1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد شہزاد
  4. گوادر کے سرخ کیکڑے

گوادر کے سرخ کیکڑے

صفدر زیدی کا ناول "گوادر کے سرخ کیکڑے" ایک ایسا عجیب و منفرد تجربہ ہے جو پہلی نظر میں ایک مزاحیہ، بچگانہ اور غیر سنجیدہ کہانی محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر چھپی ہوئی سیاسی علامتیں اسے ایک باخبر قاری کے لیے سنجیدہ متن بنا دیتی ہیں۔ یہ ناول حقیقت کو براہ راست بیان کرنے کے بجائے ایک ایسی تمثیلی دنیا تخلیق کرتا ہے جہاں سمندر، مچھلیاں، کیکڑے، شارک، کچھوے، بگلے اور دوسری مخلوقات دراصل انسانی کرداروں، اداروں اور طاقت کے نظاموں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یہ ناول بنیادی طور پر بلیک کامیڈی ہے۔ صفدر زیدی کو ایسا کرنا پڑا کیونکہ بلوچستان جیسے پیچیدہ سیاسی مسئلے پر براہ راست لکھنا خودکشی کے مترادف ہے۔ مصنف نے جانوروں اور سمندری مخلوقات کی دنیا بنا کر اپنی بات کہنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہاں ہنسی بھی آتی ہے، مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک گہری بے بسی، غصہ اور المیہ موجود ہے۔

ناول کا سب سے بڑا استعارہ سمندر ہے۔ یہ سمندر دراصل بلوچستان ہے، جس میں مختلف مخلوقات اس خطے کے مختلف طبقات، قوموں اور طاقتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سرخ کیکڑے بلوچستان کے ان لوگوں کی علامت ہیں جو اپنی شناخت، اختیار اور آزادی کے خواہاں ہیں۔ ان کے مقابلے میں خاکی چیونٹیاں ریاستی طاقت، خصوصاً پاکستانی فوج کی علامت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ مصنف نے انہیں ایک ایسی منظم اور طاقتور قوت کے طور پر دکھایا ہے جو تعداد، نظم اور طاقت کے ذریعے سب کچھ اپنے قابو میں رکھ سکتی ہے۔ ان کا کاٹا ایسا ہے کہ "پانی مانگنے" کی مہلت بھی نہیں ملتی۔

اسی طرح کالی شارک فورس بلوچستان میں موجود ایف سی کی علامت محسوس ہوتی ہے۔ شارک سمندر کی وہ طاقتور مخلوق ہے جس کے سامنے چھوٹی مخلوقات خوف محسوس کرتی ہیں۔ ناول میں شارک کا تصور ایک ایسی طاقت کا استعارہ ہے جو نگرانی، کنٹرول اور دباؤ کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔

ناول کا سب سے طنزیہ اور یادگار حصہ جنرل والا واقعہ ہے۔ جنرل کے لیے اس کا عملہ سمندر سے تازہ مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال ڈالتا ہے، مگر اس میں ایک کیکڑا بھی آ جاتا ہے۔ جنرل کو فوراً اس بات کی فکر لاحق ہوتی ہے کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ وہ اپنے گاؤں کے مولوی سے فون پر فتویٰ لیتا ہے۔ مولوی پہلے کہتا ہے کہ کیکڑا حرام ہے، لیکن جب اسے بتایا جاتا ہے کہ ایک حکیم کے مطابق کیکڑے کا سوپ طاقت بڑھانے والی چیز ہے تو وہ فوراً اپنی رائے بدل دیتا ہے۔ جنرل جب کہتا ہے کہ جو چیز انسانیت کو فائدہ پہنچائے وہ حرام کیسے ہو سکتی ہے تو مولوی بھی فتویٰ تبدیل کر دیتا ہے۔ مزید طنزیہ بات یہ ہے کہ آخر میں مولوی جنرل سے درخواست کرتا ہے کہ اس کے لیے بھی کچھ کیکڑے بھیج دیے جائیں تاکہ وہ حکیم سے ان کے کشتے بنوا سکے۔

یہ منظر محض مذہبی منافقت پر طنز نہیں بلکہ اس پورے نظام کی عکاسی ہے جہاں اصول اکثر طاقت، مفاد اور خواہش کے مطابق بدل جاتے ہیں۔

