1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. بیش قیمت خواب (2)

بیش قیمت خواب (2)

"ہاں تو کیا سوچا تم نے؟" رانی نے افسانے سے پوچھا جو پچھلے دو گھنٹوں سے گہری سوچ میں غرق تھی۔

رانی کا ڈرائیور ٹھیک دس بجے افسانے کو اس کے گھر سے اٹھا کر بنگلے پر لے آیا تھا۔ وہ اس وقت کسی میٹنگ میں جانے کے لئے تیار بیٹھی تھی۔ لیکن اسکے پاس کم از کم پندرہ منٹ تھے افسانے سے گفتگو کے لئے۔ یہ بہت اہم اور تیر کی طرح سیدھی گفتگو تھی بغیر کسی لگی لپٹی کے! وہ اس کے سامنے دو راستے پیش کرکے میٹنگ پر جا چکی تھی۔ اسے کچھ دیر بعد واپس آ نا تھا۔ افسانے اس وقت سے مسلسل یہ سوچ رہی تھی کہ کون سے راستے کا انتخاب کرے۔

رانی زمانہ شناس عورت تھی۔ وہ اس بات کا اندازہ اچھی طرح لگا چکی تھی کہ یہ لڑکی اونچی ہوا میں پرواز کرنا چاہتی ہے۔ پیر تو اسکے زمین پر ہیں پر نگاہیں آسمان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اسے بس اتنا سمجھانا تھا کہ زمین سے آسمان تک کی بلندی کا یہ سفر آسان نہیں اور سوال یہ ہے کہ آسمان کی بلندی پر کیسے ٹک کر رہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ گر پلے نہ ہو تو ہر اوپر جانے والی شے جلد ہی نیچے آ جاتی ہے اور اگر نیچے بھی آ رہی ہو تو کیا دھڑام سے گر کر چکنا چور ہو جائیگی یا آرام سے ہولے سے زمین پر قدم رکھے گی۔۔ ایسے کہ خراش تک نہ آئے۔ کھیل کھیلنا آتا ہو تو انسان تا حیات آسمان کی بلندیوں پر رہ سکتا ہے۔ صرف موت ہی اسے اس کے اصلی مقام تک پہنچا سکتی تھی۔ مگر کچھ لوگ تو موت سے بہت پہلے اوقات پر آ جاتے ہیں۔ ان کا آسماں کی بلندیوں کو چھونے کا تجربہ چند لمحوں کا ہی ہوتا ہے۔ رانی نے تو آنکھ ہی آسماں کی وسعتوں میں کھولی۔ اس دن سے وہ نئی نئی وسعتیں تلاش کر رہی تھی۔ لیکن ایسا خود بخود نہیں ہوتا۔ اسکی قیمت چکانا پڑتی ہے۔

رانی کو افسانے سے یہ باتیں کرتے احساس ہوا کہ وہ اسے غور سے سن رہی تھی۔ کافی حد تک سمجھ بھی رہی تھی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ وہ ان باتوں کا درست مطلب ذہن نشین کر لے اور کسی قسم کا ابہام نہ ہو، اس نے اسے یہ بھی اچھی طرح واضح کر دیا کہ قیمت کس کس شکل میں چکائی جا سکتی ہے اور یہ کہ افسانے کے پاس چکانے کو واحد قیمت کیا تھی۔ یہ باتیں کرکے وہ میٹنگ میں چلی گئی۔ جب لوٹی تو افسانے کو گہری سوچ میں ڈوبا پایا۔

"کیا فیصلہ کیا پھر؟" رانی نے پوچھا۔

"میں نے بہت دیر تک سوچا ان باتوں کے بارے میں جو آپ نے کہیں۔ آپ درست کہہ رہی ہیں۔ قیمت تو چکانا پڑے گی۔ سفید پوشی کی قیمت بھی تو ہم چکا ہی رہے ہیں۔ مجھے کیا کرنا ہوگا؟" افسانے نے جب یہ کہا تو رانی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے جھٹ سے اس کا ماتھا چوما اور گلے سے لگاتے کہا: "بہت خوب بیٹی۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ مجھے یقین ہے تم مجھے کبھی مایوس نہیں کرو گی"۔

اپنے لئے بیٹی کا لفظ رانی کے منہ سے افسانے کو بہت اچھا لگا۔ "میں آپکو ہمیشہ خوش رکھوں گی جیسے میں اپنی ماں کو رکھتی ہوں۔ آپ نے مجھے بیٹی کہا۔۔ میں بیٹی کا حق ادا کرکے دکھاؤں گی"۔

"تو چلو جشن مناتے ہیں اس اہم دن کا! رانی نے کہا۔ وہ پینٹری کی جانب بڑھی۔ شیمپین کی بوتل نئی ماں کے ہاتھ میں نئی نویلی بیٹی کے لئے موجود تھی۔

"یہ نہیں۔۔ وہی۔۔ اس دن والی!" افسانے نے کہا۔

"واہ۔ یہ ہوئی نہ بات۔ تم بہت ترقی کرو گی"۔ رانی نے وہسکی کا ایک پیگ اسکے لئے اور دوسرا اپنے لئے بنایا۔

"اس دن زیادہ نشہ تو نہیں چڑھا تمہیں؟"

"سر گھوم رہا تھا اور ایک سرور کی کیفیت تھی۔ میں تو کپڑے بھی نہ تبدیل کر سکی اور دھڑام سے بوبی پر جا گری۔ وہ بیچارہ درد سے چلا اٹھا! ہائے میرا چھوٹا بھائی!"

"تم اپنے بھائی کے ساتھ سوتی ہو؟" رانی کی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی یہ سوال داغتے۔

"ہاں۔۔ ہمیشہ سے۔ وہ میرے ہی ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے۔ بہت مانوس ہے مجھ سے"۔

"گھر والے اعتراض نہیں کرتے؟ کتنی عمر ہوگی بوبی کی؟"

"تیرہ سال۔ اماں نے سمجھایا تھا مجھے کہ اب وہ بڑا ہوگیا ہے۔ اسے نہلانا تو چھوڑ۔۔ "

"کیا؟ تم اسے نہلاتی ہو؟ کیا وہ خود نہیں نہا سکتا؟ معذور ہے؟" رانی نے جلدی سے اس کی بات کاٹتے پوچھا۔

"اللہ نہ کرے! بالکل تندرست ہے۔ نارمل ہے۔ خوبصورت بچہ ہے۔ بس مجھ سے مانوس ہے۔ ناراض ہو جاتا ہے۔ اس لئے میں ہی نہلاتی ہوں۔ پر ایسا نہیں کہ خود نہ نہا سکے۔ خود بھی نہا لیتا ہے۔ میں کبھی کبھی نہلاتی ہوں۔ لیکن میں نے اسے سمجھا دیا ہے کہ اماں یا ابا کو یہ بات نہ بتائے۔ خواہ مخواہ شور ڈالیں گے"۔

"تو کیا تمہاری اماں کو پتہ نہیں چلتا جب تم اسے نہلاتی ہو؟"

"نہیں۔ ابا اور اماں کام پر چلے جاتے ہیں"۔

"وہ دونوں کیا کرتے ہیں؟ گھر اپنا ہے یا کرائے کا؟"

"ابا پرائیویٹ جاب کرتے ہیں۔ اماں قریب میں ایک بڑے گھر میں کام کرتی ہیں۔ میں چند بچوں کو ٹیوشن پڑھا دیتی ہوں۔ گھر چھوٹا سا ہے لیکن اپنا ہے۔ اسطرح سفید پوشی میں گذارہ ہو جاتا ہے"۔

رانی کو بات کی تہہ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی۔ اس لئے اس نے مزید کریدنا مناسب نہ سمجھا۔ طریقے سے، آہستہ آہستہ سلسلے وار باتیں اگلواتی رہی افسانے کےمنہ سے۔

"بھئی تمہاری میری کہانی ایک جیسی ہے"۔

"کیا مطلب؟"

"بھئی میرا چھوٹا بھائی بھی میرے ہی ہاتھوں میں پلا بڑا اور اسے بھی میں ہی نہلاتی تھی اور ہم دونوں کا کمرہ بھی ایک ہی تھا"۔ رانی سچ بول رہی تھی۔ بالکل ایسا ہی تھا۔

"وہ کہاں ہے اب؟"

"دکھ بھری داستان ہے۔۔ " یہ کہتے رانی کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔

"کیا ہوا؟ کیا وہ اس دنیا میں۔۔ " اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی رانی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا: "وہ اسی دنیا میں ہے اور خوش و خرم ہے۔ ایک چڑیل نے چھین لیا مجھ سے میرا پیارا بھائی!"

"کون چڑیل؟"

"اسکی بیوی!"

"آپ اسکی بیوی کو چڑیل کیوں کہہ رہی ہیں؟"

"اس لئے کہ وہ بہت حساس ہے اپنے شوہر کے بارے میں۔ اسے اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتی ہے۔ کسی عورت کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنے دیتی اسے۔ اگر غلطی سے اسکی نگاہ کسی غیر عورت پر پڑ بھی جائے تو ہنگامہ برپا کردیتی ہے۔ میرا سیدھا سادا بھائی جورو کا بے دام غلام نکلا۔ یہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی"۔

"لیکن آپ تو اس کی بڑی بہن ہیں۔ غیر عورت تو نہیں۔ پھر کیوں؟

"بوبی کی طرح وہ بھی میرے ساتھ سونے کا عادی تھا۔ ایک بار اس چڑیل نے عدیل کو میرے بیڈ روم میں دیکھ لیا۔ بس سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ ڈائن کہنے لگی کہ یا مجھے چھوڑ دو یا یہ گھر۔ میرے بھائی نے مجھے ہی چھوڑ دیا"۔

"کتنی عمر ہے اس کی؟"

"کس کی؟ عدیل کی؟ اوہ! میں سمجھی ڈائن کی عمر پوچھ رہی ہو۔ عدیل اس وقت بتیس برس کا ہے۔ اسکی بیوی اس سے دس برس بڑی ہے"۔ رانی نے کہا۔

"دس برس! بہت تو بہت بڑا فرق ہے۔ بہت حسین ہوگی!" افسانے بولی۔

"عام سی ہے۔ جادوگرنی ہے۔ جادو ٹونہ کرکے اپنے جال میں پھنسا لیا میرے بھولے بھالے بھائی کو"۔ رانی بولی۔

"وہ شادی کے بعد بھی آپ کیساتھ رہتا تھا؟"

