گاؤں کی مصروف سڑکوں پر گاڑیوں کا شور تھا، دکانوں کے شٹر اٹھ رہے تھے اور صبح کی دھوپ ابھی پوری طرح گاؤں پر نہیں اتری تھی۔ اسی اثنا میں عمیر کمرے میں داخل ہوا اور کھڑکی کے پردے ہٹانے لگا۔ جوں ہی اس نے کھڑکی کے پردے ہٹائے اور باہر دیکھا تو سامنے والے گھر کی چھت پر ایک بچہ گیند سے کھیل رہا تھا۔ گیند کبھی دیوار سے ٹکراتی، کبھی صحن میں گرتی اور بچہ قہقہہ لگاتے ہوئے اسے لینے دوڑتا۔
عمیر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور من ہی من میں کچھ سوچ رہا تھا۔ خیالوں کی دنیا میں گم نہ جانے عمیر کیا سوچ رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے عروسہ کی آواز آئی۔
"ناشتہ لگ گیا ہے"۔
عمیر نے مڑ کر دیکھا۔ عروسہ کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں کے نیچے ہلکے حلقے بتا رہے تھے کہ وہ مسکراہٹ کتنی محنت سے چہرے پر سجائی گئی ہے۔
"آ رہا ہوں"۔
وہ میز پر بیٹھا تو عروسہ نے چائے کا کپ، کچھ روٹیاں اور تھوڑی سبزی اس کے سامنے رکھ دی۔
"آج ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا؟"
عمیر نے کپ اٹھایا، مگر چائے پینے کے بجائے اسے دیکھتا رہا۔
"نہیں"۔
"کیوں؟"
"کتنی بار جائیں گے عروسہ؟"
عروسہ خاموش ہوگئی۔
عمیر نے دھیرے سے کہا: "پانچ سال ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر، حکیم، دوا، علاج، پیر، فقیر، تعویذ۔۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جن کے بارے میں ہمیں خود یقین نہیں تھا کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم نے سب کچھ کرلیا"۔
عروسہ نے نظریں جھکا لیں۔
"لیکن امید تو نہیں چھوڑنی چاہیے نا"۔
عمیر ہلکا سا مسکرایا۔
"امید ہی تو ہے جس کے سہارے پانچ سال گزر گئے"۔
چند لمحوں تک دونوں خاموش رہے۔
پھر عروسہ نے سبزی آگے بڑھاتے ہوئے کہا: "اگر اللہ نے ہماری گود میں بچہ نہیں لکھا ہے تو۔۔ تو شاید ہمیں کسی ایسے بچے کی گود بن جانا چاہیے جس کی اپنی کوئی گود نہ ہو"۔
عمیر نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔
"تم کیا کہنا چاہتی ہو؟"
"ہم کسی بچے کو گود لے لیتے ہیں"۔
عروسہ کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل گئے لیکن اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار صاف نظر آریے تھے۔
عمیر نے آہستہ سے پوچھا: "کیا تم واقعی یہ چاہتی ہو؟"
عروسہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا: "اگر میں بچے کو پیدا نہیں کر سکتی، لیکن شاید کسی بچے کو ماں بن کر پال اس کو سکتی ہوں نا"۔
عمیر نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"تو پھر آج سے ہم اپنے بچے کو تلاش کریں گے"۔
اگلے کئی ہفتے دونوں شہر شہر، گاؤں گاؤں پھرتے رہے۔
کبھی کسی جاننے والے سے رابطہ کرتے، کبھی کسی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ کہیں کاغذات کی لمبی فہرست سامنے آ جاتی، کہیں برسوں کی انتظار کی فہرست۔
ایک دن عمیر نے دفتر میں اپنی اس خواہش کا اظہار ایک دوست سے کیا تو اس صاحب نے کہا: "اگر آپ واقعی بچہ چاہیے ہے تو پاس والے شہر کے بچوں کے اسپتال کا پتا کرو۔ وہاں بعض غریب والدین اپنے نومولود بچوں کو گود دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں"۔
گھر پہنچ کر عمیر نے عروسہ کو جب یہ بات بتائی تو اس کے دل میں امید کی ایک نئی شمع روشن ہوگئی اور خوشی سے کہنے لگی: "صبح سویرے ہی وہاں چلتے ہیں؟"
صبح ہوتے ہی دونوں فوراً تیار ہوگئے اور شہر کی جانب چل پڑے۔
شہر پہنچتے ہی عروسہ نے بچے کیلئے کپڑے خریدنے کی ضد کی۔ اس کی خوشیاں آسمان کو چھو رہی تھی اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی برسوں کی مراد پوری ہونے والی تھی۔
کپڑے خریدنے کے بعد دونوں ہسپتال کی جانب بڑھنے لگے۔ دونوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا شاید دونوں اپنے آنے والے بچے کے ساتھ پہلی ملاقات کے خواب میں سفر کر رہے ہیں۔
اسپتال کے باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ایک طرف مریضوں کے رشتہ دار، دوسری طرف ایمبولینسیں، کہیں دوائیں خریدنے والوں کی قطار، کہیں نومولود بچوں کو سینے سے لگائے مائیں۔
عمیر اور عروسہ اندر داخل ہوئے اور ایک شخص سے اپنے آنے کی وجہ بتائی تو وہ انہیں اسپتال کے ایک نسبتاً خاموش حصے میں لے گیا۔
وہاں ایک دبلا پتلا آدمی بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے اور چہرے پر تھکن کی گہری لکیریں تھیں۔ اس کے ساتھ ایک عورت بیٹھی تھی جس کی گود میں نومولود بچہ تھا۔ اس شخص نے غریب جوڑے سے بچہ گود دینے کے بارے میں شاید پہلے ہی بات طے کی تھی۔
عروسہ کی نظر بچے پر پڑی تو جیسے اس کے قدم زمین میں گڑ گئے۔
اتنا چھوٹا سا وجود!
