1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. قبر سے پہلے کی قبر

قبر سے پہلے کی قبر

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد، طبقہ یا حاکم اپنے اقتدار، طاقت اور غرور کے نشے میں بد مست ہو کر دوسروں کی آزادی اور سکون کو سلب کرتا ہے تو وہ نمرود اور فرعون کی ظلم کو زندہ کر رہا ہوتا ہے۔ ماضی کے فرعونوں کا ذکر تو ہم تاریخ کے اوراق اور آسمانی کتابوں میں پڑھتے ہیں جنہوں نے اپنے دور کے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور خداوندی کا دعویٰ کیا، لیکن آج کے جدید اور متمدن دور کا سب سے تلخ سچ یہ ہے کہ ہمارے گرد و پیش میں فرعونیت کا خاتمہ نہیں ہواہے۔ بلکہ اس نے اپنا روپ بدل لیا ہے۔

آج کا فرعون صرف مصر کی سرزمین اور دریائے نیل کے کنارے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے گھروں، گلیوں، محلوں، قصبوں اور ریاستی ایوانوں میں رنگ بدل کر سانس لے رہا ہے۔ اس جدید فرعونیت کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ اس نے انسانی زندگیوں کو ایسا مفلوج اور تاریک بنا دیا ہے کہ لوگ جیتی جاگتی زندگی میں ہی ایک ایسی اذیت سے گزر رہے ہیں جسے "قبر سے پہلے کی قبر" کہنا بیجا نہ ہوگا۔ جب کسی انسان سے اس کی سانس لینے کی آزادی، اس کا مان، اس کا سکون اور اس کا بنیادی انسانی وقار چھین لیا جائے تو اس کے لیے یہ کشادہ دنیا اور اس کی تمام تر رنگینیاں ایک تنگ اور اندھیری قبر سے زیادہ کچھ نہیں رہتی۔ اگر اس فتنے کا آغاز ہم سب سے چھوٹے اور بنیادی معاشرتی یونٹ یعنی گھر سے کریں تو ہمیں یہاں "گھر کے فرعون" ملتے ہیں۔

گھر جس کا بنیادی مقصد انسان کو دنیا کی تمام تر تھکاوٹ اور بیرونی تلخیوں سے پناہ دینا اور سکون فراہم کرنا ہوتا ہے، وہ بدقسمتی سے کئی معصوم بچوں، بے بس عورتوں اور بوڑھے والدین کے لیے ایک جیتا جاگتا دوزخ اور قبر بن چکا ہے۔ کسی گھر میں ایک خودسر، جابر اور بد مزاج سرپرست کا ہونا پورے خاندان کی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔ ایسے شخص کے گھر میں داخل ہوتے ہی ہر طرف خوف کا سکتہ طاری ہو جاتا ہے، بچوں کی ہنسی جم جاتی ہے، عورتوں کا مان ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے و روزمرہ کی گالی گلوچ اور جذباتی و جسمانی تشدد سے ان کی روحیں زخمی ہوتی رہتی ہیں۔

عورتیں جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر ایک روشن مستقبل کی امید میں آتی ہیں، وہ اس گھریلو فرعون کی تسلط پسندانہ سوچ کا شکار ہو کر چار دیواری کے اندر گُھٹ گُھٹ کر جینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہی صورتحال معصوم بچوں کی بھی ہے جن کا بچپن اس خوف اور دباؤ کے نیچے دب کر مر جاتا ہے۔ یہ مظلوم افراد اپنے ہی گھر میں اس قدر بے بس، قیدی اور سہمے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے وہ گھر ایک سانس لیتی ہوئی قبر کا منظر پیش کرتا ہے جہاں وہ ہر لمحہ جیتے اور مرتے ہیں۔ گھر کی حدود سے باہر نکلیں تو معاشرے کا اگلا مرحلہ ہمارا محلہ اور پڑوس ہے، جہاں ہم "محلے کے فرعون" کا روپ دیکھتے ہیں۔ یہ وہ بدقماش، اثر و رسوخ والے یا بد زبان عناصر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے ارد گرد کے پڑوسیوں کی زندگی حرام کر رکھی ہوتی ہے۔ کبھی اپنے غلط رویے، ناجائز قبضوں، اونچی آوازوں، راستے کی بندش، گندگی پھیلانے اور بیجا دھونس دھمکیوں کے ذریعے وہ شرافت پسند اور کمزور ہمسایوں کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں۔

