وسعت اللہ خان صاحب نے "کشمیر بنے گا پاکستان" کے نعرے کو آزاد کشمیر کی موجودہ بے چینی، ناقص حکمرانی، مہنگی بجلی، سیاسی مداخلت اور عوامی احتجاج کے ساتھ جوڑ کر ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ سوال واقعی اہم ہے، مگر سوال کے جواب میں تاریخ، سیاست اور عوامی جذبات کو ایک ہی ترازو میں تولنا شاید اتنا آسان نہیں جتنا کالم میں دکھائی دیتا ہے۔
آزاد کشمیر میں اگر لوگ بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت، حکومتی مراعات، سیاسی مداخلت اور خراب حکمرانی کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں تو اس کا مطلب یہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کا تاریخی یا سیاسی تعلق بھی سوالیہ نشان بن گیا؟ اگر لاہور میں لوگ مہنگائی کے خلاف احتجاج کریں تو کیا اس سے پاکستان کی بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے؟ اگر بلوچستان میں محرومی ہو تو کیا پاکستان کا وجود متنازع ہو جاتا ہے؟ اگر کراچی میں حکومت ناکام ہو تو کیا پاکستان غیر متعلق ہو جاتا ہے؟
پھر آزاد کشمیر کے انتظامی بحران کو کشمیر کے حتمی سیاسی فیصلے کا ریفرنڈم کیوں سمجھا جائے؟
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا۔ آزاد کشمیر کے عوام کی شکایات ایک الگ مسئلہ ہیں اور کشمیر کا بین الاقوامی تنازع ایک الگ مسئلہ۔ دونوں کو ملا دینا نہ کشمیری عوام کے ساتھ انصاف ہے اور نہ تاریخ کے ساتھ۔ کاش وسعت اللہ خان کا صحافتی ضمیر کبھی ان کو اجازت دے کے وہ لکھ سکیں کہ برطانوی سامراج جہاں سے واپس گیا ہے وہ ایسی تقسیم کرکے اور خون ریزی کروا کے گیا ہے اور ایسا بندو بست کرکے رخصت ہوا ہےکہ معصوم انسان صدیوں تک ایک دوسرے سے دست و گریبان رہیں۔
کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستانی سرکاری بیانیے کی پیداوار نہیں۔ اس کے پیچھے تقسیم ہند کی تاریخ ہے، ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ ہے، 1947-48 کی جنگ ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں، ہندوستان اور پاکستان کا باہمی تنازع ہے اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا سوال ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ پاکستانی قوم کو بچپن سے کشمیر کے بارے میں صرف ایک مخصوص گھٹی پلائی گئی، ایک خوب صورت طنزیہ جملہ تو ہو سکتا ہے، تاریخی دلیل نہیں۔ قومیں صرف گھٹی سے نہیں بنتیں۔ ان کے اجتماعی تصورات کے پیچھے تاریخ، تجربہ، قربانیاں اور سیاسی حافظہ بھی ہوتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان نے کشمیر کے نام پر اپنے اندر موجود ہر خرابی سے آنکھیں بند کر لیں۔ آزاد کشمیر کے عوام اگر اپنی حکومت سے سوال کرتے ہیں تو انہیں جواب ملنا چاہیے۔ اگر بجلی پیدا کرنے والے خطے کے لوگوں کو بجلی مہنگی ملتی ہے تو سوال اٹھے گا۔ اگر عوام کو بنیادی سہولتوں کے لیے احتجاج کرنا پڑے تو حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اگر سیاسی نمائندے مراعات میں آگے اور عوام مشکلات میں پیچھے ہوں تو اس پر اعتراض ہوگا۔ مجھے پتہ ہے وسعت اللہ خاں خود کو رکے ہوے پنکھے سے لٹکا لیں گے لیکن کبھی دنیا میں پرائیوٹائزیشن کے زریعے اربوں انسانوں سے بجلی، پانی، تعلیم اور علاج کے حقوق چھین لینےوالوں کے خلاف منہ سے ایک لفظ نہیں نکالیں گے۔ "لاشوں پر کھڑے ہوکر فیسٹیول منانے والے صحافی بیچارے"۔
بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو کشمیر کے بارے میں اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کا بہترین طریقہ تقریریں نہیں، حکمرانی ہے۔
اگر پاکستان واقعی کشمیر کے عوام کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا ہے تو آزاد کشمیر کو ایک مثالی خطہ بنانا ہوگا۔ وہاں قانون کی حکمرانی ہو، حکومت جواب دہ ہو، انتخابات شفاف ہوں، سیاسی مداخلت کم ہو، وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو اور شہری کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑک پر نہ آنا پڑے۔
یہاں وسعت اللہ خان صاحب کی بات کا ایک حصہ بالکل درست ہے۔ عوامی اعتماد ٹوٹ جائے تو محض وعدوں اور پریس ریلیزوں سے بحال نہیں ہوتا۔ ریاست اگر ہر احتجاج کو سازش سمجھنے لگے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی اور سوال کو غداری سمجھنے کی عادت کسی بھی نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔
لیکن پھر ایک سوال ان سے بھی ہے۔
کیا عوام کا احتجاج لازماً کسی خطے کے سیاسی الحاق کا فیصلہ ہوتا ہے؟
