آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے
چاندنی اوڑھ کے تاروں کی بہن اتری ہے
شہرِ پندار کے خاموش سے انساں دیکھو
ایسا لگتا ہے کوئی روحِ چمن اتری ہے
کس کی آہٹ سے لہو جاگ اٹھا پوروں میں
برف کے لمس میں لپٹی وہ چبھن اتری ہے
ایک خوشبو کہ جو بکھری تھی کبھی یادوں میں
بن کے تصویر مرے تشنہ دہن اتری ہے
کتنے برسوں سے مرے گھر میں اندھیرا ہی رہا
آج دیوار کو چھونے وہ کِرن، اتری ہے