رونا تو خود بخود آتا ہے لیکن جب کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو جنازہ اٹھنے تک اتنے آنسو بہہ جاتے ہیں کہ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے کہ ماتم اور نوحہ گری کا ہنگامہ برپا ہو۔ کشتے پر بین ہوں اور شیون و شین۔
ہم نوحہ خوانی اور ماتم گری کے ہنر میں طاق ہیں۔ نالہ و فغاں بلند کرتے ہیں تو در و دیوار آنسو بہانا شروع کر دیتے ہیں۔ خاک بسر آہ و بکا کے ساتھ جب سینہ کوبی کرتے ہیں تو کٹھور دل تڑپ اٹھتے ہیں اور پتھر آنکھیں ٹپ ٹپ برسنے لگتی ہیں۔
میری ماں اور نانی دونوں پیشہ ور نوحہ گر تھیں۔ نسل در نسل ہم لوگوں کے غم میں شریک ہوتے آئے ہیں۔ ہماری عورتیں بن بلائے بھی فوتیدگی والے گھر پہنچ جاتی ہیں۔ بعض دفعہ ترش روئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ڈانٹ پھٹکار بھی سننا پڑتی ہے۔ لیکن جنازے کے بعد اہل میت کی آنسو بھری نگاہوں سے تشکر جھلکتا ہے۔ دل کا بوجھ کم ہوتا ہے تو ہمیں سینے سے لگا لیتے ہیں۔ میں تو بچپن سے ماں کا ساتھ نبھاتی آ رہی ہوں۔ سولہ سال کی تھی جب ایک گھر میں دو نوجوان بیٹیوں کے باپ کا جنازہ اٹھا۔ میں پیدائشی یتیم ہوں۔ اس منظر نے مجھے یوں رلایا جیسے میرا باپ جا رہا ہو۔ اس کا خیالی چہرہ میرے سامنے تھا۔
"بابا! نہ جاؤ۔ تمہاری بیٹی تمہیں یاد کرتی ہے۔ خدا کے واسطے لوٹ آؤ"۔
شور قیامت کی نوحہ گری میں بیٹیاں اپنا دکھ بھول کر مجھے سنبھال رہی تھیں۔ کئی دن تک وہ مجھے گھر بلاتی رہیں اور باپ کی اشیاء دکھا کر میرے ساتھ روتی رہیں۔ ایک ایک کرکے سارا سامان میرے حوالے کردیا کہ انہیں دیکھ کر غم تازہ ہو جاتا ہے۔ باپ کی انگوٹھی دیتے ہوئے بولیں، "یہ ہمیں بہت ستاتی ہے تم لے لو لیکن سنبھال کر رکھنا"۔
انگوٹھی ہاتھ میں لی تو یوں لگا جیسے انگارہ ہو۔ اگلی صبح دونوں بہنوں نے فون پر میرا شکریہ ادا کیا کہ آج وہ سکون سے سوئیں۔
اس رات میں سو نہ سکی۔ ان کا دکھ کم ہو کر میرے سینے کی جلن میں اضافہ کر گیا۔
پانچ سال گزر گئے وہ انگوٹھی اب بھی میرے پاس ہے۔ اب اکثر لوگ مرنے والے کے استعمال کی چیزیں میرے پاس چھوڑ جاتے ہیں جس سے ان کے رنج و غم میں کمی ہو جاتی۔
یہ میرا کاروبار بن گیا ہے۔ اسے کیا نام دیں گے؟ ہم تو نوحہ گر تھے، میں تو ماتم زدی تھی، ہمارا کام دکھ بٹانا تھا لیکن یہ کیا ہوا؟ میں دکھ بِسرانے والی بن گئی۔ لوگ مجھے دکھ فنا کرنے والی کہنے لگ گئے۔ وہ جو شیونی و فغانی تھی وہ دکھ بدھی ہوگئی۔
