1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. بیش قیمت خواب (1)

بیش قیمت خواب (1)

"یہ ڈریس کیسا رہے گا؟" ماریہ نے اپنی شاگردہ اور دوست افسانے سے پوچھا۔

"پینڈو پروڈکشن ہے۔ سلمی ستاروں کی کھچڑی۔ ہمارے محلے کی گڑوی والیاں پہنتی ہیں ایسے کپڑے عید بقرعید پر"۔ افسانے نے کہا۔ ماریہ کو اس کا جواب سن کر خوش نہ ہوئی اور احتجاجاً بولی: "تمہیں میری چوائس پینڈو پروڈکشن نظر آتی ہے؟ یہ میں نے پیرس سے خریدا تھا شانزے الیزے کے ایک سٹور سے"۔

افسانے کو احساس ہوا کہ انسان کو بولنے سے پہلے تولنا چاہیے۔ "آئی ایم سوری! میرا مقصد آپ کا دل دکھانا نہ تھا"۔ اس نے کہا۔ شاگردہ کی معصومانہ معذرت پر ماریہ کو بے ساختہ پیار آ گیا۔

ماریہ کے کنگ سائز ڈبل بیڈ پر ملبوسات کا اک انبار لگا ہوا تھا۔ وہ ایک ایک کرکے مختلف ڈریسز اپنی وارڈ روب سے نکال کر افسانے کو دکھا رہی تھی۔ چند منٹوں میں یہ بارہواں لباس تھا جو مسترد ہو چکا تھا۔ ہر لباس بیش قیمت ہونے کے علاوہ خوبصورت بھی تھا۔ مگر افسانے خود بلا کی حسین لڑکی تھی۔ دیومالائی حسن کے تمام اوصاف اس کی شخصیت میں تھے۔ ابھی تک سب ہی ملبوسات اسکے حسن کی چمک دمک کے آگے ماند پڑ چکے تھے۔ مگر ماریہ بھی شکست ماننے والوں میں سے نہ تھی۔ اسکے ملبوسات کا خزانہ اگر امیلڈا مارکوس سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھا۔ اسے یقین تھا افسانے کی پسند کے ایک نہیں کئی پہناوے نکل آئیں گے۔

"تمہارے لمبے قد اور بل کھاتے گورے گورے بدن پر یہ کالی ساڑھی بہت جچے گی"۔

"تا کہ گلی کے سارے لڑکے میرے پیچھے لگ جائیں!" افسانے بولی۔

"مجھے معلوم ہے تمہارے محلے کا ماحول۔ عورت اگر برقعے میں بھی ہو تو کیا بچہ، کیا جوان، کیا بوڑھا۔ سب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی خلائی مخلوق ہو۔ ساڑھی کے اوپر چادر لے لینا ورنہ ہر دیکھنے والا غش کھا کر وہیں ڈھیر ہو جائے گا!" ماریہ نے کہا۔ وہ کئی بار افسانے کے گھر جا چکی تھی۔ اپنی شاگردہ کے پس منظر سے اچھی طرح واقف تھی۔

افسانے واقعی بے حد خوبصورت تھی۔ سرو جیسا لامبا قد۔۔ پانچ فٹ دس انچ! چکنا بدن۔ ستواں ناک، گھنے مضبوط بال گھٹنوں سے بھی نیچے۔ چوڑی پیشانی۔ غزالی آنکھیں۔ چمک دار موتی جیسے دانت۔ گلابی ہونٹ اور رنگت بھی ویسی۔ بھاری گول گول چھاتیاں، ابھرے ہوئی نپلز، پتلی کمر اور اسی تناسب سے کولہے، رانیں، زانو اور پنڈلیاں۔ ہر وہ مرد جس نے اسے دیکھا بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ کوئی اسے مدھوبالا کہتا کوئی بروک شیلڈ۔ کسی کو اس میں ہیما مالنی کا عکس دکھائی دیتا تو کسی کو کرینہ کپور کا۔ بڈھے ٹھرکیوں کو اس میں فردوس، آسیہ یا انجمن نظر آتی۔ غرضیکہ جو اپنے اپنے زمانے کی جس ہیروئین پر مرتا وہ ہی اسے افسانے میں نظر آتی۔ ماریہ کو اس میں مارلن منرو نظر آتی۔

"یہ میری پسندیدہ ساڑھی ہے۔ زبردست گولڈن زری کا کام ہے۔ اسے پہن کر تم قیامت برپا کر دو گی میری شادی پر"۔ ماریہ نے کہا۔

"واقعی زبردست ہے میڈم!" افسانے بولی۔

"کتنی بار کہا ہے مجھے میڈم نہ کہا کرو۔ تم میری فرینڈ ہو مائی ڈئیر اور اس وقت یونیورسٹی میں نہیں میرے گھر پر ہو"۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹر ماریہ یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتی تھی۔ اسکی اپنے ساتھیوں سے کم اور افسانے سے زیادہ دوستی تھی۔ وجہ یہ کہ افسانے اپنی عمر سے بڑی باتیں کیا کرتی تھی اور منفرد سوچ کی حامل تھی۔

ماریہ پینتیس برس کی ہو چکی تھی۔ حسین و جمیل تھی۔ اپنی عمر سے کافی کم نظر آتی تھی۔ امیر کبیر گھرانے سے تعلق تھا۔ شہر کے پوش علاقے میں اک بڑے سے گھر میں رہتی تھی۔ انسان دوست تھی۔ طبیعت میں کوئی غرور نہ تھا۔ فیشن ایبل بہت تھی۔ کون عورت ہوگی جو امیر ہو، خوبصورت ہو، اعلی تعلیم یافتہ ہو، پروفیشنل ہو اور فیشن ایبل نہ ہو؟

"اور یہ ہے اسکا بلاوز"۔ ماریہ نے ایک اور ہینگر الماری سے نکالتے کہا۔

"یہ تو بغیر آستین کا ہے"۔ افسانے بلاوز کی جانب عجیب نظروں سے دیکھتے بولی۔

"تو کیا ہوا۔ عورتیں علیحدہ ہال میں ہونگی۔ کھانا بھی اسی ہال میں ہوگا"۔ ماریہ نے کہا۔

"ایسا ہے تو پھر چلے گا۔ اسے پہن کے دیکھ لوں؟" افسانے نے پوچھا۔

"کیوں نہیں؟"

وہ بلاوز ہاتھ میں پکڑ کر باتھ روم کی طرف بڑھی تو ماریہ نے اسے یاد دلاتے کہا: "کوئی پردہ ہے ہم دونوں میں؟"

"ہے تو کوئی بھی نہیں!" افسانے ہنستے ہنستے بولی۔ پھر وہیں کھڑے کھڑے قمیض اتار کر بلاوز پہننے کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔ اس کا آدھا عریاں بدن ماریہ پر سحر طاری کر چکا تھا۔ لمحے بھر کے لئے ماریہ نے سوچا کہ اگر یہ لڑکی مقابلہ ملکہ حسن میں شرکت کرے تو سب کی چھٹی کر دے۔ اس کے رگ و ریشے میں ہیجان برپا تھا۔ وہ بے قابو ہو کر افسانے سے لپٹ گئی۔ اس نے بھی ماریہ کو بھینچ لیا۔ اس حالت میں وقت ہمیشہ ان دونوں کے لئے تھم جایا کرتا تھا۔ اس بار بھی تھم گیا۔ کچھ دیر بعد دونوں پرسکون ہو چکی تھیں۔

"میرے ہاتھ بلاوز کی زپ تک نہیں پہنچ رہے۔۔ "

ماریہ نے اس کام میں اسکی مدد کی۔

"بہت ٹائیٹ ہے"۔ افسانے بولی۔

"برا اتار کر ٹرائی کرو"۔ یہ کہہ کر ماریہ نے بلاوز کی زپ کھول کر برا کا ہک نکال دیا۔ بغیر برا بلاوز افسانے کے بدن پر چست تھا۔

"ارے اس میں تو سارا جسم نظر آ رہا ہے۔۔ "

"تو آنے دو کیا فرق پڑتا ہے"۔ ماریہ لاپروائی سے بولی۔

"کیا؟"

"بھئی تم ساڑھی کو بلاوز پر ڈالو گی تو سب کچھ چھپ جائے گا"۔ ماریہ نے کہا۔

چند دنوں بعد ماریہ کی شادی تھی۔ سب ہی بہت خوش تھے کہ اسے اپنی پسند کا مرد مل ہی گیا۔ لمبا انتظار کرنا پڑا بیچاری کو۔ افسانے کی ماں ماریہ سے چند ہی برس بڑی ہوگی۔ چودہ پندرہ برس میں شادی ہوگئی۔ اگلے ہی برس افسانے پیدا ہوگئی۔ اب وہ بائیس برس کی ہو چکی تھی۔ ادھر ماریہ کو کہیں پینتیس میں پہنچ کر اپنا مسٹر پرفیکٹ ملا جب اس کے حسن کے بجھنے کا ابتدائی عمل شروع ہو چکا تھا۔ پر وہ اب بھی بےانتہا پرکشش تھی۔ لمبی، نازک، دبلی پتلی، گوری، کندھے تک لٹکتے بال۔ درمیانے سائز کی ایسٹ ویسٹ چھاتیاں جو اسکے فگر کے ساتھ خوب میل کھاتیں۔

عارف ماریہ کا پرانا پیار تھا۔ وٹے سٹے کے چکر میں وہ اس سے شادی نہ کر سکا۔ جب اس کی بیوی کا کینسر میں انتقال ہوا تب جا کر ماریہ سے شادی کی سبیل بنی۔ وہ چالیس برس کا تھا۔ امیر بزنس مین۔ ہینڈسم۔ شادی کے وقت سے اب تک ماریہ اور اسکے خفیہ تعلقات برقرار رہے۔

اب یہ سارا قصہ کچھ یوں تھا کہ ماریہ بضد تھی کہ افسانے اسکی شادی میں شرکت کرے۔ پر وہ کترا رہی تھی۔ غریب گھرانے کی لڑکی تھی۔ اس کے پاس کوئی ایسا ڈریس نہ تھا جو کسی اہم اور امیر لوگوں کی تقریب میں پہنا جا سکے۔ آج ماریہ یونیورسٹی سے اسے اپنے گھر لے آئی۔ وہ یہ چاہ رہی تھی کہ اس کے ہی ملبوسات میں سےکوئی ایک اس دوشیزہ کو پسند آجائے تا کہ وہ شادی میں شریک ہو سکے۔

ایک مسئلہ اور بھی تھا۔ شادی تھی ایک فائیو سٹار ہوٹل میں جو اس غریب گھرانے کی حسینہ کے گھر سے بہت دور تھا۔ کوئی پبلک ٹرانسپورٹ وہاں آتی جاتی نہ تھی۔ محفل بھی رات کی تھی۔ یعنی اگر جلد سے جلد نکلنے کی کوشش بھی کی جائے تو آدھی رات سے پہلے نکلنا ممکن نہ تھا۔ اب ٹیکسی کی جائے۔ اس میں دو قباحتیں۔ ٹیکسی بہت مہنگی پھر اتنی رات اکیلے آنا جانا۔ تو دونوں کی اس ملاقات کا مقصد ان تمام دشواریوں کا حل تلاش کرنا تھا۔ دونوں مستورات حسن کے ساتھ ساتھ عقل کی دولت سے بھی مالا مال تھیں۔ لہذا ہر مسئلہ باآسانی حل ہو رہا تھا۔ ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے لئے ایک وین کا بندوبست پہلے سے ہی کر لیا گیا تھا۔ تو ٹیکسی بھی نہ کرنا پڑی اور گھر سے رات گئے اکیلے بھی نہ نکلنا پڑا۔

