1. ہوم
  2. غزل
  3. علی رضا احمد
  4. بس وہی ہوتا ہے جو مقدور ہے
Ali Raza Ahmed

بس وہی ہوتا ہے جو مقدور ہے

بس وہی ہوتا ہے جو مقدور ہے
ہو فرشتہ بھی مگر مجبور ہے

لا ابالی پن میں یہ مخمور ہے
غیر واضع دل کا جو منشور ہے

عشق کر سکتے نہیں کم ظرف لوگ
عشق تو ان کی پہنچ سے دور ہے

تارے دکھلاتی ہیں دن میں تاروں کو
کہکشاؤں کا کڑا دستور ہے

ان پروں کی پیروی اب کر نہ باز
شہر بوئے یار سے مخمور ہے

بن کے موسٰی کر کبھی اس کی تلاش
تیرے سینے میں بھی کوہِ طور ہے

دل کی موجیں دم نہیں لیتیں جہاں
سوچ مرضی سے وہاں معمور ہے

کھول کر آنکھیں اگر دیکھے کوئی
دل کی آنکھوں میں چمکتا نور ہے

دیکھتا ہے ہر طرف حسنِ ازل
عشق کے نشے میں جو بھی چور ہے

اس سے احمد دور کر دے ہر حجاب
دل ترا پردوں میں کیوں مستور ہے