انسان جب سہولتوں کا فقدان دیکھتا ہے تو بلبلا اٹھتا ہے چنانچہ وہ اپنا غبار نکالنے کے لئے لوگوں کی توجہ کا سہارا لے کر انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے جب ہمہ صفت لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو کر فل فارم میں آ جاتے ہیں تو اپنے گروہ کے لئے زندہ بادکے نعرے لگاتے ہیں کیونکہ اگلے مرحلے میں انہوں نے مخالفین کے لئے مردہ باد کے نعرو ں کو آنسو گیس کے دوران بھی بلند کرنا ہوتا ہے۔
زندہ باد اور مردہ باد دو عدد مشہور نعرے ہیں جن کا موثر استعمال برصغیر کے کسی نہ کسی کونے میں جاری رہتا ہے بلکہ بعض اوقات یہ گھروں اور محلوں سے شروع ہو کر شاہراہوں پر آ جاتا ہے۔ کسی کے خلاف دل میں لگائے گئے نعرے میں اتنی تحریک نہیں ہوتی لیکن پہچاننے والے اسے بھی اپنے ریڈار سے شکلوں پر عیاں صوتی لہروں سے بھانپ لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں نیوزی لینڈ کے قبائل کے جوشیلے و غصیلے انداز اور ان "مزاح رین" کی نعرے بازی دیکھ کر ناظرین بہت محظوظ ہوئے۔
ایک دوسرے کے مخالفین میں صرف عوام ہی نہیں اجناس بھی ہوتے ہیں۔ شراب کا مخالف گروپ سرکہ ہے اور سمندر کا مخالف کنارہ، اسی طرح روشنی اندھیرے سائیکل موٹر سائیکل اور جنگل شہروں کے خلاف صف آراء ہوجاتے ہیں جیسے آج کل ڈیم سولر کے خلاف نعرے بازی میں مصروف ہیں بس فرق یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف زندہ باد مردہ باد اپنی اپنی زبان میں کرتے رہے ہیں۔ نعرے بازی کے اس عمل کو اتنا آسان نہیں لینا چاہئے بھارت میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر عمرقید ہو جاتی ہے۔ جن ممالک میں جمہوریت نہیں ہے وہاں ان دونوں نعروں کا اطلاق ایک حکم نامے کے طور پر ہوتا ہے کیونکہ وہاں عوام نہیں لوگ ہوتے ہیں۔ برصغیر میں ان نعروں کا استعمال معمولی تبدیلی سے یعنی زندہ کی جگہ"جندہ باد" کر لیا جاتا ہے۔
(ایک سین ملاحظہ فرمائیں زندہ باد مذکر ہے اور مردہ باد ایک خواجہ سراء ہے مگر میک اَپ اور زرق برق لباس میں، دکھنے میں بڑا ہٹا کٹا ہے مگر اس کی سماعت کمزور ہو چکی ہے کیونکہ اس کا نعرہ لگانے والے بڑے جوشیلے واقع ہوئے ہیں اور ان کی مردہ باد کی آواز کان کے پردے پھاڑتی ہے۔ یہ دونوں نعرے ایک پیشی کے دوران کچہری کے بنچ پر بیٹھے آپس میں یہ طے کرنے کی کوشش میں ہیں کہ بہتر ہے کہ ہم باہمی طور پر کوئی سنجیدہ فیصلہ کر لیں اور پرانی رقابتیں اور جھگڑے out of court ہی ختم کر دیں کیونکہ صدیوں سے ایک دوسرے کے خلاف ہر جگہ استعمال ہورہے ہیں حتی کہ عدالتوں اور علالتوں میں بھی۔ مگر ابھی ان کا کیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچا۔ یہ "چوٹی" کے وکیل کرنے کے لئے ڈی جی خاں تک گئے لیکن امید خالی ہاتھ لوٹی ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ وکیل کو فیس دے کر انہیں یہ مشورہ کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے کیس کے لئے کون سا وکیل مناسب رہے گا۔ کوئی وکیل ان کی بپتا نہیں سنتا بلکہ ان کے آگے اپنا نکتہ رکھ دیتا ہے۔ جس دن ان کی پیشی ہوتی ہے وکیل خود اکٹھے ہو کر زنددہ باد یا مردہ باد کرتے ہوئے سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ مردہ باد خوش ہے کہ اس کے استعمال کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی ہے اورزندہ باد دکھی ہے کہ اسے اپنے حق میں لگوائے گئے نعروں کا ابھی تک معاوضہ موصول نہیں ہوا)
زندہ باد (اس کی بات کاٹتے ہوئے): تجھے کیسے پتا چلا کہ وکیل تجھ سے غلط بیانی کرتا ہے تیرے تو کان کافی عرصے سے ہی بند ہیں۔
مردہ باد: اس کے ہونٹ تو ہل رہے ہوتے ہیں نا۔
زندہ باد: ان باتوں کی وجہ سے تمہیں کوئی کرائے پر لے کر بھی معاوضہ نہیں دیتا۔
مردہ باد: کیا میں کوئی اداکار ہوں کہ فلم کا معاوضہ لوں میں ایک حقیقت ہوں اور اپنی خون پسینے کی کمائی کا حق مانگتا ہوں۔
زندہ باد: اسرائیل کے ظلم کے خلاف تیرا خوب استعمال کیا جاتا ہے لیکن اسے کچھ شرم نہیں آتی "فضول لسان"۔
مردہ باد: دراصل ہم دونوں کی بودُ باش صوبائی دارالحکومتوں میں ہوتی ہے تحصیل یا یونین کونسلوں سطح پر ہم نے کبھی ایسا چاند نہیں چڑھایا کہ وہاں تب ہی اونچی آواز میں ہمارا استعمال نہیں ہوتا بلکہ وہاں ہماری وقعت ہی بے معنی ہو جاتی ہے ہاں اگر گھروں میں کبھی کھانا لیٹ ہو جائے تو شوہر اپنی بیوی کو بس پانچ دس بار مردہ باد کہہ کر زندہ و جاوید ہو جاتا ہے اور اس طرح وہاں ہمارا لائسنس Renew ہو جاتا ہے۔
زندہ باد: اوہ! قلعہ مردہ آباد کے منحوس مردہ باد۔ سناؤ آجکل کس کی جڑوں میں پارہ ڈالنے کا پلان ہے۔
مردہ باد: لگتا ہے ازلوں سے میں اپنی ہی جڑوں میں بیٹھا ہوں۔
زندہ باد: میرے ساتھ حاضرین اور ناظرین محبت سے میرے نعرے لگاتے ہیں۔
مردہ باد: میرے ساتھ بڑی تعداد میں مظاہرین اور متاثرین ہوتے ہیں۔
مردہ باد: تم نے میری کبھی تعریف نہیں کی کیا میں ہٹا کٹا دِکھتا ہوں۔
زندہ باد: ہاں تم نظر کے تو ہٹے کٹے ہو۔
مردہ باد: المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں ترقی پسند مجھے پسند کرتے ہیں اور رجعت پسند تجھے۔
زندہ باد: لو کافی پیؤ۔
مردہ باد: نہیں بات کو کافی سے شروع ہو کر "موشگافی" پر ہی ختم ہونا ہے لہٰذا معافی۔
زندہ باد: تیرا نعرہ لگاتے ہوئے مچھر بھی مچھر جاتے ہیں۔
مردہ باد: میری وجہ سے ان کی حرکتیں اور دھڑکنیں اور دانت تیز ہو جاتے ہیں۔
زندہ باد: تیراحال ان مظاہرین جیسا ہے جو چھاپہ پڑتے ہی بھا گ کر اس وجہ سے پولیس وین میں جا بیٹھے تھے کہ پچھلی گرفتاری پر بھی انہیں وین میں سیٹ نہیں ملی تھی اور وہ کھڑے کھڑے مقام عبرت تک پہنچے تھے۔
مردہ باد: تجھے تو پتہ ہی ہے جب میرے نعرے لگ رہے ہوتے ہیں تو اس کے چند منٹ کے اندر ہی مظاہرین کو اپنی یا اپنے پڑ جاتے ہیں۔
اتنے میں آواز پڑتی ہے مردہ باد مردہ باد حاضر ہو۔۔