"کیوں نہ رہتا! بھئی یہ گھر اسکا بھی تو ہے۔ ہمارے والدین نے بنایا تھا یہ گھر۔ بہت یادیں وابستہ ہیں اس گھر سے"۔

"لیکن اگر اس نے عدیل کو آپکے بیڈ روم میں دیکھ لیا تھا تو اس میں واویلا مچانے کی کیا ضروت تھی؟"

"وہ اکیلا نہیں تھا۔ میں بھی اسکے ساتھ تھی بالکل اسی حالت میں جس میں تم اور بوبی ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہو!" رانی کا جواب سنکر چند لمحوں کے لئے افسانے کا رنگ فق ہوگیا۔ وہ جلد اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل حالت میں واپس لے آئی اور پھر رانی سے ایک سوال کیا: "آپ نے کب دیکھا مجھے بوبی کے ساتھ؟"

"افسانے جتنی تمہاری عمر ہے اس سے زیادہ میرا تجربہ ہے۔ سچ بتاو کیا تم اور بوبی بالکل برہنہ حالت میں ایک دوسرے سے لپٹ کر نہیں سوتے؟ تم دونوں کے بیچ کسی قسم کا کوئی پردہ نہیں ہوتا۔۔ مجھ سے جھوٹ بولو گی تو یہ دوستی ٹوٹ جائے گی"۔ رانی نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔ افسانے نے سر جھکا کر اعتراف حقیقت کر لیا۔

"کم آن اس میں شرمندہ ہونے کی کیا بات ہے۔۔ وی آر فرینڈز"۔

"میں آپ سے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولونگی بے شک سچ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔ بوبی کا چھونا مجھے اسوقت سے اچھا لگتا تھا جب وہ دودھ پیتا بچہ تھا۔ مجھے ماں سمجھ کر میری چھاتیوں پر ہاتھ مارا کرتا تھا۔ میں اسے ماں کی طرح دودھ پلانے لگ جاتی حالانکہ میری بریسٹ میں تو دودھ نہیں تھا۔ وہ نپل چوستے چوستے سو جاتا۔ مجھے اس میں بہت لطف آتا تھا۔ میں یہ لطف بیان نہیں کر سکتی۔ مجھے اس کا ٹچ ہمیشہ راحت دیتا ہے جو ناقابل بیان ہے"۔

"تمہیں بیان کرنے کی ضرورت کیا ہے بھلا؟ میں سمجھ سکتی ہوں تمہاری کیفیت۔ میں ان حالات سے گزر چکی ہوں۔ میں بھی ایسا ہی کیا کرتی تھی۔ یہ بہت نیچرل ہے۔ اچھا یہ بتاؤ اس دن بوبی کیساتھ کیا ہوا تھا؟" رانی بات کی تہہ تک جانا چاہتی تھی۔

"میری آنکھیں نیند سے بوجھل ہو چکی تھیں۔ میں بستر پر گرتے ہی سو گئی۔ پر بوبی کا کیا پوچھنا۔ اندر سے ابھی تک دودھ پیتا بچہ ہے!"

یہ سنتے ہی رانی کے منہ سے اک ہوک سے نکلی اور اس نے کہا: "تو کتنی خوش قسمت ہے افسانے!"

"آپ نے مجھے اپنا دوست بنایا۔ اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے!" افسانے نے کہا اور رانی کی طبیعت خوش ہوگئی۔ وہ مسکرانے لگی۔ افسانے کو یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ اسکی نئی دوست کو خوشامد بہت پسند ہے۔ کس انسان کو نہ ہوگی!

دونوں خواتین اس گفتگو کے دوران دوسرا پیگ ختم کر چکی تھیں۔ تیسرا شروع ہوچکا تھا۔ سرور کی کیفیت میں افسانے کو رانی میں بوبی اور رانی کو افسانے میں عدیل نظر آ رہا تھا۔ اب اس کیفیت کا لازمی تقاضا یہ ہی تھا کہ دونوں اوپر بیڈ روم میں چلی جائیں!

***

"اتنے سارے پیسے تو کہاں سے لائی؟ کوئی ڈاکہ تو نہیں مارا؟" ماں نے افسانے سے پوچھا جب بیٹی نے اس کے ہاتھ میں پورے پچاس ہزار روپے تھمائے۔

"میں تمہیں کوئی ڈاکو نظر آتی ہوں؟ یہ میری کمائی ہے۔۔ حق حلال کی۔ مجھے نوکری مل گئی ہے۔ یہ میری پیشگی تنخواہ ہے"۔ افسانے نے ماں سے کہا جو بےیقینی کی کیفیت سے دوچار کبھی اپنی بیٹی کو اور کبھی ہاتھوں میں موجود نوٹوں کی گڈی کو تک رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ان گنت سوال صاف پڑھے جا سکتے تھے۔

محمودہ کوئی بدھو یا احمق قسم کی گھریلو عورت نہیں تھی۔ پچھلے بیس برس سے ملازمت کر رہی تھی۔ گھروں میں کیا کیا ہوتا ہے اچھی طرح واقف تھی۔ بس زبان بند رکھتی اور سب کے راز۔۔ بشمول اپنے ذاتی۔۔ سینے میں دفن کر لیتی۔ افسانے کی پیدائش کے وقت اسکی عمر پندرہ یا سولہ برس سے اوپر نہ ہوگی۔ اب وہ اڑتیس برس کی ہو چکی تھی۔ افسانے ہو بہو اس پر گئی تھی۔ دیکھنے والے جو انہیں جانتے نہیں تھے یہ ہی سمجھتے کہ ایک بڑی اور دوسری چھوٹی بہن ہے۔ محمودہ کو گھر سے باہر کئی دفعہ ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ نوکری بچائے یا عزت۔ اس نے نوکری کو ترجیح دی۔ بوبی افسانے کا بھائی تو تھا مگر آدھا۔ افسانے تو محمودہ اور رحیم بخش کی ہی اولاد تھی۔ بوبی محمودہ کا بیٹا تھا پر رحیم بخش کا نہیں۔ وہ ملک کا بیٹا تھا۔

ملک کی عمر پچاس برس تھی۔ دلکش شخصیت کا مالک تھا۔ اسکی خوش شکل بیوی اسکی کزن تھی۔ زیادہ وقت میکے گذارتی تھی۔ ملک کے دو جوان بیٹے بھی تھے۔ دونوں کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹاتے۔ ملک کے یہاں محمودہ پچھلے پندرہ برس سے ملازم تھی۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ یہ بات کسی کو بھی معلوم نہ تھی کہ یہ جو گھر تھا جس میں سب رہتے تھے۔۔ یہ ملک کی دین تھا۔ محمودہ کے بدن کی قیمت تھی جو اسنے چکائی۔ کوئی اور ہوتا تو محمودہ کو تنخواہ سے کئی گنا زیادہ رقم دے کر چلتا کرتا۔ مگر ملک خدا ترس انسان تھا۔ کسی سے زیادتی نہیں کرتا تھا۔ سب کی مدد کرتا تھا۔ بس عورت اسکی کمزوری تھی۔ کس کی نہیں ہوتی؟ ایک دن اسنے رحیم کو بھی اپنے گھر بلوایا۔ دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھایا اور یہ کہا کہ وہ زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ان کے لئے خرید رہا ہے۔ اسپر یک منزلہ مکان بنا دیگا۔ اس کے عوض وہ تھوڑی بہت رقم محمودہ کی تنخواہ میں سے کاٹتا رہے گا۔ لیکن اس نے کبھی بھی کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی۔ یہ جھوٹ مصلحتاً تھا تا کہ رحیم کی عزت نفس پر حرف نہ آئے۔

ملک محمودہ پر مرتا تھا اور محمودہ اس پر۔ ملک کا دبنگ انداز محمودہ کو بہت بھاتا۔ اسکی بھاری آواز محمودہ کے دل میں ہلچل سی پیدا کر دیتی۔ رحیم تو اسکا غلام تھا۔ اس لئے محمودہ کو آج تک اس میں کوئی خاص بات محسوس نہ ہوئی۔

ملک کے ساتھ جو بھی رشتہ تھا وہ نوکری میں "سمجھوتے" کے زمرے میں ہرگز نہ تھا۔ ملک نے کبھی زور زبردستی نہیں کی۔ سمجھوتے محمودہ نے کئے۔۔ بہت سے۔۔ اس جگہ جہاں اس کی اپنی مرضی نہ تھی۔

ملک کی بیوی ملک کو خوش کرنے کے لئے سب کچھ کرتی۔ مگر ملک بیوی کو خوش کرنے کے لئے "سب کچھ" نہ کرتا۔ دو چیزیں کرنا وہ خلاف شریعت سمجھتا جن میں ملک کی بیوی کی خوشی مضمر تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ دونوں چیزیں محمودہ کو کرنا پڑتیں۔۔ اپنی بیگم صاحبہ کو خوش رکھنے کے لئے۔ اس کام کی اسے بھاری ٹپ بھی ملتی۔

ملک سے پہلی ہی ملاقات کے بعد محمودہ پیٹ سے ہوگئی۔ اسکے پاس بیٹی تو پہلے سے ہی تھی۔ لہذا بوبی کی پیدائش پر میاں، بیوی اور بیٹی بے حد خوش تھے۔ رحیم میں جسمانی طور پر کوئی کمی نہ تھی۔ وہ اب بھی باقاعدگی سے اپنی بیوی کے پاس آتا۔ محمودہ نے کبھی بھی ادوایات کا استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی اسکے شوہر نے کوئی حفاظتی تدبیر لڑائی۔ وہ اب بھی ڈھیر سارے بچے پیدا کر سکتی تھی۔ بس اللہ کی مرضی کہ افسانے کے بعد وہ رحیم سے کبھی حاملہ نہیں ہوئی۔ اس نے ملک سے کئی بار اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بوبی جیسا ایک اور تحفہ اسے دے دے۔ مگر وہ نہ مانا۔ مستقبل میں اس کا فلسفہ "احتیاط شرط ہے" رہا۔

محمودہ کو اس بات کا بھی اچھی طرح علم تھا کہ افسانے اور بوبی کے بیچ کیا چل رہا تھا۔ مگر اس نے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ اسکی بیٹی کا گناہ اس کے اپنے گناہوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ ملک کی بیوی کے ساتھ جو رشتہ وہ احسن طریقے سے نبھا رہی تھی۔۔ وہ ایک چھوٹا سا سمجھوتہ تھا۔ اس سے بھی بڑا سمجھوتہ اسے ملک کے دونوں بیٹوں کے ساتھ کرنا پڑا۔ محمودہ بعض اوقات اپنے حسن کو کوستی۔ باپ سے زیادہ بیٹے محمودہ سے استفادہ کرتے۔ بعض اوقات باری باری۔ بعض دفعہ اکھٹے۔ محمودہ نے ملک سے کچھ نہ چھپایا۔ دونوں سمجھوتوں کا ذکر بہت تفصیل سے کیا۔ مگر ملک نے خفیف سا ردعمل تک ظاہر نہ کیا۔ اس رویے نے محمودہ کو اس کی اصلی اوقات اچھی طرح یاد کرا دی۔۔ وہ اس گھر کی لونڈی ہے جسے جب چاہے جیسے چاہے کوئی بھی استعمال کر سکتا تھا۔

ملک کے دونوں بیٹوں کی ایک اچھی بات تھی۔۔ فلسفہ احتیاط!

