سبھی ہیں غیر ایسے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے
خدا وندا زمانے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے
کہا شبیرؑ نے رو کر ذرا عباسؑ دیکھو تو
مسلمانوں کے گھیرے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے
اکیلا دیکھ کے سید کو کرتے ہو ستم کیسے؟
ستم جاری ہے کوفے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے
لکھے تھے خط بلایا تھا تمھی لوگوں نے یثرب سے
تمھارے آج دھوکے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے
رقیہؑ پوچھتی ہے کیا مِرے بچے نہیں آئے؟
کہا غیروں کے رستے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے
کہا دربار میں مسلمؑ نے رخصت کی گھڑی آئی
کہا غازیؑ نے سجدے میں مِرا مسلمؑ اکیلا ہے