ناول کا سب سے اہم کردار بوڑھا کچھوا ہے جو واضح طور پر ماما قدیر کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ کچھوا کیکڑوں کا رہنما ہے، مگر روایتی جنگجو نہیں۔ وہ انہیں صبر، برداشت اور مزاحمت کا درس دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جو بھوک اور پیاس برداشت کرنا سیکھ لے، وہ ہر مشکل کا سامنا کر سکتا ہے۔ وہ کیکڑوں کو جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی تیار کرتا ہے۔

کچھوا صرف جنگ کی بات نہیں کرتا بلکہ امن کا پیغام بھی دیتا ہے۔ اسے دکھ ہے کہ انسانوں نے زمین کے بعد سمندر کو بھی جنگ کا میدان بنا دیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سمندر جنگی مشقوں اور تباہی سے آزاد رہے۔

خوش گلو کا کردار بھی ناول کے علامتی نظام میں بہت اہم ہے۔ وہ ایک ایسے بلوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو آزادی کے گیت گاتا تھا، مگر ریاستی جبر کے نتیجے میں اس کی آواز چھین لی گئی۔ اسے لاپتہ کیا گیا اور جب وہ واپس آیا تو بول تو سکتا تھا مگر پہلے جیسی آواز میں گیت نہیں گا سکتا تھا۔ اس کی خاموشی دراصل ایک پوری قوم کی خاموشی بن جاتی ہے۔

گولو ایک عام کیکڑا نہیں بلکہ نئی نسل کی علامت ہے۔ اس کا باپ لاپتہ افراد میں شامل ہے، جسے ریاستی قبضے میں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعد میں گولو اور اس کے ساتھیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باپ زندہ نہیں رہا۔ یہ ذاتی المیہ پورے اجتماعی دکھ کی نمائندگی کرتا ہے۔

کچھوا پھر کیکڑوں کو منظم کرتا ہے اور آزادی کے لیے ایک لشکر تیار کرتا ہے۔ یہ لشکر گمشدہ کیکڑوں کو رہا کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، مگر اس کامیابی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ گولو اور سہرو شہید ہو جاتے ہیں۔ یوں ناول آزادی کی جدوجہد کو فتح اور قربانی دونوں کے ساتھ دکھاتا ہے۔

ناول میں بگلے بھی ایک اہم علامت ہیں۔ یہ بگلے کیکڑوں کے لیے فضائی دفاع فراہم کرتے ہیں۔ یعنی کمزور سمجھی جانے والی مخلوق بھی اپنی بقا کے لیے حکمت عملی، اتحاد اور نئے وسائل تلاش کر سکتی ہے۔

دوسری طرف عقاب اور اژدہے بیرونی طاقتوں کی علامت ہیں جو گوادر اور بلوچستان کے وسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ وہ طاقتیں ہیں جو مقامی وسائل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

ناول میں غدار کیکڑوں کا ذکر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقامی عناصر ہیں جو اپنے مفادات کے لیے طاقتور قوتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ مصنف نے ان مراعات اور فائدوں کو نشے کی جڑی بوٹیوں سے تشبیہ دی ہے۔ یہ کیکڑے اس نشے کے عادی ہو چکے ہیں جو انہیں طاقتور حلقوں سے ملنے والی مراعات نے دیا ہے۔

ایک اور دلچسپ علامت سرخ کیکڑوں کی انسانی دنیا میں بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔ جب انسانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیکڑے جنسی طاقت بڑھانے اور عورتوں کے حسن کو قائم رکھنے والی خصوصیات رکھتے ہیں تو ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ لوگ ان میں سرمایہ کاری شروع کر دیتے ہیں اور کیکڑے اسٹاک مارکیٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہاں مصنف وسائل کی عالمی سیاست کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مقامی مچھیرے ان کیکڑوں کو پکڑ کر بیچتے ہیں اور چین کی نمائندگی کرتے ہوئے سمندری وسائل کے حصول کی دوڑ میں شامل نظر آتے ہیں۔ جب کیکڑوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے تو انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ان کی بقا خطرے میں ہے، کیونکہ ہر قیمتی چیز پر طاقتور ہاتھ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

