"میں شہزادی بننا چاہتی ہوں"۔ عرش نے بابا کو بتایا تو بابا نے ساری دنیا سے چیزیں منگوا دیں: چمکتا ہوا چھوٹا سا تاج، سنہری پھول دار پوشاک اور موتیوں کی مالا۔ پرستان سے جادو کی چھڑیاں بھی منگوا دیں جن کے ساتھ چمک دار ربن جڑے تھے۔ جب وہ انہیں گھماتی تو ہوا میں رنگ بکھر جاتے، جیسے کوئی جادو چل رہا ہو۔ اُس کے پاس شیشے کے جوتے نہیں تھے۔ ماں کہتی تھیں، "ابھی وہ چھوٹی ہے، اس لیے شیشے کے جوتے نہیں پہن سکتی"۔ لیکن عرش کے پاس سفید یونیکورن کے جوتے تھے۔ وہ انہیں پہن کر پاؤں زمین پر رکھتی تو وہ ہیروں کی طرح سرخ اور نیلی روشنی سے جگمگا اٹھتے۔
عرش کو جانور بہت پسند تھے، بڑے ہوں یا چھوٹے۔ بلیاں اور کتے اسے بہت پیارے لگتے تھے۔ خرگوش، ہرن، چھپکلیاں، گلہریاں اور وہ ننھے پرندے جو دانا چگنے باغ میں آتے، درختوں کے نیچے دوڑتے چکور اور کبوتر۔ جن کی آواز کی نقل کرنا وہ پسند کرتی تھی۔ عرش سب جانوروں سے محبت کرتی تھی۔
بچو! جانور سیدھے سادے اور بے حد پیارے ہوتے ہیں۔ ریشمی، نرم، ملائم، ننھے، بڑی آنکھوں اور پیاری آوازوں والے۔ اُن کے وجود سے دنیا خوبصورت ہے۔ لیکن جانور اُس کا حکم نہیں مانتے تھے۔ جانور اُس کے ساتھ نہ ہوں تو لوگ اُسے کیسے شہزادی مانیں گے؟
ایک دن اُس نے شہزادیوں والا سنہرا لباس پہنا، سر پر تاج سجایا، کچن سے روٹیاں لیں اور پچھلے دروازے سے نکل کر باغ میں آگئی۔ اُس نے روٹی کے کچھ ٹکڑے چھوٹے کرکے گول کر لیے۔ پیار بھرا ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے پرندوں کو اپنی طرف بلانے لگی۔ گلاب کے پودے پر بیٹھی بلبل نے اس کی طرف دیکھا اور منہ موڑ لیا۔ چڑیا درخت پر بیٹھی چہچہا رہی تھی۔ سامنے درخت پر بیٹھی فاختہ گردن پھلا کر "کو کو" کا گیت گاتی رہی۔ لال چڑیا گھاس میں کیڑے ڈھونڈتی رہی۔ کسی نے بھی عرش کی طرف نہ دیکھا۔
اُس نے ہمت ہارنے کی بجائے اپنا منصوبہ بدل لیا۔ سوچا شاید یہ پرندے تھوڑے شرمیلے ہیں، پہلے ان سے واقف ہونا پڑے گا۔ اس نے روٹی کے چھوٹے اور بڑے ٹکڑے اپنے سامنے ایک بڑے دائرے میں بکھیر دیے اور دور بیٹھ کر انتظار کرنے لگی۔ کافی وقت گزر گیا۔ پرندے اپنی دھن میں مگن چہچہاتے رہے۔ وہ خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔ اچانک ایک بڑا کالا کوا، جس کی چونچ اور پنجے بھی کالے تھے، "کائیں کائیں" کرتا آیا اور روٹی کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر لے گیا۔ وہ خوش ہو کر بولی، "واہ رے تیری پھرتی کاگا!" مگر یہ خوشی عارضی تھی کیونکہ کوے نے تمام پرندوں کو ڈرا دیا تھا اور وہ سب اڑ گئے۔
اسی وقت ماں اسے ڈھونڈتی باغ میں آ گئی۔ روٹی کے چھوٹے بڑے ٹکڑے دیکھ کر بولی، "میری شہزادی! تم نے یہ کیا کیا ہے؟ دوپہر تک یہاں چیونٹیوں کی فوج جمع ہو جائے گی"۔
"ماما! آپ شہزادیوں کا کام جانتی ہیں۔ میں اُن کی طرح پرندوں کو کھانا کھلا رہی ہوں"۔
