"بیٹی، تم بڑی ہو کر کس قسم کے گڈے سے شادی کرو گی؟" شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی اکلوتی بیٹی تارا سے پوچھا جو اس وقت اپنے گڈے اور گڑیا کی شادی کروا رہی تھی۔
تارا شاہ صاحب کی آنکھ کا تارا تھی۔ برسوں کی دعاؤں کے بعد پیدا ہونے والی وہی ان کی واحد اولاد تھی۔ اس کی ہنسی سے ہی گھر میں رونق تھی۔
تارا نے گڑیا کے سر پر دوپٹے کا کونہ درست کرتے ہوئے بے پروائی سے کہا: "بابا، میں نے شادی نہیں کرنی!"
شاہ صاحب ہنس پڑے۔ "اچھا! پھر کیا کرنا ہے؟"
"میں ڈاکٹر بنوں گی، اپنی خالہ کی طرح!"
شاہ صاحب نے سر ہلاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا: "ہُوں۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ مجھے یقین ہے تم ایک بہت اچھی ڈاکٹر بنو گی"۔
پھر انہوں نے گڑیا اور گڈے کی طرف اشارہ کیا۔
"جس پیار سے تم ان دونوں کی شادی کروا رہی ہو، اس سے لگتا ہے کہ کل کو مریضوں کی بھی خوب دیکھ بھال کرو گی"۔
تارا نے فخر سے گردن اکڑائی۔ "میں سب سے اچھی ڈاکٹر بنوں گی!"
"لیکن ڈاکٹر بننے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے، بہت پڑھنا پڑتا ہے"۔
"پتہ ہے! میں دن رات پڑھائی کروں گی"۔
"دن رات؟"
"جی! صرف سونے کے وقت نہیں پڑھوں گی!"
شاہ صاحب نے قہقہہ لگایا، پھر اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر آسمان کی طرف دیکھا۔
"اللہ تمہیں کامیاب کرے، بیٹی!"
اس وقت نہ تارا جانتی تھی، نہ شاہ صاحب، کہ خواب دیکھنا انسان کے اختیار میں ہوتا ہے، مگر ان کی تعبیر اکثر مقدر کی مرضی سے لکھی جاتی ہے۔
"کیوں رو رہی ہو، بیٹی؟ تم نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں"۔ شاہ صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے آہستگی سے پوچھا۔
تارا بستر پر منہ چھپائے پڑی تھی۔ اس کے رونے کی دبی دبی سسکیاں کمرے کی خاموشی میں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ میز پر رزلٹ کارڈ اوندھا پڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ کئی مروڑے ہوئے ٹشو گواہی دے رہے تھے کہ آنسو کافی دیر سے بہہ رہے تھے۔
"اب میڈیکل میں داخلہ کیسے ملے گا، بابا؟ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
"مجھے صرف تینتیس فیصد نمبر ملے ہیں!" اتنا کہہ کر وہ پھر رو پڑی۔
"میری سب سہیلیاں مجھ پر ہنس رہی تھیں"۔
اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ آنسو صرف کم نمبروں کا غم نہیں تھے۔ ان میں بچپن کے اس خواب کی شکستگی بھی شامل تھی جسے اس نے کبھی گڈے گڑیا کی شادی کے بیچ بیٹھ کر بڑے فخر سے بیان کیا تھا۔
"فکر نہ کرو تارا بیٹی۔ تمہیں پری میڈیکل میں داخلہ ضرور ملے گا"۔
شاہ صاحب دولت اور اثرورسوخ رکھنے والے آدمی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہمارے معاشرے میں بعض دروازے قابلیت سے کھلتے ہیں اور بعض چیک بُک سے۔ چنانچہ شہر کے بہترین نجی کالج کی پرنسپل تک ایک خطیر رقم پہنچی اور تارا کا پری میڈیکل میں داخلہ ہوگیا۔
***
کیا ہوا، بیٹی؟ کیوں رو رہی ہو؟ گھر میں قدم رکھتے ہی شاہ صاحب نے پوچھا۔ تارا ان سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی۔
"میں کبھی بھی ڈاکٹر نہیں بن سکوں گی، بابا!"
