ہم نے ہر سانس قضا ہونے سے بچا رکھی ہے
عشق میں وضعِ انا پھر بھی بچا رکھی ہے
بات نکلی ہے تو اب دور تلک جائے گی
ہم نے ہونٹوں پہ اگرچہ یہ صدا رکھی ہے
مصلحت کہہ کے جسے لوگ گزر جاتے ہیں
ہم نے اس موڑ پہ اک شمع جلا رکھی ہے
پوچھتا ہے جو کوئی مجھ سے مری تنہائی
میں نے ہنس کر اسے تصویر دکھا رکھی ہے
کون سمجھے گا بھلا بحرِ تمنا کی تھکن
ناؤ ساحل پہ مگر ہم نے سجا رکھی ہے
رکھ دیا لا کے زمانے نے ہنر کا پانسہ
اب یہ بازی ترے انصاف پہ اٹھا رکھی ہے
راکھ کے ڈھیر میں کیا ڈھونڈتے ہو چنگاری
ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے بجھا رکھی ہے