سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیا
اُجڑنے والوں نے دیکھی ہیں حسرتیں کیا کیا
شجر سے کٹ کے جو پنچھی ہوا کی زد میں ہے
وہ جانتا ہے کہ ہوتی ہیں ہجرتیں کیا کیا
خود اپنے آپ سے ملنے کا وقت ہی نہ ملا
الجھ کے رہ گئیں سانسوں میں فرصتیں کیا کیا
کبھی جو پیاس کا صحرا قدم کو چھونے لگے
تو یاد آتی ہیں بادل کی قربتیں کیا کیا
وہ جن کے لب پہ کبھی حرفِ حق نہیں آیا
سنا رہے ہیں ہمیں اب نصیحتیں کیا کیا
یہ کائنات کی وسعت، یہ بے بسی اپنی
کھلی ہیں مجھ پہ مری ہی حقیقتیں کیا کیا
ملا ہے خود سے جو رشتہ تو یہ کھلا ہم پر
کِرن ملی ہیں ہمیں بھی یہ رفعتیں کیا کیا