1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد شہزاد
  4. قصہ دو درویش اور ایک درویشنی کا
Mohammad Shehzad

قصہ دو درویش اور ایک درویشنی کا

ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر صلاح الدین درویش ہمارے اردو ادب کے صحیح معنوں میں درویش اور ڈاکٹر صنوبر الطاف درویشنی ہیں۔ یہ جملہ لکھنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ دیگر درویشوں اور درویشنیوں کی سادگی، معصومیت، عزم، خلوص یا خدمات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ انسان دراصل ان ہی کے بارے میں لکھتا ہے جن کے وجود کا وہ علم رکھتا ہے۔ فی الوقت میرا علم ان تینوں تک محدود ہے۔

میں ان میں سے کسی ایک سے بھی زندگی میں نہیں ملا۔ لیکن فیس بک کے ذریعے ان کی سرگرمیوں کا پتہ چلا۔ ان لوگوں کی تصاویر دیکھیں۔ ان کی پوسٹیں پڑھیں تو ان کے بارے میں تجسس پیدا ہوا۔

میں ایک سست اور کاہل انسان ہوں۔ مجھے اگر لباس بدل کر کچھ حلیہ درست کرکے کہیں باہر جانا ہو تو میرے لیے یہ ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ لہذا جب میں ان تینوں کی مہمات پر نظر دوڑاتا ہوں تو ورطہ حیرت میں پڑ جاتا ہوں۔

گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان، بارش ہو یا سیلاب، برفباری ہو یا سنگ باری، آسمانی بجلی گر رہی ہو یا مطلع صاف ہو، یہ تینوں ہر ادیب یا شاعر کی خوشی یا غم میں بہت جوش و خروش اور ولولے کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ ان کی دیوانگی دیکھ کر بے اختیار وہ گانا ذہن میں کود پڑتا ہے: "بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ!"

جس طرح کوئی بھی راگ "کھرج" قائم کیے گایا بجایا نہیں جا سکتا، اسی طرح کسی بھی ادبی محفل یا بیٹھک کا ان کے بغیر رونما ہونا ممکن نہیں۔

اس زمانے میں جب پٹرول کی قیمت ہیرے جواہرات کی طرح مہنگی ہو چکی ہے اور مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ انسان دو وقت کے بجائے ایک وقت کھانا کھاتا ہے، یہ تینوں اپنا قیمتی سرمایہ اور وقت خرچ کرکے ہر ادبی بیٹھک میں پہنچ جاتے ہیں۔ یقین مانیے یہ خدمت فی سبیل ادب اور فی سبیل اللہ ہوتی ہے۔ تقریب ان کے گھر سے 50 میل دور ہو یا 1000 میل، یہ پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی اسی سخاوت کو دیکھ کر ہر ادبی انجمن، ناشر، حلقہ، کونسل، یونین وغیرہ اپنے ہر پروگرام میں انہیں لازمی مدعو کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی مایوس نہیں کرتے۔ وقت سے کئی گھنٹوں پہلے میدان میں پہنچ جاتے ہیں۔

چند ماہ قبل یہ تینوں تپتی دوپہر میں ہانپتے کانپتے، گرتے پڑتے، پسینے میں شرابور بک کارنر جہلم پہنچے جہاں ان سب نے انور سین رائے کے یولیسس کے اردو ترجمے پر گفتگو کرنا تھی۔ تقریب کے بعد یہ تینوں کسی ڈھابے پر دیکھے گئے جہاں یہ اپنی بھوک اور پیاس مٹا رہے تھے۔

تصاویر سے تو یہ ہی لگتا تھا کہ بک کارنر نے انہیں چائے پانی تک نہ پوچھا۔ اگر پوچھا ہوتا تو یہ لوگ یہ پوسٹ فیس بک پر نہ ڈالتے: "جہلم سے واپسی پر ڈھابے پر قیام!" یہ لوگ ڈھابے پر چائے کے ساتھ پراٹھے بھی نوش فرما رہے تھے۔ لہذا یہ پتہ چلانا مشکل نہیں کہ جہلم والوں نے انہیں رونمائی کے بعد باہر کا رستہ دکھا دیا۔

