1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید محمد زاہد
  4. چند گھنٹوں کی زندگی

چند گھنٹوں کی زندگی

احمد، رات بیت گئی۔ پچھلے پہر کی آہٹ کے ساتھ ہی خوشبو سے منور ایک اور رات بیت گئی۔ تمہاری وجہ سے کالی ہو یا چاندنی سے سجی رات، بدن سے پھوٹتی روشنی سے منور ہوتی رہی ہے۔

تم کہا کرتے تھے، "سیاہ راتوں کے ہونٹوں کو سرخ کرنے کی ہماری جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ ختم ہوگئی تو کائنات سیاہ ہو جائے گی"۔ تمہاری آواز میں یہ عہد تھا اور تمہاری آنکھوں میں ایک خوف تھا جو تم خود سے بھی چھپاتے تھے۔

بے زبان بدن سب کچھ کھول کر بیان کرنا چاہتا ہو تو لباس اس کے عجز بیان کی دلیل بن جاتا ہے۔ تمہاری بانہوں کا زور، تمہاری سانسوں کی بے قراری، وہ سب کچھ جو تم لفظوں میں نہ کہہ سکتے، بدن کے ذریعے کہہ دیتے، "بدن کا جمال اور وصال نجات کا ضامن ہے۔ یہ لذت آفریں رات ہمیں نجات کی صبح تک پہنچائے گی"۔

میں ایسی باتوں سے بہل جاتی اور کبھی کبھار ملنے والی رات مجھے تمہارے مزید قریب لے آتی۔

تمہاری وجہ سے، میرا پسندیدہ کام اس رات کا انتظار تھا۔ بس اس شاندار لمحے کا خیال، جب گھڑی کی سوئیاں آسمان کی طرف منہ اٹھا لیتیں، ستارے سیاہ ریشمی کپڑے پر چمکتے ہوئے کرسٹل کی طرح جھلملاتے اور ہم دونوں ان میں کھو جاتے۔

میں سال ہا سال سے سات دنوں کے دائرے میں تیرتی رہی ہوں۔ جیسے یہ سب کسی آسمانی صحیفے پر لکھا گیا ہو۔

جب بھی تمہارا فون آتا تو میں اپنے کمرے کی طرف دوڑتی۔ اپنی پلکوں پر پنسل اور آئی شیڈز سے مکمل ونگڈ لائنر لگاتی اور ہونٹوں پر سرخ رنگ۔ ایک گھنٹے بعد تم دروازے پر ڈھول کی تھاپ جیسی دستک دیتے، وہی ردھم جو میرے دل میں دھڑکتا تھا۔ لمحوں میں میں تمہاری بانہوں میں کود پڑتی۔ تم مجھے مکھن جیسے پیلے گلاب دیتے، جنہیں میں نازک ہنسوں والے لمبے گلدان میں سجا لیتی۔ ہم فوراً ڈائننگ روم میں جاتے اور بھوک سے بے تاب منہ نرم و گرم لقموں سے بھرتے اور ایک دوسرے کے بوسوں سے بھی۔ میٹھے کے بعد تمہاری کالی آنکھوں کی چمک مجھے مار دیتی۔ ان میں پیغام چھپا ہوتا کہ میں انگلیاں انگلیوں میں ڈال کر تمہیں کمرے کی طرف لے جاؤں۔

تمہاری بیتاب آنکھوں میں بڑی مشکل سے جھانک پاتی۔ تمہاری بیتابی کی وجہ کیا ہوتی، میں یا وقت؟ تم مجھے اپنی بانہوں میں اٹھا کر سرخ ریشمی چادروں پر لٹاتے جو میری جلد پر پھسلتیں اور ریڑھ کی ہڈی میں کپکپی دوڑ جاتی۔ ایک شوخ مسکراہٹ کے ساتھ تم باتھ روم میں چلے جاتے۔ میری سوچ آنے والے لمحات کی تصویریں بنانے لگتی، جیسے کوئی شاہکار، جیسے اجنتا کی مورتیں یا کھجور اہو کے شہوت انگیز مجسمے جو نظروں کو قید کر لیتے ہیں۔ آنکھیں بند کرکے میں اپنی انگلی ہوا میں اٹھا کر تمہارے غیر مرئی بازوؤں کی لکیروں کو چھوتی۔ یاد کے دریچے سے لذت کی انتہا پر تمہاری اکھڑی سانسیں جھانکنے لگتیں۔ جب بھیگے بدن پر تولیا لپیٹے واپس آتے تو میں شدت جذبات سے لرز رہی ہوتی تھی۔ میرا ذہن مستقبل قریب کے کھیل میں الجھ جاتا۔

جیسے ہی میں تمہارے کالے بالوں میں انگلیاں پھیرتی تم مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیتے۔

اس کے بعد کے زندگی صرف میری تھی، میرے لیے خوشی کی اصل تعریف یہی تھی۔ میرا نام تمہاری سانسوں سے بے قراری کے ساتھ نکلتا۔ تمہاری گہری آواز اور چاہت ہر اوہ، کو نغمہ بنا دیتی۔ یہ اشارہ ہوتا کہ میں اپنا دو رنگا نیکلس جو تمہاری انگوٹھی جیسا ہے، گردن سے اتار دوں۔ تم مجھے اتنا قریب کھینچتے کہ میرے اندرونی جذبات تمہارے دل کی دھڑکن کے ردھم پر ناچنے لگتے۔ بلب کی مدھم روشنی تمہارے بھیگے جسم پر ہاتھی دانت کی طرح چمکتی، مگر میری نظر صرف تمہاری مسکراہٹ پر رہتی اور پھر۔

