انسان کا وجود محض معاشی افادیت اور مالی پیداوار کا نام نہیں، بلکہ جذبات، احساسات، رشتے داری اور مشترکہ یادوں کا ایک لطیف مجموعہ ہے۔ تاہم جدید دور کے مادی ڈھانچے اور سرمائے پر مبنی سماجی شعور نے انسانی قدر و قیمت کو محض اس کی "یوٹیلٹی" (کارآمد ہونے) اور "پروڈکٹیوٹی" (کارکردگی) سے مشروط کر دیا ہے۔ اگر کل صبح کوئی شخص غیر متوقع طور پر کمانے کے قابل نہ رہے، اس کا کاروبار یا ملازمت ختم ہو جائے اور وہ معاشی طور پر بے بس ہو جائے، تو اس کی بنیادی انسانی ذات، جذبات اور رشتوں سے لگاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کی سماجی و خاندانی حیثیت اور اس سے کی جانے والی محبت کی نوعیت یکسر بدل جاتی ہے۔
انسان کو آہستہ آہستہ یہ اذیت ناک حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے کہ اس کے آس پاس موجود لوگ شاید اس کی ذات یا وجود سے نہیں، بلکہ اس کی معاشی افادیت اور پروڈکٹیوٹی سے محبت کرتے تھے۔ اسی سماجی حقیقت اور معاشی المیے کو فرانس کافکا نے ایک صدی قبل اپنے شاہکار میں نہایت گہرائی سے پیش کیا تھا۔ کہانی کے مرکزی کردار "گریگر" کا واقعہ کسی انسان کے ناگہانی طور پر کسی خوفناک مخلوق میں تبدیل ہو جانے کا محض ایک فرضی واقعہ نہیں، بلکہ یہ انسانی معاشرے کی بے حسی اور معاشی افادیت کے ختم ہونے کے بعد انسانی قدر و قیمت کے گرنے کا گہرا فلسفیانہ تجزیہ ہے۔
گریگر کوئی کام چور یا ناکام شخص نہیں تھا، بلکہ ایک نہایت ذمہ دار اور محنتی سیلز مین تھا جو اپنے مفلوج اور دیوالیہ خاندان کی مالی کفالت کے لیے ایک ناپسندیدہ اور سخت ملازمت مسلسل نبھا رہا تھا۔ لیکن جس صبح اس کا جسم معذور ہوا اور وہ بستر سے اٹھنے کے قابل نہ رہا، تو اس کی پہلی تشویش اپنی صحت کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ تھی کہ وہ دفتر کیسے جائے گا اور اس کا باس کیا کہے گا۔ یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید انسان اپنی ذات کو معاشی حیثیت سے اس حد تک وابستہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے وجود کو صرف اپنی ملازمت کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہے۔ جیسے ہی گریگر کی معاشی افادیت ختم ہوتی ہے، اس کے گھر والوں کا رویہ رفتہ رفتہ بدلنے لگتا ہے۔
ابتدائی ہمدردی، علاج کی کوشش اور خوف کے بعد جلد ہی گھر والوں پر شرمندگی اور بوجھ کا احساس غالب آنے لگتا ہے۔ گریگر کو اس کے اپنے ہی گھر کے ایک کمرے میں محصور کر دیا جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک اسٹور روم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں اصل تبدیلی گریگر میں نہیں، بلکہ اس کے خاندان کے رویوں میں آتی ہے۔ جو گریگر کل تک خاندان کا واحد سہارا اور معاشی بنیاد تھا، وہی معاشی افادیت ختم ہوتے ہی بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی وہ بہن جو شروع میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی، بالاخر وہی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اب اس سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے۔
گریگر کے اندر کا انسان، اس کی یادیں اور اپنے خاندان سے اس کی محبت آخری وقت تک برقرار رہتی ہے، مگر وہ خاندان کے لیے اب "یوزفل" (کارآمد) نہیں رہا تھا۔ ایک گوشۂ تنہائی میں اس کی خاموش موت ہو جاتی ہے، مگر کہانی کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ اس کی موت پر خاندان میں کسی غم کے بجائے ایک سکون اور نجات (سینس آف ریلیف) کا احساس پیدا ہوتا ہے، جیسے ایک اضافی مسئلہ حل ہوگیا ہو۔ یہ صورتحال موجودہ معاشرے سے ایک بنیادی سوال کرتی ہے کہ کیا ہماری "سیلف ورتھ" (خود کی قیمت) محض ہماری "پروڈکٹیوٹی" بن کر رہ گئی ہے؟
ہم بچپن سے ہی انسانوں کی قدر کو ان کی کارکردگی کی ترازو میں تولنا شروع کر دیتے ہیں۔ بچوں سے ان کے نمبر پوچھے جاتے ہیں، نوجوانوں سے ان کی یونیورسٹی کا معیار پوچھا جاتا ہے، مرد سے اس کی ماہانہ آمدنی کا حساب مانگا جاتا ہے اور عورت سے گھر اور بچوں کے انتظامی امور کو سنبھالنے کی صلاحیت کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ جہاں تک معمر اور ریٹائرڈ افراد کا تعلق ہے، انہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہ سماج کی معاشی مشینری کا متحرک حصہ نہیں رہتے۔ اس طرح ہم غیر محسوس طریقے سے انسان کو یہ سکھا دیتے ہیں کہ اس کی سماجی و خاندانی قدر صرف اتنی ہے جتنی وہ کارکردگی پیش کر سکتا ہے۔ اسی بنیا د پر ہمارے معاشرے میں بے روزگاری کو صرف آمدنی کا نقصان نہیں سمجھا جاتا، ریٹائرمنٹ محض ملازمت سے فراغت نہیں بنتی اور امتحان میں ناکامی صرف ایک مرحلے کی ناکامی نہیں رہتی، بلکہ یہ فرد کے وجود کے لیے ایک سنگیین وجودی بحران بن جاتی ہے۔
انسان کے اندر یہ تلخ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر وہ معاشی یا مادی طور پر کامیاب نہیں ہے، تو اس کی اپنی شناخت کیا ہے؟ یہ سوال ہمیں اس کڑوے سچ کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے کی ذات، روح اور جذبات سے محبت کرتے ہیں، یا پھر محض اس روپ اور ورژن سے محبت کرتے ہیں جو معاشی طور پر کامیاب اور ہمارے کام آتا ہے؟