میرے غریب خانے کے بالکل سامنے ایک نہایت شریف النفس اور وضع دار راجپوت خانوادے کے افراد رہتے تھے جن کے بزرگ انبالہ (مشرقی پنجاب) سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ ان میں ایک خوبصورت شخصیت رانا امجد مرحوم کی تھی جن سے ملاقات نسبتاً بہت کم رہتی تھی کیونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ ذریعہ معاش کے سلسلے میں سعودی عرب میں گزرا۔ وہ جیسے ہی سعودی عرب سے واپس پاکستان آئے تو جلد ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور ان کے خوش شکل بچے کم سنی میں ہی آزمائشوں میں گھر گئے۔ رانا امجد کی جواں ہمت اور خوددار زوجہ نے حالات کا مقابلہ عزم اور حوصلے سے کیا۔ گھر میں ان کا سب سے بڑا بیٹا وقاص امجد بطور سربراہ کالج میں پہلے سال کا طالب علم تھا اور کتابوں کا بیگ کندھوں پر ڈالے اپنی سائیکل پر کبھی ادھر کبھی ادھر اپنی تعلیمی میدان میں کامیابی کی منزلیں طے کرنے کے لیے کوشاں تھا۔
یہ 2001ء کی بات ہے جب میری پہلی کتاب "دھجیاں" چھپی۔ راقم نے اپنی اولین اشاعت میں سے جن چند لوگوں کو کتاب پیش کرنے کے لیے منتخب کیا ان میں وقاص امجد بھی تھا اور وہ صرف اس لیے کہ میری نگاہ مستقبل کے ایک لکھاری پر پڑ چکی تھی اور میرا گمان اس وقت یقین میں بدل گیا جب چند روز کے مطالعہ کے بعد اس نے راقم کی کتاب کے مضامین کے متعلق چند سوالات کیے۔
ان دنوں میری گوادر پوسٹنگ تھی اور پھر ہمارے رابطے ایک عرصے کے لیے منقطع ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ وقاص امجد دبئی چلا گیا ہے۔ اس کے بعد معلوم نہیں وہ یورپ کب گیا مگر یورپ کے تقریباً ہر شہر میں گھومتا گھماتا اسکاٹ لینڈ جا پہنچا۔ تقریباً دو دہائیوں بعد اس کا بارے میں راقم کو اس وقت معلومات ملیں جب اس نے فیس بک پر رابطہ کیا۔
چند ماہ قبل جب وقاص نے مجھے اپنی کتاب کی اشاعت کے بارے میں مطلع کیا تو مجھے اس پر کچھ خاص حیرت نہیں ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کی کتاب کا مسودہ تیار ہے اور وہ اسے اشاعت کے لیے پبلشر کو سونپنے والا ہے اور ساتھ راقم کو بھی دو عدد مضامین بھیج رہا ہے۔ دوران مطالعہ مجھے اس کے مضامین میں شگفتگی، نوخیزی، فلسفہ، افسانہ اور سفرنامے کی یکساں مہک محسوس ہوئی۔
وقاص امجد کی تحریر میں نثر کی ایک نئی جہت اور امکانات کے نئے زاویے پوشیدہ ہیں۔ جیسے جیسے آپ اس کے مضامین اور تحریر کا مطالعہ کریں گے ویسے ویسے آپ اس کی تحریر کی گرفت میں آگرویدہ ہوتے جائیں گے۔ کسی مصنف کی تحریر کے متعلق فیصلہ بہرحال قارئین کی رائے ہی کیا کرتی ہے۔
لکھاری اور مال فروخت کنندہ میں فرق ہوتا ہے مصنف کبھی بھی اپنی تحریر کی تعریفیں کرتے ہوئے یہ نہیں کہتا کہ میرا "سودا" بلا خوف و خطر خرید لیں۔۔ یہ اندر سے کچا ہے، کالا ہے اور نہ ہی اس کو کیڑا لگا ہے۔
مصنف کے ذہن میں اگر سخن وری کی ہمت اور نقاد کے حملے روکنے کے لیے اپنا "دفاعی نظام" جوابی سوچ اور اینٹی میزائل شکن متحرک ہو تو وہ میدان میں ایک نہ ایک دن کامیابی سمیٹ لیتا ہے۔ مجھے امیدِ راسخ ہے کہ آنے والے وقت میں وقاص امجد اپنے خاص اسلوب میں ویسی ہی کامیابیاں سمیٹے گا جیسے ایک عرصہ قبل میری ناتواں قیافہ و مردم شناسی نے اس کے تخلیقی وجدان پر نظر ڈالی تھی۔
بہرحال ہر پڑھے لکھے جواں مرد کو دولت کے پیچھے بھاگتے ہوئے کسی مصور سے اپنی سات رنگوں سے مزین ایک تصویر بنوا کر اور اسے کسی لائبریری میں رکھوا کر کم از کم (کسی نہ کسی طرح) تاریخ کا حصہ بن جانا چاہیے ورنہ دنیا اس کی رحلت کے ساتھ ہی سب کچھ بھول جایاکرتی ہے مگر اس کے لکھے ہوئے چند اوراق اسے اچھے الفاظ میں زندہ رکھتے ہیں۔
یہ تمام احوال محض ایک سادہ سی رائے ہے اورایک ایسے سفر کی عکاس ہے جس میں حالات کی سختی وقت کا مدوجزر اور محنت کی کرن یکجا ہو کر ایک شخصیت کے وقار کو چند الفاظ سے تراشتی ہے۔ وقاص امجد کی یہ کتاب اسی سفر کی بازگشت ہے جہاں ماضی کی دھند حال کی جدوجہد اور مستقبل کی امید اسے چند صفحات میں سمیٹ لاتی ہے۔ قاری جب ان سطور میں داخل ہوتا ہے تو محض مطالعہ نہیں کرتا بلکہ ایک تجربے اور روحانی تسکین سے گزرتا ہے اور یہی تحریر کسی بھی تخلیق کار کی اصل کامیابی اور ذہنی ترقی اور سوچ کا دھارا ہوتی ہے؎
کیسا ہوتا ہے ترقی کا وہ زینہ احمدؔ
کھوج میں جس کی شب و روز زمانہ نکلا