محمودہ کو اب تو یاد بھی نہ تھا کہ آخری بار اسے اپنے کئے گئے سمجھوتوں پر کب پچھتاوا ہوا۔ اس نے کہیں پڑھا تھا۔۔ پڑھنے سے زیادہ ڈائیلاگ کی صورت میں فلموں میں سنا تھا کہ پہلا قتل کرنا بےحد مشکل ہوتا ہے۔ پچھتاوے انسان کو سونے نہیں دیتے۔ دوسرا قتل کرنے کے بعد وہ پچھتاووں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ تیسرے چوتھے قتل کا وہ مزہ لینا شروع کر دیتا ہے۔ برسوں قبل وہ اپنے پچھتاووں سے لطف اندوز ہونا شروع ہو چکی تھی۔ اگر پچھتاووں کی تکرار میں لمبا وقفہ آ جائے تو اسے کوفت ہونا شروع ہو جاتی۔ اب وہ مہینے میں چھ سات دن سے زیادہ صبر نہیں کر سکتی تھی۔

محمودہ نے کئی بار بوبی اور افسانے کو ایک ساتھ سوتے دیکھا۔ ایسا نہیں تھا کہ بیٹی گھر سے باہر ہو۔۔ رات گئے واپس آئے اور اسے خبر تک نہ ہوں۔ وہ جاگتی رہتی مگر کسی کو ایسا محسوس نہ ہونے دیتی۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ رانی کے گھر سے افسانے شراب پی کر لوٹی تھی۔ کیونکہ یہ ہی شراب وہ ملک کے گھر کئی بار پی چکی تھی۔ اس نے بوبی کو افسانے کی ننگی چھاتیوں سے دودھ پیتے بچے کی طرح چمٹا ہوا بھی دیکھا تھا۔ مگر اس کا ایک فلسفہ تھا۔ اللہ نے اس کا پردہ رکھا ہوا ہے۔ اگر اس نے بیٹی اور بیٹے کا پردہ کھولا تو رب اس کا پردہ کھول دے گا اور وہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہ رہے گی۔ محمودہ کو اسکی بیٹی بےوقوف نہیں بنا سکتی تھی۔۔ چاہے کتنا ہی زور لگا لے۔ اسے معلوم تھا کہ اس دنیا میں کوئی ایسا احمق نہیں جو اسکی بیٹی کو پچاس ہزار روپے کی نوکری دے۔ جبکہ اس نے نہ تعلیم مکمل کی۔ نہ کسی نوکری کے لیے درخواست دی۔ سونے پہ سہاگہ تنخواہ ایڈوانس میں بھی مل گئی۔

"بیٹا دیکھ میں نے تجھے ہمیشہ بیٹی سے زیادہ دوست سمجھا ہے۔ تیری ماں نے دنیا دیکھی ہے۔ مجھ سے سچ بول چاہے کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو۔ بھلے تو کسی کے ساتھ اپنی عزت کا سودا کرکے آئی ہو مجھے دکھ نہ ہوگا۔ دکھ ہوگا تو تیرے جھوٹ سے۔ آج ایک جھوٹ بولے گی تو کل سو اور گھڑے گی۔ اسطرح ہمارا دوستی والا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ تو اپنی ماں پر بھروسہ کرکے تو دیکھ۔ دنیا میں مجھ سے زیادہ سچا، مخلص اور رازدان دوست تجھے نہیں ملے گا!" یہ کہہ کر محمودہ افسانے کی طرف اس امید سے دیکھنے لگی کہ وہ اب سچ بولے گی۔ وہی سچ جو ماں پہلے سے جانتی تھی اپنے تجربے کے بل بوتے پر۔ لیکن اسے مایوسی ہوئی کہ افسانے اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیسے وہ اسے یقین دلائے اپنی باتوں پر جسے سنکر بیٹی سچ بول اٹھے۔ اسکے دماغ میں ایک خطرناک ترکیب آئی۔

"افسانے بیٹی احتیاط کیا کر۔ کہیں تیرے پیٹ میں تیرے اپنے بھائی کا بیج پلنا شروع نہ ہو جائے!" یہ کہتے ہوئے محمودہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ وہ ایک بے مثال جراتمندی کا مظاہرہ کر چکی تھی۔ سچ سامنے آ چکا تھا۔ اب جھوٹ بولنے کا فائدہ نہ تھا۔ افسانے نے حرف بہ حرف سچ اگل ہی دیا۔ ماں نے اسے گلے لگایا اور ماتھا چوما۔ بالکل ایسے جیسے رانی نے گلے لگایا تھا اور ماتھا چوما تھا۔ نہ جانے اس لمحے اسے کیا سوجھی کہ ماں کو اچانک کہہ دیا:

"اماں یہ بوبی کہیں سے بھی ابا پر نہیں گیا۔ ہو بہو آپ ہی کی نقل ہے"۔

لمحہ بھر کے لئے ماں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے افسانے اسکا بھید جانتی ہو۔

***

افسانے بہت خوش تھی کہ ماں نے اس کے سچ پر کسی قسم کا منفی ردعمل ظاہر نہ کیا۔ وہ بہت حیران بھی تھی۔ اس نے ماں سے کچھ نہ چھپایا۔ جو کچھ رانی کے ساتھ طے ہوا سب من و عن ماں کے سامنے پیش کیا۔ ماں نے پھر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا! اور وہ بہت افسردہ بھی تھی۔ افسردہ یوں کہ آج اسے اپنی ماں اور کسی نائکہ میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا۔ نائکہ اپنی بیٹی کے لئے گاہک خود تلاش کرتی ہے۔ خود قیمت طے کرتی ہے۔ اچھا گاہک ملنے پر خوش ہوتی ہے۔ جشن مناتی ہے۔ مٹھائیاں بانٹتی ہے اپنی برادری کے لوگوں میں اور ادھر بیٹی نے گاہک کا انتخاب خود کیا۔ شرائط بھی خود ہی طے کیں۔

افسانے کو یہ علم بھی تھا کہ ماں خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیت سے دوچار ہے۔ ماں واقعی عظیم دوست تھی۔ پھر بھی لمحے بھر کے لئے اسکے دماغ میں ایک عجیب خیال آیا۔۔ کیا وہ اسکی سگی ماں ہے؟ ایک بیٹی اپنی ماں کو خود بتا رہی ہے کہ اسے شاندار نوکری ملی ہے اور اسکا بنیادی کام باس کے چنے ہوئے مردوں کے علاوہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کیساتھ سونا ہے۔ لیکن اس نے اس خیال کو خود ہی ذہن سے جھٹک دیا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس نے اپنا اچھی طرح جائزہ لیا۔ پل بھر میں اس نے اپنے آپ کو بیس برس مزید بڑا دیکھا۔ وہ ہو بہو محمودہ بیگم تھی۔ اس کی ہر شے اپنی ماں پر تھی۔ اسے اپنے شک پر دکھ ہوا۔ محمودہ ہی اس کی سگی ماں ہے۔ لیکن ماں کو چپ کیوں لگ گئی؟ کیوں یہ نہیں کہا کہ بیٹی لعنت بھیج ایسے پیسے پر؟

افسانے کے ذہن میں جب کوئی سوال سما جاتا، تو وہ سب چھوڑ چھاڑ اس کا تسلی بخش جواب تلاش کرنا شروع کر دیتی۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرنا شروع ہو جاتی۔ بوبی اس عادت کا خوب مذاق اڑاتا۔ وہ بوبی کی کسی بھی بات کا برا نہیں منا سکتی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی گھر کے مالی حالات اچھے نہیں۔ شاید اس لئے ماں کچھ نہ بولی۔ لیکن اتنے برے بھی نہ تھے۔ اپنی چھت تھی۔ آجکل کے زمانے میں وہ بادشاہ جس کی چھت اپنی۔ گزر بسر بھی اچھی ہو رہی تھی۔ اسکی یونیورسٹی کی فیس ٹھیک ٹھاک تھی اور ہمیشہ وقت پر ادا ہوئی۔ گھر میں سب ہی کچھ تھا سوائے وی سی آر، فون اور گاڑی کے۔ وی سی آر اب مسئلہ نہ تھا۔ سی ڈی اور ڈی وی ڈی پلیرز آ چکے تھے جو بہت سستے تھے۔ فون کی اب اتنی ضرورت نہ تھی کیونکہ رانی نے اسے موبائل فون دلانے کا وعدہ کر لیا تھا اور وہ وعدے کی پکی عورت تھی۔ کچھ دیر اسی ادھیڑ بن میں رہنے کے بعد اسے جواب مل ہی گیا۔

ماں افسانے کے مزاج سے بخوبی واقف تھی۔ یعنی جو بات افسانے کے دماغ میں آ جائے وہ اسے کرکے ہی دم لیتی تھی۔ ماں باآسانی سمجھ سکتی تھی کہ وہ اسے روک نہیں سکتی۔ اگر روکنے کی کوشش کی تو وہ گھر چھوڑ کر بھاگ جائے گی اور یہ سچ تھا۔ رانی نے اسے کہہ دیا تھا کہ اس کے گھر کو اپنا گھر ہی سمجھے۔ اگر گھر والے راضی نہ ہوں تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسکے پاس چلی آئے۔ بھلے بوبی کو بھی ساتھ لے آئے۔

