1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. شہرت کی قیمت
Mohammad Shehzad

شہرت کی قیمت

کسی زمانے میں وہ بے حد حسین تھی۔ لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترستے تھے۔ وہ نوجوانوں کے خوابوں کی حسین ترین عورت تھی۔ ان خوابوں میں وہ اس کے ساتھ وہ سب کچھ کرتے جو حقیقت میں ممکن نہ تھا۔ بعض خواب صبح ہونے تک بستر بھی داغ دار کر دیا کرتے تھے۔

اس کا لمبا قد، گورا رنگ، سڈول جسم، تنی ہوئی چھاتیاں، گول گول کولہے اور بڑی بڑی سانولی آنکھیں مل کر ایسی قیامت برپا کرتی تھیں کہ جہاں سے گزرتی، نظریں اس کے ساتھ چلنے لگتیں۔ مگر قدرت کی عطا کردہ یہ نعمتیں اس کے لیے کافی نہ تھیں۔ اسے حسن سے زیادہ کچھ چاہیے تھا۔ اسے شہرت چاہیے تھی۔

جب اس کا حسن شباب پر تھا، اس وقت سوشل میڈیا تو دور کی بات، انٹرنیٹ بھی نہیں تھا۔ شہرت کا راستہ شوبز سے ہو کر گزرتا تھا۔ مگر شوبز کے دروازے پر حسن کے ساتھ ایک اور شرط بھی رکھی جاتی تھی۔ اس نے جہاں جہاں آڈیشن دیے، ہر پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور ہیرو کی خواہش ایک جیسی نکلی۔ فن اور حسن اپنی جگہ، اصل قابلیت یہ تھی کہ اس کا لباس کتنی آسانی سے قالین پر گرتا ہے۔

وہ کچھ عرصہ تک اس شرط سے لڑتی رہی۔ پھر ایک دن اس نے حساب لگایا۔ شہرت کی قیمت بہت زیادہ تھی، مگر شہرت ملنے کے بعد اس قیمت کا منافع بھی بے حساب تھا۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کر لیا کہ جو کچھ دینا پڑے گا، دے گی۔

اس فیصلے کے بعد قسمت نے جیسے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ شہرت کی سرسوتی اس پر مہربان ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک دنیا اس پر فدا ہوگئی۔ فلمی دنیا کے دیوانوں کے ساتھ ساتھ طالع آزما حکمران اور طاقتور سیاست دان بھی اس کے حسن کے اسیر ہونے لگے۔ اب شہرت کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی تھی، مگر اس قیمت کے بدلے جو کچھ مل رہا تھا، وہ بھی پہلے سے کہیں بڑا تھا۔

رفتہ رفتہ شوبز کے وہ لوگ جو کبھی اس کے لیے دروازے کھولنے کے مالک تھے، خود اس کے دروازے پر کھڑے نظر آنے لگے۔ وہ ان طاقتور لوگوں کے محلوں تک پہنچ گئی جن کے سامنے شوبز انڈسٹری کے نام نہاد خدا بھی بونے دکھائی دیتے تھے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہونے لگی۔ اس کی آنکھ کے ایک اشارے سے کوئی وزیر بن سکتا تھا اور اسی اشارے سے کوئی وزیر اپنی کرسی سے ہاتھ دھو سکتا تھا۔

لیکن اقتدار کے اس کھیل میں ایک مسئلہ ابھی باقی تھا۔ اسے ایک شوہر چاہیے تھا۔ ایسا شوہر جو اس کی نجی زندگی پر اٹھنے والی انگلیوں کو روک سکے اور معاشرے کے لیے اس کی زندگی کو ایک باقاعدہ نام دے سکے۔

آخرکار شوبز انڈسٹری کا ہی ایک ہیرو اس کی زندگی میں آیا۔ وہ سب کچھ جانتے بوجھتے اس سے محبت کرتا تھا اور بالآخر اس کا شوہر بن گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے وعدہ لیا کہ اب وہ کسی اور کی بانہوں میں نہیں جائے گی۔ شاید اس مرد کو واقعی یقین تھا کہ اب وہ گھر بسانا چاہتی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ لوگوں کے لیے گھر بھی صرف اقتدار کی عمارت میں ایک کمرہ ہوتا ہے۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اسے حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک دن اس نے اپنی ہی چھت کے نیچے اپنی بیوی کو ایک طاقتور آدمی کے ساتھ ایسی حالت میں دیکھ لیا جس کے بعد کسی وضاحت کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی۔ وہ اس منظر کو برداشت نہ کر سکا۔ محبت، شہرت اور مصلحت سب ایک طرف رہ گئے اور اس نے اسے طلاق دے دی۔