"اس ساڑھی میں دیکھ کر تمہیں کئی آنٹیاں اپنے بیٹوں کے لئے پروپوز کریں گی"۔

"مگر میڈم میرا کوئی موڈ نہیں ابھی شادی کا۔ میں نے زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے۔ پروپوزلز تو اب بھی بہت ہیں۔ لیکن میں کسی کی باندی بن کر نہیں رہ سکتی۔ مجھے اپنے آپ کو منوانا ہے"۔

"کیا میں عارف کی باندی بننے جا رہی ہوں؟"

"آپ کی بات اور ہے۔ آپ اپنا مقام بنا چکی ہیں۔ عارف آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ آپ ان پر مرتی ہیں۔ میرا تو کیرئیر ابھی شروع بھی نہیں ہوا۔ نہ ہی میں کسی پر مرتی ہوں۔ البتہ سب مجھ پر مرتے ہیں۔۔ یہ ساڑھی واقعی بہت خوبصورت ہے۔ یہ ہی پہنوں گی!" افسانے نے کہا۔ یہ ساڑھی اسے واقعی بہت اچھی لگی۔ ماریہ یہ بات سن کر خوش ہوئی۔

افسانے کے خاندان کے سب ہی لڑکے اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ کون ہوگا جو اسے نہ سوچے اور اپنے خیالوں میں اسکے جسم کے روئے روئے کی پرستش نہ کرے۔ جنسی کشش اس میں اتنی کے قبر میں پیر لٹکائے بوڑھے کو بھی کسی کشتے کی ضرورت نہ رہے۔ افسانے کی آنکھیں ہی اس کے بدن میں تناو پیدا کر دیں اور وہ بغیر کشتہ کھائے ہی دنیا سے رخصت ہو جائے۔ لیکن سب کزنز ایک جیسے ہی تھے۔ سکول سے بھاگے ہوئے۔ جاہل اور گنوار! وہ مغرور تو ہر گز نہ تھی پر ایک خاص ادا اور مزاج ضرور رکھتی تھی۔ کیا تیر مارا اگر کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے کی لگائی بن گئی۔ چند برس میں چار پانچ بچے جن دیے۔ وہ زندگی میں کچھ کرنا چاہتی تھی۔ کچھ ایسا جس کی دوسرے تمنا کریں۔ ایسا نہیں کہ بہت سا پیسہ کما لیا۔ پیسے کے ساتھ پاور بھی ہونی چاہیے۔ کچھ ایسا نظریہ حیات تھا اس لڑکی کا۔

اس کا برج اسد تھا۔ یعنی شیرنی تھی۔ سورج اسد کی پہچان۔ لیڈرشپ اسد کا قدرتی وصف۔ گھر والے بھی اسکی قائدانہ صلاحیتوں کے قائل تھے۔ اسکا باپ رحیم بخش کسی سیٹھ کی کمپنی میں منشی تھا۔ گھر اپنا تھا شہر کے مصروف ترین علاقے میں۔ پانچ مرلے کا یک منزلہ یہ گھر اس وقت کروڑوں کا تھا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ ان گھروں کے نزدیک ایک بہت بڑا تجارتی مرکز وجود پذیر ہو چکا تھا۔ لوگ گھر مسمار کرکے تجارتی عمارات تعمیر کر رہے تھے۔

افسانے کا گھر مین روڈ پر تو نہ تھا۔ لیکن پلازے اب گلیوں تک پھیل چکے تھے۔ مین روڈ سے ایک بڑی سڑک اندر آتی تھی۔ اس سڑک کے دائیں بائیں گھر ہوا کرتے تھے۔ سب کے سب پلازوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ ان پلازوں کے پیچھے تنگ گلیاں تھیں جہاں گاڑی داخل نہ ہو سکتی تھی۔ اب یہ پلازے گلیاں بھی ہڑپ کرتے جا رہے تھے۔

افسانے کا گھر گلی میں تھا۔ اس کی گلی کے کئی گھر بک چکے تھے۔ وہ کئی بار اپنے والدین کو یہ مشورہ دے چکی تھی کہ اس گھر کو فروخت کر دیا جائے۔ اس سے اتنے پیسے آ جائینگے کہ وہ شہر سے دور کسی بھی نئی ہاوسنگ سوسائٹی میں پانچ نہیں دس مرلے کا ڈبل سٹوری گھر خرید سکیں۔ اسکے باوجود بہت سا پیسہ بچ جائے گا جس سے کوئی بھی کاروبار کرنا ممکن ہوگا۔ اس کے والدین اس خیال کے حامی نہ تھے۔ اس طرح افسانے کے گھر والے کروڑ پتی لوگ تھے، کوئی کنگلے نہیں۔ مگر ہاتھ میں نقد کچھ بھی نہ تھا۔ وہ یہ پکا ارادہ کر چکی تھی کہ جس دن باپ مرے گا، یہ گھر وہ بیچ دے گی اور ماں محمودہ بیگم رکاوٹ نہیں بنے گی۔

محمودہ شہر کے ایک بہت امیر بزنس مین ملک کے گھر ملازمہ تھی۔ ملک فیاض اور رحم دل انسان تھا۔ افسانے محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا دیا کرتی۔ گزر بسر ہو جاتی۔ اب وہ ایم اے انگریزی کے آخری سال میں تھی۔ گھر میں سب سے بڑی تھی۔ ایک ہی چھوٹا بھائی تھا۔۔ تیرہ برس کا بوبی۔۔ جو بہن سے بہت زیادہ مانوس تھا۔

انگریزی ڈرامے اور فلمیں شوق سے دیکھا کرتی تھی۔ محنت پر اسے یقین تھا۔ پورے خاندان کے لڑکے اور لڑکیاں میڑک سے اوپر نہ جا سکے۔ بہت سے تو میڑک پاس بھی نہ کرسکے۔ وہ تو اب ایم اے مکمل کرنے کے قریب تھی۔ اسکے بعد وہ ماسٹرز کہلانے کے لائق! کتنا بڑا اعزاز تھا اس کے لئے۔ اسکے محلے میں چند گھر ایسے تھے جنکے باہر کچھ اس قسم کی تختیاں لگی ہوئی تھیں۔۔ راشد حسین (بی اے)۔ محمد خان (بی کام)۔ راشدہ خانم ایڈو کیٹ (بی اے ایل ایل بی)۔ محلے کے شرارتی بچے اسے "ایڈی وڈی کیٹ" یعنی اتنی بڑی بلی" کہتے تھی۔ لیکن افسانے کا خواب کافی اونچا تھا۔ وہ ڈاکٹر افسانے (پی ایچ ڈی) والی تختی چاہتی تھی گھر کے باہر۔

عموماً کزنز کی آپس میں بہت دوستی ہوتی ہے۔ افسانے کا معاملہ کافی مختلف تھا۔ وہ بہت سارے دوستوں کی قائل نہ تھی۔ ایک ہو۔ صاحب علم ہو۔ قابل بھروسہ ہو۔ کچھ ایسی سوچ کی حامل تھی۔

ماریہ ہی اسکی بہترین دوست تھی۔ اس کے بعد اسکی کزن شمیم۔ پوری یونیورسٹی سے ماریہ نے صرف اسے ہی اپنی شادی پر مدعو کیا تھا حالانکہ اس کے سٹوڈنٹس کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ یہ بات افسانے کے لئے باعث فخر تھی۔ علاوہ ازیں ماریہ اسکی شادی میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کررہی تھی! یہ دہرا اعزاز تھا افسانے کے لئے۔

***

"ارے بوبی ذرا جا تو شمیم کے گھر۔ ابھی تک نہیں آئی۔ شادی کا ٹائم ہونے والا ہے۔ وین آتی ہی ہوگی۔ افسانے نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا۔

"دو بار جا چکا ہوں باجی۔ وہ پانچ بجے آ ئیں گی"۔

بیوٹیشن شمیم افسانے کی کزن تھی۔

"اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ باہر جا میں کپڑے بدل لوں"۔

افسانے نے دروازہ بند کرکے بلاوز پہنا۔ بالکل فٹ تھا۔ "میڈم درست کہہ رہی تھیں کہ اسے برا کے بغیر پہننا"۔ اسے اپنے آپ سے باتیں کرنے کی عادت تھی۔

آئینے میں اپنا تنقیدی جائزہ لیتے لیتے اسے اپنے آپ سے پیار ہوگیا۔ لمحہ بھر کے لیے اسے آئینے سے بھی عشق ہوگیا۔ وہ یہ سوچ رہی تھی اگر آئینہ نہ ہوتا تو دنیا کیسی ہوتی۔ وہ کسی جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر اپنی خوبصورتی کی گواہی پانی سے لیتی۔ لیکن اگر کوئی رات میں تیار ہو رہا ہو تو جھیل میں اپنا عکس کیسے دیکھے گا؟

پھر اسکے گھر کے آپس پاس تو کوئی جھیل بھی نہ تھی۔ گندے نالے بہت تھے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ ان جھیلوں میں پھینکا جا رہا تھا جہاں سے لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ جن دریاؤں میں مچھلیاں ہوا کرتی تھیں اب وہاں گندگی کے ڈھیر تیرتے تھے۔

کچھ عرصے قبل ملک کے سمندر میں ایک تیل سے بھرا ٹینکر ڈوب گیا۔ آب و ہوا اتنی آلودہ ہوئی کہ درجنوں لوگ مر گئے۔ لاکھوں مچھلیوں کا قتل عام ہوا۔ اب سمندر میں میلوں دور مچھلی نہیں ملتی۔ دریا سوکھ کر کانٹا بنے۔ دریاؤں کے اندر لوگوں نے ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں۔

دوسرے، کیا وہ یہ سلیو لیس اور باریک بلاوز پہن کر کسی جھیل میں اپنا عکس دیکھنے جا سکتی تھی؟ ان حالات میں آئینہ کتنی بڑی نعمت تھا!

پھر ایک خیال اور آیا۔ کیا بدصورت لوگ بھی آئینے کے عشق میں گرفتار ہو سکتے تھے؟ کچھ آئینے عکس کو مسخ کرکے پیش کرتے تھے۔ اس کے سامنے کھڑے حسین سے حسین لوگ بھی اپنی شکل دیکھ کر ڈر جاتے۔ لیکن جو واقعی بدشکل ہوں وہ کیوں آئینے سے پیار کرینگے؟ انہیں تو آئینے سے نفرت نہ ہوگی؟ لیکن پھر وہ لوگ کیا کریں جنکی صورت تو اچھی نہ تھی مگر سیرت بہت ہی خوبصورت تھی۔ کیا کوئی ایسا آئینہ بھی تھا جسکے سامنے کھڑا ہو کر انسان اپنی سیرت کی صورت دیکھ لے؟

تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئینہ صرف ظاہری شکل کا عکس ہی دکھا سکتا تھا۔ یہ سوچتے ہی اسکے دماغ سے آئینے سے عشق کا بھوت اتر گیا۔ کاش وہ ایسا آئینہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائے جو سیرت کی سچی صورت دکھا سکے۔ سنا تھا کہ ولی لوگ سیرت دیکھ سکتے تھے۔ پر آج کل کے زمانے میں ولی ملے گا کہاں؟ یہاں تو ہر آستانے پر، ہر مزار پر، ہر تکیے پر ایک نمبر کے فراڈیے براجمان تھے جنہیں گدی نشین کے نام سے جانا جاتا تھا۔

بلاوز کہیں سے بھی مانگے تانگے کا نہیں لگ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی باکمال آرٹسٹ اس کے بدن کو بلاؤز کی شکل میں پینٹ کر چکا ہو۔ کچھ دیر وہ اپنے آپ کو آئینے میں تکتی رہی۔ زاویے بدلتی رہی۔ بلاوز میں اسکے گلابی نپل کسی کلی کی طرح کھل رہے تھے۔ سوچ رہی تھی کہ ماں نے اگر دیکھ لیا تو ناراض ہوگی۔ پھر خیال آیا کہ ماں تو خود اتنا کھلا گلا پہنتی ہے۔ جھاڑو لگاتے ذرا سے جھکتی ہے تو ساری چھاتیاں باہر ابل آتی ہیں"۔ پر اماں کی چھاتیاں ابھی بھی اتنی سخت کیوں ہیں؟ حالانکہ وہ برا کا استعمال بھی شاذونادر ہی کرتی"۔ ماں کا سوچ کر افسانے کے ذہن میں اک نیا سوال کوندا۔

"ارے دروازہ کھول!" یہ شمیم تھی۔

"ایک منٹ!" افسانے نے کہا اور بستر پر بکھری چیزیں جلدی جلدی ایک طرف کر دیں۔ کمرہ چھوٹا سا تھا۔ آنے والا مہمان بستر پر ہی بیٹھ سکتا تھا۔

"ارے تو تو قیامت ڈھا رہی ہے!"

