1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. معیشت بچانے کے نام پر معیشت بند کرنے کا راستہ؟
Farhat Abbas Shah

معیشت بچانے کے نام پر معیشت بند کرنے کا راستہ؟

آخرکار حکومت ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں ملک کو درپیش توانائی اور ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے کاروباری سرگرمیوں، دفتری اوقات اور عوامی نقل و حرکت میں کمی کو بطور حل زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت چار روزہ ورکنگ ویک، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات، سرکاری ملازمین کے لیے روٹیشن سسٹم، سرکاری گاڑیوں کے ایک حصے کو گراؤنڈ کرنے اور مارکیٹیں ہفتے میں تین دن بند رکھنے سمیت مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ تجاویز 15 ستمبر تک زیرِ غور تھیں، حتمی پالیسی نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی معیشت کو توانائی بچانے کے لیے اس کی معاشی سرگرمی ہی محدود کرکے چلایا جا سکتا ہے؟ بحران وقتی ہو تو ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں، لیکن اگر بحران کا جواب مسلسل کاروباری اوقات کم کرنا، بازار بند کرنا اور شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنا بن جائے تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ توانائی کے انتظام کی قیمت آخر معیشت کیوں ادا کرے؟

پاکستان پہلے ہی کاروباری اوقات میں کمی کے تجربے سے گزر رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے جون میں ایندھن کی بچت سے متعلق متعدد پابندیاں ختم کر دی تھیں، تاہم مارکیٹوں اور بازاروں کی رات نو بجے بندش برقرار رکھی گئی تھی۔ دوسری طرف چین اسٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان نے ستمبر میں بھی حکومت سے خوردہ کاروبار کے اوقات پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ماہ سے زیادہ عرصے کی محدود کاروباری سرگرمیوں نے رسمی ریٹیل سیکٹر کی فروخت، ٹیکس آمدن، روزگار اور کاروبار کو متاثر کیا ہے۔

اپریل میں CAP کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق کاروباری اوقات میں کمی کے پہلے ہفتے میں اس کے رکن ریٹیلرز نے روزانہ آمدن میں 25 سے 30 فیصد کمی رپورٹ کی تھی، جبکہ ایسوسی ایشن نے ہفتہ وار کاروباری نقصان کا تخمینہ تقریباً 100 ارب روپے اور ٹیکس وصولی میں ہفتہ وار کمی کا تخمینہ 25 ارب روپے تک لگایا تھا۔ یہ اعداد حکومتی سرکاری اعداد نہیں بلکہ ریٹیل انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم کے تخمینے ہیں، اس لیے انہیں اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہاں مسئلہ صرف دکان کے ایک گھنٹہ پہلے بند ہونے کا نہیں۔ شام کے اوقات شہری معیشت میں خریدوفروخت، ریستورانوں، شاپنگ مالز، ٹرانسپورٹ، ڈیلیوری سروسز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ اگر کاروباری اوقات کم کیے جائیں تو کرایہ، تنخواہیں، ٹیکس اور بجلی جیسے مستقل اخراجات اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں، مگر آمدن کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً حکومت جس توانائی کی بچت چاہتی ہے، اس کے مقابلے میں معیشت کو ہونے والا بالواسطہ نقصان ایک الگ سوال بن کر سامنے آتا ہے۔

توانائی کے بحران کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر سنجیدہ توجہ درکار ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے اور پن بجلی کو توانائی کے متبادل ذرائع کے طور پر زیرِ بحث لایا جاتا رہا ہے۔ شہریوں اور کاروباری اداروں کو توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دینا ایک بات ہے، لیکن جب لوگ اپنی سطح پر توانائی کے متبادل انتظامات شروع کریں تو پالیسی کا غیر یقینی پن سرمایہ کاری اور اعتماد دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی طرح بائیوگیس، ویسٹ ٹو انرجی، چھوٹے پیمانے کی قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کی بچت کی جدید ٹیکنالوجیز کو ایک جامع قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا محض ہنگامی پابندیوں سے زیادہ پائیدار راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

حکومت کی موجودہ مشکل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 11 ستمبر کو وزیراعظم کی زیر صدارت بجلی کے لوڈ مینجمنٹ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ علاقائی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور RLNG کی سپلائی میں مشکلات کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کسی علاقے میں لوڈشیڈنگ دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔

لیکن کسی بحران کی موجودگی حکومت کو مشکل فیصلوں سے تو ضرور دوچار کرتی ہے، اسے پائیدار معاشی حکمتِ عملی سے بے نیاز نہیں کرتی۔ اگر توانائی کی قلت ہے تو اس کا حل توانائی کے نظام کی اصلاح، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی، مقامی اور متبادل ذرائع کی توسیع، بجلی کے نظام میں نقصانات میں کمی اور سرکاری شعبے کے غیر ضروری اخراجات میں کمی کے ساتھ تلاش کرنا ہوگا۔

سب سے بڑھ کر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ توانائی کی بچت کا بوجھ کس تناسب سے مختلف طبقات پر ڈالا جا رہا ہے۔ اگر کاروباری اداروں، دکانداروں، مزدوروں اور عام شہریوں سے قربانی مطلوب ہے تو ریاستی اور سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری بھی اسی پالیسی کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ محض مارکیٹیں جلد بند کر دینا یا ہفتے میں مزید تعطیلات متعارف کرا دینا توانائی کے بحران کا مکمل معاشی حل نہیں بن سکتا۔

پاکستان کو ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو بحران کو وقتی طور پر دبانے کے بجائے اس کی بنیادی وجوہات سے نمٹے۔ کاروبار بند کرنا نسبتاً آسان انتظامی فیصلہ ہے، کاروبار کو توانائی کی فراہمی، مستحکم پالیسی، کم لاگت اور قابلِ پیش گوئی ماحول فراہم کرنا مشکل ضرور ہے، مگر معاشی استحکام کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔

ملک کی معیشت کو بچانے کے لیے اگر معاشی سرگرمی ہی محدود کر دی جائے تو یہ سوال لازماً اٹھے گا کہ ہم توانائی بچا رہے ہیں یا معیشت کی رفتار کم کر رہے ہیں۔ موجودہ بحران میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسا توازن پیدا کرے جس میں توانائی کی بچت بھی ہو، سرکاری اخراجات میں کفایت بھی آئے اور بازار، صنعت، روزگار اور کاروباری سرگرمیاں بھی غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہوں۔ کیونکہ معیشت کا پہیہ جتنا کم چلے گا، اس سے حاصل ہونے والی توانائی کی بچت کا فائدہ بھی اسی وقت معنی رکھے گا جب اس کے مقابلے میں پیدا ہونے والا معاشی نقصان اس سے کم ہو۔