کچھ بھی کہہ لیں افعال الفاظ سے بھاری ہوتے ہیں اور تیزی سے مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔ کاروبار کا طریقہ آسان تھا: جو چیز تمہیں کسی پیارے کی یاد دلا کر رنجیدہ و ملول کرتی ہےمیرے پاس لے آؤ، دکھ غائب ہو جائے گا۔
میں نے اس کام کے پیسے لینے شروع کر دیے۔ جتنا قریبی رشتہ اتنا زیادہ دکھ اور اتنی ہی زیادہ رقم۔
میں نے ملنے والی کچھ چیزیں ضائع کرکے دیکھیں: لوگ واپس آ گئے کہ رنج و اندوہ میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ ناراض ہوئے تو انہیں سٹور کرنا شروع کر دیا۔ پانچ برسوں میں سو سے زیادہ افراد کے دکھ میرے پاس جمع ہو گئے۔ انہیں بھلانے کی کوشش کرتی تو پیٹ سلگنے لگتا۔ کچھ دن ان چیزوں کو نہ دیکھتی تو وہی سلگن آہِ سینہ چاک بن جاتی۔ دن تو گزر جاتا مگر رات کو ساری یادیں آنکھوں کے سامنے ناچتیں اور کانوں میں سرگوشیاں کرتیں۔ میں ان کی اتنی عادی ہوگئی کہ اگر کوئی نیا دکھ نہ آتا تو پرانے کاٹ کھانے کو دوڑتے، راتوں کو نیند نہ آتی۔
مجھے دکھوں کی لت لگ گئی۔ موت و طرب، رنج و محن کچھ بھی ہو، دلِ بیتاب بارشِ آلام کا طوفانِ مہیب بھی کچھ دنوں میں ہضم کر جاتا۔
میری نانی اور ماں فوت ہوگئیں۔ میں اکیلی رہ گئی۔
بچپن سے ایک خواب مجھے ستاتا تھا کہ میں اپنے جسم کی قیدی ہوں۔ میرا جسم کسی اندرونی غیر مرئی چیز کے زیر اثر منجمد ہو جاتا۔ اس کو حرکت دینے کی ناکام کوشش میں آنکھ کھل جاتی۔ کچھ دیر تک جسم ایسے ہی رہتا۔ پھر میں چلانے لگتی تو احساس ہوتا کہ میری روح ابھی آزاد ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان خوابوں کا میرے کاروبار سے کوئی تعلق ہے۔
پہلی بار احساس اس محرم میں ہوا۔
شدید گرمی اور حبس کے اس مہینے میں ایک دکھیاری میرے پاس اپنے اس بھائی کی نشانیاں لے کر آئی جس نے کچھ ماہ پہلے خود کشی کر لی تھی۔ کانپتے ہاتھوں سے میرے حوالے کیں اور کہنے لگی، "بہت اذیت ناک ہیں"۔
وہ چلی گئی۔ سامنے لگی ایل ای ڈی پر ماتم جاری تھا۔ ایک عزہ دار مرثیہ خوانی کر رہا تھا۔ میں نے اس لڑکے کی انگوٹھی نادانستہ طور پر اپنے منہ میں رکھ لی۔ یوں لگا کہ چاندی کی انگوٹھی اور اس میں جڑا پتھر زبان کے ساتھ لگتے ہی پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہلکی سی کڑواہٹ زبان سے ٹکرائی۔ میں نے انگوٹھی دانتوں تلے دبا لی۔ وہ چیونگم کی طرح نرم تھی۔ چبانا شروع کیا تو اس کی کڑواہٹ میرے حلق میں پھیل گئی۔ درد جو میرے کلیجے میں جمع تھا سارے پیٹ میں گھومنے لگا۔ انگوٹھی پگھل کر میرے اندر جا رہی تھی۔ جلن بڑھ گئی جیسے انگارے پھانک لیے ہیں۔ اندر سے ایک مردانہ آواز ابھری۔