"واقعی؟"

"ہاں نہیں تو کیا! بالکل زینت امان کی طرح لگ رہی ہے۔ ستم شوم سندرم والے روپ میں! شمیم افسانے کی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرتے بولی۔ چونکہ ایسا افسانے خود بھی شمیم کے ساتھ کیا کرتی تھی، لہذا اس حرکت پر اسے لطف ہی آیا۔

"ستم شوم سندرم والا روپ؟ بات سمجھ نہیں آئی؟ افسانے بولی۔

"لگتا ہے تو نے یہ فلم نہیں دیکھی۔۔ بھئی زینت کا بلاوز ایک تو بہت کھلا اور باریک تھا دوسرے اس کے نیچے برا نہیں تھی۔ بلاوز میں اسکے براون نپل صاف دکھائی دیتے تھے۔ جیسے تیرے گلابی دکھائی دے رہے ہیں۔ ویسے تیرے زیادہ حسین ہیں اور بڑے بھی اور تنے ہوئے بھی!"

"تو بہت بڑی حرافہ ہے!" افسانے نے کہا۔ جواب میں شمیم نے واقعی کسی حرافہ کے انداز میں قہقہہ بلند کیا۔

"اچھا سن تجھے میک آپ کی کیا ضرورت؟ رنگ تیرا گلابی، ہونٹ تیرے سرخ انگارہ۔ لوگ میک آپ کرتے ہیں بدصورتی چھپانے کو۔ تو خوبصورتی چھپا رہی ہے!"

"چل ہلکا سا کر دے"۔

"ہلکا بھی نہ کر۔ صرف سرخی، نیل پالش اور مہندی چھپوا لے۔ مجھے تو ڈر ہے کہیں دولہا تجھے ہی نہ پسند کر لے"۔

"ابے چل! ٹھیک ہے۔ سرخی، نیل پالش اور مہندی کافی ہے"۔

"دیما تجھے بہت پسند کرتا ہے۔ اگر تو میری بھابھی بن جائے تو کتنا اچھا ہے!" شمیم نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔

"میری جوتی بھی نہ کرے اس سے شادی۔ تو میری دوست ہے یا دشمن؟ جانتی بھی ہے اپنے بھائی کے لچھن۔ پھر بھی ایسا سوچتی ہے۔ ایک نمبر کا فراڈیا ہے۔ اپنے ہی مالک کو تھوک لگاتا ہے۔ جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں سوراخ کرتا ہے۔ ویسے تیرا بھائی لگتا نہیں۔ کہیں خالہ نے کچھ گل تو نہیں کھلایا؟"

"اب کے تو حرافہ کی طرح باتیں کر رہی ہے۔ ویسے مجھے بھی شک ہوتا ہے اماں پر۔ نچھا چچا شروع سے اماں پر لٹو تھے۔ رشتہ ان کے بڑے بھائی سے طے ہوگیا۔ ابھی بھی بہت بن ٹھن کے رہتی ہے اماں نچھا چچا کے سامنے۔۔ سینہ پر دوپٹہ بھی نہیں لیتی"۔ شمیم اپنی ماں اور سگے چچا کا ذکر کر رہی تھی۔

"پھر تو دیما ہنڈرڈ پرسنٹ تیرے چچا کا ہے۔ ناک نقشہ بھی وہی ہے۔ بچ کے رہیو۔ کسی دن تجھے ہی نہ پکڑ لے"۔ افسانے نے متنبہ کرتے کہا۔

"ارے وہ اماں کے علاوہ کسی اور پر نہیں مرتے۔۔ "

"میں تجھے دیمے سے ہوشیار کر رہی ہوں چچا سے نہیں۔۔ "

"دیما تو میرا بھائی ہے۔۔ " شمیم بولی۔

"حرامی بھی تو ہے!"

افسانے کی بات سن کر شمیم حیران ہوگئی۔ اسے لگا اس کی چوری پکڑی گئی۔ دیما ایک نہیں کئی بار پکڑ چکا تھا شمیم کو۔ جب اس نے ماں کو بتایا تو الٹا اسے ہی ڈانٹ پڑی۔ ماں نے یہ بھی تاکید کی کہ کسی سے بھی اس بات کا ذکر نہ کرے۔ اگر دیما پکڑ بھی لے تو کوئی شور شرابہ نہ کرے ورنہ اس کا باپ دیمے کو تو کچھ نہیں البتہ اسے ضرور زمین میں گاڑ دے گا۔۔ وہ بھی زندہ۔

ماں کی بات سن کر شمیم بہت ڈر گئی۔ اس دن سے دیما اور بھی شیر ہوگیا اور اب وہ بھی اس کی عادی ہو چکی تھی۔ دیمے نے ایک بار افسانے سے بھی زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایک دن وہ اپنے گھر میں بالکل اکیلی تھی۔ دیما اس کے کمرے میں گھس گیا۔ افسانے نے تانبے کے گلدان سے اس کا سر کھول کے رکھدیا۔ نہ افسانے نے نہ دیمے نے اس بات کا کسی سے ذکر کیا۔

***

افسانے مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی۔ اس نے چادر اچھی طرح سے ساڑھی پر لے لی تھی۔ ماں بیٹی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اسکی خوبصورتی دیکھ کر پریشان بھی۔ آئے روز گینگ ریپ کی خبریں پھر اس لڑکی کا بے پناہ حسن۔ وہ لڑکیوں کے گھر سے باہر نکلنے کے حق میں نہ تھی۔ آج اسکی فکرمندی قدرے کم درجے کی تھی۔ بیٹی پبلک ٹرانسپورٹ میں نہیں جا رہی تھی۔ اس کی میڈم نے سب کے لئے ایک وین کا بندوبست کر رکھا تھا۔ دل ہی دل میں ماں میڈم کو دعائیں بھی دے رہی تھی۔ کہ دیکھو کتنی سمجھدار ہے۔ جانتی ہے مشرق کی ریت رواج کو۔ معلوم ہے کہ عورت ذات رات کو تنہا گھر سے نکل کر اتنی دور نہیں جا سکتی۔ بہت ساری خواتین ہونگی وین میں۔ ڈرائیور بھی کچھ غلط نہ کر سکے گا۔

ایک اور سوچ اس کے ذہن میں خوشی کے دیے بھی روشن کر رہی تھی۔ بڑے گھر کی شادی میں جا رہی ہے بچی۔ فائیو سٹار ہوٹل میں ہے تقریب۔ ظاہر ہے بڑے لوگ ہی آئے ہونگے۔ اس قسم کی صورت حال وہ انڈین فلموں میں کئی بار دیکھ چکی تھی۔ ایک غریب گھرانے کی حسین بچی امیروں کی شادی میں شرکت کرنے جاتی ہے۔ کسی شہزادے یا اس کی ملکہ کی نظر لڑکی پر پڑ جاتی ہے اور وہ ایک ہی نظر میں اسکے حسن سے متاثر ہو کر اسے اپنے گھر کی بہو بنا لیتی ہے۔

اسے یقین تھا کہ ایک نہیں کئی خواتین چند دنوں میں اسکے گھر کی دھلیز پر ہونگی۔ سب اس کا رشتہ اپنے بیٹے کے لئے مانگ رہیں ہوں گی۔ وہ سب سے امیر کبیر خاندان کو بیٹی دے گی۔ لمبا چوڑا حق لکھوائے گی اور بیٹی کے نام کم از کم دس مرلے کا ڈبل سٹوری گھر بھی۔ ایک کنال ہو تو زیادہ اچھا۔۔ کوشش کنال کی ہی کرے گی۔ اس کے علاوہ ماہانہ خرچہ بھی ٹھیک ٹھاک لکھوائے گی۔ یہ خیالی پلاؤ اسکے ذہن میں بہت تیزی سے پک رہا تھا۔

بوبی افسانے کو گلی کے نکڑ تک چھوڑ کر گھر واپس آ چکا تھا۔ اندر آتے ہی وہ اس کمرے میں گھس گیا جہاں کچھ دیر پہلے اسکی بہن تیار ہو رہی تھی۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ کمرہ اس کا بھی تھا۔ افسانے کے کپڑے اور دیگر چیزیں بستر پر بکھری ہوئی تھیں۔ گھر سے گلی کے نکڑ اور واپس گھر تک پہنچنے میں وہ ایک صدی کا سفر طے کر چکا تھا۔ تھک چکا تھا۔ بے حال ہو کر اوندھے منہ بستر پر موجود کپڑوں پر گر گیا۔ جلد ہی میٹھی نیند کی آغوش میں تھا!

***

وین جب فائیو سٹار ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہوئی تو افسانے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پورا ہوٹل جگمگا رہا تھا۔ اتنی روشنی اس نے زندگی میں پہلی بار دیکھی۔ جب باوردی دربان نے دروازہ کھولا تو ایسا لگا وہ کسی دیس کی شہزادی ہے اور دربان اس کا ادنی غلام! لابی میں قسم قسم کے لوگ تھے۔ کچھ ملکی اور کچھ غیر ملکی۔ کچھ عورتیں اور کچھ مرد۔

لابی کے پیچھے اوپن کافی شاپ تھی۔ سنگ مرمر کا فرش تھا۔ اگر ذرا بے احتیاطی کرتی تو گر پڑتی۔ لیکن ہوٹل کی ایک لڑکی مردوں جیسا سوٹ، پینٹ اور ٹائی پہنے ہائی ہیل میں جب اسکے سامنے تیزی سے ٹھک ٹھک کرتے گزری تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ ایسے ملائم اور چکنے فرش پر ہائی ہیل پہن کر اتنے آرام سے اتنا تیز نہیں چل سکتی تھی۔

