1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. مساجنی آلودہ ادب

مساجنی آلودہ ادب

چیف صاحب نے میز پر رکھی فائل بند کی، عینک اتار کر بوجھل انداز میں میز پر رکھی، کمرے میں موجود سب لوگوں پر ایک طویل، معنی خیز نظر ڈالی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی قومی سانحے کا اعلان ہونے والا ہو۔

گلا کھنکارا اور گویا ہوئے۔ "ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی چند ناپسندیدہ اقدامات کرنے ہوں گے"۔

کمرے میں سناٹا چھا گیا!

"مغرب کے مسلسل دوروں میں عالمی برادری نے مجھ پر ایک ہی بات بار بار واضح کی۔ اگر ہم نے اس مسئلے کو جڑ سے ختم نہ کیا تو نہ صرف ہماری ساکھ متاثر ہوگی بلکہ عالمی امداد بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے"۔

"سر چائلڈ لیبر؟" چمچہ اول نے پوچھا۔

چیف صاحب نے نفی میں گردن ہلائی۔

"غیرت کے نام پر قتل؟" چمچہ دوم نے پوچھا۔

"نہیں"۔

"لاپتہ افراد؟" چمچہ سوم نے پوچھا۔

چیف صاحب جھنجھلا کر، "نہیں!"

چمچہ چہارم نے کانپتی آواز میں کہا، "سر۔۔ پھر دہشت گردی، جمہوریت، اظہارِ رائے، یا اقلیتوں کا کوئی سنگین معاملہ ہوگا؟"

چیف صاحب ناگواری سے بولے، "اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ عالمی برادری کو اس بات پر شدید تشویش ہےکہ ہمارے اردو ادب میں مساجنی خطرناک حد تک سرایت کر چکی ہے۔ عورتوں کے جسمانی اعضاء کا ذکر کیا جاتا ہے، ان پر فقرے کسے جاتے ہیں۔ اس سے عورت کی تضحیک ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے ادب کو مساجنی سے پاک کرنا ہوگا"۔

چمچہ پنجم ذرا مختلف قسم کا تھا۔ خوشامد کم اور سوچ زیادہ کرتا تھا۔ اسی وجہ سے باقی اسے شدید ناپسند کرتے تھے۔ وہ اب تک خاموش بیٹھا تھا۔ آخر ہمت کرکے دھیمے لہجے میں بولا، "سر مجھے تو ہمارے اردو ادب میں ایسا کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ آخر یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فلاں کتاب میں مساجنی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنی ہے؟ اور اس کی پیمائش کس ترازو سے ہوگی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آج جو کتاب قابلِ اعتراض سمجھی جائے، کل وہی ادب کا شاہکار ٹہرے؟"

چیف صاحب نے اسے غصیلی نگاہوں سے گھورا: "تم اپنے آپ کو بڑا عقل مند سمجھتے ہو۔ بتاؤ، اگر کوئی جرم ہو جائے تو مجرم کا سراغ کون لگاتا ہے؟"

چمچہ پنجم نے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ چمچہ اوّل، جو ہر سوال کا جواب دینا اپنا آئینی حق سمجھتا تھا، کرسی سے اچھل پڑا۔

"سر! فنگر پرنٹس، فارنزک، ڈی این اے، سی سی ٹی وی، عینی گواہ"۔ اس نے ایک ہی سانس میں جواب اگل دیا پھر گردن گھما کر باقی چمچوں کی طرف دیکھا، گویا خاموشی سے اعلان کر رہا ہو کہ دیکھو میرے نمبر بن گئے۔

"تم سب نرے گدھے ہو!" چیف صاحب نے بے زاری سے کہا۔ "اصل کھوج سراغ رساں کتے لگاتے ہیں۔ ان کی ناک اتنی تیز ہوتی ہے کہ جائے واردات کو دو منٹ سونگھتے ہیں، پھر زمین پر ناک رگڑتے ہوئے سیدھے مجرم کے دروازے تک جا پہنچتے ہیں"۔

یہ کہہ کر وہ سب چمچوں کے چہروں پر نظر دوڑانے لگے، جیسے وہ راز افشا کیا ہو جو نہ ایف بی آئی کو معلوم تھا، نہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کو۔

سب چمچوں کے چہروں پر عقیدت پھیل گئی۔

"سر، یہ کتابوں میں مساجنی سونگھنے والا کتا آخر ملے گا کہاں؟" چمچہ سوم نے معصومیت سے پوچھا۔