"بالآخر میں کامیاب ہوگیا"۔
ایک ابکائی آئی اور انگوٹھی سامنے فرش پر گر پڑی۔
جسم منجمد ہوچکا تھا۔ ہاتھوں کو حرکت دینے کی کوشش کی تو وہ سامنے پڑے میز پر یوں گرے جیسے مردہ ہوں۔ ٹانگیں بھی پتھر ہو چکی تھیں۔
"تم بہت خود غرض ہو"۔ وہی آواز تھی۔
"محرم کے مہینے میں بھی دکھ، درد اور آہ و بکا کو قید کیا ہوا ہے"۔ بہت سی دوسری آوازیں بھی اس کی ہم نوا ہوگئیں۔
میں نے جواب دینے کی کوشش کی، منہ نہ کھول سکی۔ ریڑھ کی ہڈی میں ایک سہرن سی اٹھی۔ میرے اندر کچھ ہو رہا تھا۔ میں ہوش میں تھی لیکن اپنے جسم کے اندر ایسے بند جیسے چلتی گاڑی میں مسافر۔
"اب ہماری باری ہے"۔ ایک بوڑھی عورت کی آواز میرے سر کے اندر گونجی۔
"تم نے ہمیں بہت دیر تک قید رکھا"۔ کچھ اور آوازیں بھی شامل ہوگئیں۔
میرا جسم میری مرضی کے خلاف حرکت کر رہا تھا۔ میرے ہاتھوں نے اس کمرے کا دروازہ کھولا جس میں ساری چیزیں سٹور تھیں۔ الماری سے دکھیاروں کی فہرست نکال کر پڑھنے لگی۔
فائلوں کے صفحے ہلتے تو سینہ کوبی کا شور بلند ہوتا۔ سب مل کر عزاداروں کی طرح رونا شروع کر دیتے۔ انہوں نے کئی گھنٹے تک میرے اندر اودھم مچائے رکھا۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے کومل انگوں پر گرم گرم انگارے رکھے جارہے تھے۔ ساری رات وہ میرے ساتھ بازی کرتے رہے اور میں بےسرت ان کی باتیں سنتی رہی۔ صبح میں نے خود کو کچن کے فرش پر گرا پایا۔ اردگرد کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے تھے۔ کلاک دیکھا، میں سولہ گھنٹے کے بعد ہوش میں آئی تھی۔ ناخنوں کے نیچے خون کے نشان تھے۔ منہ میں چاندی کی انگوٹھی اور پتھر کی کڑواہٹ اب بھی موجود تھی۔ فون دیکھا تو پتا چلا کہ رات بھر کئی گاہک مجھے کال کرتے رہے تھے۔ میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ سر کے ساتھ گھر کے در و دیوار بھی گھومنے لگے۔
"یہ کیسی مصیبت ہے؟"
الفاظ میرے منہ میں بھٹک رہے تھے جیسے میری زبان ان کو نطق میں ڈھالنا بھول گئی ہو۔
"ہم اسی وقت کے منتظر تھے"۔ اندر سے جو آواز ابھری وہ میری سوچ نہیں تھی، یہ کوئی اور تھا۔
دیوار کے سہارے چلتے ہوئے باتھ روم میں جا کر لائٹ جلائی۔ شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ چہرہ میرا تھا لیکن تاثرات میرے نہیں تھے۔
"یہ نہیں ہو سکتا"۔
