1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. جذبہ، تجربہ، قیادت اور پشتون تاریخ

جذبہ، تجربہ، قیادت اور پشتون تاریخ

تاریخ کے آئینے میں قوموں کے عروج و زوال کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ فتح و کامرانی کا دارومدار عام طور پر تین بنیادی عناصر یعنی جذبہ، تجربہ اور قیادت کے متوازن امتزاج پر ہوتا ہے۔ تاہم، جب ہم پشتون قوم کی ہزاروں سالہ تاریخ کا جینیاتی، نفسیاتی اور عسکری تجزیہ کرتے ہیں تو وہاں حرکیات کا ایک بالکل منفرد، حیران کن اور عجیب و غریب نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

پشتون دنیا کی وہ واحد قوم ہے جس نے دیگر تمام اقوام کے برعکس، ہمیشہ مادی تجربے اور تنظیمی قیادت پر اپنے غیر متزلزل اور سحر انگیز "جذبے" کو اولیت دی ہے۔ عالمی عسکری مبصرین کے لیے یہ امر ہمیشہ باعثِ حیرت رہا ہے کہ یہ قوم کسی سائنسی تجربے، جدید جنگی آلات یا کسی ایک مرکزی فولادی قیادت کے بغیر محض اپنے فطری جذبہِ حریت اور غیرت کے بل بوتے پر دنیا کی بڑی بڑی سپر پاورز کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

پشتونوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ان پر کوئی کڑا وقت آیا، انہوں نے کسی طویل المدت سائنسی حکمتِ عملی یا تجربہ کار جرنیلوں کی کمان کا انتظار نہیں کیا، بلکہ ان کا خونِ حمیت پہلے ہی لمحے کھول اٹھا اور وہ میدانِ کارزار میں کود پڑے۔ اگر ہم پشتون قوم کی تاریخی فتوحات اور بقا کی جنگوں کا ایک ٹھوس ریاضیاتی اور تجربی تخمینہ لگائیں، تو ان کی مجموعی کامیابیوں میں جذبے کا حصہ 75 فیصد، تجربے کا حصہ 15 فیصد اور منظم قیادت کا حصہ محض 10 فیصد رہا ہے۔ یہ تناسب دنیا کی دیگر تمام جنگجو اقوام جیسے کہ رومی، منگول، یا انگریزوں کے بالکل برعکس ہے، جنہوں نے ہمیشہ 70 فیصد منظم قیادت اور فوجی تجربے پر انحصار کیا اور جذبے کو صرف ایک ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔

پشتونوں کا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے، ان کا جذبہ ہی ان کا سب سے بڑا تجربہ اور ان کی سب سے بڑی قیادت بن جاتا ہے۔ اس حیرت انگیز اور منفرد توازن کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، 1842ء کی پہلی اینگلو افغان جنگ میں جب برطانوی سلطنت کی دنیا کی سب سے زیادہ تجربہ کار، تربیت یافتہ اور جدید ترین اسلحے سے لیس فوج کابل میں داخل ہوئی، تو بظاہر پشتونوں کے پاس ان کے مقابلے میں نہ تو کوئی باقاعدہ منظم فوج تھی، نہ جدید جنگی تجربہ تھا اور نہ ہی کوئی ایک مرکزی کمانڈر تھا۔ لیکن پشتونوں کے اندر موجود "ملاتڑ" (کمر بستہ ہونے) اور "ننگ" (غیرت) کے بے پناہ جذبے نے برطانوی فوج کے 4500 فوجیوں اور 12000 کیمپ فالوورز پر مشتمل لشکر کو اس طرح نیست و نابود کیا کہ صرف ایک ڈاکٹر برائیڈن زندہ بچ کر جلال آباد پہنچ سکا۔

یہاں 75 فیصد کامیابی صرف اور صرف جذبے کی مرہونِ منت تھی، کیونکہ تجربے کے نام پر ان کے پاس روایتی خنجر اور ججیل (بندوقیں) تھیں اور قیادت بکھری ہوئی تھی۔ اسی طرح مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں جب راجہ مان سنگھ کی قیادت میں مغلوں کی انتہائی تجربہ کار اور منظم فوج نے یوسفزئی قبائل پر چڑھائی کی، تو سوات اور بونیر کے پہاڑوں میں پشتونوں نے بغیر کسی پیشگی فوجی تجربے اور بڑے لشکرکے، محض اپنے جذبہِ آزادی کے تحت مغلوں کو وہ تاریخی شکست دی جس میں اکبر کا چہیتا وزیر بیربل مارا گیا۔

بیسویں اور اکیسویں صدی میں سوویت یونین اور پھر نیٹو اتحادیوں کے خلاف پشتونوں کی مزاحمت اسی جینیاتی جذبے کی تسلسل ہے۔ چرچل نے اپنی کتابوں میں اعتراف کیا کہ وزیرستان کے پشتون قبائل کے خلاف لڑنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے، کیونکہ وہ کسی فوجی ضابطے کے تحت نہیں بلکہ ایک جنونی جذباتی کیفیت کے تحت لڑتے ہیں۔ دیگر اقوام کے مقابلے میں پشتون قوم کیوں ہمیشہ تجربے اور قیادت سے پہلے جذبے کا شکار ہوتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ ان کا سماجی ڈھانچہ "پشتونولی" (روایتی ضابطہِ حیات) اور ان کا جغرافیہ ہے۔ پشتون معاشرہ بنیادی طور پر ایک آزاد منش اور مساوات پسند معاشرہ ہے، جہاں ہر فرد خود کو بادشاہ سمجھتا ہے ("ہر پشتون خپلہ مشر دی")۔

اس مساوات پسندی کی وجہ سے وہ کسی ایک فرد کی آمریت یا طویل المدت قیادت کو آسانی سے تسلیم نہیں کرتے، جس کے نتیجے میں ان میں تنظیمی قیادت کا پہلو ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ دوسری طرف، ان کا سخت گیر جغرافیہ انہیں بقا کی مسلسل جنگ میں رکھتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے اندر خوف کا عنصر ختم ہو جاتا ہے اور جذبہِ انتقام و حریت ان کی جبلت کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب کہ دیگر اقوام، جیسے مغرب یا وسطی ایشیا کی قومیں، پہلے سرمائے، تنظیم، تجربے اور ایک مضبوط آمر (قیادت) کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرتی ہیں، پشتون کا دفاعی اور جارحانہ میکانزم فوری جذباتی ردِعمل پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک مصلحت پسندی یا تجربے کی بنیاد پر پیچھے ہٹنا ننگ اور غیرت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون تاریخ میں قیادت اور تجربے کی کمی کو ہمیشہ ان کے لامتناہی اور بے پناہ جذبے نے پورا کیا ہے، جو دنیا کی تاریخ کا ایک عجیب، محیر العقول اور ناقابلِ تسخیر سچ ہے۔