آج امی کی عدت ختم ہوگئی تھی۔۔ میں آفس سے گھر آیا۔۔ صبیحہ لاؤنج میں بیٹھی رات کے کھانے کے لیے سلاد کاٹ رہی تھی۔۔ میں نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔۔ ایمان اور ہادی سامنے والے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے۔۔ امی کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا مگر لائٹ بند تھی۔۔
"امی کیا کر رہی ہیں؟"میں نے کھیرے کا ایک ٹکڑا اٹھا لیا۔۔
"گھر نہیں ہیں" صبیحہ نے جواب دیا اور میں ایک دم چونکا۔۔
"کیا مطلب؟ کہاں گئی ہیں؟"
"پتہ نہیں میں عصر کی نماز پڑھ کر جب لاؤنج میں آئی تو ایمان نے بتایا کہ دادی امی گھر نہیں ہیں۔۔ "
"اکیلے کہاں چلی گئیں؟"مجھے غصہ آنے لگا اور بغیر بتائے جانا تو بہت ہی برا لگ رہا تھا۔۔
میں نے ان کا نمبر اپنے موبائل پر ڈائل کیا تو امی کےکمرے میں فون کی گھنٹی گنگنا اٹھی۔۔
اب تو مجھے تشویش ہونے لگی ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ باہر کی بیل ہوئی۔۔ میں اپنے خیالوں میں الجھا دروازے کی طرف بڑھا۔۔ کھولا تو امی تھیں۔۔
مجھے دیکھ کر مسکرائیں اور السلام علیکم کہا۔۔
امی! آپ بنا بتائے کہاں چلی گئی تھیں۔۔
میں تیزی سے بولا مگر وہ خاموشی سے اندر آگئیں۔۔ کمرے میں جاکر چادر اتاری اور دوپٹہ اوڑھ کر لاؤنج میں آ گئیں۔۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔ اس لیے مجھے اطمینان تھا کہ پریشانی والی کوئی بات نہیں۔۔ ایمان انہیں دیکھ کر بھاگ کر پانی لے کر آئی۔۔ انہوں نے اسے محبت سے ساتھ لگا لیا۔۔
"امی! فون تو لے جاتیں ساتھ" میں نے پھر بات شروع کی۔۔ "اچھا بیٹا آئندہ لے جایا کروں گی" امی نے سکون سے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لےکر پانی پیا تھا۔۔
صبیحہ روٹیاں بنانے کے لیے اٹھ گئی تھی اور میں اپنی فائلز اور لیپ ٹاپ لےکر کمرے میں چلا آیا۔۔
رات کے کھانے پر سب کچھ نارمل تھا۔۔ بچے دیوانہ وار امی پر نثار ہو رہے اور امی بھی انہیں محبت اور دلار سے بلا رہی تھیں۔۔ صبیحہ نے رس ملائی کا ڈونگہ امی کے آگے رکھا تو امی نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
"سدا سہاگن رہو"
امی نے بازو گھما کر پیالی اٹھائی تاکہ رس ملائی ڈال سکیں تو ان کا دوپٹہ اتر گیا۔۔ ان کے کانوں میں سونے کی بہت چمکدار چھوٹے چھوٹے سونے ہی کے موتیوں والی بالیاں جگمگا رہی تھیں۔۔
"ارے امی! یہ بالیاں تو نئی لگ رہی ہیں" صبیحہ نے ستائشی نظروں نے ان چھوٹے چھوٹے سونے کے موتیوں کو چھوا تھا۔۔ امی نے اطمینان سے رس ملائی کا چمچ منہ میں ڈالا۔۔
"نہیں تو۔۔ یہ تو میرے پاس پہلے ہی سے تھیں۔۔ "
اور پھر مسکرا کر بولیں "رس ملائی تو بہت اچھی بنانے لگی ہو اب"
صبیحہ غائب دماغی سے مسکرائی۔۔ وہ بار بار امی کے کانوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ مگر خاموش رہی۔۔
بچوں کے سونے کی تسلی کرکے آئی صبیحہ نے بادام کا تیل لے کر مساج شروع کر دیا تھا میں بھی سب کچھ سمیٹ کر اپنی والی طرف بیڈ پر نیم دراز ہو کر۔۔ موبائل سکرولنگ کرنے لگا۔۔ تبھی میں چونکا۔۔ صبیحہ آکر بستر پر بیٹھ چکی تھی۔۔ تکیے چادریں ٹھیک کرتی ہوئی وہ بولی تھی
"ظفر! میں سچ کہتی ہوں وہ بالیاں نئی ہیں۔۔ امی کے پاس پہلے نہیں تھیں۔۔ " میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔
