ہم تو مصروفِ دعا گوشہء محراب میں تھے
جو بظاہر تو میسر تھے مگر خواب میں تھے
خار ہی خار ملے راہِ محبت میں ہمیں
ہم تو الجھے ہوئے اک رشتہءِ نایاب میں تھے
تیرگی جن کی مقدر تھی وہ کیا بجھتے بھلا
روشنی بن کے جو روشن دلِ بیتاب میں تھے
ہم کو اپنوں نے ہی بخشا ہے تماشائے الم
وہ جو شامل مری ہستی کے سب اسباب میں تھے
ایک ہی پل میں کرن خواب بکھر کر رہ گئے
نقش جتنے مری ہستی کے جو آداب میں تھے