1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلے

شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلے

شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلے
ہم خود ہی اپنی یاد سے آزاد ہو چلے

کتنے ہی لوگ شہر کی رونق میں کھو گئے
بستی کے سارے رابطے نایاب ہو چلے

صحرا کی دھوپ چاٹ گئی صبر کا بدن
پیاسے لبوں پہ نالے بھی بیداد ہو چلے

منزل کا ذکر چھوڑ کہ رستوں کے پیچ و خم
پاؤں کی لغزشوں کے ہی استاد ہو چلے

کِرنوں کی جستجو میں کٹے جا رہے ہیں پَر
طائر بھی قیدِ شب سے وہ اب شاد ہو چلے

وہ جن کے رابطوں میں تھی دیوار کی سی چپ
منظر سے اب وہ صورتِ روداد ہو چلے

منزل کی جستجو میں جلے اس طرح کہ ہم
اب صورتِ کِرن لبِ فریاد ہو چلے