1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. امان اللہ خان اچکزئی
Muhammad Naseem

امان اللہ خان اچکزئی

اسلامی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کا بنیادی جوہر مخلوقِ خدا کی نفع رسانی، الفت اور ان کے دردوالم کی غم خواری میں مضمر ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بہترین انسان وہی ہے جو بلا تفریقِ رنگ و نسل انسانیت کے کام آئے، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے اور معاشرے کے تہی دست و مظلوم طبقات کے لیے سہارا بن جائے۔ خدمتِ خلق صرف مالی اعانت کا نام نہیں بلکہ علمی، تعلیمی، اخلاقی، قبائلی اور کھیلوں کے ذریعے نوجوان نسل کی مثبت سمت میں رہنمائی بھی خدمتِ خلق کی عظیم تر شکلوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسی فلسفہِ خدمت اور جذبہِ حبُ الوطن کے ایک روشن ستارے کا نام مایہ ناز استاد، عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ اور پاکستان ووشو فیڈریشن کے سابق صدر شہید امان اللہ خان اچکزئی تھا۔ جو ضلع چمن سے ابھرنے والے اس روشن ستارے نے اپنی جوانی، صلاحیتیں اور زندگی کے تمام قیمتی لمحات اپنے وطن، قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کی دفاع و تربیت اور تعمیمی ارتقاء کے لیے وقف کر دیے تھے۔ شہید امان اللہ خان اچکزئی کسی تعارفی القابات کے محتاج نہیں، وہ اپنی پیشہ ورانہ، دفتری، قبائلی اور کھیلوں کی بے لوث خدمات کے باعث خود ایک روشن ترین مثال تھے۔

1985ء سے تا دمِ شہادت کھیلوں کی دنیا سے منسلک رہنے والے اس عظیم فرزندِ زمین نے ربع صدی پر محیط دورانیے میں پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کیا۔ ایران، چین، افغانستان اور دیگر غیر ملکی میدانوں میں ووشو اور کک باکسنگ کے مقابلے جیت کر اور ملکی پرچم سربلند کرکے انہوں نے ثابت کیا کہ عزمِ مصمم اور سچی نیت کے سامنے وسائل کی کمی کبھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ شہید سر امان اللہ خان اچکزئی کی کاوشیں اور ان کے جدوجہد و تربیتی اقدامات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے چمن میں "بلدیہ ووشو کنگفو کلب" کے نام سے ایک اعلیٰ اور پیشہ ورانہ مرکز قائم کیا، جہاں نہ صرف مقامی نوجوان بلکہ پاک آرمی، ایف سی، پولیس اور لیویز کے اہلکار بھی اعلیٰ درجے کی ٹریننگ حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس تربیتی ادارے سے نکلنے والے لاتعداد کھلاڑیوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر معرکے سر کیے اور ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔

درحقیقت، شہید نے اپنی زندگی کا مقصد صرف کھیل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ نوجوانوں کو منشیات، منفی سرگرمیوں، باہمی نفرتوں اور معاشرتی برائیوں سے دور رکھ کر ان میں حبُ الوطنی، یکجہتی اور مثبت سوچ کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا۔ شخصیت اور کردار کے لحاظ سے شہید امان اللہ خان اچکزئی انتہائی مخلص، بااخلاق، مظلوموں کے ہمدرد، نڈر اور نفیس مزاج انسان تھے۔ ہر قسم کے تعصب، لالچ اور قوم پرستی سے پاک ذہن کے مالک امان اللہ خان اچکزئی روایتی پشتون مہمان نوازی اور داد و دہش کی اعلیٰ ترین مثال تھے۔