چیف صاحب نے عینک کو ناک پر ذرا نیچے سرکایا، کمرے میں نظر دوڑائی اور گویا کائنات کا سب سے بڑا فلسفہ بیان کرتے ہوئے بولے: "عقل کے اندھو! کتا تو خود ایک 'نر بچہ' ہے۔ وہ اپنے ہم جنس قبیلے سے غداری کیوں کرے گا؟ مساجنی صنفِ نازک کے خلاف ایک منظم جرم ہے۔ اس لیے کتابیں سونگھنے کے لیے ہمیں کسی عام کتے کی نہیں، بلکہ ایک عدد خرانٹ، تجربہ کار، عمر رسیدہ اور چالو کتیا کی ضرورت ہوگی جو مساجنی کی بو پاتے ہی غرا غرا کر بھونکنا شروع کر دے"۔

چمچوں کی آنکھیں فرطِ عقیدت سے پھیل گئیں۔ چمچہ چہارم چہکتے ہوئے بولا: "سر، نوبل پرائز کمیٹی اگر آپ کی اس دوراندیشی سے محروم ہے، تو عالمی برادری کی بدقسمتی ہے!"

"مغرب نے واضح عندیہ دے دیا ہے کہ اگر میں اردو ادب سے مساجنی کا مکمل صفایا کر دوں تو اس بار صرف ادب ہی نہیں، امن کا نوبل انعام بھی میری جھولی میں آ سکتا ہے"۔ چیف صاحب نے ایسے انکشاف کیا جیسے ابھی ابھی اوسلو سے خفیہ تار آیا ہو۔

"لیکن سر، ایسی نایاب کتیا آخر ملے گی کہاں؟" چمچہ دوم نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔

چیف صاحب نے اتراتے ہوئے کہا، "میرے انکل نٹور سنگھ رائے لندن میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس ایک چلتر کتیا ہے۔ کتاب کو صرف ایک بار سونگھتی ہے اور فوراً بتا دیتی ہے کہ اس میں مساجنی ہے یا نہیں۔ ہے تو کتنے فیصد ہے، کس صفحے، پیراگراف، جملے میں ہے۔ مصنف نے جان بوجھ کر لکھی ہے یا لاشعوری طور پر۔ میں اسے اپنے ساتھ لے آیا ہوں"۔

سب چمچے حیرت سے منہ کھولے سن رہے تھے۔

"اس کتیا کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگاؤ کہ مساجنی اور فیمی نزم پر اس کے مضامین اور تحقیقی مقالے دنیا کے ہر ملک میں چھپ چکے ہیں۔ پچھلے برس تو اسے اس غیر معمولی علمی خدمت کے اعتراف میں مساجنی کا نوبل انعام بھی ملا تھا"۔

"سر۔۔ اس عظیم کتیا کا اسمِ گرامی کیا ہے؟ اس وقت وہ کہاں تشریف فرما ہے؟" چمچہ اوّل نے عقیدت سے پوچھا۔

چیف صاحب کے چہرے پر فخر کی ایسی لہر دوڑ گئی جیسے کسی نے ان سے ان کی قابل ترین اولاد کا نام پوچھ لیا ہو۔ انہوں نے مونچھوں کو تاؤ دیتے کہا، "پورا نام 'ٹیرا کیسی' ہے، پیار سے 'ٹیرا ٹیرا' کہتے ہیں۔ مساجنی پر اعزازی پی ایچ ڈی بھی ہے۔ اسی لیے علمی حلقوں میں اسے 'ڈاکٹر ٹیرا' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے"۔

وہ ذرا جھکے اور آواز پست کر لی، گویا کوئی ریاستی راز بتانے لگے ہوں۔

"اس وقت وہ میرے بنگلے پر مکمل ریاستی پروٹوکول میں استراحت فرما رہی ہے۔ اب غور سے سنو۔ تم لوگ ٹیرا بی بی کو قومی کتب خانے لے جاؤ گے۔ وہاں ایک ایک شیلف، ایک ایک کتاب، ایک ایک صفحہ اس سے سونگھواؤ گے۔ اگر کسی کتاب میں ذرا بھی مساجنی کا شائبہ ہوا تو وہ فوراً بھونکنے یا غرانے لگے گی۔ پھر تم نے اس کتاب کو بوری میں بند کر دینا ہے۔ یوں پورے کتب خانے کی چھان بین ہو جائے گی"۔

وہ ایک لمحے کو خاموش ہوئے۔

"اور ہاں۔۔ " انہوں نے آہستہ سے اضافہ کیا، "کتابیں جلائی نہیں جائیں گی۔ ہم مہذب لوگ ہیں۔ انہیں ردی میں بیچ دیا جائے گا!"

