1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. ظالم کا محافظ، مظلوم کا وکیل

ظالم کا محافظ، مظلوم کا وکیل

تاریخِ انسانی کا اگر بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو ایک سنگین اور تلخ حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہر دور میں طاقت کا محور دو متضاد طبقات کے گرد گھومتا رہا ہے: ایک وہ جو سچائی اور انصاف کی پاسداری کرتے ہوئے مظلوم کا سہارا بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو ذاتی مفادات، اقتدار کی ہوس اور سیاسی یا معاشی جبر کے تحت ظالم کی ڈھال بن جاتے ہیں۔ انسانی معاشروں کا ارتقاء جہاں سائنسی اور فکری لحاظ سے بلند تر سطح پر پہنچ چکا ہے، وہاں اخلاقی اور قانونی سطح پر یہ تلخ حقیقت آج بھی قائم ہے کہ طاقتور کا قانون الگ ہے اور کمزور کا قانون الگ۔

"ظالم کا محافظ اور مظلوم کا وکیل" محض ایک فرضی یا جذباتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا فکری اور تاریخی بیانیہ ہے جو عالمی اور پاکستانی دونوں سطحوں پر اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک سنگین سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہے۔ تاریخی اعتبار سے فکری اور نظریاتی معرکوں میں ظالم کے محافظ اور مظلوم کے وکیل کا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں رہا ہے۔ اگر ہم قدیم ترین تاریخ کا جائزہ لیں تو فرعون، نمرود اور شداد جیسے متکبر حکمران محض فردِ واحد نہیں تھے، بلکہ ان کے گرد ایک پورا طبقہ قائم تھا جو ان کے مظالم کو جواز فراہم کرتا تھا، ان کی حکومت کی قانونی اور معاشی پشت پناہی کرتا تھا اور یوں وہ "ظالم کے محافظ" کی صورت اختیار کر جاتے تھے۔

اس کے برعکس ان کے سامنے کھڑے ہونے والے انبیاء، فلاسفہ اور مصلحین نے بلا خوفِ خطر مظلوم کے وکیل کا کردار ادا کیا۔ حضرت موسیٰؑ کا فرعون کے درباری جاہ و جلال کے سامنے بنی اسرائیل کی آزادی اور حقوق کی بات کرنا مظلوم کی وکالت کی بہترین تاریخی مثال ہے۔ دورِ اسلام میں واقعۂ کربلا ظالم کی حمایت اور مظلوم کی وکالت کا سب سے بڑا تاریخی، علمی اور انقلابی استعارہ بن کر ابھرا۔ یزید کی آمرانہ اور سفاکانہ طاقت کے سامنے حضرت امام حسینؑ اور ان کے خانوادے نے جو لازوال قربانیاں دیں، وہ قیامت تک کے لیے ظالم کی سرپرستی کرنے والی قوتوں کے خلاف مظلوموں کا وکالت نامہ بن گئیں۔

عالمی سطح پر اگر ہم بین الاقوامی قانون، حقوقِ انسانی کے چارٹرز اور جدید طاقت کے توازن کا تجزیہ کریں تو ظالم کی محافظت کا ایک مربوط اور تعصب پر مبنی نظام دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کا قیام اس وعدے کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ عالمی سطح پر مظلوم اقوام کا تحفظ کیا جائے گا اور جارحیت کی روک تھام ہوگی، لیکن اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں "ویٹو پاور" کی وجودی ساخت نے خود کو ظالم کے سب سے بڑے قانونی محافظ میں تبدیل کر دیا۔ فلسطین اور کشمیری عوام کی دہائیوں سے جاری نسل کشی، غصب شدہ حقوق اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پامالی پر بین الاقوامی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی اور جارحانہ قوتوں کو ہتھیاروں اور مالی امداد کی فراہمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی نظامِ انصاف خود ظالم کی ڈھال بنا ہوا ہے۔

جب کسی مظلوم قوم پر بمباری ہوتی ہے تو عالمی طاقتیں انسانی حقوق کے تمام تر دعوؤں کو بالائے طاق رکھ کر جابر حکومت کے "دفاع کے حق" کی وکالت کرتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ اپنے گھر، زمین اور زندگی کی بقاء کی جنگ لڑنے والے مظلوموں کو دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس نے جدید جمہوریت اور بین الاقوامی قانون کے منہ پر ایک طمانچہ مارا ہے۔ پاکستانی سطح پر اگر اس تاریخی اور سیاسی صورتحال کا موازنہ کیا جائے تو یہاں بھی سیاسی، معاشی اور عدالتی ڈھانچوں کے اندر ظالم کے محافظ اور مظلوم کے وکیل کی کشمکش پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ پاکستان کی ابتدائی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی تھی کہ یہ ریاست معاشرتی انصاف، مساوات اور مظلوم طبقات کی سرپرستی کی علامت ہوگی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہاں جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور بیوروکریٹک اشرافیہ کا ایک ایسا گٹھ جوڑ تشکیل پا گیا جو ہر دور میں ظالم کا حامی رہا۔

پاکستان میں این آئی آر سی، ضابطہ فوجداری اور مروجہ قوانین کا عام شہری کے لیے نفاذ اتنا سخت ہے کہ مظلوم اپنے حق کے حصول کے لیے زندگی بھر عدالتوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے، جبکہ بااثر اور طاقتور طبقات کے لیے قوانین کو موم کی ناک بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں تھانہ کلچر، وڈیرا شاہی اور سیاسی اثر و رسوخ کے تحت مظلوم کو مسلسل دبایا جاتا ہے۔ ایک عام غریب کسان، محنت کش یا شہری جب کسی طاقتور کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو پورا ریاستی و انتظامی مشینری کا نظام ظالم کو تحفظ دینے کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔

میڈیا کے کچھ حصے، پولیس کا نظام اور قانونی شقوں کی ناپسندیدہ تاویلات اکثر و بیشتر جابر قوتوں کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے استوار کی جاتی ہیں۔ تاہم اس تاریک منظرنامے میں بھی پاکستان کی تاریخ ایسے باشعور وکلاء، صحافیوں، فکری رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ہر آمریت، ہر قانون شکنی اور ہر طاقتور طبقاتی جبر کے سامنے مظلوم کا وکیل بن کر اپنی جان اور مال کی پروا کیے بغیر جدوجہد کی۔ اس پوری تلخ حقیقت کا سائنسی اور علمی خلاصہ یہ ہے کہ مظلوم کا وکیل بننا صرف ایک اخلاقی یا جذباتی فریضہ نہیں بلکہ معاشرتی اور اجتماعی توازن کی بقاء کی بنیاد ہے۔ اگر کسی بھی ریاست یا عالمی برادری کے اندر ظالم کے محافظوں کی تعداد اور ان کا اثر و رسوخ بڑھ جائے اور مظلوم کے وکیل کی آواز کو دبا دیا جائے، تو وہ معاشرہ اندرونی طور پر تباہی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ناانصافی پر مبنی نظام کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔

اصلاحِ احوال کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی کو محض ایک نعرہ بنانے کے بجائے اس کو عملی شکل دی جائے، جہاں عدالتیں اور ریاستی ادارے بلا امتیاز و تعصب صرف اور صرف مظلوم کے وکیل کا کردار ادا کریں اور ظالم خواہ کتنا ہی مقتدر کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے ہم ایک باوقار، منصفانہ اور پائیدار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