شاہ صاحب کا دل دھک سے رہ گیا۔ "کیوں؟ کیا ہوا؟"
تارا نے بمشکل اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا، "میں، میں پری میڈیکل میں فیل ہوگئی ہوں"۔
اتنا کہنا تھا کہ اس کی آواز بھرّا گئی اور وہ دوبارہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
شاہ صاحب نے تارا کو پھر دلاسہ دیا۔ انہیں یقین تھا کہ جس خواب کو محنت سہارا نہ دے سکے، اسے دولت سہارا دے سکتی ہے۔ چند ہی دنوں بعد ایک بھاری رشوت کے عوض تارا کا داخلہ ایک نجی میڈیکل کالج میں ہوگیا۔
تارا میڈیکل کے پہلے ہی سال میں فیل ہوگئی۔ آنسو اس کی آنکھوں میں تھے، مگر شاہ صاحب کے اعتماد میں کوئی فرق نہیں آیا۔ انہیں یقین تھا کہ جس مسئلے کا حل دولت نے دو مرتبہ نکالا، تیسری بار بھی نکال لے گی۔
شاہ صاحب نے میڈیکل کالج کے مالک کے سامنے ایک اور خطیر رقم رکھ دی۔ رقم قبول کرتے ہوئے اس نے تارا کو دوسرے سال میں تو پروموٹ کر دیا، مگر ساتھ ہی ایک جملہ بھی کہہ دیا:
"شاہ صاحب، کلاس تو پیسے سے بدل سکتی ہے، قابلیت نہیں۔ فائنل ڈگری رشوت سے نہیں ملتی"۔
شاہ صاحب نے اس جملے کو محض رسمی نصیحت سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن آگے چل کر یہی جملہ سچ ثابت ہوا۔ تارا دوسرے، تیسرے اور چوتھے سال میں مسلسل ناکام ہوتی رہی۔ ہر ناکامی اس کے اعتماد کا ایک اور وجود توڑ دیتی۔ آخرکار وہ شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہوگئی۔ اس کی کیفیت یہاں تک بگڑ گئی کہ وہ اپنے قریب آنے والے ہر شخص پر جھپٹ پڑتی تھی، جیسے پوری دنیا ہی اس کی دشمن ہو۔
تارا کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ معمولی سی بات پر مشتعل ہو اٹھتی۔ کبھی گھر کا سامان توڑ پھوڑ دیتی، کبھی برتن دیوار سے دے مارتی اور جو بھی اسے قابو کرنے کی کوشش کرتا، وہ دانتوں یا ناخنوں سے اس پر جھپٹ پڑتی۔
شاہ صاحب نے کوئی دروازہ ایسا نہ چھوڑا جس پر دستک نہ دی ہو۔ شہر کے نامور ماہرِ نفسیات سے لے کر حکیموں اور ہومیوپیتھوں تک، سب سے علاج کرایا۔ تعویذ بندھوائے، گنڈے کروائے، دم درود بھی کرایا، مگر تارا کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی گئی۔
آخرکار ایک دن انہیں وہ فیصلہ کرنا پڑا جس کا تصور بھی ان کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ اپنی اکلوتی بیٹی کو زنجیروں میں جکڑ دینا۔ مگر زنجیریں بیماری کا علاج نہیں ہوتیں، وہ صرف مریض کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہیں۔
ایک روز تارا کی خالہ یاسمین، جو پیشے کے اعتبار سے گائناکالوجسٹ تھیں، شاہ صاحب سے بولیں:
