1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. تقدیر کے لکھے کو تو دھویا نہیں جاتا
Kiran Hashmi

تقدیر کے لکھے کو تو دھویا نہیں جاتا

تقدیر کے لکھے کو تو دھویا نہیں جاتا
غم حد سے زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

مت پوچھیے بیتے ہوئے لمحوں کی کہانی
ہر درد تو پلکوں میں پرویا نہیں جاتا

دن بھر تو تِری یاد سکوں دیتی ہے مجھ کو
ہاں رات! مگر چین سے سویا نہیں جاتا

آہیں کوئی طوفان اٹھا سکتی نہیں ہیں
اشکوں سے تِرا نقش بھی دھویا نہیں جاتا

نالوں سے تِرے نغمے جُدا کر نہیں سکتی
لفظوں میں تِرا ذکر سمویا نہیں جاتا

جل جائیں جو کھلیان تو فصلیں نہیں اُگتیں
خوابوں کو کبھی راکھ میں بویا نہیں جاتا