ننھی سی ناک، بند آنکھیں اور مٹھی میں بند چھوٹی چھوٹی انگلیاں۔
عروسہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
بچے کی ماں نے اسے دیکھا اور آہستہ سے بچے کو عروسہ کی طرف بڑھا دیا۔
"لے لیجیے۔۔ "
عروسہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
"میں؟"
عورت نے سر ہلایا۔
عروسہ نے بچے کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔
جیسے پانچ سال سے خالی اس کی گود کو اچانک کوئی معنی مل گیا ہو۔
اس نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔
"عمیر۔۔ "
اس کی آواز بھرّا گئی۔
"دیکھیں۔۔ ہمارا بچہ"۔
عمیر نے بچے کو دیکھا۔
اس کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں۔
اس نے اپنا ہاتھ بچے کے سر پر رکھا۔
"اللہ نے ہماری سن لی"۔
بچے کا باپ خاموش بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
کاغذی کاروائی اور دوسری رسمی باتیں مکمل ہوئیں۔ عمیر نے بچے کی طرف دیکھ کر اس کے ماتھے کو چوما اور پھر اپنے بٹوے سے پچاس ہزار روپے نکال کر بچے کے باپ کی طرف بڑھا دیے اور کہنے لگا۔
"یہ رکھ لیجیے ہماری طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ۔ اپنا لخت جگر ہمیں سونپنے کے لیے ہم عمر بھر آپ دونوں کے شکرگزار رہیں گے"۔
آدمی نے رقم لے لی۔
اس نے نوٹ گنے۔
ایک بار۔
پھر دوسری بار۔
اچانک اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
اس نے حیرت اور ناراضی کے ملے جلے لہجے میں کہا: "صاحب، یہ کیا دے رہے ہو؟"
عمیر چونکا۔
"کیا مطلب؟"
آدمی نے نوٹ ہاتھ میں لہراتے ہوئے کہا: "پچاس ہزار؟"
عمیر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"جی۔۔ یہ بچے کے لیے ہماری طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے"۔
وہ آدمی تلخی سے ہنسا۔
"بچے کے لیے؟ صاحب، میں نے پچھلے دو بچے ڈھائی ڈھائی لاکھ میں دیے ہیں اور آپ صرف پچاس ہزار دے رہے ہوں"۔
عروسہ کے ہاتھ بچے کو تھامے ہوئے جم گئے۔
عمیر کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
"کیا کہا آپ نے؟"
"ڈھائی لاکھ"۔
"آپ۔۔ اپنے بچوں کو بیچتے ہیں؟"
آدمی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
"صاحب، آپ اسے جو نام دینا چاہیں دے دیں۔ میرے لیے تو یہ مجبوری ہے۔ گھر میں کچھ کھانے کو نہیں، قرض ہے، بیماری ہے۔ بچے پالنے کی استطاعت نہیں۔ جسے بچہ چاہیے، وہ پیسے دیتا ہے"۔
عمیر چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر اس کی نگاہ عروسہ کی طرف گئی۔
عروسہ بچے کو سینے سے لگائے ہوئے تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوشی نہیں بلکہ ایک عجیب سا خوف اتر آیا تھا۔
عمیر کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا وہ سوچ رہا تھا کہ جس نعمت کے لیے وہ دونوں پانچ سال سے سجدوں میں رو رہے تھے آج کوئی اسے قیمت لگا کر بیچ رہا تھا۔ عروسہ نے چپکے سے بچے کو ماں کی گود میں واپس رکھا اور اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگی: بہن! ہم بچہ خریدنے نہیں بلکہ بچہ گود لینے آئے تھے۔