1. ہوم
  2. افسانہ
  3. رابعہ خان
  4. عجیب لوگ

عجیب لوگ

سوال یہ تھا کہ سیاحت کے دوران آپ کو کس علاقے کے لوگ سب سے زیادہ عجیب لگے؟

مجھ سے جواب نہ بن پایا کیونکہ مجھے سوال ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

کیا مطلب "عجیب لوگ"

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ مجھے جھیکا گلی کے ایک گاوں میں واقف کار خاتون سے ملنے جانا پڑا۔ ہدایات کے مطابق چوک سے آگے نئے پلازہ (سیاحت کے پیش نظر اب یہ جگہ خالی کروائی جا چکی ہے) کے درمیان سے گزرتے ہوئے میں مین روڈ کی پچھلی طرف آگئی۔ یہاں سے نیچے اترتے ہوئے مجھے میزبان خاتون کے گھر تک جانا تھا۔ راستے کے دونوں اطراف کچرےکے ڈھیر تھے۔ ہوٹل، کلینک اور دوکانوں سے فراخدلی کے ساتھ پھینکا گیا کچرا اور یقیناََ گھروں کا کچرا بھی۔

میں نے آس پاس کسی متبادل راستہ کی تلاش میں نظر دوڑائی لیکن نظر مایوس ہو کر واپس کچرے پر آ ٹھری۔ چار و ناچار منہ سر لپیٹ کر نظریں نیچی کیے، میں میدان جنگ میں کود گئی۔ جیسا کہ مجھے معلوم تھا کچرے کے درمیان سے گزرتے ہوئے میرے اعصاب ضرور متاثر ہونگے، ویسا ہی ہوا۔ مختصر راستہ صدیوں پر محیط محسوس ہوا۔ آس پاس کے ماحول پر توجہ دیے بغیر، سانس روکے، لاحول پڑھتے ہوئے میں حتی الامکان تیزی سے نیچے اتر رہی تھی۔

تھوڑی دور جا کر راستہ صاف اور پرفضا ہوگیا۔ جیسا کہ گلیات کے علاقے ہوتے ہیں۔ مطلوبہ مقام پر پہنچ کر بھی میری طبیعت میں خوف اور گھبراہٹ کم نہیں ہو رہی تھی۔ خاتون نے کافی تسلی دی اور چاے کا اہتمام کیا۔ لوگ نہ جانے کیوں صدقہ و خیرات راستے میں پھینک دیتے ہیں۔ وہ بڑبڑاتی جا رہی تھی۔ اتنے میں اسکی بچیاں اسکول سے واپس آ گئیں۔

آپ نے نیچے آتے ہوئے اسکول دیکھا ہے، میرے شوہر وہاں ہیڈ ماسٹر ہیں۔

میں نے جواباََ کہا، استاد سے ملنا ضروری ہے۔ مجھے ایک سوال نے کب سے پریشان کر رکھا ہے۔ یہ عجیب لوگ کون ہوتے ہیں۔

خاتون لاپرواہی سے بولی، یہ تو میں بھی بتا سکتی ہوں۔

بچوں کی ذرا سی بات پر ہمسائے آپس میں جھگڑنے لگتے ہیں اور دیکھنے والے کہتے ہیں، کتنے "عجیب لوگ" ہیں۔

راہگیر کسی سے راستہ پوچھتا ہے، بتانے والا غلط بتاتا ہے۔ عجیب آدمی ہے۔

خاتون کی وضاحت سنتے ہوئے میں سوچ رہی تھی اتنی آسان بات میری سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ میں بھی کتنی عجیب ہوں۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ہیں جو پریشانی کا سبب بنتے ہیں ہماری خوشی سے جلتے ہیں۔ کامیابی کی سیڑھی سے سانپ بن کر لپٹ جاتے ہیں۔

خوبصورت ہرے بھرے پارک میں بچوں کے سامنے کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں۔

نوجوان، بزرگوں کو دیکھ کر بھی ان کے لیے جگہ نہیں بناتے۔

یہ لوگ کون ہیں؟

حاسد لوگ

زندگی میں ہارے ہوئے درماندہ لوگ

بے نام و نشان سڑک پر پڑے ہوئے عجیب پتھر لوگ۔

ان کے سروں پر سینگ نہیں ہوتے کہ پہچان لیے جائیں۔ یہ اپنے رویوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن پہچانے گا کون۔۔

میزبان خاتون اپنے علاقے میں سماجی خدمات کی وجہ سے جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ ان کے حلقہ احباب میں خواتین مری کے آس پاس کے علاقوں اور اسلام آباد میں تعلیم وتربیت اور طبی مراکز میں کام کر رہی ہیں۔ آج کی ملاقات آپس میں تعارف اور اپنے اپنے تجربات کو شیئر کرنے کے لیے دوستانہ ماحول میں رکھی گئی تھی۔

میں نے ایک ورکشاپ کا، جہاں بغیر سرحدوں کی ڈاکٹر خواتین کے حوالے سے بات کر رہی تھیں، زکر کرتےہوئے کہا کہ سوڈانی خاتون جن کی عمر پنتالیس کے لگ بھگ ہے۔ شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں ہے۔