"بھائی صاحب، اسے کسی اچھے نفسیاتی اسپتال میں داخل کرا دیجیے۔ گھر کے ماحول سے دور رہے گی، باقاعدہ علاج ہوگا تو ان شاء اللہ صحت یاب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں"۔
نہ چاہتے ہوئے بھی شاہ صاحب کو یاسمین کا مشورہ ماننا پڑا۔ تارا کو شہر کے سب سے بڑے نجی نفسیاتی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ شاہ صاحب کو امید تھی کہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی اور مسلسل علاج سے شاید اس کی حالت سنبھل جائے، مگر ہوا اس کے برعکس۔ چند ہی ہفتوں میں تارا پہلے سے زیادہ جارحانہ اور بے قابو ہوگئی۔
ایک روز اسپتال کے انچارج نے شاہ صاحب کو اپنے دفتر میں بلایا۔ کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں کہا:
"شاہ صاحب، ہمیں افسوس ہے، مگر اب تارا کا علاج ہمارے بس سے باہر ہے۔ اسے یہاں مزید رکھنا اس کے لیے بھی خطرناک ہے اور دوسرے مریضوں کے لیے بھی۔ میری رائے ہے کہ آپ اسے پاگل خانے منتقل کر دیجیے۔ وہاں ایسے مریضوں کے علاج اور نگہداشت کا انتظام موجود ہے۔ اگر مزید دیر ہوئی تو وہ کسی اور کے ساتھ ساتھ خود کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے"۔
یہ سنتے ہی شاہ صاحب کا سر جھک گیا۔ جس بیٹی کو وہ ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتے تھے، اب اسے پاگل خانے بھیجنے کا فیصلہ ان کے سامنے تھا۔
شاہ صاحب نے ہزار جتن کیے کہ یہ دن نہ آئے، مگر آخرکار انہیں اپنی اکلوتی بیٹی کو پاگل خانے کے سپرد کرنا ہی پڑا۔ داخلے کے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اتفاق سے اس پاگل خانے کا سربراہ، ڈاکٹر ساجد، شاہ صاحب کا دور کا رشتہ دار تھا۔ اس نے تارا کو محض ایک مریض نہیں، اپنے گھر کی بچی سمجھ کر علاج شروع کیا۔ کئی ماہ کی مسلسل نگہداشت، دواؤں اور نفسیاتی علاج کے بعد تارا کی حالت آہستہ آہستہ سنبھلنے لگی۔
ایک دن تارا کو پہلے سے کہیں زیادہ پرسکون دیکھ کر شاہ صاحب کی آنکھوں میں امید کی کرن جاگی۔ انہوں نے ڈاکٹر ساجد سے کہا، "اگر آپ مناسب سمجھیں تو اب میں تارا کو گھر لے جانا چاہتا ہوں"۔
ڈاکٹر ساجد چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا: "گھر تو آپ لے جا سکتے ہیں، مگر ایک شرط پر"۔
"کیسی شرط؟"
"تارا کو صرف دواؤں سے افاقہ نہیں ہوا، اس کے ذہن کو ایک نئی حقیقت بھی دی گئی ہے۔ اگر وہ حقیقت ٹوٹ گئی تو اس کی دنیا بھی بکھر جائے گی"۔
شاہ صاحب حیرت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگے۔