اگر ایسا مان لیا جائے تو دنیا کے ہر ملک میں ہونے والا ہر بڑا عوامی احتجاج اپنے ساتھ ایک نیا نقشہ لے آئے گا۔ فرانس میں مہنگائی پر احتجاج ہو تو فرانس کی ریاست ختم؟ برطانیہ میں حکومت کے خلاف مظاہرہ ہو تو برطانیہ کا سیاسی وجود مشکوک؟ ہندوستان میں کسان سڑکوں پر نکلیں تو کیا وہ ہندوستانی ریاست سے علیحدگی کا اعلان سمجھا جائے؟
عوامی احتجاج کو عوامی احتجاج ہی رہنے دیجیے۔ ہر احتجاج کے پیچھے چھپی سیاسی خواہش کو اپنی مرضی کا نام دینا دانش مندی نہیں۔
کشمیر کے معاملے میں ایک اور بات بھی سمجھنی چاہیے۔ پاکستان کا یہ مؤقف کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے، اسی وقت اخلاقی وزن رکھتا ہے جب پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں میں بھی عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کا احترام کرے۔ انسانی حقوق کا معیار سرحد دیکھ کر تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم ظلم ہے اور آزاد کشمیر میں ظلم بھی ظلم ہے۔
لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کسی خطے کے سیاسی الحاق کا سوال ایک ہی چیز نہیں۔ یہ دونوں الگ سوال ہیں اور دونوں کے جواب بھی الگ ہوں گے۔ مجھے پتہ ہے وسعت اللہ خان صاحب زہر کا پیالہ پی لیں گے مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے پیچھے چھپے حیوانی شکوک پر کبھی کالم نہیں لکھیں گے۔
اگر ہندوستانی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو اس پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ اگر آزاد کشمیر میں شہریوں کے حقوق پامال ہوں تو اس پر بھی آواز اٹھانا ضروری ہے۔ لیکن ایک واقعے کو دوسرے واقعے کا سیاسی متبادل بنا دینا مسئلے کو حل نہیں کرتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر کو ہم نے کبھی صرف جغرافیہ بنا دیا اور کبھی صرف نعرہ۔ کشمیر نہ صرف جغرافیہ ہے نہ صرف نعرہ۔ یہ تاریخ بھی ہے، انسان بھی ہے، سیاست بھی ہے، تہذیب بھی ہے اور سب سے بڑھ کر وہاں بسنے والے لوگوں کے مستقبل کا سوال بھی ہے۔
"کشمیر بنے گا پاکستان" ایک سیاسی اور قومی خواہش ہے۔ اسے ماننے یا نہ ماننے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے۔ مگر اس خواہش کو اس وقت تک حتمی فیصلہ سمجھ لینا جب تک کشمیری عوام کی آزاد رائے سامنے نہ آئے، خود حق خودارادیت کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔
اسی طرح آزاد کشمیر میں لوگ اگر مزید سستی بجلی، مزید سستا آٹا، مزید بہتر حکومت اور مزید سیاسی اختیار مانگ رہے ہیں تو اسے فوراً پاکستان سے بیزاری کا ثبوت قرار دینا بھی غلط ہوگا۔
ممکن ہے ایک کشمیری بیک وقت پاکستان سے محبت بھی کرتا ہو اور پاکستانی حکمرانوں سے ناراض بھی ہو۔
یہ تضاد نہیں، انسانی فطرت ہے۔
ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہوئے حکومت سے لڑتے ہیں۔ ہم ریاست سے وابستہ رہتے ہوئے ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ہم وطن سے محبت کرتے ہوئے حکمران کو برا بھلا کہتے ہیں۔ پھر کشمیریوں کو اس انسانی حق سے کیوں محروم کیا جائے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کس حد تک کھڑا ہے۔
اگر عوام مشکل میں ہوں تو ان کے مسائل حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی معاہدہ ہوا ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔ اگر حکومت نے وعدہ کیا ہے تو وعدہ پورا ہونا چاہیے۔ اگر میڈیا کو پابند کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف صحافت کو نہیں، خود ریاست کو ہوتا ہے کیونکہ خاموشی کبھی اعتماد پیدا نہیں کرتی۔
اور ایک بات بہت صاف ہے۔
ریاست کو یہ حق نہیں کہ ہر اختلاف کو غداری کہے، لیکن کسی سامراجی تنخواہ دار کو بھی یہ حق نہیں کہ ہر انتظامی ناکامی کو قومی نظریے کی ناکامی بنا دے۔
آزاد کشمیر کے عوام کے مطالبات سنیں۔ ان کے احتجاج کا احترام کریں۔ ان کی حکومت کو جواب دہ بنائیں۔ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔ میڈیا کو آزاد رکھیں۔ لیکن آزاد کشمیر کی گلیوں میں اٹھنے والے ہر احتجاج کو کشمیر کے تاریخی مقدمے کا آخری فیصلہ سمجھ لینا بھی درست نہیں۔
کشمیر کا مستقبل نعروں سے نہیں، تاریخ، انصاف، سیاسی بصیرت اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کی آزاد مرضی سے طے ہوگا اور اگر پاکستان واقعی یہ چاہتا ہے کہ "کشمیر بنے گا پاکستان" محض ایک نعرہ نہ رہے بلکہ ایک قابلِ قبول مستقبل کا تصور بنے، تو اسے پہلے پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہوگا جسے دیکھ کر کشمیری کہیں کہ یہاں انصاف ہے، یہاں عزت ہے، یہاں قانون ہے اور یہاں عام آدمی کی آواز بھی سنی جاتی ہے۔