اپنے بچپن اور نوجوانی کا ذکر کرتے ہوئے ابھی بھی رو پڑتی ہے۔

خواتین کے ختنہ FMG. female genital mutilation کا رواج افریقہ، مشرق وسطی اور ایشیاکے کئی ممالک میں عام ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل کے خلاف ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کا کردار کیا ہے۔۔

خاتون کے بقول وہ سات سال کی تھی۔ جس دن اسے اس عمل سے گزرنا تھا، ایک رات قبل محلہ اور خاندان کی خواتین ان کے گھر جمع ہو کر ڈھولک پر گیت گاتی رہیں۔ بچی کو مہندی لگائی گئی اور سجایا، سنوارا گیا۔ کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے یا مسلم معاشرے میں عورت کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔ صرف سوڈان میں ہر دس میں سے نو بچیوں کو اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل لڑکیوں میں جنسی خواہشات کے خاتمے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جوان ہونے پر انہی زخمی لڑکیوں کو شادی اور بچوں کی پیدائش سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ افزائش نسل بھی شوہروں کے حقوق میں شامل ہے۔ یہ کسی ایک کی کہانی نہیں ہے۔ لیڈی ڈاکٹر نے افسوس کرتے ہوئے کہا، ابھی حال ہی میں دو دن کی دلہن شدید تکلیف اور خوف میں مبتلا شوہر کی مرضی کے بغیر کسی خاتون رشتہ دار کےساتھ اہسپتال پہنچی۔ لیڈی ڈاکٹر نے معائنہ کے بعد جلد سرجری کرنےکا فیصلہ کیا۔ شوہر کی رضامندی ضروری تھی لہذا قانونی کاروائی کی دھمکی دے کر اسے رضامند کیا گیا۔

تمام خواتین حیرت اور افسوس سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔

آج کی عورت کا ردعمل صرف غصہ یا احتجاج نہیں بلکہ اصلاح کی ایک کوشش بھی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ معاشرہ بدل جائے، انصاف ہو اور ہر انسان کو عزت اور آزادی ملے۔

شوہر کی لعن طعن کا جواب دیتے ہوئے فائزہ کا چہرہ تپ گیا اور آواز قدرے بلند ہوگئی تھی۔ اس کا احساس اسے شوہر کے زناٹے دار تھپڑ کی گونج سے ہوا۔ وہ اپنے قدموں پر ڈگمگا گئی تھی۔

تمھاری یہ جرأت میری ماں کے سامنے زبان کھولو۔ اس کا شوہر غرا رہا تھا۔ سامنے ساس فاتح بنی بیٹھی مسکرا رہی تھی۔

میری ماں کے پیروں میں بیٹھ کر معافی مانگو تو شاید تمہیں گھر کے کسی کونے میں جگہ مل جائے۔

فائزہ خود کو اس ذلت کی حقدار نہیں سمجھتی تھی، ہمت کرکے بولی، کونہ ہو یا تخت مجھے اس گھر میں نہیں رہنا۔

فائزہ کے والد مذہبی اور سلجھے ہوئے آدمی تھے۔ انھوں نے داماد کو گہری نظروں سے دیکھا اور اس کی والدہ سے مخاطب ہوئے۔ بہن! آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ فائزہ کو بیٹی کی طرح رکھیں گی اور اسے مرحومہ ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گی۔ آپ نے اپنے وعدے کا بھرم بھی نہیں رکھا۔

جسے بیٹے کی طرح سر آنکھوں پر بٹھایا وہ بات بات پر میری بچی کو گالیاں سناتا ہے اور پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے۔

بھائی صاحب! میرے بیٹے کا کاروبار میں نقصان ہوگیا، سب کچھ مٹی میں مل گیا۔ اگر آپ دوبارہ کاروبار میں پیسے نہیں لگائیں گے تو آپ کی بیٹی سڑک پر آ جائے گی۔ ساس تنک کر بولی۔

میں ابھی زندہ ہوں اس کی نوبت نہیں آے گی۔ چلو فائزہ اپنے گھر چلو اور میرے غلط فیصلے کے لیے مجھے معاف کر دو۔

فائزہ لنچ بریک میں مجھے اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر سکون اور ہونٹوں پر آسودہ مسکراہٹ تھی۔

میں سوچ رہی تھی انسان زمین پر اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا گیا اسے چہرہ، عقل، زبان اور ضمیر عطا ہوا تاکہ وہ خالق حقیقی کی پہچان کرے اور مخلوق کے ساتھ رحمت کا رویہ اختیار کرے۔ مگر جب یہ نعمتیں لالچ، غرور اور ظلم میں ڈوب جائیں تو انسان کا چہرہ تو باقی رہتا ہے مگر انسانیت نہیں۔

بعض پچھلی قوموں پر ان کے ایک گناہ کے سبب عذاب اتارے گئے اور ان کے چہرے مسخ کر دیے گئے۔

وہ تمام گناہ آج کی ایک قوم میں پائے جاتے ہیں تو کیا ہمارے آس پاس سانس لیتے ہوئے انسان فطرتا" جانور ہیں۔ جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے؟

ہے ناں "عجیب سوال"۔۔