"ہو نہ ہو یہ لڑکی یقیناً نٹوں کے خاندان سے ہے!" افسانے یہ سوچ رہی تھی۔ اس دوران ایک سوٹڈ بوٹڈ ڈیوٹی مینیجر اس کی جانب بڑھا۔ افسانے نے اسے شادی کا دعوت نامہ دکھایا۔ اس نے اس حسین لڑکی کو خود ہال تک پہنچانے کا ارادہ کیا۔ وہ باتیں کرتا چلتا رہا۔ افسانے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ بار بار اسکی طرف دیکھتا۔ وہ ضروت سے زیادہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ افسانے معاملہ بھانپ چکی تھی لہذا اس نے اسے کوئی بھاؤ نہ دیا۔ مینیجر کی دل میں تو خواہش تھی کہ ہال کبھی نہ آئے لیکن جب قدم آہستہ آہستہ بھی منزل کی جانب اٹھ رہے ہو تو ایک لمحہ ضرور آتا ہے جب مسافر اور منزل روبرو ہو جاتے ہیں۔ دھیرے دھیرے چلنے کے باوجود ہال آ ہی گیا حالانکہ وہ اسے گھما پھرا کر لمبے راستے سے لایا تھا۔ وہ اس امید میں تھا کہ یہ لڑکی اسے اپنا بزنس کارڈ دے گی۔ جب ایسا نہ ہوا تو اس نے اپنا بزنس کارڈ افسانے کو دیا۔ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو کوئی بہت بڑا فاتح محسوس کر رہا تھا۔

افسانے ہال میں داخل ہونے سے پہلے اس کا کارڈ سٹینڈنگ ایش ٹرے میں پھینک چکی تھی۔ ایسا کرنے کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ مینیجر ابھی تک اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اسکی آنکھوں میں جوش کے بجائے مایوسی تھی۔ اسی لمحے افسانے کو یاد آیا کہ اس نے اپنے گائیڈ کا شکریہ تو ادا ہی نہیں کیا۔ وہیں کھڑے کھڑے دور سے افسانے نے یہ شکریہ ہاتھ ہلا کر کیا پر یہ اظہار تشکر مینیجر کی افسردگی کا علاج نہ کر سکا۔

اب افسانے ہال میں داخل ہونے والی تھی۔ اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ہال میں قدم رکھتے ہی وہ کتنی نگاہوں کا مرکز بن چکی تھی۔ ان میں سب سے زیادہ شکاری و عقابی نگاہ رانی کی تھی۔ وہ جھٹ سے اسکی جانب لپکی۔

"ہیلو مائی ڈئیر افسانے۔۔ ویلکم!"

"تھینک یو۔ آپ مجھےجانتی ہیں؟"

"تمہیں کون نہیں جانتا۔ ہر وقت تو ماریہ تمہارا ذکر کرتی رہتی ہے۔ تمہاری تصویر اس کے بیڈ روم میں لگی ہوئی ہے۔ اس لئے میں تمہیں پہچان گئی۔ چلو ماریہ کے ویڈنگ سوئیٹ میں چلتے ہیں۔ یہاں بہت بھن بھن ہو رہی ہے۔ ویسے میرا نام رانی ہے۔ ماریہ کی بیس سالہ پرانی گہری دوست!"

اس تجربہ کار پچاس سالہ حسینہ کے لئے جو دکھنے میں ماریہ کی ہم عمر لگتی تھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ اس خوبرو دوشیزہ نے زندگی میں پہلی بار کسی فائیو سٹار ہوٹل میں قدم رکھا تھا اور یہ اس کی زندگی کی پہلی اہم تقریب تھی بڑے لوگوں کی۔ چادر ہی اسکی کلاس کا بھانڈہ پھوڑ چکی تھی۔ دونوں حسینائیں۔۔ ایک مکمل کھلا ہو پھول، دوسری تازہ کلی۔۔ ہال سے باہر نکلیں اور لفٹ کی جانب بڑھنا شروع ہوئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ شاید ایک دوسرے کا حسین لمس انہیں ان کے بیچ کسی پچھلے جنم کے خاص رشتے کی یاد دلا رہا تھا۔ چند لمحوں بعد دونوں لفٹ میں تھیں۔ تیسرا کوئی نہ تھا۔ رانی نے مطلوبہ فلور کا بٹن دبایا اور اگلے ہی لمحے لفٹ چلنا شروع ہوگئی۔

"ویسےآپ کسی رانی سے کم نہیں لگتیں!"

بات بھی سچ تھی۔ رانی کا سن پچاس کا تھا۔ ابھی بھی بہت طوفان تھا اس کے اندر جو بڑے بڑے پیراکوں کو ڈبو کر رکھ دے۔ اسکے چاہنے والوں میں تو کڑیل جوان بھی تھے اور نوخیز لونڈے بھی۔

"کاش دس برس پہلے دیکھتیں! اب تو تم چڑھتا ہوا سورج اور ہم ڈھلتا ہوا ہیں"۔

"ویسے ڈھلتا ہوا سورج چڑھتے ہوئے سے کہیں زیادہ خوبصورت دکھائی دیتا ہے!" افسانے نے کہا

"ارے واہ کیا جملہ بولا تم نے۔ ایسی عقلمندی کی باتیں کس سے سیکھیں تم نے؟"

"تجربہ سب کچھ سکھا دیتا ہے!" افسانے بولی۔

"واہ! چھوٹی سے عمریا اور بڑے بڑے تجربے"۔ رانی نے آنکھیں مٹکاتے کہا۔

"کیوں؟ بعض اوقات کسی کھلونے سےکھیلتے بچے کے آگے کسی دانشور کی حکمت ماند پڑ سکتی ہے"۔ افسانے نے سنجیدگی سے کہا۔

"آئی ایگری۔۔ ہنڈرڈ پرسنٹ۔ یو آر جسٹ لائک می! میں تمہارے تجربے سے سیکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے اپنا سٹوڈنٹ بنا لو!" رانی نے کہا۔

"آپ شرمندہ کر رہی ہیں! میں تو خود سٹوڈنٹ ہوں"۔

ارے چادر تو اتارو۔ تمہار دم نہیں گھٹتا اس میں؟"

جب اس نے چادر ہٹائی تو رانی دم بخود رہ گئی۔

"آج تو جنت کی حور زمین پر ہے!"

"زمیں اور آسماں کے بیچ۔ ہم لفٹ میں ہیں"۔

"گریٹ سینس آف ہیومر۔۔ کیا تمہیں علم ہے تم دنیا کے خوبصورت ترین لڑکی ہو؟" رانی اسے دم دے رہی تھی۔

"شاید۔۔ کیونکہ سب یہ ہی کہتے ہیں"۔ افسانے بولی۔

دونوں لفٹ سے باہر نکل کر سوئیٹ تک پہنچ چکی تھیں۔ رانی نے سویٹ کے دروازے پر دستک دی۔ ماریہ کی بیوٹیشن نے دروازہ کھولا۔ اپنی سٹوڈنٹ کو دیکھ کر ماریہ بہت خوش ہوئی۔ اس نے سب کو ایک دوسرے سے متعارف کرایا۔ رانی اسکی مرشد دوست تھی۔ جینڈر ایشوز پر کام کرنے والی ایک بہت بڑی این جی او کی بانی سربراہ تھی۔

"اپنے نام کی طرح تمہاری سٹوڈنٹ کا حسن بھی افسانوی ہے۔ میں نے اس سے زیادہ خوبصورتی کہیں اور نہیں دیکھی حالانکہ دنیا کے چپے چپے میں پھر چکی ہوں"۔ رانی اپنی سیاحت کا رعب ڈالتے بولی۔ اس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا تھا۔ وہ کسی کا بھی پانی منٹوں میں اتارنے کا وسیع تجربہ رکھتی تھی۔

"لیکن رانی آنٹی اس وقت تو ساری کائنات میں میڈم ماریہ سے زیادہ خوبصورت اور کوئی نہیں"۔ افسانے بولی۔

"اس میں تو کوئی شک نہیں۔ لیکن مجھے آنٹی شانٹی دوبارہ نہ کہنا۔ سب مجھے رانی کہتے ہیں"۔

"اس سے نہیں ہو سکے گا۔ یہ تو ابھی تک مجھے بھی میڈم ہی کہتی ہے۔ میرا نام اسکی زبان پر چڑھتا ہی نہیں"۔ ماریہ بولی۔

"میں دونوں اس کے اوپر چڑھا دوں گی!" رانی نے کہا۔ اس ذومعنی جملے پر سب ہی ہنس دیے۔

"دکھاؤ تو ساڑھی میں کیسی لگ رہی ہو"۔ ماریہ بولی۔

افسانے نے اپنی چادر اتار کر صوفے پر رکھ دی۔

"اف۔۔!" تینوں عورتوں کے منہ سے اکھٹی اک آہ سی نکلی۔

سب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ افسانے کی ساڑھی بلاوز کے بائیں حصے کو تو ڈھانپ رہی تھی مگر دوسرا حصہ کچھ بھی چھپانے میں ناکام رہا۔ رانی تاڑ چکی تھی کہ ساڑھی کے نیچے کونسا خزانہ کتنی تعداد میں دفن ہے۔ وہ اس خزانے کو باہر نکالنا چاہتی تھی۔ دنیا کو ایک نئے عالم سے متعارف کروانا چاہتی تھی۔ سب دم بخود افسانے کو تک رہے تھے۔ اگر زلیخا کی سہیلیوں کی طرح ان کے ہاتھوں میں بھی پھل اور چاقو ہوتا تو سب اپنی انگلیاں کاٹ چکی ہوتیں!"یہ لڑکی چاہے تو آسماں اپنے قدموں میں جھکا دے!" رانی کے دل نے اس سے سرگوشی کی۔

کچھ دیر گپ شپ کے بعد تینوں خواتین ہال میں تھیں۔ شادی کا یہ فنکشن رات دو بجے جا کر ختم ہوا۔ آخر میں علیحدہ محفل مخلوط بن چکی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماریہ اور عارف رخصتی سے کچھ دیر قبل ایک ہی صوفے پر براجمان ہو چکے تھے تا کہ دونوں طرف کے مہمان ان کے ساتھ تصاویر کھنچوا لیں۔ فوٹو سیشن کے دوران افسانے ماریہ کے پہلو میں نہ بیٹھ سکی کیونکہ وہ جگہ رانی نے گھیر لی تھی۔ اسے عارف کے پہلو میں بیٹھنا پڑا۔ لیکن ایک عجب صورت حال پیدا ہوئی۔ عارف نے اپنا ہاتھ افسانے کے ران پر رکھ کر اسے سہلانا شروع کر دیا۔ افسانے کچھ نہ کر سکی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حرکت بری تھی۔ یہ اسے بوبی کی یاد دلا رہی تھی۔

***

وین گلی کے نکڑ تک پہنچ چکی تھی۔ گلی میں سناٹا تھا۔ شکر ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اس وقت نہ تھی۔ سٹریٹ لائٹ جل رہی تھی۔ نکڑ سے پیدل اس کا گھر کوئی اڑھائی منٹ کی دوری پر تھا۔ خیریت سے گھر پہنچ گئی۔ مین دروازے سے وہ کمرہ جڑا تھا جو بوبی اور اس کے زیر استعمال تھا۔ اس نے کمرے کی کھڑکی کو ہلکا سا کھٹکھٹایا۔ بوبی کچھ دیر پہلے ہی جاگا تھا۔ اس نے جلدی سے دروازہ کھول دیا۔

"بہت دیر کر دی باجی آپ نے۔ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا"۔

"کیوں ڈر لگ رہا تھا تجھے۔ تو ہی تو گھر میں واحد مرد ہے"۔

"اسطرح ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ میرا مطلب ہے آپکے بارے میں سوچ رہا تھا"۔

"اچھا یہ بات تھی۔ لے مٹھائی کھا"۔

"ہوں۔۔ برفی اور گلاب جامن۔ دونوں میرے پسندیدہ!" بوبی ہوشوں کی طرح کھانے لگا۔

"آرام سے کھا۔ دھسکا نہ لگ جائے"۔

"نہیں لگتا باجی۔ میں تو پورا ڈبہ ایک ہی سانس میں ختم کر دوں"۔ وہ مسکرا دی بھائی کی معصومیت پر۔