پھر ایک خفیف سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل گئی۔

"اور ردی کی آمدن۔۔ تم جانتے ہو کہاں جائے گی"۔

جی سر، وہ آپ کے سوئزرلینڈ والے اکاؤنٹ میں جائے گی۔ " ایک چمچے نے کہا"۔

چیف صاحب نے آنکھیں بند کرکے ایک اطمینان بھری سانس لی۔

دس دن بعد وہی کمرہ اور ماحول تھا۔ چیف صاحب کے سامنے فائلیں اس ترتیب سے رکھی تھیں جیسے ادب نہیں، کوئی حساس سیکیورٹی آپریشن مکمل ہوا ہو۔ سب چمچے قطار میں بیٹھے تھے۔

"رپورٹ پیش کی جائے"۔

چمچہ اول فوراً کھڑا ہوا اور رسمی انداز میں پڑھنا شروع کیا۔

"سر ٹیرا بی بی نے تو واقعی کمال کر دیا۔ جیسے ہی اس کے نتھنوں میں مساجنی کی بو داخل ہوئی، وہ ایک دم ٹھٹک گئی۔ کان کھڑے ہو گئے، دم سیدھی ہوگئی، گردن تن گئی اور اس نے ہوا میں دو تین لمبی سانسیں کھینچ کر بو کی سمت کا تعین کیا۔ پھر اچانک دو قدم پیچھے ہٹی، جیسے کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہو۔ اگلے ہی لمحے ایسی جست لگائی کہ سیدھی سامنے والے شیلف کے اوپر جا اتری"۔

"وہاں پہنچتے ہی اس نے غررانا شروع کیا۔ غرررررر۔۔ غررررر۔۔ ایسی گرج دار آواز کہ پورا کتب خانہ لرز اٹھا۔ شیلف ہلنے لگے، گرد کی تہیں ہوا میں تیرنے لگیں۔ یوں لگا جیسے برسوں سے خاموش پڑی کتابیں خوف سے ایک دوسرے کے قریب سمٹ آئی ہوں۔ پھر اچانک غررانے کی جگہ بھونکنے نے لے لی۔ بھوں۔ بھوں۔ بھوں۔ ہر بھونک کے ساتھ کسی نہ کسی کتاب کا ایک صفحہ خود بخود کھل جاتا، جیسے برسوں سے چھپا ہوا کوئی راز اگلنے پر مجبور ہوگیا ہو۔ کچھ کتابوں کے اوراق تیزی سے پھڑپھڑانے لگے، جیسے اپنی صفائی پیش کر رہے ہوں اور کچھ نے شرمندگی سے اپنا منہ بند رکھنے کی ناکام کوشش کی"۔

"اس کے بعد ٹیرا نے اپنے اگلے پنجے زور زور سے زمین پر مارے، پھر انہیں جھاڑا، ناک زمین سے لگائی اور پوری رفتار سے دائیں، بائیں، آگے، پیچھے دوڑنے لگی۔ جہاں ذرا سا بھی شک ہوتا، وہ ایک لمحے میں وہاں پہنچ جاتی۔ کبھی ایک ہی جست میں اوپر والے شیلف پر، کبھی پلک جھپکتے نیچے، کبھی دو الماریوں کے درمیان، تو کبھی کتابوں کے ڈھیر پر چڑھ کر اردگرد کا جائزہ لینے لگتی۔ اس کی پھرتی ایسی کہ چیتا بھی شرما جائے!"