ماں واپس چلی گئی۔ وہ باغ میں پرندے تلاش کرنے لگی۔ ماں درست کہہ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا کہ چیونٹیاں روٹی کے چھوٹے ٹکڑوں کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ وہ منظم قطاروں میں چل رہی تھیں۔ ہر چیونٹی اپنے منہ میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیتی اور واپس چل پڑتی۔ عرش گھٹنوں کے بل جھک کر انہیں دیکھنے لگی۔ چیونٹیاں اپنی جسامت سے بڑے ٹکڑے اٹھا کر لے جا رہی تھیں۔ کچھ پتنگے بھی روٹی پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا۔
اس نے نظر گھما کر دیکھا تو ایک چھوٹی سی چھپکلی تیزی سے ادھر آ رہی تھی۔ اس کی کھال گھاس جیسی سبز اور چمک دار تھی۔ پیٹ کا رنگ ہلکا زرد اور پیٹھ پر چھوٹے چھوٹے سفید دھبے تھے۔ اس کی لمبی پتلی تھوتھنی سے سرخ زبان ایک یا دو بار باہر نکلی، شاید ہوا کا ذائقہ چکھنے کے لیے۔ چھپکلی کی ابھری ہوئی گول آنکھیں ہر طرف دیکھ رہی تھیں۔ عرش کو وہ بہت پیاری لگیں۔
"ہیلو، چھپکلی دوست۔ تم اس خوبصورت صبح میں کہاں گھوم رہی ہو؟"
چھپکلی نے جواب دینے کی بجائے دوڑ کر اپنی زبان سے چیونٹیوں اور پتنگوں کو شکار کرنا شروع کر دیا۔
"اے چھپکلی! یہ تم نے کیا کیا؟ وہ چیونٹیاں تو محنت سے اپنے لیے کھانا لینے آئی تھیں"۔
چھپکلی اس کی ڈانٹ سن کر بھی شرمندہ نہ ہوئی۔ چیونٹیوں کی قطار بکھر گئی۔ وہ نئے راستے پر چل پڑیں، مگر اپنا کام بند نہ کیا۔ جب بھی چھپکلی کسی قطار پر حملہ کرتی، چیونٹیاں اپنا راستہ بدل لیتی تھیں۔ وہ ان کی ہمت کی داد دینے لگی۔ چیونٹیوں کی محنت دیکھ کر اس نے ایک آہ بھری، شہزادی والا کام اتنا آسان نہیں جتنا وہ سوچتی تھی۔
دوپہر کو اس نے اپنا لنچ باکس لیا اور گھر کے سامنے والی ندی کی طرف چل پڑی۔ ہر طرف پانی اور ہریالی تھی۔ گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا، برف پگھل رہی تھی۔ پہاڑیوں پر گھاس اور جنگلی پھول کھلے تھے۔ شہد کی مکھیوں کی نرم بھنبھناہٹ اور درختوں کے پتوں سے گزرنے والی ہوا کانوں کو بھلی لگتی تھی۔ اس نے اپنے لنچ باکس سے کٹی ہوئی گاجریں نکالیں اور درختوں کی طرف چل پڑی۔ اس کی کتاب میں لکھا تھا کہ خرگوش گاجریں پسند کرتے ہیں۔
نرم گھاس اور پھولوں کے درمیان چلتی وہ درختوں کے پاس پہنچی تو اسے دو خرگوش نظر آئے۔ خوبصورت، بھورے اور نرم خرگوش جو اس نے کئی بار دیکھے تھے۔ وہ گھاس چرتے ہوئے چھلانگیں لگا رہے تھے۔ وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ایک شہزادی انہیں پیار سے دیکھ رہی ہے۔ ان کی چھوٹی سی گلابی ناک کھانے کے ساتھ ہل رہی تھی۔ ان کے ننھے ننھے پنجے۔ اوہ! اس کو وہ بہت پیارے لگے۔ انہیں اپنا دوست بنانا چاہتی تھی۔