طلاق نے اسے توڑا نہیں۔ اس کے برعکس وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگئی۔

اب اس کا اثر و رسوخ ملک کی سرحدوں سے باہر طاقتور حلقوں تک پہنچنے لگا۔ اس کے تعلقات، رسائی اور اثر اتنے بڑھ گئے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ وہ چاہے تو حکومتیں بدل سکتی ہے۔ جن لوگوں کے لیے اقتدار زندگی کا آخری خواب تھا، ان کے لیے وہ خود اقتدار تک پہنچنے کا ایک راستہ بن چکی تھی۔

مگر وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔

جس حسن نے کبھی اس کے لیے دنیا کے دروازے کھولے تھے، وہ آہستہ آہستہ اس کا ساتھ چھوڑنے لگا۔ عمر رسیدہ ہونے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ پلاسٹک سرجری کچھ عرصے تک بڑھاپے کو دھوکا دے سکتی ہے، مگر جوانی واپس نہیں لا سکتی۔ آئینہ ہر روز اسے وہ حقیقت دکھانے لگا جس سے وہ برسوں بھاگتی رہی تھی۔

ایک ایک کرکے اس کے پرانے عاشق بھی دور ہوتے گئے۔ نئے زمانے کو نئے چہرے درکار تھے۔

اور پھر سوشل میڈیا آ گیا۔

فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر اس سے کہیں کم عمر اور اس سے کہیں زیادہ حسین لڑکیوں کی ایک پوری فوج موجود تھی۔ اب شہرت کے لیے کسی پروڈیوسر کے دفتر کے چکر لگانے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ ہر موبائل فون ایک اسٹیج تھا اور ہر گھر ایک ممکنہ اسٹوڈیو۔

وہ جس دنیا کی کبھی ملکہ تھی، اس دنیا میں اب اس کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی تھی۔

تنہائی نے اسے گھیر لیا۔ ڈپریشن نے اس کے دروازے پر مستقل قیام کر لیا۔ مگر پچھتر برس کی عمر میں بھی شہرت کی بھوک ختم نہ ہوئی۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ اب کوئی اسے یاد نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ کوئی یوٹیوبر بھی اسے ماضی کی اداکارہ کے طور پر اپنے پروگرام میں بلانے کو تیار نہ تھا۔

مگر وہ گمنامی قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔

اسے یقین تھا کہ نئی شہرت پرانی شہرت جیسی طاقتور نہ سہی، مگر شہرت بہرحال شہرت ہے۔ نام ایک بار پھر سوشل میڈیا پر آنا چاہیے۔ لوگ ایک بار پھر اس کا ذکر کریں۔ دنیا ایک بار پھر اس کے بارے میں بات کرے۔

اسی کشمکش میں اس نے اپنی ایک پڑھی لکھی سہیلی سے اپنے مسئلے کا ذکر کیا۔

سہیلی نے اسے ایسا نسخہ بتایا جو نیا نہیں تھا، مگر آزمایا ہوا ضرور تھا۔

اپنے سابق شوہر پر ایک کتاب لکھو۔

کتاب میں شوہر کو برا ثابت کرو۔ اس پر طرح طرح کے الزامات لگاؤ۔ ایسے واقعات بیان کرو جن سے پڑھنے والوں کو اس سے نفرت ہونے لگے اور تمہارے لیے ہمدردی پیدا ہو۔ شہرت حاصل کرنے کے لیے کبھی کبھی اچھا نام کافی نہیں ہوتا، برا نام بھی کام آ جاتا ہے۔

اسے یہ ترکیب کچھ عجیب لگی۔ اسے یقین نہیں تھا کہ سابق شوہر پر الزامات لگانے سے اسے دوبارہ شہرت مل سکتی ہے۔ مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنے ماضی کے کئی انٹرویوز میں اسی شوہر کی تعریف کر چکی تھی۔ اب اگر وہ اچانک اسی شخص کو ظالم، بدکردار اور قابل نفرت ثابت کرنے بیٹھ جاتی تو تضاد صاف دکھائی دیتا۔

