1. ہوم
  2. کالمز
  3. سعدیہ بشیر
  4. سانحہ در سانحات
Saadia Bashir

سانحہ در سانحات

ہمارے ہاں حادثے کے فوراً بعد عام طور پر ایک واقعہ شروع ہو جاتا ہے۔ ذمہ دار تلاش کرنے کا واقعہ۔ کسی ہسپتال میں بچہ جان سے چلا جائے تو ہماری نگاہ فوراً ڈاکٹر پر جاتی ہے۔ کسی سکول میں سانحہ ہو تو استاد سامنے آ جاتا ہے۔ کوئی بچہ گٹر میں گر جائے تو افسر، کمشنر یا متعلقہ محکمے کا نام گردش کرنے لگتا ہے۔ امتحانی نتیجہ خراب آئے تو استاد کٹہرے میں ہوتا ہے اور اس سے بڑے معاملے بندر بانٹ کی کہانی ہے۔ یوں ہر سانحے کے بعد ہمارے پاس ایک آسان سوال ہوتا ہے۔ قصوروار کون ہے مگر ایک مشکل سوال ہم عموماً نہیں پوچھتے کہ وہ نظام کہاں تھا جو ایک فرد کی غلطی کو سانحہ بننے سے پہلے روک سکتا تھا۔

شاید ہمارے اجتماعی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے ذمہ داریوں کے آخری سرے تو متعین کر دیے ہیں مگر ان کے درمیان موجود حفاظتی حلقے تعمیر نہیں کیے۔ ہم نے ڈاکٹر بنا دیا، مگر مریض کی حفاظت کا ایسا نظام نہیں بنایا جو ممکنہ غلطی کو بروقت پکڑ سکے۔ استاد مقرر کر دیا، مگر ایسا تعلیمی ماحول نہیں بنایا جو نصاب کی خامی، استاد کی کمزوری یا بچے کی تعلیمی محرومی کو وقت پر سامنے لے آئے۔ افسر تعینات کر دیا مگر ایسا نگرانی کا نظام نہیں بنایا جو کھلے مین ہول کو کسی بچے کی موت تک پہنچنے سے پہلے بند کروا دے۔

قوانین کے نفاذ کو اتنا یقینی نہیں بنایا کہ قانون کی خلاف ورزی کا خوف حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے پیدا ہو۔ ہم نے ایک مشین بلکہ بعض جگہوں پر ایک مشین گن بنا دی ہے مگر اس کے گرد حفاظتی حصار نہیں بنایا۔ کوئی اسے غلط طریقے سے چھو لے تو نقصان۔ کوئی ایک غلط فیصلہ کرے تو اس کا اثر براہِ راست انسانی جان تک پہنچ جاتا ہے۔ کوئی ایک شخص غفلت کرے تو اسے روکنے والا اگلا مرحلہ موجود نہیں ہوتا اور جب گولی چل جاتی ہے تو ہم دوڑ کر یہ معلوم کرنے لگتے ہیں۔ ٹرگر کس نے دبایا تھا۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ سیفٹی لاک کہاں تھا؟

یہ سوال صرف ہسپتال یا سکول تک محدود نہیں۔ ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے تک جاتا ہے۔ ہم بچے کی تربیت کی ساری ذمہ داری والدین پر ڈال دیتے ہیں، مگر اس ماحول کو نہیں دیکھتے جس میں وہ گھر سے باہر پرورش پا رہا ہے۔ ہم نوجوانوں کے بدلتے ہوئے رویوں پر افسوس کرتے ہیں، مگر اس معاشرتی اور ڈیجیٹل دنیا پر بات نہیں کرتے جہاں نمائش، فوری مقبولیت اور دوسروں کی زندگی میں جھانکنا کامیابی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

تعلیم میں ہم خراب نتیجے کا بوجھ استاد پر رکھ دیتے ہیں، مگر نصاب، کتابوں کی بروقت فراہمی، زبان کی رکاوٹ، اساتذہ کی تربیت، کلاس روم کے حالات اور بچے کی مقامی حقیقت کو ایک ساتھ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہم بچے کو یاد کرنے کا ہنر دیتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ اس میں سوچنے کی صلاحیت کیوں پیدا نہیں ہوئی۔ مسئلہ صرف تعلیم کا نہیں۔ یہ نظام کی سوچ کا مسئلہ ہے۔

ہم نے ہر شعبے کو الگ خانوں میں بانٹ دیا ہے، جبکہ انسان ان خانوں میں نہیں رہتا۔ بچہ بیک وقت طالب علم بھی ہے، گھر کا فرد بھی، معاشرے کا رکن بھی، ڈیجیٹل دنیا کا صارف بھی اور مستقبل کا شہری بھی۔ اس کی تربیت میں گھر، اسکول، معاشرہ، میڈیا، ریاست اور قانون سب اپنا اپنا حصہ رکھتے ہیں اور شاید یہی وہ درمیانی حلقے ہیں جنہیں ہم مسلسل نظرانداز کرتے آئے ہیں۔ حکومت اور فرد کے درمیانی خلا میں ادارے ہوتے ہیں، پیشہ ورانہ تنظیمیں ہوتی ہیں، مقامی انتظامیہ ہوتی ہے، عدالتیں ہوتی ہیں، قوانین ہوتے ہیں، سماجی اقدار ہوتی ہیں، گھر اور محلہ ہوتے ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا اخلاقی شعور ہوتا ہے جو انسان کو قانون کے ڈر سے پہلے غلط کام سے روکتا ہے اور جب یہ مکینزم کمزور ہو تو ہر واقعہ بالآخر حکومت کے دروازے تک پہنچتا ہے اور حکومت بھی اکثر کسی ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتی ہے۔ پھر ایک عجیب سا چکر بنتا ہے۔

فرد ناکام ہوتا ہے، ادارہ فرد کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے، حکومت ادارے کو، عوام حکومت کو اور اصل نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں سانحات کے بعد سانحات مقدر ہیں۔ یہاں ایک اور منظر بھی اسی کہانی کا حصہ ہے۔ ایک نوجوان اپنی ریڑھی چھن جانے کے خوف سے نہر میں کود گیا۔ آئے روز کسی نہ کسی مزدور کی روتی ہوئی ویڈیو سامنے آ جاتی ہے جس میں وہ اپنی ریڑھی یا کاؤنٹر واپس مانگ رہا ہوتا ہے۔ جس کے لیے وہ ریڑھی محض سڑک پر کھڑی ایک چیز ہے، اس کے لیے شاید اسے اٹھا لینا ایک معمول کی کارروائی ہو۔ مگر اس مزدور کے لیے وہ اس کے گھر کا چولہا، اس کی روزی اور اس کی زندگی کا واحد سہارا ہوتی ہے۔ اگر شہر میں باقاعدہ ریڑھی بازار بنایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی شہر میں روزی کمانے والے ہر غریب سے اس کی زندگی گزارنے کی جگہ بھی چھین لی جائے۔ سو لوگوں کے لیے ایک راستہ بنا دینا، باقی ہزاروں کے راستے بند کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ یہی وہ درمیانی نظام ہے جو ہمارے ہاں غائب ہے۔

پابندی سے پہلے متبادل، سزا سے پہلے واضح اصول اور کارروائی سے پہلے انسانی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حادثے کا ذمہ دار نظام ہی ہے۔ فرد کی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے اور جہاں غفلت یا جرم ثابت ہو وہاں سزا بھی ہونی چاہیے لیکن فرد کو سزا دینا اور نظام کو درست کرنا دو الگ کام ہیں۔ ہم اکثر پہلا کام کرکے دوسرے سے بچ نکلتے ہیں۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی سانحہ ہو تو صرف یہ نہ پوچھیں۔ کس کی غلطی تھی۔ یہ بھی پوچھیں۔ اس غلطی کو روکنے والے کتنے دروازے تھے اور وہ ایک ایک کرکے کیوں کھلے رہ گئے۔ کیونکہ مضبوط معاشرے وہ نہیں جہاں انسان کبھی غلطی نہیں کرتے۔

مضبوط معاشرے وہ ہیں جہاں انسان کی غلطی اور انسانی المیے کے درمیان کئی حفاظتی دیواریں کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ دیواریں قانون بھی ہیں، تربیت بھی، نگرانی بھی، اخلاق بھی، ادارے بھی اور جواب دہی بھی۔ ہم نے بہت سی مشینیں بنا لی ہیں۔ اب شاید ہمیں مشینیں بنانے سے زیادہ ان کے گرد حفاظتی حصار بنانے پر توجہ دینی چاہیے ورنہ ہم ہر حادثے کے بعد ٹرگر دبانے والے کو ڈھونڈتے رہیں گے اور یہ بھولتے رہیں گے کہ سوال صرف یہ نہیں تھا کہ گولی کس نے چلائی۔ اصل سوال یہ تھاکہ وہ بندوق وہاں کس نے، کس نظام کے تحت، بغیر حفاظتی حصار کے رکھ دی تھی۔