"یہ ہوگیا ہے"۔ غیر مرئی آواز میں طنز کی کاٹ تھی۔ "تم نے ہمیں قید کیا، ہم تمہیں تمہارے اندر قید کر دیں گے"۔ میرا ہاتھ چہرے تک گیا لیکن میں اسے حرکت نہیں دے رہی تھی۔ چلانے کی کوشش کی: ہونٹ خاموش تھے۔ میری زندگی کا بد صورت ترین خواب جس میں میں اپنے آپ پر کنٹرول کھو کر جسم کے اندر قید ہوجاتی تھی، حقیقت بن گیا۔ یہ موت سے بھی بھاری اذیت تھی۔ ایسی قید تنہائی دنیا میں کسی نے نہیں کاٹی ہوگی۔ یوں جیسے کسی کو زندہ درگور کر دیا گیا ہو اور وہ قبر کے اندر سے دنیا کو دیکھ رہا ہو۔
"ہم سے مت الجھو ہمیں اپنا کام کرنے دو"۔ میرے جسم کی رہائشی کسی عورت کی آواز تھی۔ "یہ مقابلہ بازی تمہارے لیے مشکل پیدا کر دے گی"۔
بہت سی بے سری آوازیں شور مچا رہی تھیں۔ انہوں نے میرے جسم کو نکالا اور گاڑی میں ڈال دیا۔ میں ہوش میں تھی لیکن میرے اختیار میں کچھ بھی نہ تھا۔ میرا بدن ان کی مشترکہ جائیداد تھا جس کے مختلف حصوں پر وہ قبضہ جمائے بیٹھے تھے۔
وہ بحث کر رہے تھے کہ کیا کرنا چاہیے؟
میرے جسم کو دوڑاتے ہوئے وہ اس عورت کے گھر لے آئے جس کے بھائی نے کچھ دن پہلے خود کشی کی تھی۔ دروازے پر دستک دی۔
دروازہ کھلا تو عورت مجھے دیکھ کر ڈر گئی۔
"میں واپس آگیا ہوں"۔
میرے منہ سے اس کے بھائی کی آواز نکل رہی تھی۔
"تم! تم نہیں ہو سکتے۔
تم وہ لڑکی ہو جسے میں اس کا سامان دے کر آئی تھی۔ واپس جاؤ۔ " وہ چلاتی ہوئی اندر بھاگ گئی اور میں اسے کے پیچھے پیچھے۔
"یاد کرو، جب دریا کنارے تمہارا پاؤں پھسلا اور میں نے تمہیں بہتے پانی سے باہر نکال لیا تھا۔ میں وہی بھائی ہوں"۔
اس کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ پھر وہی آواز ابھری، "اس وقت میں نے تمہارے لیے بہت کچھ کیا۔ اب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے"۔
میرا ہاتھ نکل کر اس کے چہرے کو چھو رہا تھا۔
"میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں"۔ اس نے آہستہ سے پوچھا۔
"میں چاہتا ہوں کہ تم اس لڑکی کو میری کچھ اور چیزیں بھی دے دو۔ میرے ذاتی استعمال کی ساری چیزیں۔ سارے دکھ اس کے حوالے کردو"۔
"نہیں۔ " میں اپنے دماغ کے اندر چلائی۔ "اس کی بات مت مانو۔ "محبوس فغاں گلوگیر نوا نہ بن سکی۔ وہ سب گھر کے اندر جا کر مزید دکھ اکٹھے کر رہے تھے۔ بہت سی آوازیں پہلی صداؤں میں شامل ہو رہی تھی۔ اب پتا چلا کہ یہ کیسا شور تھا۔
ہر دکھ ایک نئی کراہ کی شکل دھار چکا تھا۔
اگلے تین دن وہ میرے کئی گاہکوں کے پاس گئے۔ ہر دفعہ کوئی نئی آواز اپنے پیاروں کو مزید دکھ حوالے کرنے کے لیے کہتی۔ کچھ لوگ مجھے مشکوک سمجھتے لیکن زیادہ تر خوفزدہ ہو جاتے۔ ہر نئی آواز رشتہ دار کو کوئی ایسی بات بتاتی جس سے وہ پہچان جاتے تھے کہ میں وہی مردہ ہوں۔ مجھے بھوت جان کر تمام مطالبات مانتے چلے جاتے۔ میرے اندر دکھ بڑھتے جا رہے تھے۔
