1. ہوم
  2. کالمز
  3. ناصر عباس نیّر
  4. شاعری، زبان، پورا آدمی، کوزہ گری

شاعری، زبان، پورا آدمی، کوزہ گری

شاعری کا ایک امتیاز اس کی زبان بھی ہے۔ بجا کہ زبان ہر جگہ، ہر پل ہمارے ساتھ ہے۔ دوسرے آدمی سے بات چیت سے لے کر خود سے کلام تک۔ گھر میں عام بول چال سے، مدارس، مساجد، جامعات، بازار، میڈیا تک اور منطق وفلسفہ سے مذہب، فکشن، تاریخ، فلسفہ و سائنس تک۔ زبان، اپنے مکمل وجود کے ساتھ کہیں ظاہر نہیں ہوپاتی۔

یہ صرف شاعری ہے جس میں پوری زبان ظاہر ہوتی ہے۔ اپنے لغوی، مجازی، تمثیلی، استعاراتی، علامتی، تجریدی پہلوؤں کے ساتھ۔

تسلیم کہ پورا انسان کہیں ظاہر نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی تسلیم کہ زبان، انسان کی سب سے اہم، سب سے پیچیدہ اور سب سے عظیم ایجاد ہے، بجا کہ زبان، دنیا میں انسان کے موجود ہونے اور اس دنیا کو سمجھنے، برتنے کی سب سے بڑی مظہر ہے، ا س کے باوجود زبان پورے انسان کا بوجھ سہارنے سے قاصر ہے۔

لیکن انسان کے دل و وجدان، ذہن وتخیل کی وحشت بھری دنیائیں اگر کہیں، زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوسکتی ہیں تو وہ شاعری ہی ہے۔ شاعری پورے انسان کابوجھ اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہے!

سیفو نے کہا: "جسے ہم کہہ نہیں سکتے، اسے رو دیتے ہیں"۔

ضروری نہیں کہ آنکھوں سے روئیں، ہم شاعری میں رو دیتے ہیں۔ جو آنسو شاعر ی میں گرتے ہیں، وہ کبھی آنکھ سے نہیں ٹپکے ہوتے۔ آنکھ سے ٹپکے آنسو خشک ہوجایا کرتے ہیں، بے اثر بھی رہا کرتے ہیں، مگر شاعری میں گرنے والے آنسو، دنیا، تقدیر اور دوسرے آدمی کے خلاف استغاثہ بن کر سدا باقی رہتے ہیں اور ان کا اثر قرنوں تک ہوا کرتا ہے۔

ہمارے میر صاحب نے کہا:

میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

زبان میں بے شک پورا آدمی ظاہر نہیں ہوسکتا، مگر شاعری میں پوری زبان ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ پوری زبان کیا ہے؟ اس کا جواب بھی ہمیں شاعری میں ملتا ہے۔ شاعری میں الفاظ اپنی صوتی ومعنوی حدوں کو کھوجتے ہیں، پھر ان حدوں کو توڑ دیتے ہیں اور نئی حدیں قائم کرتے ہیں، پھر ا نھیں بھی توڑ دیتے ہیں۔ شاعری کی زبان میں بننے بگڑنے، ظہور واخفا، تخلیق وتخریب کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

شاعری، زبان کی موت کے خلاف، سب سے بڑی جدوجہد ہے۔ جس زبان میں اعلیٰ شاعری موجود ہے، اسے موت سے کوئی خطرہ نہیں۔

دیکھیے، آج سے تین ہزار بر س پہلے سیفو نے شاعری کی زبان سے متعلق کیا کہا تھا:

کیا میں ایسے الفاظ لکھ سکتی ہوں، جو بدن سے بڑھ کربرہنہ ہوں

ہڈیوں سے زیادہ مضبوط، رگوں سے زیادہ لچک دار ہوں

اور اعصاب سے زیادہ نازک

اسے آج ہم پیر اڈاکس کہتے ہیں۔ اپنی ہی تردید کرنے والے الفا ظ اور بیانات۔ پیراڈاکس، شاعری کی زبان کی ایجاد ہے۔ فلسفہ وسائنس، مذہب واخلاقیات، سیاست و سماج سیاہ اور سفید کو الگ الگ کرکے پیش کرتے ہیں، شاعری سیاہی میں سفیدی کی لکیریں اور سفید ی میں سیاہی کے نکتے دریافت کیا کرتی ہے۔

وہ ایسے الفاظ تلاش کرتی ہے، گھڑتی ہے یا پرانے الفاظ کو اس طور استعمال کرتی ہے کہ بہ یک وقت سیاہ وسفید، سچ اور جھوٹ کی دنیا، یعنی پیر اڈاکس کو پیش کرسکے۔ امرتا پرتیم کی ایک نظم میں ہے:

آؤ لمحوں کے سر پر ایک چھپر ڈالیں

وہ دیکھو دور وہاں

سچ اور جھوٹ کے درمیان کچھ جگہ خالی ہے

شاعری جانتی ہے کہ لفظ سے زیادہ پراسرار کچھ نہیں۔ شاعری سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ لفظ میں معنی نہیں، معانی کے سلسلے ہیں۔ لفظ صوت بھی ہے اور تصویر بھی۔ یہ شاعری ہے جو اس صوت وتصویر کے معانی گرفت میں لاتی ہے۔

شاعری ہی جانتی ہے کہ معانی لہجے میں ہیں، لفظوں کی خاص ترتیب میں ہیں، لفظوں کے بیچ خالی جگہوں، وقفوں اور خاموشیوں میں ہیں۔ زبان میں یہ خالی جگہیں، شاعری خود ہی دریافت کرتی ہے اور ان خالی جگہوں کے معنوی جلال وجمال خلق بھی کرتی ہے۔

لاؤزے کا قول ہے: "مٹی کو کوزے میں ڈھالو۔ خالی جگہ خود کو مفید بنالے گی"۔

شاعری تو اوّل روز سے کوزہ گری ہے۔ لیکن ایک اپنی طرز کی کوزہ گری۔

کوزہ گری فن ہے۔ کمہار اور شاعر دونوں فن کار ہیں۔ کمہار کے لیے مٹی، لفظ کی طرح ہے اور شاعر کے لیے لفظ مٹی کی مانند۔ دونوں اپنے مواد کو صورت میں ڈھالنے سے پہلے، اس کا لمس محسوس کرتے ہیں۔

لمس ہی نہیں، آہنگ و صدا اور کہی وان کہی بھی محسوس کرتے ہیں، ان کے وجود کو پوری طرح اور ہر رخ سے محسوس کرتے ہیں۔

دونوں کو یہ لمس محسوس کرتے ہوئے، کسی اور کا خیال نہیں آتا۔ لمس کا تجربہ اس قدر بھرپور ہوتا ہے کہ کسی اور شے یا وجود کا خیال آہی نہیں سکتا۔ جسے یہ خیال آتا ہے، وہ مٹی اور لفظ سے بے وفائی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اوّلین لمس کی بے وفائی، بے وفائی کی سب سے خوف ناک قسم ہے۔

شاعری انسانی خطاؤں کو درگزر کرنے کا عجب ملکہ رکھتی ہے، مگر خود اپنے دورانِ تخلیق کی خطا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ شاعری ٹیڑھی میڑھی، الجھی بینڈی دنیا کو حسن وخوبی سے پیش کرنے میں نہیں جھجھکتی، مگر وہ خود اپنے وجود کی کسی کجی کی متحمل نہیں ہوا کرتی۔ کوزے کو جہاں خم دار ہونا چاہیے، وہاں وہ بینگا ہوجائے، اورجہاں قوس ہونی چاہیے، وہاں منحنی لکیر کھنچ جائے تو کوزہ دنیا میں شرمندگی سمیٹتا ہے۔

دنیا میں شرمندگی کے پہلے سامان کیا کم ہیں کہ اس میں فن کی شرمندگی بھی شامل ہو!

دونوں قسم کی کوزہ گری میں فر ق بس یہ ہے کہ مٹی کو اوّلین معنی، کوزے کی صورت میں ڈھلنے کے بعد ملتے ہیں۔ شاعری میں، لفظ کے اوّلین معانی پر شاعر کو ایک نئی تہ چڑھانی پڑتی ہے۔ شاعری میں استعمال ہونے والا ہر لفظ اگر نیا نکور محسوس نہ ہو، دنیا کو پہلی بار دیکھنےکی حیرت کا حامل نہ ہو، شاعر یا کسی شاعرانہ کردار کی روح کی شعاؤں کو لنڈھاتا، انسانی روح کے ویران و تنہا گوشوں میں گونج پیدا کرتا محسوس نہ ہو تو شاعری کوزہ گر ی نہیں رہتی، "مسخری" بن کر رہ جاتی ہے۔

شاعری اگر یہ احساس نہ دلا سکے کہ وہ اپنے ہونے ہی میں، ہر رخ سے شاعری ہے، یعنی وہی کوزہ، وہی گل کوزہ، وہی کوزہ گر اور وہی رند سبو کش نہیں ہے تو کس کام کی؟ شمس مشرقی کا شعر ہے:

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ، خود رند سبو کش
خود برسرآں کوزہ خریدار بر آمد، بشکست رواں شد

(وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا ہےاور خود ہی کوزے کی مٹی ہے اور خود ہی مے خوار، رند ہے۔ وہ خود ہی پیالے کا خریدار بن کر آتا ہےاور اسے توڑ کر چلا جاتا ہے۔)