بیٹی کا قیاس سو فیصد درست تھا۔ محمودہ کو پتہ تھا کہ وہ ملک اور اسکے گھر والوں کی داشتہ ہے۔ اب اس کے ساتھ مکافات عمل ہو رہا تھا۔ اسکی بیٹی بھی داشتہ بننے جا رہی ہے۔ بلکہ بن چکی تھی۔ سب سے پہلے وہ رانی کی داشتہ بنی۔ اب مستقبل میں وہ کئی مردوں کی داشتہ بنے گی۔ محمودہ کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ بیٹی دونوں صورتوں میں ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ اس پر زور زبردستی کرنے کی پوزیشن میں تو وہ کبھی تھی ہی نہیں۔ ناراض ہوگی تو گھر سے بھاگ جائے گی اور برادری میں ناک کٹے گی اور اگر گھر میں رہی تو یہ ہی سوچ ذہن میں رہے گی کہ دفتر سے نہیں کسی کے ساتھ منہ کالا کرکے واپس آ رہی ہے۔ لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ایک چیز جو ماں کے لئے جائز ہے وہ بیٹی کے لئے کیسے ناجائز ہو سکتی ہے؟

"چلو۔ آئی ایم ریڈی ناؤ"۔ رانی نے کہا اور افسانے اپنی سوچوں کے دھارے سے باہر نکل آئی۔

افسانے آخری سال کا امتحان دے چکی تھی۔ چندہ ماہ بعد نتیجہ آنا تھا۔ اسے فرسٹ ڈویژن کی قوی امید تھی۔ طے یہ پایا تھا کہ رانی کا ڈرائیور افسانے کو گھر سے صبج نو بجے اٹھا لیا کرے گا۔ شام چھ بجے تک وہ رانی کے پاس ہی رہے گی۔ کام سیکھے گی۔ رانی نے اسے سیدھا پروگرام مینیجر بھرتی کیا۔ تب ہی تو ابتدائی تنخواہ پچاس ہزار روپے پیش کی گئی۔

رانی جنگل کی شیرنی تھی۔ اس کی مرضی انڈہ دے یا بچہ! کسی کی مجال سوائے میکس کے جو اس سے کوئی سوال کر سکے! اور جہاں تک میکس کا معاملہ تھا، وہ بھی رانی کا بے دام غلام ہی تھا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ ضرورت پڑنے پر افسانے رات رانی کے پاس ہی گذارے گی۔ نیز دفتر کے کام سے دوسرے شہر یا ملک بھی جانا پڑ سکتا تھا۔ ان باتوں سے نہ افسانے نہ اسکے گھر والوں کو کوئی اعتراض تھا۔ سب ہی خوش تھے اس کی نئی نوکری اور پرکشش تنخواہ سے۔

محمودہ نے البتہ افسانے اور بوبی کو سختی سے سمجھا دیا تھا کہ کسی سے بھی تنخواہ کا ذکر نہ کیا جائے۔۔ شمیم تک سے بھی نہیں جو افسانے کی سب سے گہری سہیلی تھی۔ حکمت یہ تھی کہ نظر نہ لگے اور لوگ شک نہ کریں۔ باتیں نہ بنائیں۔ جو بھی تنخواہ کا پوچھے یا نوکری کے حوالے سے کوئی بات کرے، افسانے دو ٹوک بتا دے کہ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا ایسے سوال پوچھنے کا۔ لوگ خوش تو نہ ہونگے مگر دوبارہ ایسا احمقانہ سوال بھی نہیں پوچھیں گے۔

کوئی تین ماہ قبل میکس نے رانی کو ایک بڑے پراجیکٹ کا آئیڈیا دیا تھا۔۔ مغرب کا ایک بہت پرانا چلا ہوا کارتوس۔۔ مائی باڈی مائی چوائس۔۔ جسے وہ یہاں متعارف کرانا چاہتا تھا۔ یہ بہت بڑا اور طویل المعیاد پراجیکٹ تھا۔ اس نظریے کے تحت مغرب کے پالیسی سازوں نے بہت کچھ حاصل کرنا تھا۔ کامیابی کی صورت میں یہ نظریہ مسلم دنیا میں انقلاب برپا کر سکتا تھا۔ مغرب کو اچھی طرح علم تھا کہ مسلمان کسی زمانے میں ان پر حکومت کر چکے تھے اور اب جہاد کا نظریہ نئی جہت کے تحت اس قوم میں فروغ پا رہا تھا۔ مسلمان آبادی پر قابو پانے والی حکمت عملی کو اسلام کے منافی سمجھتے تھے۔ بچوں پر بچے پیدا کرتے تھے۔ پرورش اور تعلیم کے وسائل ہوتے نہ تھے۔ ان بچوں کی کفالت زیادہ تر مدارس کیا کرتے تھے اور یہ درسگاہیں نہیں جہادی فیکٹریاں تھیں۔ اسامہ بن لادن اور ملا عمر جیسے دہشت گرد ان کے ہیرو تھے۔ بس صحیح یا غلط مغرب کے دماغ میں یہ سوچ سما گئی کہ اسلام پسندوں سے اسلام کی ہر شے چھین لو۔ تا کہ کل کو کوئی جہادی پیدا نہ ہو۔ اسی مغرب نے کل ان لوگوں کو جہاد کی راہ پر ڈالا تھا۔

مدرسوں کو بھاری رقوم دے کر جہادی پیدا کروائے۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد اب مغرب کو انکی ضرورت نہ تھی اور جہادی اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے کہ کل ہم نے جہاد سے سویت یونین کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی۔ اب ہم امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کو کچلیں گے۔ جب نائن الیون ہوگیا تو مغرب کو خطرے کا احساس ہوا۔ اب مغرب کا اٹھتے بیٹھے بس ایک ہی خواب تھا۔ جہاں جہاں اسلام ہے وہاں وہاں مغربیت پھیلا دی جائے۔ اسلامی حکومتوں کو لبرل، ماڈرن اور روشن خیال بنا دیا جائے۔ مغرب کا ہر نظریہ ان پر تھوپ دیا جائے۔ مشنری اور این جی اوز کی بدولت ایسا باآسانی کیا جا سکتا تھا۔

میکس اور رانی اس موضوع پر مفصل گفتگو کر چکے تھے۔ اسے "میرا جسم میری مرضی" کا عنوان دیا اور ڈھیر سارے موضوعات اس نعرے کے اندر ٹھونس دیے۔ پھر اس نے رانی کو ایک پروپوزل تیار کرنے کو کہا۔ اس پروپوزل میں وہ تمام طریقے شامل تھے جو میرا جسم میری مرضی کو کامیابی سے میدان میں اتار سکتے تھے۔ یہ پراجیکٹ ایک بہت بڑے مقصد کے حصول کے لئے پہلا قدم تھا۔ رانی جیسی گھاگ، سیانی، تجربہ کار اور اعلی تعلیم یافتہ عورت اسے اپنی این جی او کے ذریعے ملک کے چپے چپے میں پھیلا سکتی تھی۔ رانی کے تعلقات اوپر سے نیچے ہر جگہ تھے۔ آج اسی مقصد کے لئے میکس نے رانی کو بلایا تھا۔ اس نے سوچا کہ افسانے کو بھی ساتھ لے لے۔

"کیسی لگ رہی ہوں میں؟" رانی نے افسانے سے پوچھا جو سلیو لیس انڈیگو کام والی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ ہمیشہ کی طرح اسکا بلاوز کھلا اور مختصر تھا۔

"بجلیاں نہ گر پڑیں اب تو یہ خیال ہے!" افسانے نے کہا اور رانی ہنس دی یہ کہتے کہ اسے پتہ تھا کہ یہ ایک انڈین گانے کا دوسرا مصرعہ تھا۔

"آپ واقعی بہت دلکش لگ رہی ہیں۔ آپکی عمر پچاس تو ہر گز نہیں لگتی۔ مجھے تو تیس لگتی ہے اور آپ نے کسی قسم کی سرجری بھی نہیں کرائی۔ کسی قسم کے جھریاں نہ آپکے چہرے پر نہ آپکی گردن پر۔ نہ آنکھوں کے نزدیک حلقے۔۔ آخر یہ راز کیا ہے؟"

افسانے نے پوچھا جو واقعی رانی کے حسن کی دلدادہ تھی۔

"گرین ڈائٹ، ایکسر سائز۔ نو کاسمیٹکس۔ اپنا میک آپ خود تیار کرتی ہوں۔۔ جڑی بوٹیوں سے۔ کم کھاتی ہوں۔ کسی چیز کا غم نہیں کرتی۔ پچھتاووں سے دور رہتی ہوں۔ لائف کو خوب انجوائے کرتی ہوں۔ ہر لمحے ایڈوینچر کے لئے تیار رہتی ہوں۔ سوئمنگ کرتی ہوں اور اس کے علاوہ ایک اور ٹوٹکہ ہے لیکن وہ تمہیں وقت آنے پر بتاؤ گی!" رانی نے آخری جملہ بہت معنی خیز انداز میں کہا۔

"مجھ معلوم ہے وہ ٹوٹکہ۔۔ "

"چلو بتاؤ پھر!"

"بہت سارا سیکس!"

"بالکل غلط! تو ابھی بچی ہے۔ بہت کچھ سیکھنا ہے ابھی تو نے۔ وقت آنے پر وہ ٹوٹکہ بتاونگی۔ اب میکس کی طرف چلتے ہیں۔ دیر ہو رہی ہے۔ " رانی نے کہا۔ وہ افسانے کو "آپ"، "تم" اور "تو" ہر صیغے سے پکارتی تھی۔

دونوں عورتیں گیراج میں آئیں جہاں ایک نئے ماڈل کی لینڈ کروزر کھڑی تھی۔ یہ پانچ مرلے سائز جتنی گاڑی میکس کے ادارے نے رانی کو دی ہوئی تھی۔۔ بمعہ ڈرائیور۔ رانی دفتر کا زیادہ تر کام گھر سے ہی کیا کرتی تھی اور دفتر کونسا دور تھا۔ اسکی کوٹھی بہت وسیع تھی۔ اصل میں دو بہت بڑی کوٹھیاں تھیں لمبے چوڑے لان تھے۔ باپ نے ایک رانی کے اور دوسری عدیل کے لئے بنوائی تھی۔ عدیل والی میں اس نے دفتر سیٹ کر لیا۔ لاکھوں میں جو کرایہ ہر مہینے ڈونر سے موصول ہوتا وہ رانی عدیل کے اکاؤنٹ میں ڈال دیا کرتی تھی۔ ویسے بھی وہ کوٹھی عدیل کی ملکیت تھی۔

پیسے کے معاملے میں رانی بہت کھری عورت تھی۔ اپنے سٹاف سے بہت عزت سے پیش آتی۔ اچھی تنخواہ اور مراعات دیتی۔ غرور بالکل نہ تھا۔ انکی خوشی اور غم میں برابر کی شریک ہوتی۔ اسی لئے اسکا سٹاف بھی اسکی بہت عزت کرتا۔ کوئی چالیس کے قریب لوگ تھے اسکے آفس میں۔ زیادہ تر عورتیں۔۔ سب جان چھڑھکتے اس پر۔ پھر وہ تھی بھی بہت حسین اور وہ بھی بنا گھمنڈ!

