فیس بک بھی اس جیتی جاگتی دنیا ہی کی ایک نقل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حقیقی دنیا میں انسان اپنے اصل رنگ دکھانے کے لیے کچھ وقت لیتا ہے، جبکہ فیس بک پر چند کلکس میں شخصیت کے سارے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے اردگرد جس طرح کے لوگ، رویے، تعصبات، منافقتیں اور محبتیں پائی جاتی ہیں، فیس بک پر بھی وہی سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔۔ بس ذرا زیادہ کھل کر اور کہیں زیادہ محفوظ شکل میں!
حقیقی دنیا میں کوئی شخص غصے میں آپ کو برا بھلا کہہ کر آگے بڑھ جائے تو شاید کچھ دیر بعد اسے خود بھی یاد نہ رہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔ فیس بک پر وہی غصہ باقاعدہ تحریر بن جاتا ہے، لائکس سمیٹتا ہے، شیئر ہوتا ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے۔
یوں سمجھ لیجیے کہ فیس بک ہمارے عہد کی کراماً کاتبین ہے۔ ہم جو کچھ کہتے، لکھتے اور کرتے ہیں، وہ اسے خاموشی سے درج کرتی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کراماً کاتبین کے رجسٹر تک رسائی قیامت کے روز ہوگی، جبکہ فیس بک کا رجسٹر ہم خود ہر روز کھول کر دیکھ سکتے ہیں۔
ایک عاجز انسان فیس بک پر بھی عاجز ہی ہوگا اور ایک گھمنڈی آدمی فیس بک پر بھی اپنی اکڑ ساتھ لے کر آئے گا۔ جو شخص حقیقی زندگی میں دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، وہ فیس بک پر بھی خود کو عقلِ کل سمجھنے لگے گا اور جو وہاں نرم خو ہے، یہاں بھی لہجے میں مٹھاس لیے پھرے گا۔ آخر فیس بک کوئی جادو کی دنیا تو ہے نہیں کہ آدمی لاگ اِن ہوتے ہی اپنی شخصیت بھی لاگ آؤٹ کر دے۔
فیس بک پر گھمنڈی انسانوں کی ایک الگ ہی قسم آباد ہے۔ میں انہیں "فیس بک کے برہمن" کہتا ہوں۔ حقیقی زندگی میں آدمی اپنے منصب، علم، دولت یا شہرت کے بل پر دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے، فیس بک پر یہی کام فالورز کی تعداد اور لائکس کی گنتی سے لیا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ذات پات کا نظام تھا، یہاں فالو، لائک اور کمنٹ کا۔
یہ لوگ دوستوں کی فہرست نہیں بناتے، اپنا دربار سجاتے ہیں۔ ان کے فالور، فالور نہیں بلکہ عقیدت مند ہوتے ہیں اور کمنٹس داد نہیں بلکہ نذرانۂ عقیدت۔ ان کی ہر پوسٹ ایسے نازل ہوتی ہے جیسے ابھی ابھی کسی غیبی ذریعے سے آخری سچائی ان پر منکشف ہوئی ہو۔ باقی دنیا کا کام صرف یہ ہے کہ اسے پڑھے، سر دھنے اور "واہ کیا بات ہے" لکھ کر اپنی حاضری لگائے۔
مرید بھی خوب ہیں۔ حضرت نے اگر لکھ دیا، "آج موسم اچھا ہے" تو نیچے فوراً کوئی نہ کوئی دریافت کرے گا کہ "سر، آپ نے موسم کے پردے میں زندگی کا ایک بڑا فلسفہ بیان کر دیا"۔ دوسرا کہے گا، "کیا گہری بات ہے!" تیسرا تین پیراگراف میں اپنی عقیدت ثابت کرے گا اور چوتھا سرخ دل پیش کرکے واپس چلا جائے گا۔ حضرت البتہ سب کی عقیدت قبول فرمائیں گے، جواب دینے کی زحمت نہیں کریں گے۔ آخر پیر، مرید کو جواب دے تو پیر کیسا؟
اور اگر آپ ان کی پوسٹ پر کوئی اچھا سا تبصرہ کر دیں تو جواب دینا تو دور کی بات، یہ حضرات اس تبصرے پر پسندیدگی کا نشان لگانے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ حالاں کہ یہ پسندیدگی محض ایک معمولی سا اشارہ ہوتی ہے کہ آپ نے میری بات پر اپنا وقت صرف کیا، میں نے آپ کی بات دیکھ لی۔ مگر فیس بک کے برہمن کے لیے شاید اتنی سی پذیرائی بھی اپنے مرتبے سے اترنے کے مترادف ہے۔ ان کے نزدیک دوسروں کی توجہ ان کا حق ہے، مگر اس توجہ کا اعتراف کرنا شاید ان کے مرتبے کے خلاف ہے۔