"ابے احمقو!" چیف صاحب نے جھنجھلا کر میز پر مکا مارا"۔ ٹیرا کی آنیاں جانیاں، چھلانگیں، بھونکیں اور غرانے مجھے مت سناؤ۔ اسے میں اندر باہر اور آگے پیچھے سے جانتا ہوں۔ وہ تو سوتی بھی میرے ساتھ ہی ہے۔ اصل بات پر آؤ۔ اعداد و شمار پیش کرو۔ کتنی کتابیں مساجنی آلود نکلیں"۔

"سر، یہ نہ پوچھیے۔ یہ پوچھیے کہ کتنی کتابیں مساجنی سے پاک نکلیں!" چمچہ اوّل نے حسرت سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

"کتنی؟" چیف صاحب نے تجسس اور تشویش کے ملے جلے لہجے میں پوچھا۔

"سر، بہت ہی کم! ٹیرا نے ہر کتاب کو سونگھتے ہی یوں بھونکنا شروع کیا جیسے وہ کلاسک ادب نہیں، مساجنی کا کوئی ٹائم بم ہو"۔ چمچے نے تاسف کا اظہار کیا۔

"سر مشتاق احمد یوسفی کی کتابوں کا تو پوچھیں ہی مت۔ وہاں تو صنفِ نازک کے پینڈولم کی طرح دائیں بائیں لہرانے کے قصیدے پڑھے گئے ہیں، گویا وہ عورت نہ ہوئیں، کلاک کا کوئی پرزہ ہوگئیں"، چمچے نے فائل کھولتے جواب دیا۔

"اور سر، نظیر اکبر آبادی کی کلیات پر تو ٹیرا نے ایسا احتجاجی دھرنا دیا کہ پورا ایک گھنٹہ مسلسل بھونکتی رہی۔ وہ اپنے کلام میں کسی کو آگے اور پیچھے سے کھولتے جا رہے تھے! صرف یہی نہیں سر، شاعری کے جتنے بڑے بت تھے۔۔ میر، غالب، فیض، فراز۔۔ سب کے سب مساجنی کے گناہِ کبیرہ میں ملوث نکلے۔ ان ناہنجاروں نے عورت کو صنفِ نازک کے بجائے پورا چڑیا گھر بنا دیا۔ کہیں غزالی آنکھیں، کہیں کوئل جیسی آواز، تو کہیں ہرنی جیسی چال اور محاوروں کی شکل میں جو زہر گھولا گیا، وہ تو حدِ ادب سے باہر ہے۔ پورا ادب بڈھی گھوڑی لال لگام، چھپن چھری، چھنال، آفت کی پرکالہ، نانی نےخصم کیا، بارہ من کی دھوبن، نہ رادھا ناچے گی جیسے بے ہودہ محاوروں سے اٹا اٹ بھرا پڑا ہے"۔

"ہیں؟"

"سر ابھی تو بڑے نامی گرامی مجرم باقی ہیں"۔ چمچے نے ایک اور ضخیم فائل چیف صاحب کے سامنے ڈھیر کرتے ہوئے کہا۔

"سر، پطرس بخاری اپنے مضامین میں کہتے ہیں کہ عورتوں کی عقل پاؤں کی ایڑی میں ہوتی ہے اور 'کتے' والے مضمون پر تو ٹیرا بی بی نے اس لیے غصہ کیا کہ پطرس نے کتوں کو سڑکوں پر بھونکنے اور پوزیشنیں بدلنے کا طعنہ دیا، جسے ٹیرا بی بی نے اپنے بنیادی حقوق پر حملہ سمجھا اور سر ابنِ انشا کا تو پوچھیں ہی مت۔ صنفِ نازک کو یوں رگڑا لگایا ہے کہ عورت ایک ایسی جڑی بوٹی ہے جو ہر جگہ اگ آتی ہے اور اس کی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے تو شاعری میں بھی 'انشا جی اٹھو اب کوچ کرو' کہہ کر رات بھر کسی کے کوچے میں بیٹھنے کا اعترافِ جرم کیا ہے جو سراسر ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے!"

"اور سر سب سے بڑا دھماکہ تو سعادت حسن منٹو کی فائلوں میں ہوا"۔ چمچے نے کانپتی آواز میں کہا۔

"ان کی کتابوں کو سونگھتے ہی ٹیرا بی بی کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ جسے 'سیاہ حاشیے' کہتے ہیں، وہ تو دراصل مردانہ بالادستی کے سیاہ کارنامے ہیں۔ منٹو نے تو عورت کو کبھی 'ٹھنڈا گوشت' بنا دیا، کبھی 'کالی شلوار' پہنا دی اور کبھی 'ہتک' کرکے سڑک پر کھڑا کر دیا۔ سوسائٹی کے ماتھے پر ایسا کلنک چمٹایا ہے کہ ٹیرا نے غصے میں منٹو کی کلیات کا تہائی حصہ تو چبا ہی ڈالا"۔

"توبہ ہے توبہ! یہ تو پورا ساہتیہ ہی مساجنی کا گڑھ نکلا"۔ چیف صاحب نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے گہرا سانس لیا۔

"سر، ایک نہایت تشویشناک بات آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں"۔ چمچہ پنجم نے ادب سے ہاتھ کھڑا کیا۔

"بولو!"