کچھ دیر میں گاڑی میکس کے دفتر کے اندر تھی۔ دفتر کیا تھا بہت بڑا محل تھا ایکڑوں پر پھیلا ہوا۔ اس محل کے ایک کمرے میں اس کا دفتر تھا۔ اپنے کمرے سے باہر آ کر اس نے دونوں کا استقبال کیا۔ وہ تھری پیس سوٹ اور ٹائی میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔

"ویلکم ڈئیر۔ تم دونوں کی تشریف آوری کا شکریہ"۔ میکس نے کہا اور دونوں کو اپنے کمرے کے اندر لے گیا۔ یہ بہت بڑا کمرہ تھا۔

"رانی تم بہت لکی ہو۔ یہ دیکھو!" میکس نے ایک فائل رانی کی طرف بڑھاتے کہا۔ وہ افسانے کی جانب بھی دیکھ رہا تھا۔

"واؤ میکس!" رانی نے فائل کے اوراق پلٹتے کہا۔ "تمہاری مدد کے بغیر ہمیں یہ پراجیکٹ نہیں مل سکتا تھا"۔

"تم بھی تو بہت محنتی ہو۔ تم ہی اس کی بہترین حقدار ہو۔ میں نے ایل جی بی ٹی کیو کو بھی میرا جسم میری مرضی سے لنک کر دیا ہے۔ اب آگے تمہارا کام۔ پانچ سال کی گرانٹ دی ہے تمہیں۔۔ دل کھول کر! جشن کی تیاری کرو!" میکس نے جوشیلی آواز میں کہا۔

"تھینک یو ویری مچ میکس۔ یو آر گریٹ اینڈ یو آر اے ٹرو فرینڈ۔ تم آج شام کیا کر رہے ہو؟ اگر فری ہو تو میری طرف آ جاؤ۔ افسانے بھی ہوگی۔ ساری رات جشن منائیں گے"۔ رانی نے میکس اور افسانے کی جانب دیکھتے شرارتی مسکراہٹ سے کہا۔

"آج میں فری نہیں۔ پھر کبھی سہی!" میکس نے کہا۔ دونوں عورتیں اس کا دوبارہ شکریہ ادا کرکے اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہوگئیں۔ راستے میں افسانے نے رانی سے ایل جی بی ٹی کیو کے بارے میں پوچھا۔

"ڈارلنگ یہ نیا شوشہ ہے ڈونر کا۔ اس کا کوئی سر پیر نہیں۔ نہ یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ لیکن ہم نے بھی تو زندہ رہنا ہے۔ تو اس قسم کے ڈرامے کرنے پڑتے ہیں"۔

"پر ہے کیا بلا؟" افسانے نے اس بار زور دے کر پوچھا۔

"گھر پہنچ کر بتاؤں گی"۔ رانی نے کہا اور گھر کونسا دور تھا۔ چند منٹ بعد آ گیا۔

رانی نے دو ٹھنڈی یخ بوتلیں بئیر کی کھولیں۔ ایک اپنے اور دوسری افسانے کے لئے اور دھڑام سے صوفے پر بیٹھ گئی۔

"ایل جی بی ٹی کیو مخفف ہے لیزبئین، گے، بائی سیکسچول، ٹرانس جینڈر اور کوئیر کا۔ بات سیدھی سے ہے مگر اسے جان بوجھ کر الجھایا ہوا ہے۔ لیزبیئن وہ جو میں اور تو ہیں یعنی عورت دوسری عورت کے اندر جنسی کشش محسوس کرے۔ اب یہ ہی کشش مرد مرد کے اندر محسوس کرے تو گے۔ بائی سیکسچول کا مطلب وہ مرد یا عورت جو دونوں جنس میں کشش محسوس کرے۔ اسے سٹریٹ بھی کہتے ہیں۔ جو تو بھی ہے اور میں بھی ہوں۔ ٹرانس جینڈر میں ہیجڑے اور خوجہ سرا آ گئے اور کوئیر کو تو زنخے سمجھ لے۔

ہیں مرد مگر عورت بنے پھرتے ہیں۔ یا مرد مار عورتیں۔ اب ان بکواسیات پر "جینڈر سٹیڈیز" کے نام پر پی ایچ ڈی ہوتی ہے۔۔ یہاں اور باہر۔ میکس چاہتا ہے کہ ان تمام موضوعات کو ہم میرا جسم میری مرضی کے تحت پروموٹ کریں۔ لوگوں کی سوچ بدلیں ان کے بارے میں جو مسلم ورلڈ میں منفی ہے۔ فیملی پلاننگ بھی اسی میں گھسیڑ دیں۔ بس کھچڑی پکانی ہے اور مجھے حیرت ہے کہ تو نے ایم اے انگریزی کا امتحان دے رکھا ہے۔ پر تجھے ان باتوں کا علم نہیں"۔

"ارے یہ تو معلوم ہے کہ کون گے ہے کون لیزبئین ہے۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہ آئی کہ اسے میرا جسم میری مرضی سے لنک کرنے کی کیا تک ہے"۔ افسانے بولی۔

"بھئی تو ساڑھی پہن یا شلوار قمیض یا جینز شرٹ یا کچھ بھی نہ پہن۔ اسی طرح اگر کسی مرد کا جی چاہ رہا ہے کہ ساڑھی پہن لے۔ تو پہن لے۔ یہ ہوگیا میرا جسم میری مرضی۔ ساڑھی پہننے والا مرد کوئیر کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ اب یہ ڈونرز اسے میرا جسم میری مرضی کے اندر گھسیڑ کر ایک نیا نظریہ پیش کر رہے ہیں"۔ رانی نے بئیر کا گھونٹ بھرتے کہا۔

"تو پھر آپکے خیال میں کیا ہے میرا جسم میری مرضی؟"

"نری بکواس! بھئی تیری شادی ہو جاتی ہے۔ تو آگے پڑھنے کے لئے باہر جانا چاہتی ہے۔ تجھے سرکار سکالرشپ دے دیتی ہے۔ تیرا شوہر زبردستی تیرے اوپر چڑھ جاتا ہے۔ کنڈوم بھی نہیں استعمال کرتا۔ تو پیٹ سے ہو جاتی ہے۔ پھر تو بھاڑ میں گیا سکالرشپ اور پڑھائی! اب یہ سب کیوں ہوا؟ تیرے جسم کے اوپر تیری مرضی نہیں بلکہ تیرے خصم کی مرضی چلی۔ اب یہاں پر مغرب کے حساب سے کئی ناانصافیاں ہوئیں۔ تیرا شوہر بغیر اجازت تیرے اوپر چڑھ گیا۔ پھر کنڈوم بھی نہیں لیا۔ تو حاملہ ہوگئی۔ اب تو بچہ بھی نہیں گروا سکتی۔ غیر قانونی طور پر تو کر لےگی۔ مگر پکڑی گئی تو جیل جائے گی"۔ رانی نے کہا۔

"شوہر اجازت لے کر کب چڑھتا ہے۔ یہ تو اس کا شرعی حق ہے اور اسلام میں تو نکاح کے دو مقصد ہیں۔ ایک شہوت پر قابو پانا اور دوسرے اولاد صالح پیدا کرنا۔ میں غلط کہہ رہی ہوں کیا؟" افسانے نے پوچھا۔

"تو درست کہہ رہی ہے مگر ہم لوگوں نے یہ ہی چیز تو ختم کرنی ہے۔۔ اسلامی شعائر، تعلیمات، رسم و رواج، شریعت، دین، شرم و حیا، چادر اور چاردیواری کا تصور۔ ہم اپنے موجودہ رول میں اسلام کا نام تک نہیں لے سکتے۔ تو انگریزی موویز دیکھتی ہے کیا؟"

"جی دیکھتی ہوں"۔

"تجھے نظر آتی ہیں یہ چیزیں ان فلموں میں؟"

"کون سی چیزیں؟"

"ارے جو ہمارے ہاں ہیں۔ مثلاً بہن بھائی کی غیرت ہے۔ ماں بیٹے کی غیرت، بیوی شوہر کی غیرت۔ فلانی فلانے کی غیرت! کیا تجھے گوروں میں نظر آتی ہے اس قسم کی غیرت؟" رانی نے پوچھا۔

"نہیں رانی۔ مجھے تو سب کے سب حرامزادے اور بے غیرت دکھائی دیتے ہیں"۔

"درست کہا۔ سب ایک نمبر کے حرامزادے اور حرامزادیاں ہیں!" رانی نے افسانے کی بات کی تائید کی

"اور انکی لغت میں تو لفظ "غیرت" ہے ہی نہیں۔ تب ہی تو ہم نے "غیرت کے نام پر قتل" کو "اونر کلنگ" جیسا بھونڈا نام دیا"۔ افسانے مزید بولی۔

"تو نے میرے دل کی بات کی۔ لیکن ہم ایسی سوچ صرف دل و دماغ کے اندر ہی رکھ سکتے ہیں۔ اس کا اظہار نہیں کرسکتے۔ اگر ایسا کیا تو اسلام پسندوں، مولویوں، جہادیوں اور شدت پسندوں کی کیٹیگری میں آ جائینگے۔ پھر ہمیں کوئی عورتوں کا مدرسہ چلانا چاہیے نہ کے وومن رائٹس پر این جی او۔۔ یہ وومن رائٹس تو شو پیس ہے۔ عورتوں کے جائز حقوق تو اسلام نے چودہ سو برس پہلے ہی دے دیے تھے جب مغرب جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ سورہ نساء پڑھی ہے تو نے؟" رانی نے پوچھا۔

"جی!"