ناول میں مختلف زبانیں بولنے والی مخلوقات بھی معنی رکھتی ہیں۔ کیکڑوں کا مارواڑی زبان بولنا اور ڈولفن کا ہندی بولنا شاید بلوچستان کے اندر موجود مختلف ثقافتی اور لسانی شناختوں کی طرف اشارہ ہے۔

تاہم ناول کی کمزوریاں بھی ہیں۔ بعض جگہ تکرار محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر گولو کا بار بار ریاستی جال میں پھنسنا اور پھر نکل آنا۔ بعض مکالمے، خصوصاً ماما قدیر اور خوش گلو کے درمیان گفتگو، پیغام رسانی کے باعث طویل ہو جاتے ہیں۔ جل پری کا حصہ بھی مرکزی کہانی کے مقابلے میں کچھ غیر ضروری محسوس ہوتا ہے۔

بلوچستان کے لکھاریوں کو یہ ناول بالکل پسند نہیں آیا اور اس کی جائز وجہ بھی ہے۔ صفدر زیدی صاحب ہالینڈ کے شہر ہیگ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کچھ دن گوادر میں گزارے اور سرسری مشاہدے کی بنیاد پر ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھایا جو انتہائی حساس، پیچیدہ اور کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ بلوچستان کے لکھاری یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس موضوع پر ایک زیادہ گہرا اور زیادہ حقیقی ناول لکھ سکتے تھے، کیونکہ وہ اس سرزمین کے مقامی لوگ ہیں، ان کے تجربات براہ راست اس خطے کے دکھ، محرومیوں اور سیاسی کشمکش سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اعتراض اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ جس شخص نے کسی المیے کو خود جھیلا ہو، وہ اس کی شدت اور داخلی کیفیت کو شاید زیادہ بہتر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک اچھا تخلیق کار، جو معروضی حالات سے باخبر ہو، کسی خطے یا مسئلے پر نہیں لکھ سکتا؟ کیا بلوچستان پر لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ لکھنے والا وہیں پیدا ہوا ہو، یا خود کسی سانحے کا شکار ہوا ہو؟ دنیا کا بڑا ادب اس بات کا گواہ ہے کہ تخلیق کار اکثر ان تجربات کو بھی موضوع بناتے رہے ہیں جن سے وہ خود براہ راست نہیں گزرے۔ بلوچستان کی خبریں دہائیوں سے ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ گمشدہ افراد کے خاندانوں کی داستانیں، وہاں کے سیاسی اور سماجی حالات، محرومیاں اور ریاستی کشمکش کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر ایک لکھاری نے کسی موضوع کو تحقیق، مطالعے اور حساسیت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے تو اسے لکھنے کا حق حاصل ہے۔ اصل سوال مقام کا نہیں بلکہ تخلیقی دیانت، فنی گرفت اور موضوع کی گہرائی کا ہے۔

البتہ دوسرا اعتراض بالکل بجا محسوس ہوتا ہے کہ اس کہانی کو غیر ضروری طور پر پھیلایا گیا ہے۔ جس خیال، علامت اور طنزیہ قوت کے ساتھ یہ تحریر شروع ہوتی ہے، وہ اگر ایک طویل افسانے تک محدود رہتی تو شاید زیادہ مربوط، زیادہ مؤثر اور زیادہ طاقتور ثابت ہوتی۔ ناول کی طوالت نے کئی جگہ گرفت کو کمزور کیا ہے اور بیانیے کا ربط بھی متاثر ہوا ہے۔ بعض مقامات پر محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کو ناول کا حجم دینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ بنیادی خیال ایک مختصر مگر بھرپور افسانے کے لیے زیادہ موزوں تھا۔

یہ ایسا ناول نہیں جسے بار بار پڑھنے کی خواہش پیدا ہو، لیکن پہلی قرأت میں یہ اپنے سوالات اور طنزیہ پیرائے کی وجہ سے قاری کو متوجہ ضرور رکھتا ہے۔

زیدی صاحب کا سابقہ ناول "بنت داہر" فنی اعتبار سے اس سے زیادہ مضبوط محسوس ہوتا ہے اور اس میں دوبارہ مطالعے کی گنجائش بھی زیادہ ہے، اگرچہ وہ بھی ایک متنازعہ ناول ہے۔ "گوادر کے سرخ کیکڑے" کو شاید ایک مکمل کامیاب ناول کے بجائے ایک اہم تخلیقی تجربہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

Publisher: Fiction House