1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. یہاں ایسی فضا سہمی ہوئی ہے
Kiran Hashmi

یہاں ایسی فضا سہمی ہوئی ہے

یہاں ایسی فضا سہمی ہوئی ہے
کہ بادل میں گھٹا سہمی ہوئی ہے

چمن کے پھول بھی نوحہ کناں ہیں
پرندوں کی صدا سہمی ہوئی ہے

مسلسل بھوک ہے رقصاں یہاں پر
خودی، نخوت، انا سہمی ہوئی ہے

یہاں آؤ مرے بچو کہاں ہو
سدا سے مامتا سہمی ہوئی ہے

محبت کا یہاں انجام دیکھو
کہ کونے میں وفا سہمی ہوئی ہے

یہاں اب نازنیں اور مہ جبیں کی
ہر اک دلکش ادا سہمی ہوئی ہے

نہیں ہے کچھ بچا ایسا کرن اب
عدو کی بد دعا سہمی ہوئی ہے