میلبورن میں طویل اور سرد ترین سردیوں کے بعد گرمی کی پہلی بارش کی موسیقی کی آواز کے ساتھ ایک رہائشی عمارت کی پانچویں منزل پر میرے اپارٹمنٹ کی کھڑکی کا شیشہ کھڑکھڑا رہا تھا۔ میری مختصر چھٹیاں تقریباً ختم ہو چکی تھیں اور میرے پاس نئے دوستوں کے ساتھ مذاق کرنے اور پرانے دوستوں کے ساتھ مزہ کرنے کا اور کوئی موقع باقی نہیں تھا۔ ہالی ووڈ کے ایک لیجینڈری سابق فلم اسٹار کے سیلون میں میک آپ آرٹسٹ کے طور پر میری موجودہ نوکری اب بھی مجھے ایک، بار بار آنے والے مہمان، کے طور پر خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھی، میرے لئے وہاں کچھ بھی تو نیا نہیں تھا، بالکل ویسے جیسے کسی کھانے کی میز پر کسی پرانی ریسیپی کو ہی کچھ حیرت انگیز اور نئے ذائقوں کے ساتھ مہما نوں کو پیش کر دیا جائے۔
میں مسٹر سیلویسٹر کے مشہور سیلون "Sylvester's Greasepaints & Spa" میں کام کرنے والی واحد میک آپ آرٹسٹ نہیں تھی، بلکہ وہاں میرے علاوہ تیس سے زیادہ اراکین پر مشتمل میک آپ آرٹسٹوں کی ایک لمبی ٹیم مو جو د تھی جو بال کٹوانے، بالوں کی اسٹائلنگ کرنے، بالوں کو رنگنے، بالوں میں ایکسٹینشن لگانے، میک اوور اور فیشل کرنے، کاسمیٹکس کی مشاورت دینے، جلد کی دیکھ بھال کرنے اور کاسمیٹک سرجری سے متعلق مختلف مہارتوں سے آراستہ تھی۔ مسٹر سیلو یسٹر نے شہر کے مرکزی حصے میں اپنے سیلون کے لیے ایک کثیر المنزلہ عمارت کرائے پر لے رکھی تھی اور اس کے گاہکوں میں مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے لوگ شا مل تھے۔ بعض اوقات بین الاقوامی شہرت کے حا مل کچھ منتخب VVIP کلائنٹس کو نجی طور پر خوبصورتی سے متعلق معاملات پر گراں قدر مشاورت اور سروس بھی فراہم کی جاتی تھی، جن میں عالمی سطح پر مشہور روسی ماڈل مس اولیویا روزالینا اور ہالی ووڈ کے گلوکار ڈیوڈ برائن خاص طور پر شامل تھے۔
آج کا دن بھی سیلویسٹر کی ٹیم کے ممبران کے لیے سیلون میں گزرنے والے کسی بھی دوسرے متوقع دن کی طرح تھا، حسبِ معمول مسٹر سیلو یسٹر نے دوسری منزل کے عملے کو اپنے شاندار دفتر میں ایک مختصر اور فوری میٹنگ کے لیے بلایا۔ میٹنگ کاسمیٹکس انڈسٹری میں ایک نئی بیوٹی پروڈکٹ لانچ کرنے کے بارے میں تھی جو دنیا بھر میں فیشن اور اسٹائل کے حلقوں میں متعارف کی گئی دیگر تمام بیوٹی پروڈکٹس کو شکست دینے والی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ مجوزہ پروڈکٹ دنیا بھر کے تمام موسموں اور علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی بھورے رنگت سے لیکر ہاتھی دانت جیسی رنگت والی تمام طرح کی انسانی جلدوں کی قدرتی تازگی اور چمک کو پورا دن برقرار رکھنے والی واحد بہترین پروڈکٹ ہوگی، جو اب تک کسی کمپنی نے نہیں بنائی۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ پروڈکٹ دنیا بھر کی تمام بڑی کمپنیوں کی اب تک پیش کردہ تمام میک آپ اسٹکس، فاؤنڈیشن کریموں اور مائع طرز کی پروڈکٹس کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ مزید برآں یہ کہ اگر اسے دن میں ایک بار لگا یا جائے تو اس کا اثر پورا دن برقرار رہے گا۔ یہ ایک بہت خفیہ اور حساس میٹنگ تھی کیونکہ اس پروڈکٹ سے متعلق کسی قسم کی خبر کا پھیلاؤ یا فارمولے کے لیک ہونے کا خدشہ تو بہرحال موجود تھا، جو کہ مسٹر سلویسٹر کی کمپنی کے لئے کسی بہت بڑے نقصان کا باعث ہو سکتا تھا، یقیناََ یہ ایک بہت اہم نکتہ تھا، جو اس میٹنگ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ کیونکہ اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ کہیں مارکیٹ میں اصل پروڈکٹ آنے سے پہلے ہی اس پروڈکٹ کی کوئی نقل مارکیٹ میں نہ آ جائے۔ لہذا لانچ سے پہلے متعلقہ ادارے سے پروڈکٹ کے قانونی حقوق کا تحفظ، پہلی فرصت میں حا صل کرنا بہت ضروری تھا۔ ورنہ دوسری صورت میں کوئی بھی موقع پرست شخص مسٹر سلویسٹر کی کمپنی کو تباہی کے دھانے پر لا کر کھڑا کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس صنعت میں کام کرنے والے بہت سے غدار ایجنٹ، دلال یا دھوکے باز کمپنیاں اور ان معاملات میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیاں منفرد مصنوعات کے تازہ ترین اور بہترین فارمولے چوری کرنے، سودا کرنے یا بیچنے کے انتظار میں ہمیشہ سے ہی سر گر مِ عمل رہتی ہیں، تاکہ وہ اصل کمپنیوں یا مالکان سے پہلے ان نئی مصنوعات کو دلچسپی رکھنے والی دوسری کمپنیوں کو بھاری رقوم کے بدلے فارمولے بیچ سکیں۔
لانچ اگلے دو مہینے بعد منعقد ہونا تھی، کیونکہ فارمولیشن کے عمل اور دیگر رسمی کارروائیوں کے لیے کم از کم اتنا وقت درکار تھا۔ میٹنگ میں مسٹر سلویسٹر کی کمپنی کے بائیو کیمسٹ نے اس میٹنگ میں بنیادی فارمولیشن کی وضاحت کی تاکہ اعلیٰ سطح کے میک آپ ماہرین بھی جان سکیں کہ کون سے اجزاء استعمال کیے گئے ہیں اور اس کے مجموعی اثرات ان کو سمجھ آسکیں۔ انقلابی پروڈکٹ کے کاپی رائٹس ابھی حاصل کیے جانے تھے۔
مسٹر سلویسٹر نے مس اولیویا روزالینا اور ڈیوڈ برائن کو اپنی کمپنی کی اس نئی پروڈکٹ کے برانڈ ایمبیسیڈر منتخب کیا۔ ساتھ ہی باس نے مجھے بھی تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ بیوٹی ماہرین کے طور پر ان کے ساتھ جانے کے لیے نامزد کیا۔ پروڈکٹ کی لانچ پیرس میں ہونا تھی۔ اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں چھ لگژری کمرے بک کیے گئے تھے جن میں طے شدہ تاریخ پر لانچ کے لیے ایک ہوٹل کی لابی کو منتخب کیا گیا۔ برانڈ کا نام "Aspire" رکھا گیا تھا۔
فیشن برادری اور سوشل میڈیا ٹیموں سے وابستہ انتہائی قابلِ اعتماد مہمانوں کے ایک قریبی حلقے کو افتتاحی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا، جبکہ عام لوگوں کے لیے پروڈکٹ کی سیل افتتاحی سیشن کے ایک ہفتے بعد ہونا طے پایا تھا۔ ہم ہوٹل میں کافی دیر سے چیک ان ہوئے اور ہم نے اپنے اپنے کمروں میں کھانا کھایا تاکہ ہم آرام کرکے کل کے لئے تازہ دم ہو سکیں۔ رات پر سکون گزری اور میرے دماغ کی دیواروں پر ٹکرانے والا واحد مسلسل خیال یہ تھا، کہ کیا کل کی تقریب متوقع کامیابی حاصل کرے گی یا نہیں؟
میری چھٹی حس نے مجھے میرے اس خوف کا ملا جلا جواب دیا، لیکن اگلی شام لانچ جس بھی طریقے سے ہوتی، میری اس میں اتنی دلچسپی نہیں تھی، کیونکہ میک آپ آرٹسٹ کے طور پر ہماری بنیادی ذمہ داری صرف اگلی شام تک ہر چیز کو تیار رکھنا تھا تاکہ اولیویا اور ڈیوڈ کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ اگلی شام کے پورے اجتماع میں بہترین اور سب سے ذ یادہ حسین اور قا بلِ توجہ لگیں اور ہم مسٹر سلو یسٹر کی انقلابی پروڈکٹ "Aspire" کے استعمال سے دونوں ایمبیسیڈرز کے چہروں کی خوبصورتی کو نا قابلِ یقین حد تک حیرت انگیز بنا سکیں۔
اگلی صبح بہت جلدی مجھے اپنے کمرے میں فون پر ریسیپشنسٹ کی طرف سے ایک خوفناک کال موصول ہوئی کہ اولیویا اور ڈیوڈ دونوں اپنے کمروں میں مردہ پائے گئے۔ ان کا سامان اور "Aspire" کے تمام نمونے چوری ہو چکے تھے۔ ہوٹل انتظامیہ پہلے ہی پولیس کو بلا چکی تھی اور اولیویا اور ڈیوڈ کے کمرے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے فوٹوگرافروں سے بھرے ہوئے تھے۔ موت کی وجہ ابھی زیرِ تحقیق تھی اور ابھی تک کوئی پہلی میڈیکل سٹیٹمینٹ سامنے نہیں آئی تھی۔ جلد ہی لاشوں کو تحقیقات میں مدد دینے اور مزید طبی تفصیلات کے لیے پیرس کے مرکزی ہسپتال بھیج دیا گیا۔