"آپ کو اپنے گھر میں ایک فرضی کلینک بنانا ہوگا۔ چند فرضی مریض بھی مہیا کرنے ہوں گے۔ سب لوگ اسے 'ڈاکٹر تارا' کہہ کر پکاریں گے اور ہر لمحہ اسے یہی یقین دلائیں گے کہ وہ اس ملک کی کامیاب ترین ڈاکٹر ہے"۔
شاہ صاحب دم بخود رہ گئے۔
ڈاکٹر ساجد نے ان کی حیرت بھانپ لی۔
"آپ کو یہ سب عجیب لگ رہا ہوگا، مگر یہی وہ طریقہ ہے جس نے اسے دوبارہ جینے کی خواہش دی ہے۔ اگر اس کے ذہن سے یہ یقین چھین لیا گیا تو مجھے ڈر ہے کہ ہم اسے دوبارہ کھو دیں گے"۔
شاہ صاحب نے ڈاکٹر ساجد کی تجویز تفصیل سے یاسمین کے سامنے رکھ دی۔ وہ کچھ دیر خاموش بیٹھی سوچتی رہی۔ پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
"بھائی صاحب، گھر میں فرضی کلینک بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرا اپنا کلینک موجود ہے۔ تارا روز میرے ساتھ وہیں آ کر بیٹھ جایا کرے گی"۔
شاہ صاحب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
یاسمین نے بات جاری رکھی، "ڈاکٹر ساجد نے جو طریقہ اختیار کیا، ہم وہی طریقہ زیادہ مؤثر انداز میں اپنا سکتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ ماحول مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی ہوگا۔ مریض اصلی ہوں گے، کلینک اصلی ہوگا، مگر تارا کے لیے حقیقت وہی ہوگی جو ہم اسے دکھائیں گے"۔
"وہ کیسے؟"
"میں خود بھی اسے 'ڈاکٹر تارا' کہہ کر مخاطب کروں گی اور میرے کلینک کا سارا عملہ بھی۔ جب میں مریضوں کا معائنہ کروں گی تو وہ میرے ساتھ بیٹھی ہوگی۔ کبھی میری نرسیں جان بوجھ کر اپنے فرضی مسائل اس کے سامنے رکھیں گی، کبھی کوئی ہلکے پھلکے نوعیت کا مریض اس سے رائے مانگے گا اور وہ اپنے طور پر مشورہ دے گی۔ اسے ہر لمحہ یہی احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے"۔
شاہ صاحب خاموشی سے سنتے رہے۔
یاسمین نے اطمینان سے کہا، "یہ محض ڈراما نہیں، علاج کا حصہ ہے۔ اگر اس کے ذہن میں قائم یہ یقین ٹوٹنے نہ دیا جائے تو مجھے پوری امید ہے کہ وہ آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئے گی"۔
تارا اب روزانہ یاسمین کے کلینک جانے لگی۔ سفید گاؤن، گلے میں سٹیتھو سکوپ اور چہرے پر اعتماد۔ مریض اسے دیکھتے تو یہی سمجھتے کہ وہ بھی ڈاکٹر ہے۔
ایک دن یاسمین نے مسکراتے ہوئے نرسوں سے کہا، "دیکھو، یاد رہے۔ تارا کو ہمیشہ ڈاکٹر تارا کہنا ہے"۔
"جی ڈاکٹر صاحبہ!" سب نے بیک آواز جواب دیا۔
تارا نے فخر سے گردن اونچی کر لی۔