"بہت تھک چکی ہوں میں۔ ہیل نے پاؤں میں درد کرکے رکھ دیا۔ اتنی دیر مسلسل پہلے کبھی پہنی جو نہیں"۔

"دبا دوں؟" بوبی نے پوچھا۔

"ہاں یار دبا دے اچھی طرح۔ سارا بدن ہی تھکن سے چور ہے۔ لیکن ذرا چینج کر لوں"۔ افسانے نے ساڑھی کی پنیں کھولتے کہا۔ آخری پن کے باہر نکلتے ہی پوری ساڑھی ایک جھٹکے سے فرش پر گر گئی۔

"باجی آپ تو بہت خوبصورت لگ رہیں ہیں۔ بالکل "ستم شیوم سندرم" کی زینت امان کی طرح۔۔ "

"تو نے کب دیکھی یہ فلم؟"

"شمیم باجی کے گھر وی سی آر پر"۔

"شرارتی کہیں کا۔ تجھے تب دیکھنی چاہیے تھی جب تو اٹھارہ برس کا ہو جاتا"۔

"لیکن میں تو ابھی اٹھارہ کا نہیں۔ پھر بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں۔۔ ویسے آپ میں اور زینت امان میں کوئی فرق نہیں۔۔ غلط۔۔ بہت فرق ہے۔۔ آپ زینت امان سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں"۔

"اچھا زیادہ مکھن نہ لگا۔ تجھے میں خوبصورت یوں لگتی ہوں کہ میں تیری بڑی بہن ہوں اور ہر چھوٹے بھائی کو اپنی بڑی بہن خوبصورت ہی دکھائی دیتی ہے۔ ویسے کیسی تھی فلم؟"

"لڑائی مار کٹائی بالکل نہیں تھی۔ مجھے نہیں پسند آئی۔ تھوڑی دیر ہی دیکھی۔۔ لیکن آپ نے کہا کہ مجھے اٹھارہ برس کے بعد دیکھنی چاہیے۔۔ تو کیا آپ اب مجھ سے پردہ کریں گی اگلے پانچ سال؟"

بوبی تھا تو تیرہ برس کا مگر اس کا دماغ اپنی عمر سے کافی آگے تھا۔ افسانے کو سوال بہت پسند آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سوال کے پیچھے مضبوط منطق اور فلسفہ چھپا تھا۔ افسانے کو اس سوال کی روشنی میں اپنی رائے پر مزید اعتماد ہوا کہ بوبی ایک دن کچھ بنے گا۔

"تو ابھی بچہ ہے۔ تیری سمجھ میں یہ باتیں نہیں آئینگی"۔

"لیکن باجی پرسوں آپ ماں کو کہہ رہی تھیں کہ بوبی بڑا ہوگیا ہے۔ بڑے بوڑھوں کی طرح عقل کی باتیں کرتا ہے۔۔ "

اس سوال پر اسے بوبی پر پیار آ گیا اور اس نے اسکے گال پر پپی دی۔ اس کے بعد اس نے بلاوز کھولنے کی کوشش کی لیکن بال ہک میں پھنس چکے تھے۔

"بوبی ذرا ہوشیاری سے بلاوز کے ہک تو کھول۔ کم بخت بال پھنس چکے ہیں"۔

بوبی اس کام کا ماہر تھا۔ جھٹ کر دیا۔

"ارے واہ۔۔ شکر ہے بال قینچی سے کاٹنے نہ پڑے!" افسانے نے خوش ہو کر بوبی کے گال پر ایک اور پپی دی۔ وہ مکمل بھول چکی تھی کہ بلاوز کھلا ہوا تھا اور اسکی برہنہ چھاتیاں بھائی کے جسم سے ٹکرا رہیں تھی۔ بھائی کو ایسا لگا جیسے زینت امان ششی کپور کو پیار کر رہی ہو۔

افسانے اب بہت تھک چکی تھی۔ اسی حالت میں پیٹ کے بل بستر پر گر گئی۔ بھائی نے بہت پیار سے اپنے نرم نرم ہاتھوں سے مساج کیا۔ تاثیر سارے بدن میں پھیل رہی تھی۔ درد کی شدت مٹتی جا رہی تھی۔ اس کے بعد اسے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔

***

افسانے کی یونیورسٹی گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے بند تھی۔ اس لئے صبح جلدی اٹھنے والا جھنجھٹ نہ تھا۔ وہ آرام سے اٹھتی۔ گھر کا کام کرتی۔ پھر کچھ مطالعہ کرتی۔ اسکے بعد محلے کے بچے ٹیوشن پڑھنے آ جاتے۔ شام اسی میں ہو جاتی۔ ٹی وی پر کوئی اچھا پروگرام لگتا تو دیکھ لیتی۔ فلمیں وہ شمیم کے گھر پر دیکھتی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ شمیم وی سی آر اور وڈیو کیسٹس افسانے کے گھر لے آتی اور ساری ساری رات فلمیں چلتیں۔ دیما وڈیو شاپ پر ملازم تھا۔ جب کبھی وی سی آر کرائے پر نہ اٹھتا تو گھر لے آتا۔ اس صورت میں شمیم افسانے کو گھر بلا لیتی یا خود سب سازو ساماں سمیت اس کے گھر پر محفل جماتی۔

یہ ہی واحد تفریح تھی لوئر مڈل کلاس کی۔ اس قسم کا پروگرام رات گئے شروع ہوتا۔ صبح تک جاری رہتا۔ افسانے کی ماں کو تو ایسی محفل پسند آتی کیونکہ وہ خود فلموں کی شوقین تھی۔ امیتابھ بچن اس کا پسندیدہ اداکار تھا۔ اس پر مرتی تھی۔ اس کی تصویر ہمیشہ اپنے پرس میں رکھتی۔ پھر اسکی عمر ہی کیا تھی۔۔ محض اٹھتیس یا انتالیس برس؟ اپر کلاس کی اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں تو اس عمر میں گھر بسا رہی تھیں۔ اس طرح محمودہ کی عمر تو رومانس کی تھی اور وہ اپنی عمر سے کافی کم نظر آتی تھی۔ بہت اچھا رکھا ہوا تھا اس نے اپنے جسم کو۔ ملک کا گھر چھ کلومیڑ دور تھا۔ پیدل آتی پیدل جاتی۔ اس طرح روز بارہ کلومیڑ کی واک ہو جاتی۔ فٹ تو رہنا ہی تھا!

فلموں والی محفل سے باپ کو اعتراض ہی رہتا۔ بیچاہ زن مرید تھا۔ بیوی اس کے اوپر ہر طرح سے حاوی تھی۔ وجہ یہ کہ محمودہ کے والدین نے بڑی مشکل سے رحیم بخش کا رشتہ منظور کیا تھا۔ محمودہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ رحیم بخش بس انکے گھر کا نوکر بن کر وہیں پڑا رہتا۔ محمودہ اس پر خوب رعب جماتی۔ وہ سب نخرے خوشی خوشی اٹھاتا۔ ایک دن یہ رشتہ پکا ہو ہی گیا۔ بیوی کی غلامی رحیم کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ اس کی مجال نہ تھی بیگم کے آگے زبان کھولنے کی۔ محمودہ بچوں کے سامنے کھڑے کھڑے اسے بےعزت کر دیتی۔ اکثر ناراض ہو کر میکے میں لمبے عرصے کے لیے ڈیرہ جما لیا کرتی۔ یہ وطیرہ ابھی تک جاری تھا اور میکہ بھی کوئی دور نہ تھا۔ پیدل بیس منٹ کا راستہ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی محمودہ پورا ایک مہینہ میکے گذار کر آئی تھی۔ اگر افسانے اسے آنے کا نہ کہتی تو اس نے ایک مہینہ مزید وہیں ٹکے رہنا تھا۔ لیکن بیٹی کے آگے محمودہ کی نہ چلتی۔

شمیم کے مالی حالات نسبتاً بہتر تھے۔ اس کا ایک بھائی فون کے محکمے میں لائن مین تھا۔ اس زمانے میں لائن مین کی بڑی ٹور ہوا کرتی تھی۔ شمیم کے گھر فون لگا ہوا تھا۔ افسانے نے یہ نمبر اپنی خاص سہیلیوں کو دیا ہوا تھا۔ اس فہرست میں نیا نام رانی کا تھا۔

افسانے ابھی ابھی اٹھی تھی۔ دن کے نو بج چکے تھے۔ اگر یونیورسٹی کھلی ہوتی تو اسے صبح پانچ بجے اٹھنا پڑتا۔ نہا دھو کر ناشتہ کرکے بس پکڑ کر یونیورسٹی پہنچنے کا عمل تین گھنٹوں پر محیط تھا۔ اس لحاظ سے نو بجے تک بستر میں گھسے رہنا ایک عیاشی سے کم نہ تھا۔ باپ آفس جا چکا تھا۔ ماں کام پر جانے کی تیاری پکڑ رہی تھی۔

"اٹھ گیا میرا بیٹا!" ماں اسے بیٹی کے بجائے بیٹا کہا کرتی تھی۔

"کنڈا لگا لے میں نکلتی ہوں۔ پہلے ہی لیٹ ہوگئی ہوں"۔

بوبی ابھی تک سو رہا تھا۔ وہ سرکاری سکول میں ساتویں کلاس کا طالبعلم تھا۔ ہر سال اپنی کلاس میں اول آتا۔ یہ بہن کی محنت کا نتیجہ تھا۔ استاد بھی اس پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ وہ تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیتا اور ہمیشہ کپ جیت کر لاتا۔ اسے گلی کے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اسکی بہن اسے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھتی۔ یونیورسٹی کی لائبریری سے مختلف کتابیں اور رسائل لا دیتی جنہیں وہ پڑھتا رہتا۔

"اٹھ بھی جا۔ سارا دن سوتا رہے گا کیا؟"

"اٹھتا ہوں باجی!"

"میں نہا دھو کر ناشتہ بناتی ہوں"۔

وہ غسل خانے میں گنگناتے نہا رہی تھی۔ صابن ملتے ہمیشہ کی طرح اس کا ہاتھ کمر تک نہ پہنچا۔ ایسے میں بوبی مسئلے کا آسان حل تھا۔ غسل خانے کا کواڑ کھول کر افسانے نے چلا کر "بوبی" کہا۔ "بوبی" کہنے کا یہ انداز ایک منفرد سر اور لے میں تھا جس سے چھوٹا بھائی اچھی طرح مانوس تھا۔ جھٹ بستر سے نکل کر وہ غسل خانے میں گھس گیا۔ جب صابن ملنے لگا تو اسے اپنے سابقہ تجربے کی روشنی میں یہ درست اندازہ ہوا کہ کمر پر میل ہے۔ گرمی اور حبس میں ایسا ہوتا ہے۔

"باجی جھاواں لگا دوں؟"

"ہاں لگا دے!" بوبی جھاوے سے اسکا بدن صیقل کرنا شروع ہوگیا۔ دونوں کو اس عمل میں کچھ بھی عجیب محسوس نہ ہوتا۔ وہ بہن ہی کے ہاتوں میں پلا پڑھا تھا۔ وہ ابھی تک اسے نہلایا کرتی تھی۔ صابن اور جھاوے کے عمل میں بھائی آدھا تو بھیگ ہی جاتا اور حبس میں ایسی مشقت اسے پسینوں پسینے کر دیتی۔ پیٹھ پر صابن ملوانے کے بعد جب وہ کھلا پانی اپنے بدن پر ڈالتی تو چھینٹے بھائی کو مزید گیلا کر دیتے۔ پھر وہ اسے کہتی کہ تو بھی نہا لے۔ آدھا تو نہا ہی چکا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اسکے کپڑے اتار کر ایسے رگڑ رگڑ کر نہلاتی جیسے وہ تیرہ نہیں تین برس کا بچہ ہو۔

