1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. سرحدی منڈیوں کی بحالی اور معاشی بقا کا واحد راستہ

سرحدی منڈیوں کی بحالی اور معاشی بقا کا واحد راستہ

عالمی معاشی منظرنامے میں سرحد پار تجارت اور سرحدی منڈیاں کسی بھی خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر پسماندہ سرحدی علاقوں میں معاشی بقا، غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی کا انحصار براہ راست تجارت کے اس متبادل اور موثر نظام پر ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں جب معاشی جمود، افراط زر اور بیروزگاری عروج پر ہے، سرحدی منڈیوں کی بحالی محض ایک تجارتی معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی معاشی بقا کا واحد اور حتمی راستہ بن چکی ہے۔ اس عنوان کے تحت ان تمام معاشی، انتظامی اور اسٹریٹجک پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے جو ان منڈیوں کی بحالی اور خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو سرحدی علاقوں کے باسیوں کا معاش صدیوں سے اسی باہمی تجارت سے وابستہ رہا ہے۔ جب ریاستیں روایتی تجارت کو محدود کرتی ہیں اور سرحدی پابندیوں میں سختی لاتی ہیں، تو اس کا سب سے پہلا اور براہ راست اثر مقامی آبادی کی روزی روٹی پر پڑتا ہے۔ سرحدی منڈیاں دراصل دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی پل کا کام کرتی ہیں جہاں مقامی پیداوار، خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کا تبادلہ آسان اور کم لاگت میں ہوتا ہے۔ ان منڈیوں کی بحالی سے نہ صرف مقامی سطح پر تجارتی سرگرمیاں پروان چڑھتی ہیں بلکہ ریاست کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔

معاشی بقا کے نقطۂ نظر سے، سرحدی منڈیاں غیر رسمی تجارت کو قانونی دائرے میں لانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ جب حکومتیں سرحدی منڈیوں کو باقاعدہ قانونی شکل دیتی ہیں اور جدید بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں، تو اس سے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں ملکی خزانے کو باقاعدہ آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ شفاف تجارتی نظام کے نفاذ سے تاجروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے اور وہ بلا خوف و خطر اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دیتے ہیں جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

ان منڈیوں کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیچیدہ انتظامی ضابطے، سیکورٹی کے نام پر غیر ضروری تاخیر اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق، سرحدی منڈیوں میں جدید گوداموں، کولڈ چین سسٹم، بینکنگ کی سہولیات، تیز رفتار کسٹم کلیئرنس اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کا ہونا لازمی ہے۔ جب تک سرحد کے دونوں طرف کی انتظامیہ باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ون ونڈو آپریشنز کا نظام نافذ نہیں کرتی، اس وقت تک تجارتی لاگت کم نہیں ہو سکتی۔ لاگت میں کمی کے بغیر مقامی پیداوار عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بن سکتی۔ سرحدی تجارت کی بحالی کا ایک اور اہم ترین فائدہ علاقائی انٹیگریشن اور امن کا فروغ ہے۔ معاشی طور پر مستحکم اور جڑے ہوئے خطوں میں تنازعات کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں طرف کے عوام کی معاشی مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔

جب سرحد کے اس پار اور اس پار کے بیوپاری اور کسان باہم تجارت سے خوشحالی حاصل کرتے ہیں، تو یہ عمل خطے میں پائیدار امن اور سیاسی استحکام کی ضمانت بنتا ہے۔ معاشی بقا صرف پیسے کے بہاؤ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ خطے کے باسیوں کے لیے تحفظ اور پائیدار مستقبل کا ضامن بھی ہے۔ حکومتی سطح پر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سرحدی منڈیوں کی ترقی کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ اس حکمت عملی میں مقامی تاجروں اور چیمبر آف کامرس کی تجاویز کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سرحدی منڈیاں روایتی درآمد و برآمد کے زمرے سے ہٹ کر براہ راست مقامی معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ ہیں۔ ٹیکسوں میں نرمی، آسان قرضوں کی فراہمی اور بیوروکریٹک سرخ فیتے کا خاتمہ وہ کلیدی اقدامات ہیں جو ان منڈیوں میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔

آخر میں یہ امر طے ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی تناظر میں روایتی طریقوں پر انحصار کرکے بقا کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ سرحدی منڈیوں کی مؤثر بحالی اور جدید تقاضوں کے مطابق ان کا انصرام ہی وہ واحد راستہ ہے جو پسماندہ سرحدی علاقوں کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ ریاست اور متعلقہ اداروں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر ان منڈیوں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ غربت، بیروزگاری اور معاشی محرومی کے اس دور میں عوام کو ریلیف مل سکے اور معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