1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. جنگ کی ہولناکی سیاسی منافقت اور غریب کا لہو

جنگ کی ہولناکی سیاسی منافقت اور غریب کا لہو

انسانی تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جنگیں کبھی بھی عوام کی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ان چند چہروں کی انا اور مفادات کی بھینٹ چڑھتی ہیں جو خود تو محلات کی ٹھنڈی دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر نقشے ترتیب دیتے ہیں لیکن ان کی ہوسِ ملک گیری کا ایندھن ہمیشہ غریب کی ہڈیاں اور یتیموں کے آنسو بنتے ہیں۔ جب جنگ کے بادل افق پر نمودار ہوتے ہیں تو حب الوطنی کے پرفریب نعروں کی آڑ میں سیاست دان گولیوں اور بارود کا وہ زہریلا کھیل شروع کرتے ہیں جس کی قیمت کبھی بھی ان کی اپنی اولاد کو نہیں چکانی پڑتی، بلکہ یہ مفاد پرست طبقہ اس آگ کو ہوا دے کر اپنی سیاست چمکانے کے لیے معصوم ذہنوں کو نفرت کی بنیاد پر تقسیم کر دیتا ہے۔

سرمایہ دار اور اشرافیہ، جن کے لیے انسانی خون کی قیمت ڈالر اور درہم سے کم ہوتی ہے، اس افراتفری میں بھی کاروبار کے نئے مواقع تلاش کرتے ہیں اور وہ خوراک و اسلحہ فراہم کرکے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک مفلس ماں کا بیٹا محاذِ جنگ پر اس لیے کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ وہ کسی کے سیاسی ایجنڈے کو فتح کی نوید سنا سکے۔

یہ ایک عجیب اور المناک تضاد ہے کہ جب گولی چلتی ہے تو وہ کسی وزیر یا امیر کے سینے کو نہیں چیرتی بلکہ اس کچے مکان کی واحد امید کو ختم کر دیتی ہے جس کے بوڑھے باپ نے شاید عمر بھر کی کمائی اس بیٹے کی تعلیم پر لگا دی ہوتی ہے، مگر جب امن کے نام پر مذاکرات کی میز بچھتی ہے تو وہی سیاست دان جو کل تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، قہقہوں کی گونج میں ہاتھ ملاتے نظر آتے ہیں اور ان کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی سیاہی دراصل ان شہیدوں کے خون سے تیار کی گئی ہوتی ہے جن کی قبروں پر ابھی مٹی بھی تازہ ہوتی ہے۔

جنگ کے خاتمے پر فتح کے شادیانے بجانے والے اور تمغے سجانے والے کبھی ان ویران بستیوں کا رخ نہیں کرتے جہاں ایک باپ آج بھی اپنے جوان بیٹے کی لاش کے ٹکڑے تلاش کر رہا ہوتا ہے یا وہ بیوہ جس کی دنیا اجڑ چکی ہوتی ہے، کیونکہ اشرافیہ کے لیے جنگ ایک "منافع بخش سرمایہ کاری" ہے جبکہ غریب کے لیے یہ ابدی ماتم اور نسل در نسل چلنے والی بربادی ہے۔ اس سے بڑی منافقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی وہ تاجر جو کل تک قومی مفاد کے نام پر چندہ دے رہے تھے، اب اسی تباہ حال عوام کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ جیتے جی مرنے والے یہ لوگ دو وقت کی روٹی کو بھی ترس جائیں، گویا غریب کے مقدر میں صرف دو ہی چیزیں لکھی گئی ہیں، جنگ کے دوران اپنا لہو دینا اور امن کے دوران اپنی عزتِ نفس کا سودا کرنا۔

یہ ایک ایسا لایعنی اور سفاک دائرہ ہے جس میں انسانیت سسک رہی ہے، جہاں سرحدوں کا دفاع تو غریب کرتا ہے مگر ان سرحدوں کے اندر موجود وسائل پر قبضہ ہمیشہ اس اقلیت کا رہتا ہے جو کبھی دھوپ میں نہیں نکلی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک دنیا میں طاقت کا معیار اخلاقیات کے بجائے مفادات رہیں گے، تب تک اسی طرح ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی اور محلات کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا رہے گا، کیونکہ اس بنیاد پر غریب صرف ایک پیادہ ہے جسے بادشاہ کی بقاء کے لیے قربان ہونا ہی سکھایا گیا ہے اور یہی وہ تلخ ترین سچائی ہے جس کا سامنا کرنے سے جدید تہذیب آج بھی قاصر ہے۔

جب تاریخ لکھی جائے گی تو فاتحین کے نام سنہرے حروف میں درج ہوں گے لیکن ان گمنام قبروں کا ذکر کہیں نہیں ملے گا جن کے مکینوں نے اپنا آج دوسروں کے کل کے لیے قربان کر دیا، مگر بدلے میں انہیں صرف مٹی کا ایک ڈھیر اور پسماندگان کو عمر بھر کی معذوری و مفلسی ملی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگیں کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ انسانیت کے چہرے پر وہ بدصورت داغ ہیں جنہیں کوئی بھی معاہدہ دھو نہیں سکتا۔