میں مکمل طور پر ان کی طابع تھی۔ کبھی اتفاقاً سب دکھ سو جاتے تو مجھے اپنا جسم واپس ملتا۔ جونہی کچھ کرنے کی کوشش کرتی کوئی نہ کوئی جاگ جاتا اور میری گرفت پھر کمزور پڑ جاتی۔
پھر ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب مزید دکھ ڈھونڈنے کے لیے کوئی نیا طریقہ اپنایا جائے۔
وہ مجھے تنہا چھوڑ کر بحث میں الجھ گئے۔ میں حزنِ مجبور کی ساکت و صامد تصویر بنی کھڑی تھی۔ ایک ناشاد، خستہ و دلگیر صدا ابھری، "صبح قبرستان جائیں گے اور وہاں اپنا شکار ڈھونڈیں گے۔ جو نیا جنازہ آیا اس کے تمام رشتہ داروں سے دکھ اکٹھے کر لیں گے"۔
یہ اُس لڑکی کے باپ کی تھی جس نے مجھے انگوٹھی دے کر سب سے پہلا دکھ دیا تھا۔
"کل دس محرم ہے اگر فتنہ و فساد ہوگیا تو وہ جلتی پر تیل ڈالے گا"۔
"تمہارا کیا مطلب ہے؟" میں ان سے لڑنے لگی۔
"سوگوارانِ حسینؑ کو محبانِ اہل بیت کی لاشیں مل گئیں تو ہمارا کام بن جائے گا"۔
میں نے سوچا، "میں ان کو عزاداروں کے خون سے ہولی نہیں کھیلنے دوں گی"۔
وہ ہنسنے لگے۔ "تمہیں یہ موقع نہیں ملے گا۔ تم صرف ایک گاڑی ہو جسے ہم چلا رہے ہیں"۔
وہ سچ کہہ رہے تھے۔
اس رات مجھے نیند نہ آئی۔ وہ نئے منصوبے پر بحث کر رہے تھے۔ میں اپنے اندر گہرائی تک چلی گئی۔ اتنی گہرائی میں جہاں میرے اپنے دکھ بیٹھے تھے۔ میری اپنی ماں اور نانی کا دکھ۔ میری نانی کے بیٹے کی جواں مرگی کا دکھ۔ میری ماں کی بیوگی کا دکھ۔ میری یتیمی کا دکھ۔ ان مصائب اور تلاطم نے مجھے ماتم گر بنایا تھا۔ ان ناقابل برداشت مصائب کی کڑواہٹ کی وجہ سے میرے دل میں خون کے چشمے ابلتے تھے۔ یہ سب دکھوں سے بھاری تھے۔ میں دکھیاری نوحہ خواں نہ بنتی تو منہ سے کلیجہ نکل پڑتا۔
کون کسی کے دکھ میں انگ دھرتا ہے، سب اپنا دکھڑا روتے ہیں۔۔
اس اندوہِ نہانی نے مجھے نوحہ خواں بنایا تھا۔ میں نے لوگوں کے آلام کا ماتم کیا۔ ان کی مشکلات کی بات کی، اپنے دکھ دبائے رکھے۔ کبھی ان کا مرثیہ نہ پڑھا۔ آج میں نے ان کو اپنے اندر سے یوں نکالا جیسے کنویں کے اندر سے پانی۔
اس سے پہلے کہ غیروں کے دکھ کچھ کر سکتے میں نے وہ تمام اٹھا کر ان پر پھینک دیے۔
"تمہیں دکھوں کی تلاش تھی۔ لو! یہ سب رکھ لو"۔
جب یہ دکھ قابضات کے ساتھ ٹکرائے تو وہ چلانے لگے۔