"مطلب؟"
"مطلب یہ کہ امی آج یہ بالیاں لے کر آئی ہیں"۔۔ "صبیحہ نے بڑے رسان سے کہہ دیا۔۔
"اور اب مانا کیوں نہیں۔۔ یہ حیرت انگیز بات ہے"۔۔ وہ اتنی آہستہ بولی تھی کہ بمشکل میں سن پایا۔۔
"مطلب تم یہ کہہ رہی ہو کہ امی جھوٹ بول رہی ہیں؟" مجھے غصہ آنے لگا۔۔
"یہ میں نے کب کہا؟ میں تو بس حیران ہو رہی ہوں" میرا غصہ دیکھ کر اس نے نرمی سے وضاحت دی تھی۔۔
"دیکھو صبیحہ! امی نے ابوجی کے ساتھ Rough and tough زندگی گزاری ہے۔۔ میں چاہتا ہوں کہ اب ان کو سکون سے ان کی زندگی جینے دیتے ہیں۔۔ "
اور ویسے بھی سونے کی بالیاں لینے کے پیسے تو ان کے پاس تھے ہی نہیں تو وہ کیسے لے سکتی ہیں"
"اس لیے اب اس موضوع کو چھوڑ دیتے ہیں "۔۔ میں نے الارم آن کرتے ہوئے موبائل آف کیا تھا اور تکیے سیدھے کرکے سونے لیٹ گیا تھا۔۔
اگلے کئی دن میں بطور خاص امی کا جائزہ لیتا رہا۔۔ مگر مجھے کچھ بھی عجیب نہ محسوس ہوا۔۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے گھر اور اس کے معاملات میں دلچسپی صفر کر دی تھی۔۔ اگر صبیحہ ان سے کچھ پوچھتی تو تفصیل سے اسے جواب دیتیں۔۔ لیکن خود سے اس سے کچھ بھی نہ پوچھتیں۔۔ دونوں بچوں پر جان نچھاور کرتیں۔۔ مگر ان سے بھی خود بڑھ کر کچھ نہ کہتیں۔۔ لیکن بچے ان پر پروانوں کی طرح نثار ہوتے اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلے ان کو بتاتے۔۔
"تم نے نوٹ کیا صبیحہ! بچے از خود امی کو ہر معاملے میں شریک کرتے ہیں۔۔ "
میں ہنسا تھا۔۔ صبیحہ چڑ گئی۔۔
"ہاں جی میں تو ان کو وٹے مارتی ہوں نا! اسی لیے۔۔ "
میرا مقصد کوئی موازنہ تو تھا نہیں۔۔ اس لیے میں ہنستا رہا۔۔
میں آفس میں بری طرح مصروف تھا کہ مجھے ایمان کی کال آئی تھی
"بابا! دادی امی بہت دیر سے کہیں گئی ہوئی ہیں اور ان کا موبائل بھی گھر ہی ہے۔۔ "
میں نے گھڑی دیکھی تھی شام کے چھ بج رہے تھے۔۔
میں تو ایک گھنٹے سے پہلے آفس سے نہیں نکل سکوں گا۔ "
"کیا کریں پھر؟" ایمان کی آواز میں پریشانی تھی۔۔
آپ پریشان نہ ہوں۔۔ دادی امی چھوٹی تو ہیں نہیں کہ کھو جائیں۔۔ "
اچھا پندرہ بیس منٹ انتظار کریں اگر نہ پہنچیں تو دوبارہ بتائیں مجھے"
میں نے فون بند کرکے کام پر توجہ مبذول کی۔۔ مگر فوکس نہ ہو سکا۔۔
امی کہاں گئی ہوں گی۔۔ میں بھی سوچنے لگا اور ساتھ ساتھ کام سمیٹنے لگا۔۔
"حذیفہ۔۔ آپ آفس مینیج کر لیجیے گا مجھے ایک ضروری کام سے گھر نکلنا ہے "۔۔ میں نے اپنے اسسٹنٹ کو ہدایات دیں تھیں اور خود گھر کےلیے نکل پڑا۔۔
راستے میں صبیحہ سے معلوم ہوا کہ امی گھر آچکی ہیں۔۔
"السلام علیکم" میں نے گھر میں داخل ہو کر بغور ماحول دیکھا سب کچھ نارمل تھا۔۔ امی ٹیبل پر بیٹھیں صبیحہ کے ساتھ چائے پی رہی تھیں اور دونوں بچے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔۔
"امی آپ آج بھی فون ساتھ لےکر نہیں گئیں؟" میں نے پوچھا تو امی ایک دم خاموش ہوگئیں۔۔ پھر آہستہ سے بولیں "بھول گئی تھی بیٹا۔۔ "
رات اچانک میری آنکھ کھلی تو پیاس سے حلق خشک ہوگیا تھا۔۔ سائیڈ ٹیبل پر نظر دوڑائی تو پانی موجود نہ تھا۔۔ میں کچن میں گیا پانی پیا اور جگ بھر کر ساتھ لے کر کمرے کی طرف بڑھا۔۔ امی کے کمرے میں روشنی تھی۔۔ موسم کچھ معتدل ہوگیا تھا تو اب کمرے کے دروازے کھول بھی لیتے تھے ہم لوگ۔۔