چمن شہر کے تاریخی گاؤں رحمن کہول سے تعلق رکھنے والے اس عظیم فرزند نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور مردہ کاریز سے حاصل کی، جبکہ چمن ماڈل ہائی سکول سے میٹرک اور چمن ڈگری کالج سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ نامساعد حالات اور غربت کے باعث تعلیم کا سلسلہ مزید جاری نہ رکھ سکے اور میونسپل کارپوریشن میں بطور ٹیکس انچارج (ایڈمنسٹریشن) ملازمت اختیار کر لی، جہاں بعد ازاں اپنی قابلیت کی بنا پر گریڈ 17 کے چیف آفیسر کے عہدے تک پہنچے۔ سرکاری امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ووشو اور کنگفو سے ان کا عشق لازوال رہا۔ مختلف ملکی و غیر ملکی بالخصوص چائنیز استادوں اور پاکستان ریلوے کے نامور کوچ استاد عبدالحمید سے تربیت حاصل کرکے 1995ء میں بلیک بیلٹ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور نجی سطح پر تربیتی کلب کی بنیاد رکھی۔

2008ء میں دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے پہلے مقابلے کا آغاز گورنمنٹ ہائی سکول چمن سے کیا جہاں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے 5 مرتبہ صوبائی چیمپئن شپ، متعدد بار نیشنل چیمپئن شپ جیتیں اور متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں بطور کھلاڑی اور پاکستانی ٹیم کے قومی کوچ کی حیثیت سے ملکی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے تربیت یافتہ کھلاڑیوں میں اسد اللہ خان حسرت، ظہور خان، بشیر احمد خان اور محمد زئی جیسے سینکڑوں نامور کھلاڑی شامل ہیں جو ملکی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی بے لوث اور بے مثال خدمات کے اعتراف میں سال 2021ء میں پاکستان سپورٹس بورڈ اسلام آباد کے جنرل کونسل اجلاس میں چاروں صوبوں اور وفاقی ڈیپارٹمنٹس کے نمائندوں نے متفقہ طور پر امان اللہ خان اچکزئی کو پاکستان ووشو فیڈریشن کا مرکزی صدر منتخب کیا۔

ان کی قیادت میں ووشو کو ملک گیر سطح پر نئی جلا ملی اور سول ڈیفنس سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ ان کے بہترین روابط استوار ہوئے۔ مگر افسوس کہ سچائی، شجاعت، اخلاص اور باہمی بھائی چارے کی یہ شمع ایک قبائلی و قومی تنازع کے ناگہانی حادثے میں بجھ گئی اور صوبہ بلوچستان کا یہ فخر، مایہ ناز استاد اور غریب پرور رہنماء شہادت کے مرتبے پر فائز ہو کر اپنے آبائی گاؤں میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

6 ستمبر کو شہید امان اللہ خان اچکزئی کی پانچویں برسی نہایت عقیدت، احترام اور جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ حسبِ روایت امسال بھی اس پروقار تقریب میں سپورٹس کی دنیا سے منسلک شخصیات، علاقائی و قبائلی قائدین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے ختمِ قرآن کا اہتمام کیا گیا اور ان کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شہید امان اللہ خان اچکزئی کے مشن، جدوجہد و ورزشی فلسفے اور قبائلی فلاحی خدمات کے تسلسل کو اب ان کے چھوٹے بھائی اور جانشین، نوجوان رہنماء سکندر احمد خان اچکزئی نہایت ثابت قدمی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔

سکندر احمد خان اچکزئی جس حوصلے، ہمت اور ایثار سے اپنے شہید بھائی کے نقوشِ قدم پر گامزن ہیں، وہ اس بات کی ضمانت ہے کہ شہید کا مشن، ان کے تربیتی مراکز اور عوام کی خدمت کا کاوش نامہ کبھی مدہم نہیں پڑے گا۔ شہید امان اللہ خان اچکزئی کا وجود اگرچہ ہم سے جدا ہو چکا ہے، مگر ان کے چھوڑے ہوئے نقشِ پا، نوجوانوں کی تربیت کا جذبہ، حبُ الوطنی اور خدمات کا روشن باب تاریخ کے صفحات پر تا ابد جاویداں رہے گا۔