1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. جو میں نے نہیں دیکھا

جو میں نے نہیں دیکھا

اے آئی اور انٹرنیٹ آنے سے پہلے لکھاری کچھ معیاری کام مرتے کھپتے کر ہی لیا کرتا تھا۔ جو کچھ تخلیق کرنے کی اہلیت نہ رکھتا تھا، وہ اخباروں میں کالم لکھنا شروع کر دیتا تھا۔ لیکن کالم کی شیلف لائف نہیں ہوتی۔ بڑے سے بڑا اخبار ہو، اگلے دن اس میں قیمہ ہی پیک کیا جاتا تھا اور ادب میں کالم نگاری کی کوئی جگہ بھی نہیں۔ کالم نگار کو کسی ادبی محفل میں بطور سپیکر مدعو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نرگسیت کے مارے ہوئے ایسے نام نہاد کالم نگاروں نے ادب میں زبردستی اپنی جگہ بنانے کے لیے ترجمے کرنا شروع کر دیے۔۔ وہ بھی اوٹ پٹانگ۔ ترجمے وہی پڑتا ہے جو انگریزی نہیں پڑھ سکتا۔ وہ بیچارہ کیسے جانے کہ ترجمہ کس حد تک درست ہے۔ ناشروں کے پاس کوئی ایسا بورڈ نہیں ہوتا جو ترجمے کی صحت جانچ سکے۔ مترجم تخلیق کار کے آس پاس بھی نہیں ہوتا لیکن ترجمے چھاپ کر ادبی حلقوں میں تھوڑی بہت جگہ بنا ہی لیتا ہے۔ لیکن تخلیق کاروں میں اسے ہی دیکھا جاتا جیسے برہمن شودروں کو دیکھتے ہیں۔

اے آئی کی ایجاد کے بعد ترجمہ کرنا بچوں کا کھیل بن گیا۔ جس کو دیکھو ترجمہ کر رہا ہے۔ ایک ہی کتاب کے بیک وقت درجنوں ترجمے چھپ رہے ہیں۔ ترجمہ نہ ہوا کپڑے دھونے والا صابن ہوگیا۔ ہر فیکٹری روز بازار میں ایک نیا صابن متعارف کرا دیتی ہے۔

ہمارے محلے میں ایک ایسا باندر رہتا ہے جو ابھی مکمل انسانی روپ اختیار کرنے کے ارتقائی مرحلے میں ہے۔ یہ بہت حسین باندر ہے۔ اس کے حسن کا راز اسکے سفید بالوں میں ہے۔ محلے میں یہ "سفید بالوں والا باندر" کے نام سے مشہور ہے۔

ہمارا محلہ "ادبی محلہ" مانا جاتا ہے۔ ہر گھر میں ایک نہ ایک شاعر یا ادیب موجود ہے۔ سب کے سب نرگسیت کے مارے ہوئے ہیں لیکن ان کا کچھ نہ کچھ ادبی قد بھی ہے، بھلے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اب یہ حقیقت سفید بالوں والے باندر کو ہضم نہیں ہوتی۔ محلے میں ٹاپ لیول کا خود پسند اور نرگسیت میں ڈوبا ہوا کردار یہ سفید بالوں والا باندر ہی ہے۔ چونکہ یہ مکمل انسانی روپ میں بھی نہیں اور مکمل باندر کی شکل میں بھی نہیں، اسی لیے اس میں باندروں اور انسانوں والے دونوں اوصاف پائے جاتے ہیں۔

محلے میں اسے کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا۔ اس کی شدید آرزو تھی کہ یہ آس پڑوس میں مشہور ہو جائے۔ محلے کی ادبی تقاریب میں اسے بھی مدعو کیا جائے۔ لہذا یہ پہلے کالم نگار بنا اور جب اے آئی ظہور پذیر ہوئی تو مترجم بن گیا۔ اخبار کے کالم میں اس کی تصویر چھپا کرتی تھی۔ ایک دن امریکہ کے سفیر کی نظر اس پر پڑ گئی۔ وہ حیران رہ گیا۔ سفید باندروں کی نسل ناپید ہو چکی ہے۔ امریکہ کے کسی بھی چڑیا گھر میں ایک بھی سفید بالوں والا باندر نہیں۔ لہذا امریکہ سفیر نے اس سے ملاقات کی اور اسے امریکہ کی شہریت طشتری میں رکھ کر پیش کر دی۔ ساتھ میں یہ بھی یقین دلایا کہ امریکہ اسے ادب میں اعلی مقام دلانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اس طرح یہ سفید بالوں والا باندر امریکہ پہنچ گیا۔