ایک شریف انسان جو دن بھر کی محنت مشقت کے بعد اپنے محلے میں سکون کی سانس لینا چاہتا ہے، وہ ان گلی کے فرعونوں کی غنڈہ گردی اور بدتمیزی کے سامنے خود کو بالکل بے بس پاتا ہے۔ قانون کی عدم موجودگی یا ناانصافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ محلے کے فرعون کمزوروں کو نیچا دکھانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ شریف لوگ کسی بھی لڑائی جھگڑے اور بے عزتی کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور یہ خاموشی دراصل ان کی اس ذہنی اذیت کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو انہیں روزانہ اپنے ہی محلے میں سہنی پڑتی ہے۔ یوں ایک پورا شریف خاندان اپنے ہی گھر اور گلی میں ایک غیر مرئی قید و بند اور اذیت ناک سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔

اب ذرا دائرے کو مزید وسیع کریں اور شہروں، قصبوں اور مجموعی طور پر ملک و وطن کے سطح پر دیکھیں تو وہاں ہمیں اقتدار، بیوروکریسی اور طاقت کی مسندوں پر بیٹھے "ریاستی اور سیاسی فرعون" نظر آتے ہیں۔ جب کوئی جابر، خود غرض اور نااہل حاکم یا طاقتور طبقہ عوام پر مسلط ہو جاتا ہے تو وہ پورے کے پورے ملک کو ایک بڑی کھلی جیل اور زندہ انسانوں کی قبرستان میں بدل دیتا ہے۔ ایسے مسلط شدہ فرعونوں کو عوام کی تکلیف، بھوک، بیماری اور بے روزگاری سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ اپنے اقتدار کی طوالت، ذاتی مفادات اور انا کی تسکین کے لیے پورے قصبے، شہر اور ملک کا امن و سکون تباہ کر دیتے ہیں۔

مہنگائی کا بوجھ، ناانصافی کا زہر، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور حقوق کی پامالی سے جب عوام کی کمر ٹوٹ جاتی ہے تو وہ چیخ بھی نہیں سکتے کیونکہ بولنے پر پابندی، جبر اور تشدد ان کا منتظر ہوتا ہے۔ قانون کو ان فرعونوں نے اپنی باندی بنا رکھا ہوتا ہے، جہاں طاقتور کے لیے کوئی قانون نہیں اور کمزور کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ جب ایک عام شہری انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتا ہے، جب ایک باپ اپنے بچوں کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا حاصل نہیں کر پاتا اور جب نوجوان اپنی تعلیم اور ڈگریوں کے باوجود اندھیروں میں بھٹکتے ہیں تو وہ سڑکوں پر چلتے ہوئے بھی اندر سے مردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

یہ محض ایک سیاسی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بدترین انسانی اور اخلاقی بحران ہے۔ جب انسان سے اس کی امید، اس کی عزتِ نفس اور اس کا سکھ چین لیا جائے تو اس کا جسم تو چلتا پھرتا نظر آتا ہے لیکن اس کی روح مر چکی ہوتی ہے۔ چاہے وہ گھر کا ظالم مرد ہو، محلے کا بدذات زور آور ہو، یا ملک پر مسلط کوئی جابر حکمران۔ یہ تمام جدید دور کے فرعون انسانوں کی روح کا قتل عام کر رہے ہیں۔

ہمیں یہ تلخ حقیقت ماننی ہوگی کہ ہم نے اپنے اردگرد ایک ایسا بھیانک ماحول بنا دیا ہے جہاں بندہ زندہ تو ہے مگر سانس نہیں لے پا رہا، جہاں انسان آزاد تو نظر آتا ہے مگر وہ اندر سے جکڑا ہوا ہے۔ اگر اس معاشرتی اور اجتماعی فرعونیت کے خلاف عدل، رحم، اخلاقیات اور آوازِ حق کو بلندو استوار نہ کیا گیا تو یہ کشادہ دنیا یوں ہی مظلوموں کے لیے "قبر سے پہلے کی قبر" بنی رہے گی اور تاریخ کا کوڑا ایک دن ان تمام فرعونوں کو اسی طرح غرق کر دے گا جیسے ماضی کے فرعونوں کو کیا تھا، لیکن اس وقت تک کئی نسلیں اس قبر کی گھٹن کا شکار ہو چکی ہوں گی۔