"سر، اس کتیا کی مساجنی سونگھنے کی حس میں شدید خرابی ہے"۔

"وہ کیسے؟"

"سر، جس متن پر یہ پوری جانفشانی سے غرائی، بھونکی اور دم تک ہلا ہلا کر اعتراض کرتی رہی، وہ سب مردوں کا لکھا ہوا نکلا۔ حالانکہ اس سے کہیں زیادہ تیز، کٹیلی اور مرد بیزار تحریریں تو ہماری بعض خواتین لکھاری برسوں سے لکھتی آئی ہیں"۔

"مثلاً کون؟"

"سر، عصمت چغتائی، امرتا پریتم، قرة العین حیدر، بانو قدسیہ، شمع خالد، بشریٰ رحمان اور بھی کئی نام ہیں۔

چیف صاحب نے چند لمحے گہری سوچ میں گزارے، پھر بولے:

"ارے ہاں۔۔ ان خواتین نے تو واقعی 'انی تُنی' مچا رکھی ہے۔ پھر یہ بتاؤ، جن کتابوں کو ٹیرا بی بی نے مساجنی سے پاک قرار دیا۔۔ وہ انہی خواتین کی تھیں؟"

"یس سر!"

چیف صاحب چند لمحے خاموش رہے، جیسے دماغ میں منطق کی فیکٹری پوری رفتار سے چل رہی ہو۔ پھر اچانک ان کے چہرے پر انکشافِ عظیم کی چمک آئی اور وہ اس شان سے بولے، جیسے ابھی ابھی ارسطو کو بھی غلط ثابت کرکے آئے ہوں۔

"جاہلو، تمہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ ٹیرا بی بی ایک کتیا ہے، یعنی مادہ۔ بھلا وہ اپنے ہی قبیلے پر کیسے غرا سکتی ہے؟ اس کے بھی کچھ صنفی تقاضے ہیں۔ پھر یہ بھی یاد رکھو کہ مغرب میں فیمی نزم کا وائرس اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اگر ہم نے کسی خاتون لکھاری کی کتاب کو مساجنی قرار دے کر ردی والے کے حوالے کر دیا تو فوراً عورت دشمنی، صنفی امتیاز اور نہ جانے کن کن جرائم کی ایف آئی آر ہمارے نام کٹ جائے گی۔ اس لیے اصول یہ ہے کہ مساجنی صرف وہی ہوگی جو مرد نے لکھی ہو اور اگر وہی بات کسی عورت نے لکھی ہو تو اسے نسوانی بصیرت، تخلیقی جرات اور فکری مزاحمت کہا جائے گا۔ یہی بین الاقوامی معیار ہے اور ہم عالمی معیار سے نیچے نہیں گر سکتے"۔

"ویسے سر، ایک بات میری سمجھ میں آج تک نہیں آئی۔۔ " چمچہ پنجم نے کھجلاتے ہوئے کہا۔

"کیا؟"

"سر، میں نے بڑے غور سے دیکھا، ٹیرا بی بی نے پورے کتب خانے میں کسی ایک انگریزی ادب کی کتاب پر نہ غرانا مناسب سمجھا، نہ بھونکنا۔ حالانکہ آپ تو انگریزی ادب کے چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ آپ ہی بتائیے، شیکسپیئر، لارڈ بائرن، برنارڈ شا، آسکر وائلڈ، ڈی ایچ لارنس، جارج ارویل اور نہ جانے کتنے انگریزی ادیبوں پر آج کے معیار کے مطابق مساجنی کے فتوے برسوں سے لگتے آ رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کی طرف ٹیرا بی بی نے دانت بھی نہیں دکھائے"۔

"ابے بے وقوف!" چیف صاحب نے جھنجھلا کر کہا۔ "ٹیرا بی بی کو انگریزی نہیں آتی۔ وہ صرف نام کی ٹیرا ہے۔ میرے انکل نٹور سنگھ رائے لندن میں ضرور رہتے ہیں مگر ہیں دیسی۔ ٹیرا کی تعلیم و تربیت اردو میں ہوئی ہے۔ اسی لیے وہ انگریزی مساجنی سونگھ ہی نہیں سکتی"۔