وہ سوچ رہی تھی کہ قریب جا کر انہیں پیار سے گاجریں کھلائے گی، جیسے ایک شہزادی کرتی ہے، مگر ان کا نرم پن دیکھ کر وہ دوڑ پڑی۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ ایسا کیوں ہوا۔ بس دل نے کہا انہیں پکڑو، گلے لگاؤ، چومو اور ان کی ناک پر پیار کرو۔ اگلے لمحے وہ زور سے چلائی، "پیارے خرگوش!" اور انہیں پکڑنے کی کوشش کی۔ خرگوش خوف سے ادھر ادھر بھاگ گئے۔
دوڑنے سے اسے پسینہ آ گیا۔ سانس پھول رہی تھی اور وہ اپنے مقصد کے قریب بھی نہ پہنچی تھی۔ جب ہوش آیا تو اسے شرمندگی محسوس ہوئی کہ وہ اتنی بے صبری سے خرگوشوں پر جھپٹی تھی۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید مارخور کے ساتھ اس کی قسمت بہتر ہو۔ اس بار اسے ہوشیار رہنا ہوگا۔ عرش نے جھاڑیوں کے بیچ سے راستہ نکالا اور مرکزی راستے تک واپس آ گئی۔ کبھی کبھی شام کے وقت مارخور اسی راستے سے گزرتے تھے۔ اگر وہ نہ ملے تو پہاڑی بکری یا اس کا بچہ تو آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔
وہ سوچ رہی تھی، "اب دیر ہو رہی ہے۔ ماں مجھے گھر بلا لے گی۔ اگر میں جلدی کسی جانور سے دوستی نہ کر سکی تو ایک اور دن ضائع ہو جائے گا"۔
عرش جنگل کی طرف جانے والے راستے پر چل پڑی۔ وہ شہزادیوں کی طرح ہلکے قدم اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر آج کی ناکامی اس کے دل پر بھاری تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس نے کیا غلطی کی؟ شاید جانوروں کو سنہری لباس پسند نہیں آیا۔ شاید اس نے شیشے کے جوتے نہیں پہنے تھے۔ وہ بار بار ماں کو یہی بتاتی رہتی تھی۔ سوچوں میں گم عرش کو احساس ہی نہ ہوا کہ وہ مانوس راستہ چھوڑ کر جنگل کے اُس حصے میں آ گئی ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جھاڑیاں گھنی تھیں اور راستہ گھاس سے اٹا ہوا۔
اچانک، بائیں طرف سے ہلچل کی آواز آئی۔ وہ ڈر گئی، اسے اندازہ ہوا کہ غلط جگہ پر پہنچ گئی ہے۔ اس نے گاجروں والا ہاتھ سینے سے لگا لیا اور قریب ترین درخت کے پیچھے چھپ گئی۔ غور سے دیکھا تو جھاڑیوں میں کوئی جانور پھنسا شور مچا رہا تھا۔ عرش کا دل چاہا کہ بھاگ جائے، لیکن اسے خیال آیا کہ شہزادیاں کسی سے نہیں ڈرتیں۔ یہ سوچ کر وہ درخت کے پیچھے سے نکل کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
وہ ایک یونیکورن تھا۔ کافی اونچا تھا مگر شکل سے ابھی بچہ معلوم ہوتا تھا۔ ماتھا درمیان سے کچھ ابھرا ہوا جیسے سینگ نکلنے کو تیار ہو۔ عرش نے گاجریں اس کے سامنے پھینک دیں۔ وہ بھوکا تھا یا گاجروں کا شوقین۔ فوراً ساری گاجریں کھا گیا۔
وہ بہت خوبصورت تھا۔ چمکتی ہوئی سفید کھال، سیاہ ناک اور پاؤں کالے جیسے جرابیں پہنی ہوں۔ سفید ایال دھندلی روشنی میں چمک رہی تھی، جس میں ہلنے پر لہریں پیدا ہو جاتیں۔ وہ جھاڑی میں پھنسا ہوا تھا اور پریشان تھا۔ اس کی بڑی سیاہ آنکھیں مدد کی طلب گار تھیں۔ عرش سب کچھ چھوڑ کر اس کی مدد کو دوڑی۔
عرش نے اس کی ناک پر ہاتھ رکھا۔ ہاتھ سے گاجروں کی خوشبو آ رہی تھی۔ یونیکورن نے خوشی سے اس کی انگلیاں چاٹنی شروع کر دیں۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ نرم سمور جیسے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ یونیکورن ہنہنانے لگا۔