"سجان اللہ کیسے اللہ تعالی نے عورت کا ایک ایک حق پوری تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا جیسے ریاضی ہو۔ ورنہ قرآن مجید ہر معاملے کی ایسی تفصیلات فراہم نہیں کرتا جیسی عورت کے وراثت کے حق کے بیان کی گئیں ہیں۔ مغرب میں تو اب تک وصیت والا دقیانوسی سسٹم کام کر رہا ہے اور یہ جو گورے ہمیں بھاشن دیتے ہیں کہ مسلم معاشرہ عورتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیا۔۔ تو کوئی بتائے ان کو کہ پیارے نبی محمدﷺ نے تو شادی ہی ایک بزنس وومین سے کی تھی۔ کامن لاء نے بہت سارے نظریے قرآن مجید سے لئے مثلاً مرکنٹائل لاء"۔ رانی بولے جا رہی تھی اور افسانے ورطہ حیرت میں ڈوبے جا رہی تھی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ رانی کے اندر اسلام کا اتنا مضبوط اور درست تصور موجود ہوگا۔ پھر اس کے اعمال مذہب سے بالکل برعکس کیوں تھے۔ کیا وہ منافق تھی۔۔ دوسروں کی طرح؟ ابھی اس کی یہ سوچ ختم نہ ہوئی تھی کہ رانی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر وہ اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور افسانے کی گود میں گر گئی۔ اسکے آنسو ٹپ ٹپ افسانے کی قمیض تر کر رہے تھے اور افسانے کے آنسو اسکے گالوں کو!

***

رانی اور افسانے تیاریوں میں مصروف تھیں۔ آج رانی نے خود مٹن کڑاہی بنائی تھی جو میکس کو بہت پسند تھی۔ آج رات افسانے کو رانی کے گھر پر ہی رہنا تھا۔ اس نے ماں کو بتا دیا تھا کہ ابا کو بات اچھی طرح سمجھا دے۔ ماں کو بھی اپنے خصم کو ہینڈل کرنا آتا تھا۔ ویسے وہ تھا بھی اللہ میاں کی گائے مگر دوسرے کام میں سانڈ! خوش ہوا کہ چلو بیٹی تو ہے نہیں گھر پر۔ آج اپنی سہاگ رات کی یادیں تازہ کرے گا۔ بوبی کو شمیم کے گھر بھیج دیا تھا دونوں نے۔ اب وہ گھر پر اکیلے تھے۔

رانی کے ہاتھ کی مٹن کڑہائی کمال کی تھی۔ افسانے نے چکھی تو اندازہ ہوا کہ اسکی باس زبردست کک تھی۔ ہرچیز پرفیکٹ تھی اس کی کڑاہی میں۔

"افسانے بیٹا دیکھ صاف صاف بتا دے مجھے!" رانی اب اس سے بہت زیادہ بے تکلف ہو چکی تھی۔ کبھی اسے بیٹا اور کبھی یار کہا کرتی۔ ویسے بھی عمر میں اسکی ماں سے کئی برس بڑی تھی۔

"رانی کتنی بار پوچھیں گی آپ؟ بتا تو دیا کہ پہلی بار ہوگا۔۔ "

"تو ہینڈل کر لے گی نہ؟"

"فکر نہ کیجئے۔ یہ بیٹی آپکو کبھی مایوس نہیں کرےگی"۔

"بس تجھے کوئی تکلیف نہ ہو!" رانی نے کہا۔

"کونسی راحت ایسی ہوگی جس میں درد نہ ہو۔ عورت بچہ جنم دیتی ہے۔ کتابوں میں پڑھا ہے بہت تکلیف میں ہوتی ہے۔ پھر جب ایک نئی زندگی وجود میں آتی ہے تو وہ سب درد، دکھ، تکلیف بھول جاتی ہے"۔ افسانے نے رانی کو اطمینان دلاتے کہا۔

"تو بہت ذہین ہے۔ مجھے تجھ سے بات کرکے بہت خوشی ہوتی ہے۔ تو مجھے میری فرح کی یاد دلا دیتی ہے۔ وہ بھی تیری طرح ذہین ہے"۔ رانی کی آنکھوں میں یہ بات کرتے آنسو آ گئے۔

"فرح کون ہے؟"

"میری بیٹی۔ تجھ سے کوئی دس برس بڑی ہوگی۔ آسٹریلیا میں رہتی ہے۔ دو بیٹے ہیں اسکے بڑے پیارے"۔

"تو آپ نانی بھی ہیں! کمال ہے۔ آپ تو ابھی لڑکی کی طرح دکھائی دیتی ہیں"۔ افسانے نے کہا۔ اسی دوران گھنٹی بجی۔

"لو میکس آ گیا!" رانی نے کہا۔ افسانے نے دروازہ کھولا۔ وہ ہی تھا۔

"ہیلو میکس!"

"ہیلو سوئٹ ہارٹ۔ یو آر لکنگ گریٹ!" میکس نے افسانے پر پہلی نظر ڈالتے ہی کہا۔ وہ لگ بھی بہت حسین رہی تھی۔ لیمن کلر کا کرتا اور اسکے نیچے چوڑی دار پاجامہ۔ میکس وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ میں انتہائی ہینڈسم لگ رہا تھا۔

"تھینکس میکس!" افسانے نےکہا۔

"ہیلو سیکسی! اس نے رانی کی طرف دیکھتے کہا جو ہاف سلیو بلیک شرٹ اور سفید سکرٹ میں تھی۔

"ہیلو میکس۔ آج میں نے تمہاری پسندیدہ ڈش مٹن کڑہائی بنائی ہے خود۔ مصالحے دار۔ خوش ہو جاؤ گے!" رانی بولی۔

"رانی کے گھر سے میکس کبھی ناخوش نہیں لوٹا!" میکس نے کہا اور ایک قہقہہ بلند کیا۔

گھر کا ماحول، کھانا، ڈرنکس، میوزک اور باتیں سب ملکر ایک یادگار شام کی صورت میں ڈھل چکے تھے۔ رات ابھی جاگ رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب انسان نہ چاہتے ہوئے بھی محفل چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ محفل ابھی ادھوری تھی۔ ان یادگار لمحات کو ایک ناقابل فراموش رات میں ڈھلنا باقی تھا۔ میکس نے رانی کے گھر ہی قیام کرنا تھا۔ وہ ایسا اکثر کرتا تھا۔ اسکے لئے رانی نے ایک کمرہ مختص کر رکھا تھا۔ آج اس کمرے کی سج دھج ہی کچھ اور تھی۔ بستر پر چاندنی جیسی چادر بچھی ہوئی تھی اور اسکے اوپر جابجا گلاب کی پتیاں بکھری ہوئیں تھیں۔ کمرہ حجلہ عروسی دکھائی دے رہا تھا۔

"تم ایزی ہو جاؤ میں آتی ہوں"۔ رانی نے میکس کو اسکے کمرے میں چھوڑتے کہا"۔

"یس یس!" میکس نے کہا۔ وہ ہلکا سا نشے میں دھت بھی تھا۔

"افسانے بیٹا۔۔ سنبھال لے گی نہ اس گورے کو؟ تجھے تو تیرنا بھی نہیں آتا اور بپھرے ہوئے سمندر میں اتر رہی ہے!" رانی نے کہا۔

"فکر نہ کریں۔ اس بپھرے ہوئے سمندر کو مردار نہ کیا تو میرا نام بھی افسانے نہیں!"

"شاباش میری شیرنی۔ بیسٹ آف لک!" رانی نے کہا اور افسانے کمرے کے اندر چلی گئی۔

رانی کچھ کچھ فکرمند تھی۔ وہ کمرے کے باہر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اسکے ذہن میں ان گنت خیالات تھے جن کا سلسلہ ایک شور نے توڑ دیا۔ سمندر کی طوفانی موجیں ایک جوان چٹان سے ٹکرا رہی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے سے نبرد آزما تھے۔ سمندر چٹان کو گرانا چاہ رہا تھا۔ چٹان ڈٹ کے اس کا مقابلہ کر رہی تھی جیسےکہہ رہی ہو آ دکھا مجھے گرا کر۔ یہ شور تھمنے کے بجائے بڑھتا جا رہا تھا۔ کبھی ایسا لگتا کہ سمندر چٹان کو بہا کر لے جائیگا۔ سمندر بہت طاقتور ہوتا ہے۔ کتنا بڑا بحری جہاز ٹائی ٹینک اس نے منٹوں میں نگل لیا جس کے بنانے والوں کا دعوی یہ تھا کہ یہ ڈوب ہی نہیں سکتا۔ اپنے پہلے ہی سفر میں غرق ہوگیا۔ کس کی مجال کہ سمندر سے ٹکر لے۔ بڑے سے بڑا پیراک بھی کتنی دیر تیر سکتا ہوگا؟ ایک گھنٹے یا دو گھنٹے۔۔ اس سے زیاہ کیا ممکن تھا؟

کبھی ایسی آوازیں آتیں جیسے آج سمندر کمزور پڑ رہا ہے۔ لیکن وہ پھر سے چٹان پر چڑھ دوڑتا۔ یہ سلسلہ قریب ایک گھنٹا جاری رہا۔ اسکے بعد لہریں شانت ہوگئیں۔ چٹان قائم رہی! رانی کو سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ اب وہ بھی بہت تھک چکی تھی۔ اپنے بستر پر جا کر گر گئی۔ نہ جانے کب تک سوتی رہی۔ جب اٹھی تو صبح ختم ہو چکی تھی۔ دوپہر جنم لے رہی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی وہ میکس کے کمرے کی طرف گئی۔ کمرہ خالی تھا۔ گلاب کی پتیاں ہر جگہ بکھری ہوئی تھیں۔ کچھ تازہ تھیں۔ کچھ مسلی جا چکیں تھیں۔ بستر کی چادر میٹرس سے آدھی سے زیادہ اتر چکی تھی۔ رانی کمرے سے لاونج کی طرف بھاگی۔ دل کو تسلی ہوئی۔ میکس اور افسانے ناشتہ کر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی بیدار ہوئے ہیں۔

"آؤ رانی! تمہاری عمر بہت لمبی ہے۔ تمہارا ہی ذکر ہو رہا تھا ابھی۔ ناشتہ کرو۔ افسانے نے خود بنایا ہے۔ بہت مزے کا پراٹھا ہے!" میکس نے کہا اور رانی نے افسانے کی طرف دیکھا۔ دونوں ایک دوسرے سے نظریں ملا کر مسکرا رہے تھے۔ ساتھ ہی میکس بھی کسی شرارتی بچے کی طرح مسکرا رہا تھا۔

***

"افسانے تو نے مجھے بہت مایوس کیا۔۔ " رانی نے افسانے سے ڈرامائی انداز میں کہا تو وہ کچھ پریشان سی ہوگئی۔ "کیا ہوا رانی؟ کوئی غلطی ہوگئی مجھ سے؟"

"غلطی تو چھوٹی سی چیز ہے۔ تو نے مجھے دھوکہ دیا!" رانی بولی۔

"کیسا دھوکہ؟ ناممکن! میں آپکو اپنی ماں سے بڑھکر سمجھتی ہوں۔ آپکو دھوکہ نہیں دے سکتی!"