اس تقریب میں ہر سپیکرکے ہاتھ میں یولیسس پکڑا کر فوٹو سیشن کیے گئے اور اس کے بعد یولیسس ان کے ہاتھوں سے چھین لیا گیا۔ ایک اعزازی کاپی تک نہ دی گئی۔ بے مروتی کی اخیر ہی ہوگئی! انور سین چاہتے تو بک کارنر سے احتجاج کر سکتے تھے۔ بک کارنر کو مجبور کر سکتے تھے کہ بھئی اتنی دور سے مہمان آئے ہیں، انہیں اس طرح خالی ہاتھ تو مت لوٹاؤ۔ ایک اعزازی کاپی ہی دے دو۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔

لیکن ان تینوں کی ہمت دیکھیے۔ کتاب انہیں ملی نہیں۔ بغیر کتاب پڑھے انہوں نے رونمائی کو کامیاب بنایا۔ ان کی موجودگی کا مقصد ترجمے پر بحث کرنا نہ تھا بلکہ اپنے بزرگ دوست (رائے صاحب) کی حوصلہ افزائی تھا۔

موجودہ ادبی زمانے کے یہ تینوں ستون مانے جاتے ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی لکھاری کے کام کا جائزہ بغیر کسی تعصب کے لیتے ہیں اور فنی پیچیدگیوں کو سہل انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی علمیت کا رعب نہیں جھاڑتا۔ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم بانٹتے ہیں۔ لیکن علم کا حصول بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں بھلے علم اس کی جھولی میں گرا بھی دیا جائے۔

ان تینوں کی گفتگو ان کے وسیع المطالعہ ہونے کا ثبوت ہے۔ میں تو سُر کا آدمی ہوں۔ آواز سے عشق ہے اور پہچان بھی ہے۔ صنوبر کی آواز بے حد خوبصورت ہے اور انہیں اسے استعمال کرنے کا طریقہ خوب آتا ہے۔ انہیں اس کام میں بھی مہارت ہے کہ مائیک کا درست استعمال کیسے کیا جائے۔

صنوبر بہت اعلی نظامت کار (ماڈیریٹر) ہیں۔ وہ گفتگو کو درست سمت میں رکھنے میں بولنے والوں کی اچھی راہنمائی کرتی ہیں۔ اگر وہ نہ ہوں تو گفتگو پٹڑی سے اتر کر ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں گھومنے پھرنے جا سکتی ہے۔

لیکن ان تینوں سے ایک شکایت بھی ہے۔ بسا اوقات یہ اپنی پوسٹوں میں کسی لکھاری کے کام پر "بنے بنائے" تبصروں کا ٹوٹا چلا دیتے ہیں۔ یہ ٹوٹا ہر لکھاری کے ہر کام پر فٹ بیٹھتا ہے۔ بس خالی جگہ میں کتاب اور لکھاری کا نام ہی لکھنا ہوتا ہے۔

لیکن شاید ایسا کرنا ان بیچاروں کی مجبوری ہے۔ دوستوں کو خوش کرنے کے لیے دروغ گوئی ضروری ہے ورنہ ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسی دروغ گوئی اس سچ سے بہتر ہے جو فتنے کا باعث بنے۔

اہم سچ یہ ہی ہے کہ ان جیسے دیوانوں، درویشوں اور درویشنیوں کی وجہ سے ادبی دنیا میں رونق قائم ہے۔

اس ملک میں کسی بھی تخلیقی کام کی کوئی قدر نہیں۔ تخلیق کار تنقید کے علاوہ کچھ تعریف کا بھی طبلگار ہے اور اسکی یہ خواہش رد نہیں کی جا سکتی۔ یہ تینوں تنقید اور تعریف میں ایک توازن پیدا کرکے لکھاری کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ اگر لکھاری سمجھ دار ہو تو ان کے تبصرے سے بہت کچھ سیکھ کر اپنے کام کو بہتر کر سکتا ہے اور اگر نرگسیت زدہ (جو کہ ہمارے یہاں تخلیق کے ہر شعبے میں بکثرت موجود ہیں) ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں۔