ان کے ہاں اختلاف کرنا بھی ایک بڑا جرم ہے۔ آپ تعریف کریں تو آپ بہت سمجھدار، لیکن ذرا اختلاف کریں تو فوراً جاہل، کم عقل یا بدنیت قرار پاتے ہیں۔ ان کی ٹائم لائن پر بات چیت نہیں ہوتی، بس تعریفیں ہوتی ہیں۔ سوال کی جگہ عقیدت چاہیے، دلیل کی جگہ واہ واہ اور گفتگو کی جگہ صرف حضرت کا بیان۔
اور اگر کسی فالور کی کوئی بات انہیں پسند نہ آئے تو فوراً اسے بلاک کر دیتے ہیں، جیسے کوئی بادشاہ ناپسندیدہ آدمی کو اپنی سلطنت سے نکال دے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بادشاہ ملک بدر کرتا تھا، یہ حضرات فیس بک بدر کر دیتے ہیں۔
اصل مزاح تو یہ ہے کہ ان میں سے بعض حضرات خود کو نہایت جمہوری اور روشن خیال بھی سمجھتے ہیں۔ مگر ان کی جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ سب کو بولنے کی آزادی ہے، بشرطیکہ سب وہی بولیں جو حضرت سننا چاہتے ہیں۔
فیس بک کے یہ پنڈت اپنے دوستوں اور فالورز کی وال کو فالو کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ ان کے ہاں رشتہ ہمیشہ یک طرفہ ہوتا ہے۔ دوستوں کی تعداد ضرور رکھتے ہیں، مگر انہیں فالو نہیں کرتے۔ آخر فالو کر لیا تو پھر پنڈت اور شودر میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟ برابر کا رشتہ تو برہمنیت کے پورے نظام کو ہی خطرے میں ڈال دے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل پیر بھی اتنے بے نیاز نہیں ہوتے۔ کبھی مرید کا حال پوچھ لیتے ہیں، دعا دے دیتے ہیں، مصافحہ کر لیتے ہیں، یا کم از کم ایک نظرِ کرم ہی ڈال دیتے ہیں۔ مگر فیس بک کے یہ مجازی پیر تو کمال کے بے نیاز ہیں۔ آپ ان کی پوسٹ پر ایسا شاندار تبصرہ کر دیں کہ نیچے ہزار لائکس آ جائیں، پھر بھی حضرت کی نظر میں آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ یوں لگتا ہے آپ نے کمنٹ نہیں کیا، خانقاہ کے دروازے پر اپنی درخواست رکھ کر واپس آ گئے ہیں، جسے حضرت نے پڑھنا تو درکنار، دیکھنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھا ہے۔ ان کی گردن میں اتنا موٹا سریا نصب ہوتا ہے کہ اگر کبھی کسی کے کمنٹ کا جواب دینے کے لیے سر جھکا دیں تو خدشہ ہے کہ آرتھوپیڈک سرجنوں کی پوری ٹیم طلب کرنا پڑ جائے۔
فیس بک بہرحال بڑی بے رحم چیز ہے۔ یہ انسان کو اس کی اپنی تحریروں، تبصروں، رویوں اور رویوں پر ملنے والی داد کے ساتھ محفوظ کرتی جاتی ہے۔ اس لیے جو شخص یہاں خود کو بہت بڑا سمجھتا ہے، اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے گرد موجود لوگ صرف فالورز نہیں، گواہ بھی ہیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، محفوظ کر رہے ہیں اور بسا اوقات خاموشی سے مسکرا بھی رہے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ ایسے ڈیجیٹل پیروں کی خانقاہ میں حاضری کچھ کم کر دیجیے۔ ہر پوسٹ پر لائک کی نذر، کمنٹ کی نیاز اور تعریفوں کی چادر چڑھانا ضروری نہیں۔ حضرت اگر اپنے فالورز کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی کسی عام مرید کو، تو مریدوں کو بھی کبھی کبھی یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنی عقیدت پر نظرِ ثانی کر لیں۔ آخر یہ فیس بک ہے، خانقاہ نہیں۔ یہاں مرید اگر چاہیں تو اگلے ہی لمحے دوسری خانقاہ میں جا سکتے ہیں۔