کوئی نو برس کی عمر تک تو افسانے اسے اسی طرح نہلاتی رہی۔ اس کے بعد ماں نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ دونوں اس فیصلے سے ناخوش تھے۔ حل یہ نکالا گیا کہ اب افسانے اسے تب نہلائے گی جب ماں گھر پر نہ ہو اور وہ اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کرے گا۔ بھائی نے بہن کو کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ دونوں کو ایک دوسرے کا لمس اچھا لگتا تھا۔ یہ لمس خلوص سے بھرپور تھا۔ اس میں قدرتی پیار تھا۔ کوئی لالچ نہ تھا۔ صرف سچائی تھی۔ یہ سب چیزیں اب ناپید ہوتی جا رہی تھیں۔

نہا دھو کر وہ اپنے اور بھائی کے لئے ناشتہ تیار کرنے لگی۔ اس دوران شمیم آ گئی۔ رانی کا پیغام تھا۔ اس نے ماریہ اور عارف کے اعزاز میں ایک ڈنر پارٹی کا اہتمام کر رکھا تھا۔ وہ چاہتی تھی افسانے بھی شریک ہو۔

"تو چائے پی پھر اکٹھے چلتے ہیں۔ فون بھی کر لونگی اور کوئی اچھی فلم بھی دیکھوں گی۔ ستم شوم سندرم ہے؟" افسانے نے شمیم سے کہا۔

"ابھی نہیں ہے۔ لیکن دیمے سے مل سکتی ہے۔ لیکن ایک اور زبردست فلم ہے۔ تجھے وہ دکھاؤں گی تو خوش ہو جائے گی۔ لیکن بوبی ساتھ میں نہیں ہونا چاہیے"۔

"کیوں؟"

"انگریزی فلم ہے۔ بوبی نہیں دیکھ سکتا"۔

"تجھے کس نے بتایا اس فلم کا؟"

"مجھے کسی نے نہیں بتایا۔ بس دیما دیکھ رہا تھا رات کو۔ چھپ چھپ کر میں نے بھی دیکھ لی"۔

"تو بڑی حرافہ ہے!" افسانے بولی اور شمیم ہنس دی۔ سچ تو یہ تھا کہ شمیم اور دیما یہ فلم اکھٹے کئی بار دیکھ چکے تھے۔

***

رانی سے فون پر یہ طے ہوا کہ اس کا ڈرائیور افسانے کو گھر سے اٹھائے اور چھوڑے گا۔ یہ ہی واحد دقت تھی اس کے کہیں آنے جانے میں جو رانی حل کر چکی تھی۔ اس کے بعد شمیم اور افسانے اس کمرے میں گئے جہاں وی سی آر اور کلر ٹی وی تھا۔ شمیم نے ایک کیسٹ کپڑوں کی پیٹی سے نکالی اور وی سی آر میں ڈالی۔ ٹی وی پر لکیریں ہی لکیریں ابھریں۔ "کم بخت ہیڈ میں کچرا آ گیا! یہ بھی اسی وقت ہونا تھا"۔ شمیم نے کیسٹ کو نکال کر ہیڈ کلینر کا سپرے کیا اور چند سیکنڈ گزرنے کے بعد کیسٹ دوبارہ وی سی آر میں ڈالی۔ اس بار چمکیلی سی تصویر ٹی وی پر نمودار ہوئی۔

"کتنا صاف پرنٹ ہے۔ لگتا ہے ماسٹر ہے!" شمیم بولی۔ پھر وہ بھی افسانے کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ فلم اپنے وقت کی مشہور "باربرا براڈکاسٹ" تھی۔۔ اینت ہیون کی۔ کچھ دیر بعد اس میں عجیب مناظر ابھرنے لگے۔ افسانے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ غصے سے نہیں۔ جوش، حیرت اور تجسس سے۔ وہ دم بخود فلم دیکھتی رہی۔ شمیم ایک نظر اس پر اور دوسری ٹی وی پر ڈالتی۔

***

شمیم کے گھر سے اپنے گھر تک چلتے افسانے کی ذہن میں وہی فلم چل رہی تھی۔ "کتنی خوبصورت تھی ہیروئین!" وہ سوچ رہی تھی۔ گھر پہنچتے پہنچتے وہ تھک چکی تھی۔ بوبی انہماک سے ہوم ورک کر رہا تھا۔

"ہوم ورک چھوڑ۔ بہت تھک چکی ہوں۔ سارا بدن دکھ رہا ہے"۔ یہ کہہ کر وہ بستر پر اوندھے منہ گر گئی۔ بوبی اسے نرم نرم ہاتھوں سے دباتا رہا۔ وہ فلم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جلد ہی میٹھی نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ کچھ دیر بعد بوبی بھی تھک گیا۔ بچہ ہی تو تھا آخر! وہ بھی وہیں سو گیا۔

***

رانی کے گھر پر دیوالی جیسا سماں تھا۔ ماریہ کے اعزاز میں اس نے چراغاں کیا ہوا تھا۔ لاونج میں مدہم روشنی اور دیے رومانوی ماحول پیدا کئے ہوئے تھے۔ اسکے تینوں باورچی صبح سے کام میں جتے ہوئے تھے۔ بریانی، مٹن کڑہائی، چکن قورمہ، بار بی کیو، فیرنی اور گاجر کا حلوہ مین ڈشز تھیں۔ سب تیاریاں مکمل تھیں۔ بس مہمانوں کا انتظار تھا۔ اس نے اپنی این جی او کی دو ماتحت لڑکیوں صوفیہ اور شاہینہ اور ڈونر باس میکس کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ ڈونر این جی او کا باپ ہوتا ہے۔ رب بھلے راضی ہو نہ ہو اس باپ کو راضی رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

رانی لاونج میں صوفے پر آنکھیں موندھے پڑی تھی۔ پورچ میں گاڑی داخل ہونے کی آواز آئی۔ افسانے تھی۔ رانی دروازے کی طرف بڑھی۔

"ہیلو مائی ڈئیر۔ کیسی ہو تم؟" رانی اس سے بغلگیر ہوئی۔ جب اس کے جسم سے افسانے کا جسم چھوا تو اسے سختی اور تناؤ کا اندازہ ہوا۔ دونوں خواتین کی بھاری بھرکم چھاتیاں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو ایک بگ بینگ وقوع پذیر ہوا مگر دونوں کے اندر۔ افسانے سفید رنگ کی روائیتی شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ سادہ لباس تھا مگر لڑکی کا اپنا حسن اتنا بے پناہ کہ کچھ بھی پہن لے قیامت ہی لگتی۔

"ہیلو رانی!"

"ارے واہ، میں نہ کہتی تھی تمہاری زبان پر میرا نام چڑھ جائے گا! آج اپنی میڈم کو "ماریہ" کہنا۔ وہ خوش ہو جائے گی"۔ رانی اسے اندر لے آئی۔ دونوں ایک صوفے پر براجمان تھیں۔

"کیا پیو گی؟"

"کوئی بھی سافٹ ڈرنک۔۔ "

"وہ چیز پیا کرو جو بڑے لوگ پیتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے تم زندگی میں بہت اوپر جانا چاہتی ہو۔ صرف اور صرف میں تمہیں وہاں تک لے جا سکتی ہوں"۔ رانی بولی۔

"کیسے؟"

"اگر کیسے، کیوں، کب اور کہاں کے چکر میں پڑو گی تو پھر کچھ نہیں کر سکو گی۔ یہ پوچھنے کے بجائے ایک ہی بات پلو سے باندھ لو اگر واقعی کچھ بننا ہے۔۔ "

"وہ کیا؟"

"پہلے وعدہ کرو کہ تم مجھ سے بحث نہیں کرو گی۔ جو میں کہوں گی اس پر من و عن عمل کرو گی۔ پھر دیکھنا آسماں نہ جھکا دیا تمہارے قدموں میں تو رانی نام نہیں میرا!"

"مجھے بحث تو نہیں البتہ سوال کرنے کی عادت ہے۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپکی ہر بات مانوں گی"۔ افسانے نے اپنی میزبان کو یقین دلاتے کہا۔

وہ رانی سے بے حد متاثر ہو چکی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ رانی کے پاس علم غیب ہے۔ کیسے وہ لوگوں کے دماغ پڑھ لیتی ہے اور وہ بھی درست۔ ایک ایک چیز۔ جبکہ وہ کوئی نجومی نہ تھی۔ ہوتی بھی تو اس نے کون سا ہاتھ دکھانا تھا۔ وہ اپنی غربت کو بہت پیچھے چھوڑنا چاہتی تھی۔ وہ بھی کسی پوش علاقے میں رہنا چاہتی تھی جہاں اس کا اپنا بڑا سا گھر ہو۔ گاڑیاں ہوں۔ نوکر چاکر ہوں۔ بوبی اس کے ساتھ ہی رہے۔ وہ بوبی کے بغیر کوئی بھی سپنہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اسکے گھر میں سوئمنگ پول ہو جہاں بوبی تیر رہا ہو اور وہ اسے نہلائے۔ اس قسم کے سپنے وہ کئی بار دیکھ چکی تھی۔

"سوال پوچھنا تو اچھی بات ہے۔ لیکن بحث سے مجھے سخت چڑ ہے۔ آج تم صوفیہ اور شاہینہ سے ملنا۔ وہ بتائیں گی تمہیں کہ کس مقام پر تھیں میرے پاس آنے سے پہلے اور اب کہاں ہیں۔ زندگی بنا دی ہے میں نے دونوں کی"۔

"یہ دونوں کون ہیں؟"

"میری این جی او میں پروگرام آفیسرز ہیں۔ بسوں ویگنوں میں دھکے کھایا کرتی تھیں۔ میں نےانہیں برانڈ نیو گاڑیاں دی ہوئی ہیں"۔

"میں ان سے بھی آگے جانا چاہتی ہوں"۔ نہ جانے کیوں یہ جملہ افسانے کے منہ سے ایسے نکل گیا جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے اور پھر کبھی واپس نہیں آتا۔

"مجھے معلوم ہے۔ تب ہی تو میں نے کہا کہ آسماں کو تمہارے قدموں میں لے آونگی"۔

"مجھے کیا کرنا ہوگا؟"

"کچھ بھی ایسا نہیں جو مشکل ہو۔ جو کچھ کرنا ہوگا وہ سب تمہارے بائیں ہاتھ کا کام ہوگا۔ میں تمہیں مکمل گائیڈ کرونگی۔ سب سے پہلے تو سافٹ ڈرنک والی سوچ کو ترک کرو۔ بڑے لوگ وائن یا وہسکی پیتے ہیں۔ تم بھی یہ عادت ڈالو"۔

"اب میں اتنی بھی پینڈو نہیں۔ ایک دفعہ پی تھی میں نے وہسکی ماریہ کے گھر۔ بہت کڑوی تھی۔ دوبارہ نہ پی سکی۔ اس نے بھی اصرار نہیں کیا۔ پھر میں نے جوس منگوا لیا"۔

"گڈ! غور کیا تم نے؟"ماریہ" بولا اس بار۔ میڈم یا میم نہیں بولا ہمیشہ کی طرح۔ ویری گڈ"۔ رانی نے کہا اور پھر دونوں ہنس دیں۔