"مجھے معلوم ہے اور یقین بھی ہے!" رانی نےکہا۔

"توں پھر ایسا کیوں کہا آپ نے؟"

"بس تو نے ایک جھوٹ بولا مجھ سے۔ وہ اچھا نہیں لگا۔ وعدہ کر آئندہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولے گی!" رانی نے کہا اور اس جملے پر افسانے کو اپنی ماں کی یاد آ گئی۔ اسے وہ منظر یاد آ گیا جب اس کی ماں نے ایسا ہی وعدہ لیکر پوچھا تھا کہ اس کے پاس پچاس ہزار روپے کیسے اور کیوں آئے۔ اس نے سچ بولا اور ماں نے اس کا ماتھا چوما تھا۔

"اپنی ماں اور بوبی کی قسم جو مجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہیں، میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گی"۔

"تو پھر ایک سوال کا جواب دے!"

"پوچھیے!"

"اس دن جب میکس اور تم لاونج میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔ " رانی یہ کہہ کر رکی۔

"جی۔۔! افسانے نے کہا۔

"میں میکس کے کمرے میں گئی تھی۔۔ " اس نے کہا اور پھر رک گئی۔

"جی!" افسانے نے کہا۔

"کمرہ خالی تھا۔ تم لوگ نیچے تھے۔ میں کمرے کو خالی دیکھ کر فوراً نیچے نہیں آئی تھی۔ میں اندر گئی۔ چادر کو اچھی طرح بستر پر بچھا کر اس کا بغور معائنہ کیا۔ وہ تیرے بدن کی خوشبو سے مہک رہی تھی۔ لیکن تھی بالکل صاف ستھری، شفاف جیسے ابھی لانڈری سے دھل کر آئی ہو۔ یا اگر دھل کر نہیں تو ابھی ابھی بازار سے خریدی گئی ہو اور اسے بچھا دیا گیا ہو۔ نہ کوئی دھبہ نا کوئی داغ۔ بس شکن آلود تھی۔ اس پر کوئی داغ یا نشان کیوں نہ تھا؟" رانی نے اسکی آنکھوں کی طرف دیکھتے کہا۔ افسانے اس سے نظریں نہ ملا سکی۔

"پریشان مت ہو یار۔ حمام میں سب ننگے ہیں!" رانی نے کہا اور پھر رک گئی۔ چند لمحے خاموش رہی۔ افسانے بھی کچھ نہ بولی۔

"تو نے تو کہا تھا کہ تیرا پہلا تجربہ ہے۔ میکس بہت تجربہ کار ہے۔ اس نے مجھے کچھ اور بتایا۔ اب تو بتا کہ راز کیا ہے؟" رانی نے آنکھ مار کر پوچھا تا کہ گفتگو جو کافی سنجیدہ اور افسانے کے لیے پریشان کن ہوتی جا رہی تھی کچھ ہلکی پھلکی ہو جائے۔

"ہاں میں نے جھوٹ بولا تھا۔ آئی ایم سوری دراصل۔۔ "

"سوری کی کوئی بات نہیں۔ ماں بیٹی میں کیا سوری!" رانی نے افسانے کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔

"دراصل پہلا تجربہ نہیں تھا!"

"وہ تو مجھے پتہ ہے۔ کون تھا وہ؟"

"کیا سب کچھ بتاناضروری ہے رانی؟"

"چل نہ بتا۔ لیکن مجھے پتہ ہے کون تھا!"

"کون؟"

"کون ہو سکتا ہے بوبی کے علاوہ؟" رانی نے یہ کہہ کر افسانے کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اندازہ سو فیصد درست تھا۔ وہ خاموش ہوگئی۔

"تیری خاموشی میرے اندازے کی صداقت کا پتہ دے رہی ہے افسانے!"

"آپ کا اندازہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ بوبی ہی تھا۔ تھا کیا۔۔ وہ ہے اور ہمیشہ رہے گا!"

"کتنی بار؟" رانی نے کریدا۔

"بس ان دنوں کو چھوڑ کر تقریباً روز ہی!" افسانے نے سر جھکا کر دھیمی آواز میں کہا۔

"کب سے؟"

"سال تو ہو چکا ہے"۔ افسانے نے اسی جھکے ہوئے سر کے ساتھ کہا۔

"کچھ ہوا تو نہیں اس عرصے میں؟ رانی کو اب لطف آ رہا تھا سوال کرنے میں۔

"سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بوبی لائف جیکٹ پہنے بغیر کبھی پانی میں نہیں کودتا!" افسانے نے کہا اور رانی نے بے ساختہ ایک قہقہہ بلند کر دیا۔

"اچھا جہاں اتنا سچ بتا دیا وہاں ایک اور بھی بتا دے۔۔ "

"اب میرے پاس چھپانے کو رہ ہی کیا گیا ہے۔۔ پوچھیے!"

"میکس بہتر تھا یا بوبی۔۔ صاف صاف جواب چاہیے۔ گھمانا پھرانا مت!" رانی اب مکمل شرارتی موڈ میں تھی۔

"ہوں۔۔ بہت مشکل میں ڈال دیا آپ نے! میکس منہ زور گھوڑا تھا۔ بوبی بےبی ہارس ہے! دونوں کی سواری کا موازنہ کرنا ناانصافی ہے۔ دونوں کا اپنا اپنا مزہ ہے۔ کیا خیال ہے؟"

"مجھے تجھ سے ایسے ہی دانشورانہ جواب کی توقع تھی۔ شاباش۔ ویسے مجھے بھی کافی ٹائم ہوگیا بےبی ہارس کی سواری کئے۔ تیری بات سن کر اب دل مچل رہا ہے۔ لا سکتی ہے کسی دن بوبی کو؟" رانی نے پہلا جملہ مسکراتے ہوئے اور آخری دو انتہائی سنجیدہ انداز میں کہے۔

افسانے فوراً بھانپ گئی کہ اس کی باس مذاق نہیں کر رہی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں میں جواب تلاش کر رہی تھی۔ اسے یہ پتہ تھا کہ انکار کا مطلب گھر آئی لکشمی سے ہاتھ دھونا تھا۔ انتہائی تیزی سے سوچنا اس کی ڈھیر ساری خداداد صلاحیتوں میں سے ایک تھا۔ پل پر میں وہ اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ بوبی کو رانی کا شاگرد بنانا سب ہی کے مفاد میں ہوگا۔ پھر مشق تو ایک ہی ہے۔ تختہ مشق افسانے کے بجائے رانی بن جائے گی اور کیا ہی خوب ہو اگر دونوں ایک ساتھ بن جائیں!

"رانی۔۔ بوبی میرے بغیر نہیں مانے گا۔۔ "

"تیری موجودگی میں تو مانے گا۔۔ "

"جی!" افسانے نے کہا۔

"تو پھر دونوں تختہ مشق بن جائینگے۔ دیکھتے ہیں کس کا تختہ ہوتا ہے!" رانی نے شرارتی انداز میں قہقہہ بلند کیا جس پر افسانے بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ حیران تھی کہ "تختہ مشق" ایک ہی لمحے میں دونوں کے ذہن میں کوندا۔ اسے لگا وہ رانی کا دوسرا جنم ہے۔

"اچھا یہ بتا بوبی کے علاوہ بھی ہے کوئی؟"

"ماریہ ہے!" افسانے نے کہا۔

"او۔۔ مجھے پہلے ہی شک تھا!" رانی نے کہا۔

"کیوں؟"

"بھئی میں اسے بیس برس سے جانتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے تو میرا دوسرا جنم ہے افسانے!"

یہ بات کہہ کر رانی افسانے کو ایک بار پھر حیراں کر چکی تھی۔ ایسا کیوں ہو رہا تھا کہ جو کچھ وہ سوچ رہی تھی، رانی اسے حرف بہ حرف دہرا رہی تھی؟

"میں کیسے آپ کا دوسرا جنم ہوں؟" افسانے نے پوچھا۔

"جو تو اس وقت مجھے بتا رہی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے تو نے میری زندگی کا سکرپٹ کہیں سے حاصل کر لیا ہے اور تو اسے میرے سامنے پڑھ رہی ہے۔۔ "

"سچ!" افسانے نے پوچھا۔

"میں جھوٹ نہیں بولتی!" رانی نے کہا۔

"آپکو کسی قسم کا پچھتاوا ہے؟" افسانے نے پوچھا۔

"ہرگز نہیں۔ بس اپنے بھائی کے بچھڑنے کا دکھ ہوتا ہے"۔

"آپ نے اپنے شوہر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔۔ "

"میری ان سے طلاق ہوگئی تھی۔ "

"وجہ؟"

"عدیل!"

"کیا مطلب؟ انہیں بھی پتہ لگ گیا؟" افسانے نے پوچھا۔

"ہاں! ایسی چیزیں لمبے عرصے تک چھپ سکتی ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے نہیں!"

"انہیں کیسے پتہ چلا؟"

"جیسے عدیل کی بیوی کو پتہ چلا۔۔ "

"اس نے تو آپ دونوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔ "

"ایسے ہی میرے شوہر نے بھی دیکھ لیا تھا"۔ رانی نے کہا۔ وہ غمزدہ لگ رہی تھی۔

"پھر کیا ہوا؟"

"مجھے طلاق دے دی اور فرح کو لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آسٹریلیا چلا گیا"۔

"فرح کتنی بڑی تھی اس وقت؟"

"دس برس کی!"

"اسے معلوم ہے؟"

"شاید۔۔ کیونکہ مجھ سے نہیں ملتی۔ ہو سکتا ہے باپ نے سب کچھ بتا دیا ہو"۔

"پھر آپکو کیسے پتہ چلا کہ دو بیٹے ہیں؟"

"کبھی کبھار اس کا باپ فون کر لیتا ہے۔ اب تو فیس بک پر ہے فرح۔ بہت خوش ہے!"

