1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوں

شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوں

شکستہ عکس ہوں، خود کو سمیٹ لیتی ہوں
میں آئینے سے بغاوت کی بھینٹ لیتی ہوں

پرندے لوٹ کے آتے ہیں رتجگوں کی طرف
میں شام ہوتے ہی یادوں کی اوٹ لیتی ہوں

وہ میرے پاؤں کی زنجیر کاٹتا ہی نہیں
میں بھاگتی ہوں تو رستہ لپیٹ لیتی ہوں

تھکن خرید کے لاتی ہوں روز دنیا سے
میں روح اوڑھ کے بستر پہ لیٹ لیتی ہوں

بچھڑنا فن ہے تو میرا کمال بھی دیکھو
جو نام سے ترے میں نام کاٹ لیتی ہوں