تم دھیرے سے میرے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر پوچھتے۔

"ہم خلاؤں کے مسافر، منزل کی تلاش کو چلیں؟"

دو جملے۔ یہ چند الفاظ کافی تھے۔ میرا سارا ذخیرہ ختم ہو جاتا۔ میرے پاس صرف ایک سادہ ہاں، باقی رہ جاتی۔ چند الفاظ اور میں نرم مٹی بن جاتی، گوندھی ہوئی مٹی کہ تم جس روپ میں چاہو ڈھال لو۔

لیکن تمہاری قربت کے پیچھے ایک دراڑ تھی۔ تم ڈرتے تھے۔ تم بولتے تو تمہاری آواز میں ایک سوال چھپا ہوتا: کیا یہ سب بس ایک لمحے کی مسافر خوشی ہے؟ تم نے کبھی صاف نہیں کہا کہ تم کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہو۔ تم نے کبھی میرے ساتھ حقیقت کا سامنا نہیں کیا۔ تم دو پل کے مسافر تھے اور میں تمہارے ساتھ اس سفر میں اپنا وجود کھوتی جا رہی تھی۔

احمد، تمہیں اپریل کی وہ گرم دوپہر یاد ہوگی جب ہم پہلی بار ملے تھے۔ تمہارے گھر، تمہارے ہی ڈرائنگ روم میں۔ ہم تو کسی اور کام کے لیے آئے تھے۔ تمہاری کالی گہری آنکھوں نے مجھے لمحوں میں بدل ڈالا۔

اور پھر وہ پہلی لانگ ڈرائیو۔

ہم منزل کی تلاش کو نکلے تھے۔ چار گھنٹے کے اس سفر میں، تم مجھے چھوتے ہوئے ڈرتے تھے۔ میں نے سر تمہاری گود میں رکھ دیا۔ تمہارا ہاتھ سٹیرنگ پر بہک گیا۔ گاڑی لڑکھڑائی اور تم زبردست قسم کی بریک لگا کر میرے اوپر جھک گئے۔ منزل! کبھی دریا کنارے اور کبھی پہاڑوں پر۔ ہم سنہری مستقبل کے تانے بانے بن رہے تھے۔ پھر وہ سارے خواب جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ "ایک بچہ جو تمہاری بانہوں میں سکون سے سو رہا ہو"۔

احمد، ہم منزل پانے کی حسرت میں بھٹکتے رہے۔ کہکشاؤں پر تیرتے رہے۔ لیکن جب اس کی کال آتی، حقیقت تمہیں واپس کھینچ لیتی۔ وہ، جو تمہاری بیوی ہے اور جس کے ساتھ تمہارا وقت بندھا ہوا ہے۔ تم آہستہ آہستہ جواب دیتے۔ ایک لمحہ اور تمہاری ترجیحات بدل جاتیں: تم نے زندگی مجبوریوں اور محبت میں بانٹ رکھی تھی۔ میں اس تقسیم کے بیچ میں پھنس گئی تھی۔

میں یوں تمہارے ساتھ اس طلسمی منزل کی تلاش میں بھٹک نہیں سکتی۔ وہ منزل جو سامنے ہے اور اسے پانے کی ہمت تمہارے پاس نہیں۔ تم دو پل کے مسافر، تم کیا جانو اس منزل سے آگے کوئی اور منزل بھی ہے جو دن کی روشنی میں زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ دن، جب تم خوف کے اندھیرے میں منہ چھپائے بھاگ جاتے ہو۔

دوہرے پن یا دوغلے پن کے لیے میری زندگی اور فکرکے فرہنگ میں کوئی جگہ نہیں۔ مجھے معتوب و مطعون ہونا منظور ہے کہ یہ بڑے ذہن کا مقدر ہے لیکن منافقت گوارا نہیں کہ یہ سازشی اور چھوٹے ذہنوں کی بڑی پناہ گاہ ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دوغلے پن کو برداشت نہیں کروں گی۔ تم جاؤ اور اس چھوٹے سر اور موٹے پیٹ والی کے بدن میں اپنی پناہ ڈھونڈو۔

میں پاگل تھی جو دوغلی زندگی اپنانے تمہارے ساتھ چل پڑی۔ اجنتا کی مورتیوں کی پجارن کھجوراہو کی شہوت انگیز تماثیل میں کھو گئی۔ جہاں کے نوجوان برہماچاریوں کی قسمت بھی میری تقدیر کے قریب قریب تھی۔ لیکن وہ برہماچاری اس لذت سے آشنا نہیں تھے اور وہ سوتاپے کے اس دکھ کو بھی نہیں جانتے تھے جو انسان کی رگ رگ میں پھٹکار بھر دیتا ہے۔

احمد! جان لو کہ محبت کا مطلب خود کو مٹانا، خود کو کھونا نہیں، خود کو پہچاننا بھی ہے۔