1. ہوم
  2. غزل
  3. علی رضا احمد
  4. رگڑتے رہے ایڑیاں جیسے جیسے
Ali Raza Ahmed

رگڑتے رہے ایڑیاں جیسے جیسے

رگڑتے رہے ایڑیاں جیسے جیسے
وہ کستے گئے بیڑیاں جیسے جیسے

بھرا رہتا ہے اس کا دامن بھی ہر دم
لٹاتا ہے وہ جھولیاں جیسے جیسے

زباں پر بنے سنورے آتے ہیں جملے
نکھرتا ہے ان کا بیاں جیسے جیسے

اترتے ہیں دل میں وہ الفاظ اس کے
میں سنتا ہوں میٹھی زباں جیسے جیسے

زیارت کو پھر دل ترستا ہے میرا
بیاں ہوں تری خوبیاں جیسے جیسے

کھٹکتے ہیں پھر بام و در رات ہوتے
جو ہوتی ہے سازش عیاں جیسے جیسے

خزاں بھی چھٹے گی بہاروں کے سر سے
ہر باطل کا مٹاؤ نشاں جیسے جیسے

اسی دھن میں نغمے میں لکھتا رہوں گا
سناتا ہے وہ ٹھمریاں جیسے جیسے

زمانہ کھڑا تھا وہیں رو کے احمد
بنے اشک سیلِ رواں جیسے جیسے