مگر سہیلی نے اسے تسلی دی۔ لوگوں کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے۔ چند سال پرانی باتیں کس کو یاد رہتی ہیں؟ آج کی خبر کل کی خبر کو کھا جاتی ہے۔ جو کچھ کبھی تعریف کے طور پر کہا گیا تھا، اسے نئی کہانی آسانی سے نگل سکتی ہے۔

سہیلی نے اپنی بات کو مضبوط کرنے کے لیے اسے تین مثالیں بھی سنائیں۔

ماضی کی ایک نامور اداکارہ اور گائکہ کے بارے میں اس کے پہلے شوہر نے کتاب لکھی تھی جس میں سابقہ اہلیہ کے معاشقوں کا ذکر تھا۔ انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا، پھر بھی کتاب خوب بکی۔

ایک طاقتور سیاست دان کی سابقہ بیوی نے اپنے شوہر کے مظالم پر کتاب لکھی تھی۔ کتاب بیرون ملک بھی شائع ہوئی اور اس نے مصنفہ کو اچانک شہرت کی ایسی بلندی تک پہنچا دیا جس کا شاید اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔

پھر انٹرنیٹ کے دور میں ایک ڈانسنگ کلب میں پول ڈانس کرنے والی عورت ایک طاقتور سیاست دان کی بیوی بنی اور بعد میں اپنے سابق شوہر کی جنسی زندگی کے بارے میں ایسی کتاب لے آئی جس نے خوب شہرت حاصل کی۔

تین مثالیں اس کے لیے کافی تھیں۔

اب صرف کتاب لکھنی تھی۔

لکھنے کا وصف اس میں نہیں تھا، اس لیے اس نے ایک گھوسٹ رائٹر کا سہارا لیا۔ کتاب اس کے نام سے لکھی گئی۔ اس میں ماضی کے رشتے، پرانے زخم، نئے الزامات اور ایسے واقعات شامل کیے گئے جنہیں پڑھ کر قاری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ ایک مظلوم عورت کی داستان پڑھ رہا ہے یا شہرت کی آخری کوشش۔

کتاب شائع ہوئی اور پھر وہی ہوا جس کی اسے امید تھی۔ کتاب راتوں رات بک گئی۔ پہلا ایڈیشن ختم ہوا اور دوسرا فٹا فٹ مارکیٹ میں آ گیا۔ اسے لگا کہ اس نے آخرکار گمنامی کو شکست دے دی ہے۔ اس کا نام ایک بار پھر لوگوں کی زبان پر تھا۔ مگر وہ ایک بات بھول گئی تھی۔ وہ زمانہ بدل چکا تھا۔ یہ کتابوں کا زمانہ نہیں، سوشل میڈیا کا زمانہ تھا۔

اس کے وہ پرانے چاہنے والے جو کبھی اس کے حسن سے فیض یاب ہو چکے تھے، کتاب پڑھ کر اچانک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ ان کے ذہن میں ایک ہی خیال آیا۔ اگر یہ عورت اپنے شوہر کے بارے میں اتنی باتیں لکھ سکتی ہے تو کل کو ہمارے بارے میں بھی کچھ لکھ سکتی ہے۔

ان میں سے کچھ زیادہ محتاط تھے۔ انہوں نے برسوں پہلے اس کے ساتھ اپنی ملاقاتوں، محفلوں اور نجی لمحات کی وڈیوز محفوظ کر رکھی تھیں۔ کتاب نے انہیں صرف ایک اشارہ دیا اور پھر وڈیوز باہر آ گئیں۔ ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری۔ سوشل میڈیا نے وہ کام کر دکھایا جو کتاب کے لاکھوں الفاظ بھی نہ کر سکے تھے۔ اس کی بنائی ہوئی کہانی کے مقابلے میں لوگوں نے اس کا اپنا ماضی اس کے سامنے لا کھڑا کیا۔ جو شہرت وہ واپس لانا چاہتی تھی، وہ واپس تو آئی، مگر اس شکل میں جس کا اس نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔

اب وہ دنیا سے منہ چھپاتی پھرتی تھی۔ جس نام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اس نے کتاب لکھی تھی، وہی نام اس کے لیے وبال بن گیا تھا۔ یہ ذلت وہ برداشت نہ کر سکی۔ ایک دن اس نے خواب آور گولیوں کی بھاری مقدار نگل لی۔ شہرت حاصل کرنے کے لیے اس نے زندگی بھر بہت سی قیمتیں ادا کی تھیں۔ آخر میں اس نے اپنی زندگی ہی قیمت میں دے دی۔