علی رضا احمد05 اپریل 2026غزل012
سفر کے شوق میں تھا فاصلہ ہی بھول گیا عجیب سحر تھا میں راستہ ہی بھول گیا
میں آشنا ہی نہ تھا دشتِ جذب و مستی سے جو پائے ننگ مرا قافلہ ہی بھول گیا
بنایا سجدوں سے
مزید »علی رضا احمد18 مارچ 2026کالمز0964
اب نیٹو کے اتحادیوں کا شاید وجود نظر نہیں آرہا لیکن آج کل سب سے بڑے اتحادی "اپسٹین جزیروی" یا اپسٹین کے باس کے یرغمالی اس وقت ایک مضبوط اتحادیوں کی شکل میں سامن
مزید »علی رضا احمد03 مارچ 2026نعت01239
گنبدِ خضریٰ معطر سا نظر آتا ہے شاہِ کونین کا یہ گھر سا نظر آتا ہے
جب بھی کی آلِ محمد کے وسیلے سے دعا اس میں جبرئیل کا اک پر سا نظر آتا ہے
آپ کے دستِ مبارک سے
مزید »علی رضا احمد01 مارچ 2026نعت0945
کام خوش کن کر دیا کچھ پارسا افراد نے دل کو میرے چین بخشا محفلِ میلاد نے
آ گئے ہم ذی شرف آقا ترے دربار میں آج ہی تسکین پائی اس دلِ ناشاد نے
جب نبی نے دی خبر ال
مزید »علی رضا احمد27 فروری 2026نعت01417
میری آنکھوں میں مدینے کی جھلک ہے باقی میری ہر سانس میں روضے کی مہک ہے باقی
آج ہم جالیوں کے پاس چلے آئے مگر حال دل کیسے بیاں ہو کہ ججھک ہے باقی
اشک سارے ہی تو
مزید »علی رضا احمد25 فروری 2026نعت0230
عبد اللہ کے گھر کا جایا آمنہ کی ہے گود کھلایا
ہاشمیوں نے جشن منایا جھولا جبرائیل جُھلایا
کیوں نہ کہوں پھر میں بھی ہر دم صل اللہ علیہ وسلم
تو ہے نوری چہرے وال
مزید »علی رضا احمد23 فروری 2026حمد10363
ترے ہر اک نام کی ہی شان ہے یا الہٰی تو بہت رحمٰن ہے
لب پہ میرے بس ترا ہی نام ہے اللہ اس کے دم سے بن گیا ہر کام ہے اللہ
تری ہر اک شان ہی سبحان ہے ترے ہر اک نام
مزید »علی رضا احمد20 فروری 2026مزاحیات1807
انسان جب سہولتوں کا فقدان دیکھتا ہے تو بلبلا اٹھتا ہے چنانچہ وہ اپنا غبار نکالنے کے لئے لوگوں کی توجہ کا سہارا لے کر انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے جب ہم
مزید »علی رضا احمد02 فروری 2026غزل1835
پتلے ہم حسرتوں کے جلائے چلے گئے دامن بھی تار تار دکھائے چلے گئے
محفل میں کب وہ آئے تھے اور کب چلے گئے قسمیں ہم ان کے آنے کی کھائے چلے گئے
صحرا میں ان کو ڈھونڈ
مزید »علی رضا احمد27 جنوری 2026غزل31075
کوئی ایسا نوعِ انسانی میں ہے جس کی شہرت چاک دامانی میں ہے
بات کیسے کوئی سمجھائے اسے اور یہ قصّہ میرا سُریانی میں ہے
دیکھتے ہیں اب یہ رکتی ہے کہاں ناؤ جیون کی
مزید »