"تم بلیک لیبل پیو۔ چسکی چسکی۔ سوڈا برف ملائے بغیر۔ ہونٹوں کو اس سے تر کرو اور زبان ہونٹوں پر پھیر لو۔ اس طرح قطرہ قطرہ اندر کر لو اپنے جسم میں۔ کچھ دیر بعد تم پر سرور کی کیفیت طاری ہونا شروع ہو جائے گی۔ بس یہ ہی طریقہ ہے نئے پینے والے کے پاس اور اس طرح پینے میں تمہیں مزہ بھی آئے گا۔ ماریہ کو بھی پینا میں نے ہی سکھایا تھا۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ میری شاگردہ ہو کر تمہیں نہ سکھا سکی"۔ رانی نے اپنی مہمان سے کہا۔

"میں کوشش کرونگی۔ نشہ زیادہ تو نہیں چڑھے گا مجھے؟"

"نشہ تمہیں نہیں بوتل کو چڑھے گا تمیں دیکھ کر!" رانی نے قہقہہ لگایا۔

اس نے اپنے لئے ایک بڑا اور افسانے کے لئے ایک چھوٹا ڈرنک بنایا۔ دونوں عورتوں نے جام سے جام ٹکرایا۔ لڑکی نے رہبر کی ہدایت کی روشنی میں ہلکی سے چسکی لی۔ زبان اور تالو پر ذائقہ محسوس کیا اور اس قلیل مقدار کو حلق کے نیچے اتار لیا۔ ایسا کرنے میں اسے واقعی لطف محسوس ہوا۔ اسکی اگلی چسکی پہلے سے بڑی اور اس سے اگلی پہلی سے دگنی تھی۔ کچھ دیر بعد اسے سرور آنے لگا۔ رانی اپنا گلاس ایک ہی سانس میں خالی کر گئی۔ استاد اور شاگرد کا فرق واضح ہوگیا۔

سرور و نشاط کی کیفیت میں رانی نے افسانے کا بدن سہلانا شروع کر دیا۔ اس حرکت نے افسانے کو پہلے عارف کی یاد دلائی اور پھر بوبی کی۔ تینوں کے سہلانے کا انداز مختلف تھا مگر سرور کی تاثیر ایک ہی تھی۔ کیا بوبی، عارف اور رانی ایک ہی تھے؟ لیکن وہ ایک کیسے ہو سکتے تھے؟ اگر وہ مختلف تھے تو پھر کیفیت مختلف کیوں نہ تھی؟ یہ بھی ممکن تھا کہ کیفیت یکساں نہ ہو۔ مختلف ہی ہو پر وہ اسے محسوس کرنے سے قاصر ہو؟ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھی۔ کچھ دیر بعد اسے رانی کا ہاتھ اس جگہ محسوس ہوا جہاں شادی والے دن عارف کا تھا اور گھر پر ہمیشہ بوبی کا ہوتا تھا۔

یہ انتہائی حسین منزل تھی۔ اس مقام پر تھکے ہارے مسافروں کو راحت میسر آنا شروع ہو جاتی تھی۔ رانی افسانے کے بدن کو سرمنڈل کی طرح چھیڑ رہی تھی اور اس کا ہر سُر بلا رہی تھی۔ اب اسے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ بوبی کے پاس ہے، عارف کے یا رانی کے؟ کھلی آنکھیں تو اسے رانی کا چہرہ ہی دکھلا رہی تھیں۔ پھر یہ سرور اسے بوبی اور عارف کی یاد کیوں دلا رہا تھا؟ گھنٹی کی آواز نے اسے ان بکھری ہوئی سوچوں سے نجات دلا دی۔ اب وہ حقیقت کی دنیا میں واپس لوٹ چکی تھی۔

رانی ٹشو پیپرز سے اپنی انگلیاں پونچھ رہی تھی۔ پھر اسی ٹشو پیپر سے اس نے ماتھے کا پسینہ پونچھا۔ ائر کنڈیشن زبردست کام کر رہا تھا۔ پھر بھی رانی پسینے پسینے تھی۔ فضا میں سمندر کے نمک کی مہک تھی۔ رانی نے ایک نئے ٹشو پیپر سے افسانے کے ماتھے سے پسینہ پونچھا۔ اس لمحے افسانے پر یہ راز منکشف ہوا کہ نمکین خوشبو کا منبع رانی کی انگلیاں تھیں۔ خود افسانے بھی اسی خوشبو سے معطر تھی۔

دونوں خواتین نے لباس درست کیا۔ رانی نے دروازہ کھلا۔ سامنے میکس تھا۔

"اسلام و علیکم رانی۔ تم کیسی ہو؟" میکس ان سے اردو میں بات کر سکتا تھا کیونکہ وہ اسی مٹی میں پیدا اور پلا بڑھا تھا۔ اسکا باپ گورا اور ماں مقامی تھی۔ کوئی پینتالیس برس کا ہوگا۔ امریکہ کی ایک بہت بڑی ڈونر ایجنسی کا سربراہ تھا۔ لمبا چوڑا خوبصورت مرد۔۔ ابھی تک کنوارہ۔ بہت طاقتور اور اختیار والا تھا۔ اس کا باپ کانگرس کا سینیٹر تھا۔ خطیر سے خطیر گرانٹ میکس کے قلم کی نوک پر رہتی۔ ہر این جی او اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی۔ اچھے اخلاق کا انسان تھا۔ رانی کو بہت پسند کیا کرتا تھا۔ اسکی خوبصورتی اور قائدانہ صلاحیتوں سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ کئی بار رانی کو وقت سے پہلے ہی مطلع کر دیا کرتا تھا کہ فلاں موضوع پر نئے پراجیکٹس کھل رہے ہیں وہ پروپوزلز تیار کرکے رکھ لے۔ پروپوزلز بنانے میں رانی کی مدد بھی کرتا۔ اسطرح رانی کی پروپوزل کبھی مسترد نہ ہوتی۔

"وعلیکم السلام۔۔ خوش آمدید۔ خوش آمدید۔ میری نئی دوست افسانے سے ملو اور افسانے یہ ہیں میکس۔ ہم بھوکے مر جائیں اگر یہ نہ ہوں!" رانی چاپلوسی کا ہتھیار استعمال کرتے بولی۔ اس کے ترکش میں بہت سارے تیر ہمیشہ ہی ہوتے۔ کوئی خوشامد کا، کوئی دھونس دھمکی کا، کوئی بلیک میلنگ کا، کوئی پیسے کے لالچ کا اور کوئی حسن کا۔ یہ حسن اس کا اپنا بھی ہو سکتا تھا اور کسی اور کا بھی۔ وہ اب بھی کسی قاتل حسینہ سے کم نہ تھی۔ بدن کو بہت سنبھال کر رکھتی تھی۔ روز پیراکی کیا کرتی تھی۔

میکس افسانے کو اچھا لگا۔ سنہرے بال، کسرتی جسم۔ ہالی ووڈ کا ہیرو لگتا تھا۔ اس سے ہاتھ ملاتے افسانے کو اس کا لمس بہت نرم محسوس ہوا حالانکہ اسکا جسم تن ساز کی طرح کا تھا۔ ادھر میکس افسانے کا ہاتھ تھامتے ہی کہیں کھو سا گیا۔ اسے اپنا طاقتور جسم افسانے کی ہتھیلی میں پگھلتا ہوا محسوس ہوا۔ "اتناگرم ہاتھ!" وہ یہ سوچ رہا تھا کہ گھنٹی بجی۔ باقی مہمان بھی پہنچ چکے تھے۔ رانی نے سب کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔

ماریہ بہت خوش تھی کہ اب اسکی سٹوڈنٹ اسے اس کے نام سے پکارنا شروع ہو چکی تھی۔ جھجھک دھیرے دھیرے ختم ہوتی جا رہی تھی۔ فاصلے کم تر ہو رہے تھے۔ دوسرے پیگ کے ساتھ ہی کھانا شروع ہو چکا تھا۔ ہر شے بہت لذیز اور ذائقے دار تھی۔

"تو دلہن کیسی گزر رہی ہے شادی شدہ زندگی؟" رانی نے رابعہ سے پوچھا۔ اب کھانے کا دور ختم ہو چکا تھا۔ کوئی کافی پی رہا تھا کوئی سبز چائے۔ صرف رانی ہی تھی جو ابھی تک بلیک لیبل سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ افسانے دو پیگ پینے کے بعد سرور کی ابتدائی کیفیت سے روشناس ہو چکی تھی۔ رانی نہیں چاہتی تھی کہ وہ کچھ اور لے۔ اس سے پہلے کہ وہ کافی چائے یا اس قسم کی کسی چیز کی فرمائش کرتی، اس نے اسے جھٹ سے تیسرا پیگ پیش کر دیا۔ افسانے اس پیشکش کو مسترد نہ کرسکی۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی، وہ وعدہ کر چکی تھی کہ رانی کی ہربات مانے گی۔ دوسری وجہ وہ سرور تھا جسے کی گہرائی میں وہ مزید اترنا چاہتی تھی۔ وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس کی گہرائی کتنی ہے۔ شاید اسے اندازہ نہ تھا کہ غم اور خوشیاں لامتناہی ہوتے ہیں۔ سوال تو یہ تھا کہ کون ان سے کیسے بغلگیر ہوتا ہے!

"یہ سوال آپ کو کم از کم ایک سال کے بعد کرنا چاہیے! ابھی تو ایک مہینہ ہی ہوا ہے ہماری شادی کو۔ ہنی مون پریڈ تو ختم ہونے دیں"۔ ماریہ نے کہا۔

"تمہیں اور عارف کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ہنی مون کا دور ساری عمر چلے گا! اللہ تم دونوں کو تاحیات خوش و خرم رکھے"۔ رانی بڑی بوڑھیوں کی طرح دلہن اور دلہا کو دعا دے رہی تھی۔ لیکن ایسے جیسے وہ ماریہ کی نائکہ ہو اور عارف ایک امیر گاہک!

"آپ دونوں بہت خوش و خرم لگ رہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے!" میکس نے کہا اور سب اس کی معصومیت پر ہنس دیے۔

"آپ اردو بولتے ہوئے بہت سوئیٹ اور انوسینٹ لگتے ہیں!" اس بار شاہینہ بولی۔ اس عورت کی عمر کوئی تیس برس ہوگی۔ سانولا رنگ۔ درمیانہ قد۔ سلم۔ سیکس اپیل بے پناہ۔ لوگ اسے شبانہ اعظمی کہا کرتے تھے۔ بی اے پاس تھی۔ انگریزی رانی کے پاس رہ رہ کر اچھے سے بولنے کے قابل ہو چکی تھی۔ بائیس برس کی عمر میں آئی تھی "تاریخ نسواں پاک" میں۔ ٹی این پی کے نام سے یہ این جی او عورتوں کے مختلف ایشوز پر کام کیا کرتی تھی۔ رانی کے مخالفین اسے ٹٹس اینڈ پزیز

Tits N Pussies (TNP)

کے نام سے پکارتے تھے۔ پر رانی کو کسی کی بھی پرواہ نہ تھی۔ اس میں کوئی شک نہ تھا کہ ٹی این پی دن بہ دن ترقی کر رہی تھی۔ یہ رانی کی بصیرت اور میکس کی کرم فرمائی کا نتیجہ تھا۔ گرانٹس کے علاوہ وہ کئی جگہ کنسلٹینسیز لئے بھی ٹی این پی کو متعارف کرواتی۔ اسطرح اس کے پاس مختلف پراجیکٹس کی بھرمار رہتی۔ ایک ختم ہوتا تو کئی اور شروع ہو جاتے۔ ان میں کچھ مختصر اور کچھ طویل مدت کے منصوبے ہوتے۔

ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد ساری دنیا کے ڈونرز ملک میں ڈیرہ جما چکے تھے۔ برسوں سے بند یو ایس ایڈ دوبارہ زندہ ہو چکا تھا۔ گورا پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا۔ عالم یہ تھا کہ ڈالرز کی گنگا بہہ رہی تھی۔ جس نے بھی ہاتھ دھونے ہیں آ کر دھو لے۔ اتنا پیسہ تو سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دور میں بھی نہ آیا۔ وجہ صاف ظاہر تھی۔ دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ میں پورا مغرب امریکہ بہادر کا پٹھو تھا۔

"اچھا تو میں اردو بولتے معصوم دکھائی دیتا ہوں۔ انگریزی بولتے کیا مانسٹر نظر آتا ہوں؟" میکس نےشاہینہ کی بات کے جواب میں کہا اور سب ہنس دیے۔

"کبھی کبھی آپ ایک بہت جوشیلے مانسٹر بھی لگتے ہیں۔ اس جوش میں آپ بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی کود جاتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آپ پر آگ اثر نہیں کرتی!" صوفیہ بولی جو رانی کی ایک اور انتہائی خوبصورت پروگرام آفیسر تھی۔ عمر بتیس برس کے قریب۔ دراز قد، گوری چٹی۔ یہ بھی بی اے پاس تھی اور کافی عرصے سے رانی کے سائے میں پھل پھول رہی تھی۔

"جب مجھے کوئی مشتعل کرتا ہے تو مانسٹر بننا ہی پڑتا ہے۔ کیوں کیا خیال ہے آپ کا عارف صاحب؟" میکس نے کہا اور نہ صرف عارف بلکہ دوسروں نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ بھئی وہ ڈونر ہے!