"آپ اس وقت بہت اداس ہیں۔ پھر بھی آپ کہتی ہیں کہ آپکو کوئی افسوس نہیں۔ کوئی پچھتاوا نہیں"۔

"میں نے زندگی میں کبھی بھی کسی چیز پر رگریٹ نہیں کیا افسانے۔ چاہے بڑا سے بڑا نقصان ہو جائے، اسے بھول کر آگے بڑھنا چاہیے۔ ایسے ہی تو غالب نے نہیں کہا کہ: یاد ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔ میری تجھے بھی یہ ہی نصیحت ہے۔ کسی چیز کا غم نہ کرنا۔ زندگی پچھتاوے کے ساتھ گذاری تو ہر پل تکلیف دہ ہی پائے گی۔ یہ اداسی کی کیفیت چند لمحوں سے زیادہ نہیں طاری نہیں رہتی میرے چہرے پر۔ اداسی فرح کی وجہ سے تھی۔ باقی رہے دوسرے ایشوز۔۔ شوہر نے طلاق دے دی۔۔ کوئی بات نہیں۔ شوہر تو ہزار مل سکتے ہیں، بھائی تو میرا ایک ہی ہے! اگر جیون میں شوہر یا بھائی میں کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو شوہر کو چھوڑ دینا"۔ رانی اب اعتماد سے بول رہی تھی۔ اسکے چہرے پر چھائی اداسی غائب ہو چکی تھی۔

"آپ نے بھائی کی خاطر شوہر چھوڑ دیا لیکن عدیل نے بہن کے لئے بیوی نہیں چھوڑی۔۔ "

"تجھے کس نے کہہ دیا کہ عدیل نے مجھے چھوڑ دیا؟ جب دل کرتا ہے ہم مل لیتے ہیں!" رانی نے کہا اور افسانے اک نئی سوچ میں گم ہوگئی۔

"زیادہ سوچے گی تو بڑھاپا جلدی آ جائے گا۔ یہ بھی سچ بتا رہی ہوں تجھے۔ چل آج لنچ باہر کرتے ہیں!"

***

"افسانے بیٹا اب انٹرنیشنل وومن ڈے کی تیاریاں کر۔ لہذا تو ایک کام کر۔ تیرے گھر سے کچھ دور شہر کی سب سے بڑی کچی آبادی ہے۔ اپنے کزنز کے متھے ایک کام مار جسکے انہیں اچھے پیسے دونگی۔ وہ یہ کہ کچی آبادی کی عورتوں کو فی عورت ہزار روپے آفر کریں۔ ہم بسیں بھر کر انہیں اس جگہ لے آئیں گے جہاں بڑا مظاہرہ ہوگا۔ ہر عورت کے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ ہوگا جسے وہ بلند کرے گی۔ اسکے بعد بہترین کھانا ملے گا اور بسیں انہیں واپس گھر چھوڑ آئیں گی۔ کم از کم ایک ہزار عورتیں درکار ہونگی مجھے۔ اگر اس سے اوپر بھی گھیر گھار لے تو کوئی مسئلہ نہیں۔۔ " رانی نے کہا۔

***

"یہ تو بہت زبردست آفر ہے دیمے!" جیسے ہی افسانے نے اپنی بات مکمل کی، شمیم بولی جبکہ دیما کچھ نہ بولا۔

"ہزار عورتیں تو تُو آرام سے اکھٹی کر لے گا۔ ہر عورت کو ہزار روپے ملیں گے اور تجھے فی عورت دو سو۔ اسطرح تو بیٹھے بٹھائے دو لاکھ روپے کما لے گا۔ اب مہنگائی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پھر تیری شادی بھی کرنی ہے اور کام بھی مشکل نہیں۔ بستی کے کھڑپینچ کو اپنے قابو میں کرنا ہوگا۔ وہ آرام سے عورتوں کا بندوبست کر دے گا"۔ شمیم نے کہا۔ دیمے سے زیادہ شمیم پرجوش تھی۔ وہ ابھی تک خاموش تھا۔

"کیا بات ہے دیمے؟ پیشکش اچھی نہیں لگی تجھے؟" اس بار افسانے نے پوچھا۔

"نہیں ایسی بات نہیں۔ پیشکش تو واقعی زبردست ہے لیکن کام بہت مشکل ہے۔ سب عورتیں گھروں میں یا گھریلو کارخانوں میں کام کرتی ہیں۔ ان کے مالکان انہیں ایک دن کی چھٹی دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کوئی عورت بیمار پڑ گئی۔ یا کسی مجبوری کے تحت کام پر نہ جا سکی۔ اگلے دن گئی تو پتہ چلا کہ اسکے چھٹی کر دی گئی ہے۔ یہ بڑے لوگ ہیں۔ اٹھ کر پانی بھی خود نہیں پی سکتے۔ انکے لیے ایک دن کی چھٹی دینا بھی مشکل ہوتا ہے۔ پھر جو کام نہیں کرتیں انہوں نے بچے سنبھالنے ہوتے ہیں۔ بہت ساری عورتوں کے شوہر شکی مزاج ہوتے ہیں۔ اجازت ہی نہیں دینگے۔ بہت سی دھندہ کرتی ہیں۔ سارے دن میں ہزار ملیں گے۔ اس سے ڈبل تو وہ ایک گاہک سے پندرہ منٹ میں کما لیتی ہیں۔ لیکن میں نے اس معاملے میں کچھ بات کرنی ہے تم سے تنہائی میں!" دیما بولا۔

"ہائے ایسی کیا بات ہے دیمے۔ سیدھا سادا کام ہے۔ تو خواہ مخواہ سسپنس پیدا کر رہا ہے!" شمیم نے مداخلت کرتے کہا۔

"کرنے دے اسے۔ میں نے بھی اس سے کچھ کہنا ہے تنہائی میں۔ تو باہر جا"۔ افسانے نے کہا۔ شمیم باہر نکل گئی۔ افسانے نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔

"مجھے پتہ ہے تو کیا چاہتا ہے۔ تیرے میرے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند نہیں لگتا۔ میرے سپنے دیکھنے چھوڑ۔ تیری میری شادی ممکن نہیں اور تو یہ کام نہیں کریگا تو کوئی دوسرا کر دے گا۔ اب بول!" افسانے نے دیمے کو اسکی اوقات یاد دلاتے کہا۔

دیما تو افسانے سے تنہائی میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے بہت پیار کرتا ہے۔ وہ اس کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ بس وہ اس سے شادی کر لے۔ دیمے کو اچھی طرح علم تھا کہ افسانے اسے بالکل پسند نہیں کرتی۔ اس کے باوجود وہ اس سے اظہار محبت کرنا چاہتا تھا۔ لیکن افسانے نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ یہ سوچ کر کہ افسانے کی پیشکش قبول کرکے شاید وہ اس کے قریب آ جائے، دیمے نے تھکے ہارے لہجے میں کہا:

"مجھے منظور ہے۔ کام ہو جائے گا"۔

"ویری گڈ۔۔ شمیم دیما مان گیا ہے۔۔ " افسانے چلائی۔

"چلو پھر منہ میٹھا کرتے ہیں۔ دیمے جا میدے حلوائی سے گرم گرم گلاب جامن تو لا!" شمیم نے اسے پیسے دیتے کہا تو افسانے نے اسے روک دیا۔

"پیسے میں دیتی ہوں۔ یہ لے دیمے۔ باقی تو رکھ لینا ٹپ سمجھ کے"۔ افسانے نے یہ کہہ کر پانچ ہزار کا نوٹ اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ کامیابی سے اپنے آپ کو برتر اور دیمے کو کم تر ثابت کر چکی تھی۔ پانچ ہزار کا نوٹ دیکھ کر دیمے اور شمیم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

***

افسانے گھر لوٹی تو اسکی ماں اسکی منتظر تھی۔ اس نے ساری بات اسے بتائی تو ماں بولی: "تو نے بہت اچھا کیا جو اس جھاڑو پھرے دیمے کی اوقات اسکو یاد دلا دی۔ ٹھیک ہے ان لوگوں نے ہمیشہ ہمارا خیال رکھا۔ لیکن کسی لفنگے کے ہاتھ میں کوئی ماں اپنی بیٹی کا ہاتھ نہیں تھمائے گی۔۔ "

افسانے اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو بوبی کو سویا ہوا پایا۔ "کتنا پیارا اور معصوم لگتا ہے میرا بھائی سوتے ہوئے۔ کاش بوبی جیسا ایک اور بھائی ہوتا! اس کے دل میں اک نئی خواہش نے جنم لیا۔ جھٹ مڑی اور ماں کے پاس گئی اور کہنے لگی: "اماں کیا تم میری ایک خواہش پوری کر سکتی ہو؟"

"میں تیری ہر خواہش پوری کر سکتی ہوں۔ میں نے تو تیری ایسی خواہشات بھی پوری کر دیں جو میرے بس میں نہ تھیں!" ماں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔

"اماں شمیم کے دو بھائی ہیں۔ اوروں کے تین تین چار چار۔ میرا صرف ایک۔ کیا تم مجھے ایک اور بھائی دے سکتی ہو؟" یہ بات افسانے نے ایسے کہی جیسے چار سال کی بچی ہو۔ ماں نے مسکرا کر کہا: "میں تو تجھ سے یہ فرمائش کرنے والی تھی کہ تو شادی کے لئے راضی ہو۔ میں تیرا بیاہ کروں اور تو مجھے ایک عدد نواسا دے۔ پر تو نے الٹا مجھ سے فرمائش کر دی!"

"نہیں اماں۔ آپ ابھی بالکل جوان دوشیزہ ہیں۔ اتنی جلدی نانی بننا ٹھیک نہیں۔ ویسے میرا ابھی دور دور تک کوئی ارادہ نہیں شادی کا۔ لہذا آپ ذرا ابا کے ساتھ مزید وقت گذارا کریں تا کہ بوبی کو بھی اپنا جوڑی دار مل سکے۔ اس کے دل میں بھی شدید خواہش ہے کہ اس کا بھی ایک بھائی ہو۔ میری شادی کر دی تو وہ تنہا رہ جائے گا!" افسانے نے ہنس کر ماں سے کہا:

"ارے بوبی کی فکر نہ کر۔ وہ تیرے ساتھ جہیز میں جائے گا!" ماں نے کہا اور افسانے نے دل میں کہا: "انشا اللہ!"

یہ خواہش محمودہ کے دل میں بھی تھی۔ لیکن ملک ارادے کا بہت پکا تھا۔ وہ یہ دعا کر رہی تھی کہ کاش ملک مان جائے۔ اگر ملک سے نہیں تو رحیم سے جو بالکل تندرست تھا اور اس معاملے میں ملک سے کہیں زیادہ مضبوط۔ لیکن اللہ کی مرضی۔ جسے چاہے مزید اولاد دے جسے چاہے نہ دے! اس کے ذہن میں ایک اور خیال آ رہا تھا!

جاری ہے۔۔