"فلفّی، پرسکون ہو جاؤ۔ میں تمہیں نکال لوں گی"۔ نرم و ملائم کو اس سے بہتر کوئی نام نہیں دیا جا سکتا تھا۔
عرش نے آہستگی سے جھاڑیوں کو اس سے دور ہٹایا اور پکڑ کر راستے پر لے آئی۔ اس نے نتھنے پھلائے اور ادھر ادھر جھانکا۔ لمبی زبان بار بار باہر نکال رہا تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ اسے پیاس لگی ہے۔ گردن اور سر کو سہلاتے ہوئے وہ اسے ندی کی طرف لے آئی۔ پانی دیکھ کر وہ خوش ہوگیا۔ جی بھر کر پیا اور منہ اوپر کرکے ہنہنانے لگا۔ یونیکورن پا کر عرش خود کو پرستان کی شہزادی سمجھنے لگی۔ سچ مچ کی شہزادی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ دنیا میں شاید ہی کسی شہزادی کے پاس یونیکورن ہو۔
وہ اس کے ساتھ ندی کنارے کھیلنے لگی۔ شام ہو رہی تھی۔ دور سے کسی عورت کی آواز آئی۔ وہ "شھابو، شھابو" پکارتی اُس کی طرف آ رہی تھی۔ فلفّی آواز سن کر رک گیا اور ناک سے ہلکی ہلکی ہوا نکالنے لگا۔
عرش نے اپنی پوشاک سیدھی کی اور شہزادیوں کی طرح اکڑ کر کھڑی ہوگئی۔ عورت پاس آ کر بولی، "اوہ شھابو، کیا تم نے نئی دوست بنا لی ہے؟"
وہ خاموش کھڑا اپنی دم ہلانے لگا۔
عورت نے سوالیہ نظروں سے عرش کی طرف دیکھا تو وہ بولی، "میرا نام شہزادی ناصیہ عرش نگیں ہے۔ یہ شھابو نہیں، فلفّی ہے، میرا یونیکورن! یہ مجھے جنگل سے ملا ہے"۔
عورت نے مسکراتے ہوئے فلفّی کی گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ خوشی سے اچھلنے لگا۔ عورت بولی، "میری شہزادی! تم جانتی ہو، یونیکورن دن میں عام گھوڑوں کا روپ دھار لیتے ہیں تاکہ کوئی برا آدمی انہیں ڈھونڈ نہ سکے۔ یہ یونیکورن میرے ساتھ رہتا ہے اور ہم اسے شھابو، کہتے ہیں"۔
عرش نے تمکنت سے اپنا سر ہلایا۔ ڈوبتے سورج کی روشنی اس کے تاج پر پڑی تو اس سے مختلف رنگ پھوٹ پڑے۔ عورت نے کہا، "اے شہزادی! میں جنگل کے اس پار چھوٹے سے گاؤں میں رہتی ہوں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے میرے اس بچے کو اپنا دوست بنایا۔ اگر آپ اس پر سواری کرنا چاہیں تو میں روزانہ اسے آپ کے پاس لے آؤں گی"۔
عرش نے خوشی سے کہا، "جی، بالکل! اگر میری ماں اجازت دے"۔ وہ شاہانہ انداز میں سر اٹھائے پُرسکون کھڑی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ شہزادیاں اپنی رعایا سے محبت کرتی ہیں، مگر زیادہ نہیں بولتیں۔
عورت نے کمر جھکا کر اسے سلام کیا اور بولی، "شہزادی محترمہ، چلیں ہم آپ کی ماں سے پوچھتے ہیں۔ ایک خوبصورت اور ذمہ دار شہزادی کے لیے مجھے یقین ہے وہ ہاں کہہ دیں گی، کیونکہ شہزادیاں گھڑ سواری کی ماہر ہوتی ہیں"۔
اس کا چہرہ خوشی سے پھول گیا۔
اب اکثر شام کو شہزادی ناصیہ عرش نگیں ندی کنارے اپنے یونیکورن پر سوار ہواؤں سے کھیلتی نظر آتی ہے۔