1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے
Kiran Hashmi

آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے

آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے
چاندنی اوڑھ کے تاروں کی بہن اتری ہے

شہرِ پندار کے خاموش سے انساں دیکھو
ایسا لگتا ہے کوئی روحِ چمن اتری ہے

کس کی آہٹ سے لہو جاگ اٹھا پوروں میں
برف کے لمس میں لپٹی وہ چبھن اتری ہے

ایک خوشبو کہ جو بکھری تھی کبھی یادوں میں
بن کے تصویر مرے تشنہ دہن اتری ہے

کتنے برسوں سے مرے گھر میں اندھیرا ہی رہا
آج دیوار کو چھونے وہ کِرن، اتری ہے