کلینک میں آنے والے مریض بھی جلد ہی اسے ڈاکٹر تارا کہنے لگے۔ یاسمین جب کسی مریض کا معائنہ کرتی تو تارا برابر والی کرسی پر بیٹھی پوری سنجیدگی سے سر ہلاتی رہتی، جیسے ہر بات اس کی سمجھ میں آ رہی ہو۔
رفتہ رفتہ اس نے سفید گاؤن میں اپنی تصویریں فیس بک پر ڈالنا شروع کر دیں۔ کبھی گلے میں سٹیتھو سکوپ، کبھی آپریشن تھیٹر کی یونیفارم میں۔ چند ہی ہفتوں میں لوگ اسے واقعی گائناکالوجسٹ سمجھنے لگے۔ ایک دن ایک خاتون نے فیس بک پر پیغام بھیجا۔
"ڈاکٹر صاحبہ! حمل کا تیسرا مہینہ ہے۔ الٹیاں بہت آ رہی ہیں، کیا کروں؟"
تارا نے پورے اعتماد سے جواب لکھا، "زیادہ پانی پیئیں، آم کھائیں اور بالکل فکر نہ کریں"۔
اگلے دن ایک اور خاتون کا پیغام آیا۔ "ڈاکٹر صاحبہ! بچے کی حرکت کم محسوس ہو رہی ہے"۔
تارا نے فوراً جواب دیا، "بچہ سو رہا ہوگا۔ اسے بھی آرام کا حق ہے"۔
کسی نے پوچھا، "ڈاکٹر صاحبہ! میرے پاؤں میں بہت سوجن ہے"۔
تارا نے جواب دیا، "پریشان نہ ہوں، بچہ جگہ بنا رہا ہوگا"۔
ایک خاتون نے لکھا، "مجھے مٹی کھانے کا بہت دل کرتا ہے"۔
تارا نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا، "اس کا مطلب ہے بچہ فطرت سے محبت کرتا ہے، اسے روکیں نہیں"۔
ایک اور خاتون نے پوچھا، "ڈاکٹر صاحبہ! رات بھر بچہ لاتیں مارتا رہتا ہے"۔
تارا نے جواب دیا، "ضرور دن میں زیادہ سو جاتا ہوگا، آپ دن میں اسے جگایا کریں"۔
ایک خاتون نے الٹراساؤنڈ کی رپورٹ بھیجی اور کہا، "ڈاکٹر صاحبہ! بچہ منہ چھپا رہا تھا"۔
تارا نے جواب دیا، "لگتا ہے بچہ کیمرے کے سامنے آنے میں شرماتا ہے"۔
کسی نے پوچھا، "حمل میں سیڑھیاں چڑھ سکتی ہوں؟"
تارا نے فوراً مشورہ دیا، "بالکل چڑھ سکتی ہیں، بس ایک ایک کرکے چڑھیے، دو دو کرکے نہیں"۔
ایک خاتون نے بتایا، "ڈاکٹر صاحبہ! مجھے ہر وقت نیند آتی ہے"۔
تارا نے لکھا، "کیونکہ بچہ ابھی رات کو جاگنے کی پریکٹس کر رہا ہے"۔
یوں روزانہ درجنوں سوال آنے لگے اور تارا بھرپور خود اعتمادی سے سب کو مشورے دینے لگی۔ اس کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ لوگ اس کے عجیب و غریب مشوروں میں بھی حکمت تلاش کرنے لگے۔ کچھ اسے ذہین ڈاکٹر کہتے، کچھ اسے غیر روایتی ماہرِ امراضِ نسواں قرار دیتے اور یوں اس کے فالوورز کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی گئی۔
ادھر کلینک کی نرسوں نے بھی اسے ایک دلچسپ کھیل بنا لیا۔
"ڈاکٹر تارا!" ایک نرس ایک دن گھبرائی ہوئی آواز میں بولی، "مجھے لگتا ہے میرے دل کی دھڑکن پیروں میں منتقل ہوگئی ہے"۔
تارا نے چند لمحے غور کیا، پھر نہایت سنجیدگی سے بولی، "تم ہائی ہیل پہنا کرو۔ ٹھیک ہو جائے گی!"