میں دروازے کی طرف بڑھا کہ امی سے اس وقت جاگنے کی وجہ پوچھ سکوں۔۔ تو مجھے بولنے کی آواز آئی۔۔ لاؤنج کی گھڑی ساڑھے بارہ بجا رہی تھی۔۔ میں بہت حیران ہوا۔۔
"ہاں زینب بیٹا! بالیاں بہت پیاری ہیں اور مجھے پہنی ہوئی بھی اچھی لگ رہی ہیں" امی کی آواز دھیمی اور خوشی سے بھرپور تھی۔۔
"ہاں جی۔۔ آج انگوٹھی بھی دوبارہ بننے دے دی ہے۔۔ " امی بولیں تو میں چونکا۔۔
"جی جی بیٹا وہی ڈیزائین کہا ہے جو میں بنوانا چاہتی تھی۔۔ "
چکر لگاؤ نا۔۔ دل تم سے بہت اداس ہے" امی کی آواز محبت کی شیرینی میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔
زینب میری بہن تھی اور اس کی شادی لاہور ہوئی تھی۔۔ ابو جی کی وفات پر اس نے دو تین چکر لگائے تھے مگر اب کافی دن سے وہ نہیں آئی تھی۔۔
میں نے محسوس کیا کہ امی کی آواز میں کچھ اور ہی انداز تھا زینب سے بات کرتے ہوئے۔۔
"ہاں ہاں! میری امی! وہی سب کچھ کرتی ہوں جو میرا دل چاہتا ہے۔۔ ورنہ تمہارے ابو جی کی لائی چیزیں اپنی مرضی کی کیوں کرواتی۔۔
انہوں نے کبھی مجھے میری مرضی سے جینے کی اجازت نہ دی۔۔ جو مانگتی۔۔ جو لینا چاہتی۔۔ ہر چیز میں اپنی مرضی کرتے۔۔ " امی کی آواز میں عجیب سی حسرت در آئی تھی اور چھن سے میرے اندر کچھ ٹوٹا تھا۔۔
"جب میں نے کہا مجھے یہ پسند ہے یہ لے لوں یا یہ کر لوں یا یہ بنا لوں تو سننے کو ملتا کہ جو مجھے پسند ہے اسے اپنی پسند بنالو۔۔
بھلا زینب! کیا میں انسان نہ تھی جس کی اپنی بھی ایک پسند ہوتی۔۔ " امی بولتے بولتے تک گئیں۔۔ انہوں نے سسکی روکی تھی۔۔
کچھ دیر بعد بولیں۔۔
"ہاں میری بیٹی! اب وہی کروں گی جو مجھے پسند ہو۔۔ "
"جلدی چکر لگانا دل بہت اداس ہے تم سے۔۔ "
امی نے تیسری بار کہا تو میرے قدم من من کے ہو گئے۔۔
اور تھکے تھکے انداز میں میں جگ لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
تو یہ تھیں اصلی امی۔۔ ہمارے ساتھ تو وہ رہ رہی تھیں۔۔ دل تو وہ اسی کے آگے کھولتی تھیں جو ان کے دل کی خوشی کو اہمیت دیتا تھا۔۔
بہت سوچنے پر مجھے ایک بار بھی ایسا کوئی جملہ یاد نہ آیا جو میں نے امی کی دلجوئی کے لیے کہا ہو۔۔ یا ان کی پسند ناپسند کو ملحوظ رکھا ہو۔۔
میں اس رات سو نہیں پایا۔۔
طرح طرح کی سوچوں نے میری نیند اچاٹ کر دی۔۔
فجر کے وقت جب صبیحہ وضو کرکے آئی تو مجھے دیکھے گئی۔۔
"آپ کی طبیعت خراب ہے؟"
"نیند نہیں آئی۔۔ "
نماز پڑھ کر سونے کی کوشش کیجیے"۔۔
"اچھا صبح میں آفس نہیں جاؤں گا۔۔ مجھے نہ جگانا۔۔ "
میں اٹھ کر وضو کرنے چل دیا۔۔
آج کھانا نہ بناؤ صبیحہ۔۔ آؤ لڈو کھیلتے ہیں۔۔ صبیحہ ہنس پڑی۔۔ "خیریت ہے؟"
"ہاں ہاں!"میں بھی ہنس پڑا
"امی آپ بھی آجائیے نا!"میری آواز پر امی بھی آگئیں۔۔
امی کو جِتا کر میں بازار چلا گیا۔۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر امی کی پسند کے اندرسے اور صبیحہ کی پسند کا چیز کیک لے کر آیا۔۔ بچوں کے لیے برگر لے لئے اور اپنی پسند کے سیخ کباب پیک کروا لیے۔۔
آج کھانے کی میز پر سب چہک رہے تھے۔۔
میں نے اس قلق کو مات دینے کا فیصلہ کر لیا تھا جو جیتے جی ہمیں انسانوں کو گھٹن دیتے ہوئے تو نہیں ہوتا۔۔ مگر ان کے جاتے ہی ہم اس قلق میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔۔