ہمارے دیس میں ہر برس اگست کے مہینے میں مون سون کی بارشوں کے ساتھ ایوارڈز بھی گھاس پھونس، جڑی بوٹیوں، کیڑے مکوڑوں، مینڈکوں اور پتنگوں کی طرح اُگ آتے ہیں۔ یہ اتنی کثرت سے وجود میں آتے ہیں کہ سرکار بھی پریشان ہو جاتی ہے کہ آخر ان سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے۔
اگر سرکار دیس کے ہر بالغ و نابالغ، بلکہ ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی ایوارڈ دینا شروع کر دے، تب بھی ایوارڈ کم نہیں پڑیں گے۔ سرکار نے ان کی برآمد کی کوشش بھی کی، مگر کسی دوسرے دیس نے خریدنے میں دلچسپی نہ دکھائی، کیونکہ وہاں بھی ایوارڈز کی فصل کچھ کم نہیں اگتی۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے سرکار نے ایک نادر حل نکالا۔ اپنے خوشامدیوں، درباریوں، قصیدہ خوانوں، چمچوں، چاپلوسوں، مداریوں، مراثیوں، نچنیوں، شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، اینکروں، اینکرنیوں، تھرک تھرک کر ٹھمکے لگانے والیوں، دین فروش مولویوں، واعظوں اور دیگر "صاحبانِ کمال" میں یہ ایوارڈ بانٹ دیے جائیں۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ ان سب میں فیاضی سے تقسیم کرنے کے بعد بھی ایوارڈوں کی اتنی بڑی کھیپ بچ جاتی کہ سرکار پھر سر پکڑ کر بیٹھ جاتی کہ باقی ماندہ ایوارڈ آخر کس کے گلے میں ڈالے جائیں؟ دیس کے ہر زندہ، مردہ یا ابھی تک پیدا نہ ہونے والے شہری کو تو ایوارڈ نہیں دیا جا سکتا۔ آخر عقلِ سلیم اور شہرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے!
چنانچہ سرکار نے ایک اور انقلابی حل نکالا۔ بچ جانے والے تمام ایوارڈ سرکاری اسٹیل مل کی بھٹی میں بھیج دیے جائیں، جہاں انہیں پگھلا کر عمارتی سریا بنایا جائے اور فروخت کرکے قومی خزانے میں کچھ اضافہ کیا جائے۔ یوں ایوارڈ بھی کام آ جائیں گے، سریا بھی پیدا ہو جائے گا اور سرکار کو کسی نئے حقدار کی تلاش کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑے گی۔
اب قصہ کچھ یوں ہوا کہ جب مذکورہ بالا شخصیات میں ایوارڈ بانٹ دیے گئے تو دیس میں واویلا مچ گیا۔ جنہیں ایوارڈ نہ ملا، ان کا شکوہ یہ تھا کہ آخر ان میں کون سی کمی تھی؟ وہ بھی تو خود کو سب سے بڑا درباری، خوشامدی، چمچہ یا اوپر بیان کیے گئے اوصاف کا حامل سمجھتے تھے۔
دوسری طرف وہ غیرت مند صاحب فن، جو واقعی مستحقین کی کیٹیگری میں آتی تھے، ایوارڈ ملنے کے بعد اسے اعزاز کے بجائے کلنک کا ٹیکہ سمجھنے لگے۔ وہ عوام سے منہ چھپائے پھرتے۔ گھر سے سبزی لینے نکلنا ہوتا تو چہرے پر ماسک چڑھا لیتے۔ کچھ نے تو گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا!
ہمارے محلے میں ایسی ہی ایک صاحبِ کمال شخصیت رہتی تھی۔ نام تھا نٹور سنگھ رائے۔ بیک وقت صحافی، شاعر، ادیب، محقق، براڈکاسٹر اور مترجم تھے۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انگریزی کو اردو میں پڑھ لیتے تھے، پھر اسے اچھی طرح سمجھ کر دوبارہ انگریزی میں پڑھتے تھے، مگر الٹی طرف سے یعنی صفحہ آخر سے شروع کرتے اور اول پر پہنچ کر دم لیتے۔
ایک برس سرکار نے ان کی اس غیر معمولی قابلیت سے متاثر ہو کر انہیں بیک وقت دو ایوارڈ عطا فرمائے۔ پہلا انگریزی کو اردو میں پڑھنے پر اور دوسرا اردو کو اردو میں ترجمہ کرنے پر۔ نٹور جی غیرت مند اور شریف آدمی تھے۔ جب دیکھا کہ ایوارڈ نیاز کے چاولوں کی طرح بانٹے جا رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ یہ راز کسی پر منکشف نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے گلے میں بھی ایسا ہی ایک پٹہ سجا ہوا ہے۔
سرکار نے بھی غیرت مند صاحبِ فن لوگوں کے لیے خصوصی رعایت رکھی تھی۔ اگر کوئی ایوارڈ یافتہ شخص اپنا اعزاز دیکھ کر شرمندگی محسوس کرے تو وہ رات کی تاریکی میں چپکے سے ایوارڈ وصول کر سکتا تھا۔ سرکار کے محل میں ایک عدد نائب قاصد ہر وقت موجود رہتا، جو ایوارڈ کو لفافے میں لپیٹ کر اس طرح خاموشی سے حوالے کرتا کہ بائیں ہاتھ سے دیے گئے ایوارڈ کی خبر دائیں ہاتھ کو بھی نہ ہو۔