مسٹر سلو یسٹر کے مینیجر روڈرک ڈوم نے مجھے فون کیا اور ہمیں بتایا کہ مسٹر سلو یسٹر بھی معاملے کو خود دیکھنے کے لیے پہلی پرواز کے ذریعے پیرس پہنچیں گے۔ اس لیے یہ خبر سن کر ہمیں تھوڑا سکون ملا۔ پولیس نے ہم تینوں سے بھی پوچھ گچھ کی اور پوچھا کہ آخری بار ہم نے انہیں کب چھوڑا تھا۔ ہم نے بتایا کہ انہوں نے کچھ اور کرنے کے بجائے اپنے کمروں میں کھانا کھانے اور آرام کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اس لیے ہم نے انہیں گڈ نائٹ کہہ کر اور بالآخر اپنے کمروں میں جا کر اپنا دن ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ صبح مجھے ریسیپشنسٹ نے بتایا کہ گذشتہ رات دونوں کا انتقال ہوگیا تھا، جو ناقابلِ بیان اور خوفناک خبر تھی۔
دو گھنٹے تھکا دینے والے انتظار کے بعد میڈیکل رپورٹ نے آخر کار انکشاف کیا کہ دونوں اپنے کمروں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی غیر متناسب موجودگی کی وجہ سے دم گھٹنے سے مر گئے تھے۔ ہیٹنگ کے مقابلے میں ان دونوں نے کول برنرز کا خصوصی آرڈر دیا تھا، یہ حقیقت واضح تھی کہ کسی نے پیشہ ورانہ حسد کی وجہ سے کچھ پیشہ ور مجرموں کے ذریعے یہ خوفناک کام کیا ہوگا۔
جو بھی مجرم تھا اسے ہر حال میں تلاش کرنا بھی بہت اہم تھا۔ اگلی پوری دوپہر اولیویا اور ڈیوڈ کی موت کی دل دہلا دینے والی خبر سے گونجتی رہی۔ مسٹر سلو یسٹر نے اپنی آمد پر ایک فوری پریس کانفرنس کی اور مجوزہ قاتلوں کی شدید مذمت کی اور اعلان کیا کہ یہ حسد کی وجہ سے غیر پیشہ ورانہ ذہنوں کی دشمنی کا بزدلانہ عمل تھا۔ پیرس کے ہوٹل میں مسٹر سلو یسٹر کے برانڈ ایمبیسیڈرز کا غیر متوقع قتل "Aspire" کے حیران کن افتتاحی تقریب کو ملتوی کر گیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ مسٹر سلویسٹر کے بدترین حریف "The Jovian" برانڈ کی افتتاحی تقریب اسی شام پیرس کے دوسرے سیون سٹار ہوٹل میں اپنے پرانے برانڈ ایمبیسیڈرز "روزا" اور "ریمنڈ" کے ساتھ منعقد ہوئی۔ "The Jovian" برانڈ کے مالک مسٹر ڈگلس وائٹ کسی بھی لحاظ سے مسٹر سلو یسٹر سے کم نہیں تھے اور انہیں عالمی سطح پر ایک شاندار بزنس مین کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔
دو ماہ قبل مسٹر سلو یسٹر کے ساتھ ہماری خفیہ میٹنگ کی تفصیلات اور نئی مجوزہ پروڈکٹ کے بارے میں پوچھنے کے لیے مسٹر ڈگلس وائٹ نے اپنے دو خفیہ کا رکنان کے ذریعے مجھ سے رابطہ کرنے کی جو ہوشیار منصوبہ بندی کی تھی، وہ واقعی حیران کن تھی، کیونکہ ان خفیہ نمائندگان نے اس غداری کے بدلے میں مجھے ایک بھاری رقم اور نارتھ کوریا میں ایک لگژری اپارٹمنٹ کی پیشکش کی تھی جسے نظر انداز کرنا میرے لئے ممکن نہیں تھا، خاص طور پر جبکہ مسٹر سلویسٹر کا نیا لانچ مجھے ذیادہ سے ذیادہ ایک کاسمیٹولوجسٹ اور ایک پیشہ ور میک آپ آرٹسٹ سے زیادہ پہچان نہیں دے سکتا تھا اور جو بھی فائدہ حاصل ہونا تھا اس کا لطف صرف ہمارے بگ باس مسٹر سلویسٹر، اس کی پیاری بیوی اور اس کے چار بچوں نے ہی اٹھانا تھا۔ میں نے اُن کی پیشکش قبول کر لی کیونکہ انہوں نے مجھے ضمانت دی تھی کہ "Aspire" کے برانڈ ایمبیسیڈرز کے قتل میں میرا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ مسٹر سلو یسٹر نے "The Jovian" کے نئے لانچ کا ویڈیو کلپ بھی دیکھا جس کا نام "Inspire" تھا اور جس نے "Aspire" سے پہلے ہی نئے برانڈ کی فارمولیشن کے تمام کاپی رائٹس اپنے نام کروا لئے تھے۔