افسانے اب وال کلاک کی جانب دیکھ رہی تھی۔ گیارہ بج چکے تھے۔ رانی نے اسے ٹائم دیکھتے دیکھ لیا۔

"تم میری طرف کیوں نہیں رک جاتیں آج؟ گھر فون کر لو۔ ماریہ بات کر لے گی تمہاری والدہ سے اور اچھے سے سمجھا دے گی"۔ رانی بولی۔

"یہ ناممکن سے بھی آگے کی چیز ہے۔ آپ اسے اسی وقت گھر ڈراپ کروا دیں"۔ ماریہ بول۔ رانی نے ضد نہیں کی اور ڈرائیور کو کہہ دیا کہ لڑکی کو بحفاظت اس کے گھر تک پہنچا دے۔ ڈرائیور نے حکم کی تعمیل کی۔

"میرے خیال میں اب ہمیں بھی چلنا چاہیے"۔ افسانے کے جانے کے آدھ گھنٹے بعد عارف نے کہا۔ ماریہ نے اپنے شوہر کی بات کی تائید کی۔ ان دونوں کو رخصت کرنے سب پورچ تک آئے۔ سب ہی خوش دکھائی دے رہے تھے۔

کچھ دیر بعد سب دوبارہ لاؤنج میں اکٹھے ہو چکے تھے۔ ایک پارٹی اختتام کو پہنچی۔ دوسری شروع ہو رہی تھی۔ یہ پارٹی میکس، رانی، صوفیہ اور شاہینہ کے اعزاز میں تھی۔ یہ ہی اس پارٹی کے میزبان بھی تھے اور مہمان بھی۔ دیے مدہم ہو رہے تھے۔ صورتیں ہیولے بن رہے تھے۔ کچھ دیر بعد گھپ اندھیرا چھا چکا تھا۔ اب کوئی کسی کو دیکھ نہ سکتا تھا۔ محسوس ضرور کر سکتا تھا۔ نابینا لوگوں کے چھونے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ وہ لمس سے چہرے پہچان لیا کرتے تھے۔ یہ ایسے ہی لوگوں کی پارٹی تھی۔ جب محفل رنگ پر آئی تو ایک صدا بلند ہوئی۔ صوفیہ چلا رہی تھی:

"میکس، یو آر اے مانسٹر، یو آر اے مانسٹر۔۔ "

***

رانی کی پارٹی سے گھر پہنچ کر افسانے بہت سست پڑ چکی تھی۔ اس کا سر گھوم رہا تھا۔ اسے احساس تھا کہ وہ زیادہ چڑھا چکی تھی۔ لیکن خوشی بھی تھی۔۔ آخر کار اس کی ذات اس چیز کے ذائقے سے اچھی طرح متعارف ہو چکی تھی جس سے وہ شروع میں کچھ زیادہ متاثر نہ تھی۔ وہ اتنا تھک چکی تھی کہ ان ہی کپڑوں میں دھڑام سے بستر پر گر گئی۔ بوبی ایک دم چلایا: "ہائے!" اور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ "کون ہے، کون ہے!"

اسے پتہ ہی نہ لگا کہ جس جگہ وہ گری وہاں بوبی سویا ہوا تھا۔

"ابے چپ کر۔ میں ہوں۔ کوئی چور نہیں۔ سوری۔ اندھیرے میں پتہ نہیں لگا اور تو میرے بستر پر کیوں سو رہا تھا؟" افسانے نے کہا۔

اس مختصر سے کمرے میں دو پلنگ تھے۔ ایک پر بوبی دوسرے پر افسانے سویا کرتی تھی۔ چونکہ کمرہ چھوٹا تھا۔ لہذا دونوں میں کوئی فاصلہ نہ تھا۔ پلنگ آپس میں ایسے جڑے تھے کہ ڈبل بیڈ کا تاثر دیتے۔

"باجی میں اپنے ہی پلنگ پر سویا تھا۔ آپ نہیں تھیں اس لیے کروٹ لیتے لیتے آپکی سائیڈ پر آ گیا"۔

"چل سو جا۔ مجھے بھی سونے دے"۔

وہ بے خبر سوتی رہی۔ جب اٹھی تو دوپہر ہو چکی تھی۔ ماں حسب معمول کام پر روانہ ہو چکی تھی۔ بوبی صحن میں لٹو چلا رہا تھا۔

"بہت گہری نیند سو رہی تھیں آپ باجی۔ میں نے کئی بار جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا۔ مجھے لگا آپ گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی ہیں"۔

"واہ۔ گدھے گھوڑے بیچ کر سونا! تو اب محاورات کا درست استعمال کرنا شروع ہوگیا ہے عام بول چال میں۔ شاباش۔ انگریزی بھی ایسے ہی سیکھ"۔

"آپ محنت تو کر رہی ہیں مجھ پر۔ ضائع نہ ہونے دونگا"۔

"تو نے ناشتہ کیا کہ نہیں؟"

"اماں نے بنا دیا تھا"۔

"تیرا گرمیوں کی چھٹیوں کا کام کتنا رہ گیا ہے؟"

"میں نے سپیڈ لگا کر سارا مکمل کر لیا ہے حالانکہ ابھی سکول کھلنے میں پورا ایک مہینہ باقی ہے۔۔

ارے میں بتانا بھول گیا کہ شمیم باجی نے پیغام بھجوایا تھا کہ آپ ان سے مل لیں"۔

"کوئی خاص بات؟"

"کچھ نہیں بتایا۔۔ "

"نہا دھو کر جاتی ہوں۔ ذرا بالٹی تو بھر غسل خانے میں"۔

"اچھا جی"۔

افسانے الماری سے کپڑے نکال کر غسل خانے میں چلی گئی۔ گنگناتے گنگناتے غسل کرتے اسے یاد آیا کہ تولیہ تو وہ لائی نہیں۔ ایسا کرنا اسے اکثر یاد نہ رہتا۔

"بوبی ذرا تولیہ تو پکڑا دے"۔ غسل خانے کا دروازہ آدھا کھول کر افسانے نے کہا۔

"ابھی لایا باجی"۔

بوبی نے تولیہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اس دوران اس کی نظر بھی افسانے پر پڑی۔۔ سر سے پیر تک۔ یہ نظر اسے ہمیشہ اک خوشگوار احساس مہیا کرتی۔ اسے ایک بار پھر زینت امان یاد آئی۔

افسانے کپڑے پہن کر غسل خانے سے باہر نکلی۔ اسکے گھنے بالوں سے پانی ابھی بھی قطرہ قطرہ ٹپک کر اسکی قمیض پر گر رہا تھا جو پہلے ہی اس کے بدن پر تنی ہوئی تھی۔ بوبی کو پتہ لگ گیا کہ اس کی ضرورت دوبارہ پڑے گی کیونکہ افسانے نے نیچے کچھ بھی نہیں پہن رکھا تھا۔ باہر جانے سے پہلے وہ ایک چیز قمیض کے نیچے ضرور پہنا کرتی تھی اور یہ کام اس اکیلی کے بس کا نہ تھا۔ اس دن بوبی نے ہک کھولنے اور آج اسے باندھنے میں افسانے کی مدد کی۔

کچھ دیر بعد افسانے شمیم کے پاس تھی۔ رانی کا فون آیا تھا۔ افسانے نے رانی کو فون کیا۔ مختصر گفتگو ہوئی۔ رانی اس سے ملنا چاہتی تھی۔ کچھ لمبے ٹائم کے لئے۔ طے یہ پایا کہ کل صبح دس بجے اس کا ڈرائیور افسانے کو گھر سے اٹھائے گا۔ دوپہر کا کھانا وہ رانی کے ساتھ کھائے گی اور مغرب سے پہلے گھر واپس پہنچ جائے گی۔ افسانے نے ملنے کی حامی بھر لی۔ اس ملاقات میں اسکے مستقبل کے حوالے سے کچھ منازل کا تعین کیا جانا تھا۔

"کون ہے یہ رانی؟ کس ملک کی ہے یہ رانی؟" شمیم نے پوچھا تو افسانے نے مکمل تعارف کرایا۔ شمیم بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔

"مجھے بھی کوئی نوکری دلا دے اس کی این جی او میں۔ مجھے بھی بہت شوق ہے گاڑی چلانے کا"۔

"پہلے مجھے تو مل جائے نوکری۔ پھر تیری بھی پکی ہو جائے گی"۔ افسانے نے شمیم کو یقین دلایا۔ اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس کی کزن بھی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ تعلیم کی وجہ سے مار کھاتی تھی۔ صرف میٹرک پاس تھی۔ عمر میں افسانے سے چند برس بڑی تھی۔

"کتنی بار تجھے سمجھایا کہ پرائیویٹ ایف اے اور بی اے کر لے۔ میری بات مانی ہوتی تو اسوقت گریجویٹ ہوتی۔ انگریزی کے دو جملے تو بول نہیں سکتی۔ میں تیری حوصلہ شکنی نہیں کر رہی۔ اگر کسی بڑے دفتر میں نوکری کرنی ہے تو انگریزی فر فر آنی چاہیے۔ اورتعلیم کم از کم بی اے ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کا علم بھی ہونا چاہیے۔ میں تیری مدد کر سکتی ہوں پر تو اس بے کار کے بیوٹی پارلر میں پڑی ہوئی ہے۔ ساری عمر لگی رہ اپنے گھر سے۔ اس پارلر سے محل کھڑا نہ کرسکے گی"۔

"تو درست کہہ رہی ہے۔ میں آج ہی سے ایف اے کی تیاری شروع کرتی ہوں۔ بھاڑ میں گیا یہ بیوٹی پارلر"۔

"ارے اسے بھی چلا۔ کافی ٹائم ہوتا ہے تیرے پاس۔ تو دونوں کام کر سکے گی اور ایف اے یا بی اے کرنا کوئی تیر مارنا نہیں۔ پانچ سال کے پرانے سوالنامے لے لو۔ انکے جوابات رٹ لو اور امتحان میں بیٹھ جاؤ"۔ افسانے بولی۔

جاری ہے۔۔