نٹور جی نے بھی اسی سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ ایوارڈ وصول کیا، لفافہ جیب میں رکھا اور ایسے گھر لوٹے جیسے محلے کی دکان سے بچے کے لیے ٹافی خرید کر آ رہے ہوں۔
نٹور جی روزانہ اپنے دونوں ایوارڈوں کو دن میں کئی بار نکال کر دیکھتے، ان کی آرتی اتارتے اور پھر انہیں نہایت احتیاط سے واپس رکھ دیتے۔ جس دن گھر میں کوئی مہمان یا رشتہ دار آتا، دونوں ایوارڈ فوراً لاکر میں بند کر دیے جاتے، مبادا کسی کی نظر پڑ جائے اور پوچھ بیٹھے کہ یہ کس خوشی میں لٹک رہے ہیں۔
مگر دل میں ایک کسک ہمیشہ رہتی کہ انہوں نے بھی دوسرے دوستوں کی طرح فیس بک پر ڈھنڈورا کیوں نہیں پیٹا کہ انہیں ایک نہیں، بیک وقت دو ایوارڈ ملے ہیں۔ وہ بھی ایسے ناقابلِ یقین کارنامے پر کہ انگریزی کو اردو میں پڑھا، پھر اسی اردو کو اردو میں ترجمہ کیا اور آخر میں دونوں کو الٹی ترتیب سے پڑھ ڈالا۔
جب بھی وہ فیس بک پر کسی دوست یا دشمن کا ایوارڈ کے ساتھ فوٹو سیشن دیکھتے تو حسرت، غصے اور پچھتاوے کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے۔ کئی بار تو انہیں باقاعدہ ڈپریشن سا ہونے لگتا کہ آخر ان کے پاس بھی دو ایوارڈ موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی نمائش کرنے کا حوصلہ نہیں۔
نٹور جی کی حالت بھی اس نائی جیسی تھی جس نے بادشاہ کے سر سے سینگ کاٹے تھے، مگر بادشاہ نے اسے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ کسی کو اس راز کی خبر نہ ہو، ورنہ اس کی گردن اتروا دی جائے گی۔ نٹور جی کے ساتھ بھی کم و بیش یہی معاملہ تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ نائی نے بادشاہ کے سینگ کاٹ کر راز چھپایا تھا، جبکہ نٹور جی اپنے گلے میں پڑے دو ایوارڈ چھپا کر بیٹھے تھے۔
جب نائی کے پیٹ میں راز نہ ٹک سکا تو وہ ایک دن جنگل میں جا پہنچا۔ وہاں اس نے ایک درخت کے تنے میں منہ لگا کر سرگوشی کی: "بادشاہ کے سر پر دو سینگ!" راز کہہ دینے کے بعد نائی کا دل ہلکا ہوگیا اور وہ سکون سے گھر لوٹ آیا۔
کچھ عرصے بعد بادشاہ کے لیے نئے ساز بنانے کو لکڑی درکار ہوئی۔ جنگل سے وہی درخت کاٹ کر لایا گیا۔ اس کی لکڑی سے ساز بنائے گئے اور جب ساز بجائے گئے تو ان میں سے ایک ہی آواز نکلنے لگی: "بادشاہ کے سر پر دو سینگ!"
بادشاہ کو جب معلوم ہوا کہ اس کے راز کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے تو اس نے نائی کی گردن اتروا دی۔
لیکن نٹور جی کو ایسی کسی سزا کا خطرہ نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگلے برس جب ایک بار پھر ایوارڈوں کی بندر بانٹ ہوگی تو وہ بھی فیس بک پر اپنے دونوں ایوارڈوں کا راز فاش کریں گے، مگر ذرا ہوشیاری سے۔
بڑی مشکل سے نٹور جی نے اگلے برس تک اپنے دونوں ایوارڈوں کا راز سینے میں دبائے رکھا۔ پھر اگلی برسات آئی اور حسبِ معمول ایوارڈوں کی نیاز ایک بار پھر شروع ہوئی۔ اس بار بھی بہت سے ایسے مستحقین رہ گئے جن کے نصیب میں ایوارڈ نہ آیا۔ نٹور جی نے سوچا، یہی تو گرم لوہے پر ہتھوڑا مارنے کا بہترین وقت ہے۔
وہ فیس بک پر نمودار ہوئے اور نہایت فخر سے ایک پوسٹ داغی:
"جن دوستوں کو اس برس ایوارڈ نہیں ملا، وہ مجھ سے رابطہ کریں۔ مجھے گزشتہ برس بیک وقت دو ایوارڈ ملے تھے، جن کا ذکر میں نے مصلحتاً نہیں کیا تھا۔ اب میں نے اہل خانہ پر مشتمل ایک اعلی جیوری تشکیل دی ہے۔ فیصلہ ہوا ہے کہ ان دو ایوارڈوں میں سے ایک ایوارڈ کسی مستحق کو دے دیا جائے۔ خواہش مند حضرات اپنے کوائف مجھے ارسال کریں"۔
نٹور جی نے پوسٹ لگائی، کرسی سے ٹیک لگائی اور موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھ گئے۔ انہیں یقین تھا کہ چند ہی منٹ میں درخواستوں کا ایسا سیلاب آئے گا کہ فیس بک کے سرور بھی دو ایوارڈوں کی برکت سے ہانپنے لگیں گے۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ ایک درخواست بھی نہ آئی۔ نٹور جی کے دوست جانتے تھے کہ ایوارڈ کے ساتھ ملنے والی خطیر رقم وہ کب کی ولایتی شراب اور مجروں میں اڑا چکے ہیں۔ اب خالی خولی ایوارڈ آخر کس کام کا؟ وہ تو ایک ایسا جھنجھنا تھا جسے گلے میں لٹکانے کا کوئی خواہش مند نہ تھا۔