امریکی چڑیا گھر میں اس باندر کی خوب آؤ بھگت ہوئی۔ دنیا بھر سے سیاح اسے دیکھنے آتے اور اسکے ساتھ فوٹو سیشن کراتے۔ اس منہ دکھائی کے علاوہ یہ باندر اپنی ادبی سرگرمیاں بھی جاری رکھتا۔ امریکیوں نے اسے ایک عدد خوبصورت لیپ ٹاپ اور برق رفتار انٹرنیٹ فراہم کر دیا۔ یہ سارا دن لیپ ٹاپ سے کھیلتا رہتا اور تماشائی خوش ہوتے کہ بھئی دیکھو کیا نایاب باندر ہے، لیپ ٹاپ بھی چلا لیتا ہے۔

سفید بالوں والے باندر کو چڑیا گھر والوں نے ایک ویب سائیٹ بھی بنا کر دے دی۔ باندر نے اس پر سبسکرپشن فیس عائد کر دی اور اپنے محلے والوں سے منت سماجت شروع کر دی کہ خدا کے واسطے سبسکرپشن خرید لو مگر کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ اس ویب سائیٹ پر باندر وہ سب کچھ لکھتا تھا جو سارا دن اس کے ساتھ پیش آتا۔ اس ویب سائیٹ کا نام تھا، "جو میں نے دیکھا"۔

جب باندر کی ویب سائیٹ کو کسی نے بھی سبسکرائیب نہ کیا تو وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوگیا۔ اس کی آنیاں جاں یاں جو چڑیا گھر میں رونق لگائے رکھتی تھیں کم ہوتی چلی گئیں۔ چڑیا گھر کی آمدنی گھٹنے لگی۔ اس مسئلے پر گہری سوچ بچار کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ کے شاطر ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ انہوں نے باندر سے مکالمہ کیا۔ باندر نے فرمائش کی کہ اگر انتظامیہ اس کی ایک کتاب چھاپ دے جس کا عنوان "جو میں نے دیکھا" ہوگا تو اس کا حوصلہ اور آنیاں جانیاں بڑھ جائینگی۔ یہ کتاب وہ فری میں اپنے محلے میں بانٹے گا۔ اہل محلہ کے ساتھ فوٹو سیشن کرے گا۔ اس طرح اس کا ڈپریشن ٹھیک ہو جائے گا۔ اس ضمن میں اسے چڑیا گھر سے ایک ماہ کی رخصت بھی چاہیے ہوگی۔

چڑیا گھر والوں کے لیے یہ شرائط قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہ تھا۔ باندر کی کتاب 300 کی بڑی تعداد میں چھاپ دی گئی۔ باندر جب یہ سب کتابیں لے کر اپنے محلے پہنچا تو اسے علم ہوا کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ بندر نے جو کچھ بھی دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ اہل محلہ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پر دیکھ چکے تھے۔ باندر کی کتاب کسی نے مفت میں بھی نہ قبول کی۔ باندر ایک ماہ کے بجائے ایک ہفتے ہی میں واپس چڑیا گھر پہنچ گیا۔ اس کا ڈپریشن دوگنا ہو چکا تھا۔ یہ امر چڑیا گھر والوں کو لیے باعث فکر تھا۔

چڑیا گھر والوں نے باندر کے ساتھ پھر مکالمہ کیا۔ اہل محلہ کے سلوک کا گہرا تجزیہ کیا گیا۔ پھر یہ طے پایا کہ اس بار ایک نئی کتاب چھاپی جائے اور یہ کتاب شرطیہ ہٹ آئٹم ثابت ہوگی۔ چھاپنے کا کام محلے کے مشہور ناشر "چہلم نکڑ کتاب گلی" کے سپرد ہوا۔ اس بار کتاب کا عنوان تھا: "جو میں نے نہیں دیکھا!"