہا، "اس اندھیرے میں میں آپ کو خوش کرنے کے لیے وہاں تیر کر جاؤں گی مگر میں روس نہیں جانا چاہتی۔ میں یہاں رہ کر نربدا کی لہروں کی طرح نرتیہ کرنا چاہتی ہوں"۔
گرچہ وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ کامنی جائے لیکن اس میں وہ صلاحیت تھی کہ دکشن بھارت کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پوری دنیا میں شیو اور پاربتی کا نام عام کر دے گی۔
"جاؤ، دنیا کے سب سے بڑے اوپیرا ہاؤس میں مَہا دیو شِو کے تَانڈو نرتن اور پاربتی کے نرتیہ روپ کی نمائندگی کرتے ہوئے نربدا کی طرح رقص کرو"، نیلما نے اسے سمجھایا۔ بہت سے آنسوؤں، بوسوں اور وعدوں کے ساتھ کامنی روسی اوپرا کے آدمی کے ساتھ رخصت ہوئی۔
****
نیلما لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ سیڑھیاں اتر کر ساحل تک گئی، اسی راستے سے جو اس نے اس وقت طے کیا تھا جب اس نے آرنو سے چٹانوں پر شادی کی تھی۔ ندی کی ترائیوں پر کہر کا ہلکا دھند چھایا ہوا تھا، ہوا ساکن تھی، رات دم توڑتی دکھائی دیتی تھی۔ رات کی تاریکی نہیں، ایک نیلمی غبار تھا جس کے نقاب نے دور کی پہاڑیوں کی چوٹیوں کو دھندلا دیا تھا۔ اسے دیکھ کر نربدا دیوی وجد میں آ گئی۔ اپنا سر اس کے سامنے ریت پر پٹخنا شروع کر دیا۔ نربدا مَیّا کے اجلے سفید بال الجھ کر دور دور پھیل گئے۔ اس جھاگ میں اس نے پاؤں رکھ دیے۔ بادل گھر کر آئے، تال اور بھنور کی اس اولاد نے چاند کو گھیرے میں لے لیا۔ اندر کے اعلیٰ کرمچاری مختلف روپ دھار کر نربدا کی لہروں پر کودنے لگے۔ اس کی جوانی لوٹ آئی۔ وہ لہروں میں داخل ہوگئی۔ وہ پورب کی طرف تیرتی رہی جب تک اس کی طاقت ختم نہ ہوگئی۔ وہ ڈوبنے کی توقع کر رہی تھی، مگر اس کے بجائے نربدا نے اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر نرمی سے اسے گھر تک پہنچا دیا۔