میں نے یادداشت میں موجود تمام نقصانات، دھوکے، مایوسیاں ان پر انڈیل دیں۔ میں نے جن آلام کی نیچے دب کر زندگی گزاری تھی اب وہ میرا ہتھیار تھے جو میرے اندر مسند نشینوں پر حملہ آور ہو گئے۔ کچھ آوازیں خاموش ہوگئیں۔ باقی آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگیں۔ کئی دنوں کے بعد میں اپنے ہاتھوں کو خود ہلا سکتی تھی۔ میں باتھ روم تک گئی۔ شیشے میں خود کو دیکھا۔ مریل سے چہرے پر خون آلود آنکھیں! لیکن میری آنکھیں میری تھیں۔ چند ایک نے مجھ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوبارہ کوشش کی۔ میرے دکھوں نے انہیں کمزور کر دیا تھا۔ وہ ناکام رہے۔ رنج بھری آواز ابھری، "ہم انتظار کریں گے۔ دوبارہ طاقتور ہوں گے"۔
"نہیں! میں تمہیں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ " میں چلائی۔ آواز بھاری ہو چکی تھی۔ بھاگتی ہوئی دکھوں کے سٹور روم میں گئی اور الماری کھولی۔ اس میں سے ہیرے کی انگوٹھی اور وہ زیورات نکالے جو ماں نے دمِ نزع میرے حوالے کیے تھے۔ میں نے انہیں کبھی استعمال نہیں کیا تھا کیوں کہ یہ مجھے ملول کرتے تھے۔ میں نے انگوٹھی اپنے منہ میں رکھ لی۔ زبان پر میٹھا سا مزہ محسوس ہوا، ماں کے ہاتھ کی روٹی جیسا۔ وہ بہت سخت تھی، کوفت محسوس ہوئی تو اسے نکال کر ہاتھ میں تھام لیا۔ ٹھنڈی ٹھار انگوٹھی سے نکہت جاں فزا پھوٹ رہی تھی۔
جب میں لوگوں کے دکھ سمیٹتی تو میرا سارا دھیان ان کے مصائب و آلام کی طرف رہتا تھا۔ ان زیورات کو دیکھتے ہوئے میں نے ماں کی محبت پر دھیان دیا۔
"یہ خاندانی زیورات شادی پر تمہارے کام آئیں گے۔ انگوٹھی تمہارے باپ کی ہے، ہماری منگنی کی۔ یہ ہمارے داماد کو پہنا دینا"۔
قریب المرگ ماں کے الفاظ میں محبت کا ایک سمندر موجزن تھا۔
زیورات میں دکھ موجود تھا لیکن ان میں ممتا کی مہک تھی۔ خاندانی تفاخر اور پیار تھا جو نسل در نسل جسموں پر سجتا ہوا مجھ تک پہنچا۔ وہ خوشیاں بھی تھیں جو میرے آباؤ اجداد نے مل کر منائیں۔ مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ دکھ دراصل وہ محبت ہے جو کسی کے دور جانے سے بے گھر ہو جاتی ہے اور نیا گھر ڈھونڈتی ہے۔ جب انسان جدائی کا دکھ پا کر آہ و فغاں کرتا ہے یا ماتم کناں ہوتا ہے تو اس وقت یہ محبت اس کے جسم میں شامل ہو رہی ہوتی ہے۔ خاک بہ سر نوحہ خواں کی رثائی دکھوں کے زہر سے محبت کا آب حیات کشید کرتی ہے۔
میں نے اپنا منہ کھولا: انہیں بتانے کے لیے کہ دکھ تو محبت ہے لیکن میرے اندر کچھ بھی نہیں تھا۔ سارے دکھ غائب ہو چکے تھے۔ اگلی صبح میں نے دکھوں کی ساری نشانیاں نکال کر آگ لگا دی۔ اب کی بارکسی نے شکایت نہیں کی کہ اس کا دکھ واپس آ گیا ہے۔
کئی سالوں پر محیط شام غریباں ڈھل گئی۔ میں پہلی بار پوری رات سوئی۔