پورا اسٹاف بمشکل ہنسی روک سکا۔
دوسری نرس نے اگلے دن ایک اور کہانی گھڑ لی۔
"ڈاکٹر صاحبہ! میرا شوہر مجھے ورجینیٹی بیلٹ پہنا کر رکھتا ہے تاکہ میری عزت محفوظ رہے"۔
تارا کی آنکھیں غصے سے پھیل گئیں۔ اسی شام اس نے فیس بک پر ایک طویل پوسٹ لکھ ماری:
"ہمارے ملک میں ہر عورت کو ورجینیٹی بیلٹ پہنائی جاتی ہے۔ یہ عورت کی تذلیل اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔
پوسٹ وائرل ہوگئی۔ ٹی وی چینلوں پر بحث چھڑ گئی۔ سوشل میڈیا دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ کسی نے اسے عورتوں کی آواز قرار دیا، کسی نے معاشرے کی دشمن۔
ایک وکیل نے اس کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر دیا، مگر شاہ صاحب نے اپنے تعلقات اور دولت کے زور پر معاملہ دبا دیا۔
چند دن بعد تارا نے ایک اور بم پھوڑ دیا۔
اس نے لکھا، "اگر آبادی بڑھنے کا ذمہ دار مرد بھی ہے تو نس بندی صرف عورت کیوں کرائے؟ ہر مرد پر نس بندی لازم ہونی چاہیے"۔
شام کو شاہ صاحب گھر آئے تو تارا پوری سنجیدگی سے بولی، "بابا! آپ بھی نس بندی کرا لیجیے۔ معاشرے کی اصلاح گھر سے شروع ہوتی ہے"۔
شاہ صاحب نے یاسمین کو فون کرکے ساری بات بتائی۔ دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔
بھائی صاحب، یاسمین نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، مجھے لگتا ہے ہمیں ساجد صاحب سے دوبارہ بات کرنی ہوگی۔
چند دن بعد ڈاکٹر ساجد نے تارا کا معائنہ کیا۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے اپنی رپورٹ دیکھی اور پھر شاہ صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔
"افسوس ہے، مگر تارا ابھی حقیقت اور تصور کے درمیان فرق نہیں کر پا رہی۔ پہلے ہم نے اس کے ذہن کو ایک محفوظ خواب دیا تھا تاکہ وہ ٹوٹ نہ جائے، مگر اب وہ خواب اس کی پوری دنیا بن چکا ہے"۔
شاہ صاحب کی آنکھیں جھک گئیں۔
"تو اب کیا ہوگا؟" انہوں نے بھاری آواز میں پوچھا۔
ڈاکٹر ساجد نے آہستہ سے جواب دیا، "اب اسے دوبارہ یہاں رکھنا ہوگا"۔
یوں تارا، جسے چند ماہ پہلے ایک کامیاب ڈاکٹر سمجھ کر لوگ مشورے لینے آتے تھے، دوبارہ اسی جگہ لوٹ آئی جہاں سے وہ ایک نئے یقین کے ساتھ نکلی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے وہ خود کو ڈاکٹر سمجھتی تھی اور اب پورا معاشرہ اسے ڈاکٹر مان چکا تھا۔
پاگل خانے کے دروازے بند ہوئے تو شاہ صاحب نے پہلی بار سوچا کہ شاید علاج تارا کا نہیں، کسی اور کا ہونا چاہیے تھا۔
فیمی نسٹ نہ کہو مجھے، کہو فسادن مائی
ہر ہنستے بستے گھر میں فتنہ جگانے میں آئی
بھولی بھالی لڑکیوں، عورتوں کو میں ورغلاؤں
مردوں سے نفرت کو میں سمجھوں عظیم بھلائی
جو ناری ہے خوش اپنے مرد سے
میرے نزدیک یہ ہی ہے بڑی برائی
فرضی وجائنہ کے تالے بنا کر
دیکھو شہرت کیسی پائی!
مردوں کی نس بندی کی پوسٹ سے
دیکھو کیسی ہاہاکار مچائی
جہالت علم بنا کر فیس بک پر پھیلائی
ہر جھوٹی بات کو دے دی میں نے سندِ دانائی
جو دے نہ میری پوسٹ کو کمنٹ اور لائک
اس کی کروں میں خوب دھنائی
جو نہ ہو متفق میرے اقوال سے
اسے بلاک کرکے نجات میں نے پائی
جو اول فول منہ میں آئے میں بکتی جاؤں
یہ ہی تو ہے میری اصلی دانائی
ادب میں میں سونگھوں مساجنی بن کے کتیا تائی
یوسفی کے مزاح پر بھونکنا میری ہے کل کمائی
فیض کو کیوں نہ آئے حیض رو پٹ کہ دوں دہائی
مجھے تو اب بھی آتے ہیں پھر بھی دیوان نہ لکھ پائی