"تو سر۔۔ کیا وہ صرف اردو مساجنی ہی سونگھ سکتی ہے؟"

"اور کیا!" چیف صاحب نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے فرمایا۔ "ہر زبان کی مساجنی الگ ہوتی ہے۔ انگریزی مساجنی سونگھنے کے لیے اعلی انگریزی نسل کی تربیت یافتہ بِچ چاہیے۔ ٹیرا بیچاری تو لوکل بِچ ہے"۔

"سبحان اللہ۔ سر نے تو ایک لمحے میں معمہ حل کر دیا!"

"بہت ہوگئی خوشامد۔ یہ بتاؤ اب آگے کیا کیا جائے؟"

"سر، ایک آسان سا حل ہے۔۔ ٹیرا بی بی کی آپ بیتی کتب خانے میں شامل کر دیجیے"۔ چمچہ اول بولا۔

"ابے الو! کروڑوں کتابیں ردی میں بیچ کر اتنے بڑے قومی کتب خانے کو ایک ہی کتاب سے بھرو گے؟" چیف صاحب نے غصے سے کہا۔ "لیکن تم لوگوں کی رپورٹ نے مجھے ایک انقلابی آئیڈیا دیا ہے۔ اب ہم عالمی ادب کا اردو میں دھڑا دھڑ ترجمہ کرائیں گے اور ان ہی سے اپنا قومی کتب خانہ بھر دیں گے"۔

"لیکن سر۔۔ جب انگریزی کتابیں اردو میں ترجمہ ہو جائیں گی تو ٹیرا بی بی انہیں بھی سونگھ سونگھ کر بھونکنا شروع کر دے گی"۔ چمچہ پنجم بولا۔

"ارے احمق! یہ ڈونر فنڈڈ بِچ ہے۔ ڈونر کے ادب پر نہیں بھونکتی۔ وہاں اس کی حسِ شامہ خود بخود معطل ہو جاتی ہے۔ بڑی وفادار بِچ ہے"۔

"تو سر، پھر آپ کن کن کتابوں کے اردو ترجمے کی منظوری دیں گے؟ چمچوں نے نوٹ بک کھولتے پوچھا۔

"سب سے پہلے جیمز جوائس کے یولیسس کا ترجمہ کراؤ شاندار کاغذ اور دیدہ زیب جلد میں اور تعارف ایسا ہو کہ پڑھنے والا پہلے ہی صفحے پر اپنے آپ کو جاہل سمجھنے لگے"۔

"مگر سر، وہ تو انتہائی بکواس، فحش، ردی اور مساجنی میں لتھڑا ناول ہے اور جو بکواس انگریزی میں انگریزوں کو سمجھ نہ آئے، وہ ہماری اردو ریڈرشپ کو کیا خاک سمجھ آئے گی؟" چمچہ پنجم نے دبے لہجے میں کہا۔

"ابے مجھے معلوم ہے! وہ ناول تو دیوار پر دے مارنے کے قابل ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ میرے انکل نٹور سنگھ رائے اور ٹیرا کا فیورٹ ہے۔ رائے انکل اسے دنیا کا عظیم ترین شاہکار قرار دے چکے ہیں!"

"مگر سر، ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ ٹیرا کو انگریزی نہیں آتی۔ پھر یہ ناول اس کا فیورٹ کیسے ہوگیا؟"

"ابے ٹیرا کو ناول نہیں اپنے مالک کی رائے سمجھ آتی ہے۔ انکل رائے جس کتاب کو شاہکار کہہ دیں، ٹیرا بھی اسی پر دم ہلانے لگتی ہے۔ وفاداری اسی کا نام ہے"۔

"واہ سر!" چمچہ اوّل بے اختیار بولا۔ "کیا بات ہے۔ سبحان اللہ!"

"اب بکواس بند!" چیف صاحب نے حکم صادر کیا۔ "چیٹ جی پی ٹی کھولو۔ ایک پرامپٹ دو، تین چار گھنٹوں میں ترجمہ تیار کرو، کسی بڑے مترجم کا نام چسپاں کرو، دیباچے میں لکھو کہ یہ اردو میں ایسا کارنامہ ہے جو اردو کو آج تک کوئی نہ دے سکا!"